معیشت کہاں کھڑی ہے؟

زیر بحث - عارف نظامی

12 جون 2019

معیشت کہاں کھڑی ہے؟

آئی ایم ایف کی آشیرباد اور اسی ادارے کے ایک ریٹائر سینئر عہدیدار کا بنایا ہوا بجٹ قوم کو مبارک !بجٹ میں توقعات کے عین مطابق سختیاں ہی سختیاں ہیں ۔ یہ بات سب سے پہلے معزول وزیر خزانہ اسد عمر نے کہی تھی کہ اتنی مہنگائی ہو گی کہ قوم کی چیخیں نکل جائیں گی ۔بجٹ سے عین ایک روز قبل وزیراعظم عمران خان نے بھی پی ٹی وی کو ریکارڈ کرائے گئے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہہ دیا تھا کہ پاکستانی دنیامیں سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں ۔ نہ جانے وہ کون سے بقراط ہیں جوخان صاحب کو اس قسم کی ڈس انفارمیشن دیتے ہیں۔ گویا کہ پاکستانی عوام افغانستان ، نیپال اور افریقہ کے پسماندہ ممالک کے عوام سے بھی کم ٹیکس دیتے ہیں، حالانکہ یہ حقیقت نہیں ہے ۔یہ درست ہے کہ بائیس کروڑ عوام میں سے صرف بیس لاکھ ٹیکس نیٹ میں ہیں اورٹیکس صرف 8 لاکھ افراد ادا کر تے ہیں ۔یہاں ٹیکس تو جی ڈی پی کا صرف 12.5فیصد ہے جو ہمارے لیے شرمناک ہے،جو کم ازکم اس سے دگنا ہونا چاہیے ۔لیکن پاکستانی قوم پر بلاواسطہ ٹیکسوں کا پورا بوجھ ڈالا جاتا ہے،مثال کے طور پر پٹرول جب عالمی منڈی میں سستا تھا تو اس وقت کی حکومت نے یہ عذرلنگ پیش کیا کہ پٹرول سستا ہو نے سے اس پر ٹیکس وصولی کم ہو گئی ہے لہٰذا ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی لیکن اب جبکہ دنیا میں پٹرول نسبتا ً سستا ہورہا ہے لیکن روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ٹیکس کی صورت میں وہ ریلیف نہیں مل پارہا۔یہی حال موبائل فونز پر ٹیکس کا ہے، یہ کہنا کہ موبائل فونز صرف امرا استعمال کرتے ہیں حقائق کے منا فی ہو گا ۔ اب مو با ئل فونز ایسی ضرورت بن چکے ہیں کہ ہر شخص استعما ل کررہا ہے ۔ اسی طر ح ہو ٹلوں ،ریستورانوںاور دیگر سروسز پر ٹیکس اور ایکسا ئز ڈیو ٹی وصول کئے جاتے ہیں ۔یہی حال درآمدات کا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ بہرہ ورافراد بالخصوص ایگری کلچرل لابی کو غریب آدمی کی کاسٹ پر رعایت دی جاتی ہے۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے مخصوص مفادات کی حامل شخصیات ٹیکس دینے سے انکاری ہیں،زراعت پر صرف برائے نام ٹیکس ہے۔ پیر کو جاری ہونے والے قومی اقتصادی سروے کے مطابق 2018-19ء کے مالی سال میں زرعی آمدنی کے 3.8فیصد کے ہدف کے مقابلے میں صرف 0.8فیصد اضافہ ہوسکا۔ اسی طرح گندم،کپاس، چاول اور گنے کا 50.8ملین ٹن کا پیداواری ٹارگٹ بھی شرمناک حد تک کم رہا۔ اس کی وجہ ناموافق موسم بتائی جاتی ہے لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ ہماری اسمبلیوں میں بیٹھے غیر حاضر زمیندار اور جاگیردار اپنی ٹیکس فری آمدنی سے زراعت کے جدید طریقے اپنانے سے انکاری ہیں، ان میں سے اکثر اپنی آمدن بڑی بڑی گاڑیوں اور دیگر پر تعیش سامان خریدنے پر خرچ کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹی وی پیغام میں اپنی پرانی روایت کے مطابق رونا رویا ہے کہ پچھلی حکومتوں کی کرپشن اور بے تدبیریوں کی وجہ سے گزشتہ 10 سال میں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے تک جا پہنچا جس کے باعث ٹیکس کی مد میں ملک میں جمع ہونے والے 4 ہزار ارب روپے کا نصف حصہ ماضی کے حکمرانوں کے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے اس کے بعد جو رقم بچتی ہے اس میں ملک کے اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں۔ایک طرف تو وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ 30 جون تک اپنے تمام پوشیدہ اور بیرونِ ملک موجود اثاثے ظاہر کردیں کیوں کہ اس کے بعد مہلت نہیں دی جائے گی۔ دوسری طرف انہوں نے خبردار کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس اس حوالے سے وہ تمام معلومات موجود ہیں جو اس سے قبل کسی حکومت کے پاس نہیں تھیں، اس کے ساتھ ہماری حکومت کے بیرونِ ملک حکومتوں کے ساتھ معاہدے بھی ہیں جس کے تحت پاکستانیوں کے بیرونِ ملک اثاثوں کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں،اداروں کے پاس تمام اطلاعات ہیں کہ کس کا بے نامی اکاؤنٹ اور بے نامی جائیدادیں موجود ہیں، پاکستانی قوم میں صلاحیت موجود ہے جس کے بعد ہم 10 ہزار ارب روپے سالانہ ٹیکس جمع کرسکتے ہیں۔ جہاں تک سابق حکومتوں کی نااہلیوں کا تعلق ہے وہ سر آنکھوں پر،لیکن نگران حکومت کے آنے سے اب تک مسلم لیگ ن کو اقتدارکو خیرباد کہے ایک برس ہو چکا ہے۔اس دوران جو بے تدبیریاں کی گئیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔مثال کے طور پر مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی طرف سے پیش کئے گئے اقتصادی سروے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے نو ماہ کے دور اقتدار میں ملکی قرضوں میں 365 ارب کا اضافہ ہوا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ایسا روپے کی قدر کم ہونے سے ہوا لیکن روپے کی قیمت کم کرنے برآمدات تو قابل ذکر حد تک نہیں بڑھ سکیںلیکن عوام کو مہنگائی کے نئے طوفان کا تحفہ مل گیا۔ خان صا حب کو ان کے مشیر یہ بات نہیں سمجھا سکے کہ سرمایہ مجموعی اقتصادی ماحول بہتر ہونے اور سرمایہ کا ری کے سازگار ما حول میں ہی واپس آتا ہے۔ دھونس، تحریص اور اپیلوں سے لوگ سرمایہ نہیں لاتے، ظاہر ہے کہ پکڑ دھکڑ کے ماحول میں خزانہ خالی ہی رہے گا۔ وزیر اعظم کو کس حکیم نے کہا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے کی ضرورت نہیں۔شاید ان کے ذہن میں تھا ان کے نام پر اتنا مال آئے گا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے،کہتے تھے کہ عوام کرپٹ حکمرانوں کوٹیکس نہیں دیتے لیکن رواں مالی سال میں ٹیکس کی وصولی کی شرح پاکستان کی تاریخ میں سب سے کم رہی ہے۔ اب ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں چلے گئے ہیں، ان کی منظوری کا بجٹ بن گیا ہے، دعا کرنی چاہیے کہ وطن عزیز کی بقا کی خاطر اللہ تعالیٰ وزیر اعظم عمران خان کو کامیاب و کامران کرے۔ گزشتہ مالی سال میںحکومت کوئی بھی اقتصادی ہدف پورا نہیں کرسکی۔ اگرچہ بجٹ میں آئند مالی سال کے لیے 4فیصد شرح نمو میں اضافے کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے لیکن گزشتہ مالی سال میں یہ شرح محض 3.3 فیصدرہی۔ واضح رہے زیر عتاب مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں یہ شرح 5.8فیصد تھی۔ سب سے تشویشناک پورا نہ ہونے والا ہدف صنعتی شعبے میںرہایہاں 7.6فیصد کا ہدف پورا نہیں ہوا اور محض 1.4فیصد اضافہ ہو پایا۔ صنعتی شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی فراہمی تھی جونئے پاور پلانٹس لگنے کی بنا پروافر مقدار میں مہیا تھی اسی طرح ایل این جی ٹرمینل لگنے سے گیس کی ترسیل کا مسئلہ بھی کسی حد تک حل ہو گیا تھا لیکن یہ شعبہ روبہ زوال ہی رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر اور وسیع پیمانے پر مینوفیکچرنگ ،8.1فیصد کے ہدف کے مقابلے میں دو فیصد منفی رہا۔ سابق حکومت کو تو اب ناقص اقتصادی پالیسیوں کی بناپر مطعون کیا جا رہا ہے لیکن موجودہ حکومت کو آئندہ کی حکمت عملی درست سمت پر منتقل کرنے کے لیے اپنی منجھی تلے ڈانگ پھیرنی چاہیے۔ اگر اس کے معاملات ٹھیک ہوتے تو بعداز خرابی بسیار وزیر اعظم کو اپنی پوری اقتصادی ٹیم کو فارغ نہ کرنا پڑتا۔ اسد عمر تو ان کی آنکھوں کا تارا تھے لیکن بقول اپوزیشن بلکہ خود حکومت کے مطابق وہ اقتصادیات کو بحال کرنے میں یکسر ناکام رہے جس کے بعد آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ٹیکنو کریٹس کی ٹیم حقیقی طورپر امپو رٹ کی گئی۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ بذریعہ واشنگٹن دبئی سے نازل ہوئے جبکہ گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر بھی آئی ایم ایف سے بذریعہ مصر جہاں وہ آئی ایم ایف کے کنٹری ہیڈ تھے نازل ہوئے ۔ البتہ ایف بی آر کے نئے چیئرمین شبرزیدی کو نجی شعبے سے لیا گیا یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ امپورٹڈ ٹیم کیا گل کھلاتی ہے لیکن سب کو معلوم ہے کہ سابق حکومتوں کی پالیسی اور موجودہ حکومت کی نا اہلی اورنالائقی کی بنا پر پاکستانیوں کا کچومر نکل گیا ہے۔

 254