7022 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا

11 جون 2019

Budget announced

وفاقی وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کا کہنا ہے کہ مالی بحران آنے کی وجہ سب کو پتہ ہونا چاہیے، کرپشن ختم کر کے اداروں میں میرٹ کی بنیاد رکھیں گے، اقتدار سنبھالا تو معیشت بحران کا شکار تھی۔ کرپشن ختم کر کے اداروں میں میرٹ کی بنیاد رکھی۔ تحریک انصاف نئی سوچ اور نیا پاکستان Pakistan کے تحت اقتدار میں آئی۔ بجٹ میں رضا کارانہ کمی کرنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کے شکر گزار ہیں۔ دفاعی بجٹ پر کوئی کمپرومائز نہیں کرینگے۔

ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ

قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ ایک سے 16 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ ہو گا۔ 17 سے 20 گریڈ کی تنخواہ میں 5 فیصد اضافہ ہو گا۔ گریڈ 21 سے 22 کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ کابینہ کے تمام وزراء نے اپنی سیلری کو 10 فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کی ہے، تنخواہوں میں اضافہ 2017ء سے جاری تنخواہ پر ہو گا۔

دفاعی بجٹ اور جی ایس ٹی کی شرح برقرار

وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے۔ بجٹ کا تخمینہ 7022 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پر برقرار رہے گا۔ جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تنخواہ اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر دیا گیا۔ بیکری اور ہوٹل میں استعمال ہونے والی اشیاء پر جی ایس ٹی 4.5 فیصد ہو گا۔

ایف بی آر کے لیے 5555 ارب روپے کا ہدف

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے لیے 5555 ارب کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پاکستان Pakistan میں جی ڈی پی کی شرح خطے میں سب سے کم ہے، بجلی کے کل 3 لاکھ 44 ہزار کنکشن ہے، صرف 40 ہزار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں۔ ٹیکس کا نظام بہتر کرینگے۔ بجٹ میں صوبوں کے لیے 3 ہزار 255 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ایل این جی ڈیوٹی میں کمی

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومتوں نے ٹیکس کی وصولی میں کوئی کام نہیں کیا، ملکی آبادی میں صرف 19 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں۔ ایل این جی پر کسٹم ڈیوٹی 7 سے کم کر کے 5 فیصد کر رہے ہیں، معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے اہم ہے، حکومت نے اصلاحات کا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ کاغذ پر ڈیوٹی بھی کم کر دی ہے۔

ادویات پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خوراک کی صنعت کیلئے بھی پیسے رکھے گئے ہیں۔ عام آدمی کے لیے دوائیوں کی قیمت میں کمی کر رہے ہیں۔ کچھ ادویات پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ کراچی ، پشاور، کوئٹہ میں سمگلنگ روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہے ہیں۔

سالانہ 6 لاکھ تنخواہ لینے والوں کو ٹیکس سے استثنیٰ

وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ سالانہ 6 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں کو ٹیکس نہیں دینا ہو گا۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد پر برقرار رہے گی۔

غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس کم کر دیا گیا

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ غیر مقنولہ جائیداد پر ٹیکس دو فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دیا گیا ہے۔ غیر منقولہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کو 85 فیصد تک لایا جا رہا ہے۔نان فائلرز کے لیے جائیداد کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

نان فائلرز کو چھوٹ

ان کا کہنا تھا کہ نان فائلر 50 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد خرید سکیں گے۔ 50 لاکھ سے زائد رقم کی ترسیل پر پوچھ گچھ ہو گی اور شہری کو آمدن کے ذرائع بتانے ہونگے۔ لگژری آئٹمز کی درآمد پر ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز ہے۔

خالی پلاٹ پر گین ٹیکس

وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ خالی پلاٹ 10 سال میں فروخت کیا تو گین ٹیکس دینا ہو گا۔ شفاف اور خوف سے پاک ٹیکس نظام لانا چاہتے ہیں، ٹیکس نظام میں جمود توڑنے کے لیے فرضی کے بجائے حقیقی آمدن پر ٹیکس لاگو ہو گا۔

چینی پر سیلز ٹیکس میں اضافہ

وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پر سیلز ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چینی پر سیلز ٹیکس 8 سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا جس سے چینی کی قیمت میں ساڑھے 3 روپے فی کلو اضافہ ہو جائے گا۔ کولڈ ڈرنکس پر سیلز ٹیکس 11.5 سے بڑھا کر 13 فیصد کر دیا گیا۔

سگریٹ مہنگے

ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ میں کی ایف ای ڈی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سگریٹ کی فی ڈبی 10 سے 14 روپے مہنگی ہو جائے گی۔ سگریٹ پینے والوں سے 147 ارب روپے کی ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ ایک ہزار سگریٹ پر پہلے ٹیکس 4 ہزار 500 روپے تھا جو اب 5 ہزار 200 روپے کر دیا گیا ہے، سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز کی ڈیوٹی میں ڈیڑھ روپے سے بڑھا کر دو روپے فی بوری کر دی گئی ہے۔

گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ایک ہزار سی سی کی گاڑی پر 2.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ دو ہزار سی سی پر پانچ فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ دو ہزار سے زائد سی سی کی گاڑی پر 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ خشک دودھ اور پنیر کی درآمد پر دس فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔ گھی اور کوکنگ آئل پر ایکسائز ڈیوٹی 17 فیصد کر دی گئی۔ کاروبار کے لیے رجسٹریشن کا مرحلہ آسان بنایا جا رہا ہے۔

بجلی پر سبسڈی

وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ ملک میں 75 فیصد لوگ 300 یونٹ استعمال کرتے ہیں، جس پر سبسڈی کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، حکومت نے ایک غربت کے خاتمے کے لیے نئی وزارت بنائی ہے، احساس مدد سے غریبوں، بیواؤں، یتیم لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے۔ حکومتی اخراجات 460 ارب سے کم کر کے 431 کر رہے ہیں۔

معذور افراد کیلئے وہیل چیئر

معذور افراد کو وہیل چیئر دیں گے، تعلیم میں پیچھے رہ جانے والے افراد کو خصوصی ترغیب دی جائیگی۔ احساس پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی 57 لاکھ انتہائی غریبوں کو 5 ہزار نقد دی جاتی ہے اس کے لیے 110 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نئی راشن کارڈ سکیم شروع کر رہے ہیں۔

ترقیاتی بجٹ 1800 ارب روپے

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارے کے لیے سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیں گے، ترقیاتی بجٹ میں 1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، بجلی کے منصوبوں، سی پیک CPEC ترجیح ہونگے۔ ترقیاتی بجٹ کے لیے 93 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ دیا میر بھاشا ڈیم کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں، مہمند ڈیم کے لیے 15 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نیشنل ہائی وے کے لیے 170 ارب روپے خرچ کیے جائینگے۔ آئی ڈی پیزکی امداد و بحالی کے لیے 17 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انسانی ترقی کیلئے 60 ارب روپے

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ موٹروے اور سڑکیں بھی بنائیں گے، انسانی ترقی کے لیے تقریبا 60 ارب روپے تجویز کیے جا رہے ہیں، موسمی تبدیلیاں کیلئے بھی خطیر رقم کر رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ریکارڈ فنڈز رکھے جا رہے ہیں۔ زراعت صوبائی محکمہ ہے تاہم اس کے لیے خطیر رقم کی گئی ہے۔ وفاقی پروگرام کے لیے 12 ارب رکھے گئے ہیں۔ 10.4 ارب روپے کوئٹہ ڈویلپمنٹ کے لیے ہونگے۔

کراچی کیلئے ساڑھے 45 ارب کا خصوصی ترقیاتی پیکیج

کراچی کے ترقیاتی پیکیج کے تحت ان کا کہنا تھا کہ 9 منصوبوں کے لیے ساڑھے 45 ارب روپے رکھے جائینگے۔ روزگار پیدا کرنا پہلی ترجیح ہے، لاہور، کوئٹہ، پشاور، فیصل آباد سمیت دیگر علاقوں میں جگہ اکٹھی کر لی گئی ہے۔ نیا پاکستان Pakistan ہاؤسنگ سکیم پورے ملک میں پھیلے گئی۔ اس سے بیرونی سرمایہ کاری آئے گی۔ فنڈز کا بندوبست کر رہے ہیں۔ ماہی گیروں کے لیے ہاؤسنگ سکیم کم قیمت ہوگی۔ نیا کاروبار کرنے کے لیے سستے قرضے دیئے جائینگے۔

زرعی شعبے کیلئے 280 ارب روپے

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کے لیے پیسے رکھے گئے ہیں۔ بجلی اور گیس 40 ارب روپے کی سبسڈی، لانگ ٹرم سبسڈی بھی رکھی گئی ہے، گیس کا گردشی قرضہ 150 ارب روپے ہے۔ زرعی شعبے کو اوپر اٹھانے کے لیے 280 ارب روپے کا 5 سالہ پروگرام لا رہے ہیں، ان کے چند اہم نکات ہیں، پانی کے استعمال کے لیے نیا سٹرکچر بنایا جائے گا۔ پانی کے وسائل کے لیے 218 ارب روپے خرچ کیے جائینگے۔ گندم، چاول، کپاس فی ایکڑ میں اضافے کے لیے 44.8 ارب روپے رکھے جائینگے۔

بلوچستان Balochistan کیلئے خصوصی 11 ارب روپے

ان کا کہنا تھا کہ ماہی گیروں کے لیے 9.3 ارب روپے رکھے جائینگے۔ بلوچستان Balochistan کے کسانوں کے لیے مشترکہ سکیمیں شروع کی ہیں، بلوچستان Balochistan کے لیے 11 ارب روپے کے فنڈز رکھے گئے ہیں۔ چھوٹے کسان کی فصل خراب ہونے کے لیے انشورنس مہیا کرینگے۔ فصلوں کی انشورنس کے لیے 2.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

اداروں کی نجکاری

تقریر کے دوران حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ایل این جی سے چلنے والے دو بجلی گھروں کی نجکاری کی جائے گی۔ نجکاری سے 150 ارب روپے کا خطیر ریونیو ملے گا۔ سٹیل ملز چلانے کے لیے بیرون سرمایہ کاروں سے رابطے کر رہے ہیں۔ گردشی قرضہ بلوں کی وصولی نہ ہونے کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

بجلی چوروں کیخلاف منظم کارروائی

ان کا کہنا تھا کہ بجلی چوروں کے لیے منظم کارروائی شروع کی ہے، پچھلے چھ ماہ کے دوران 80 ارب روپے وصول کیے ہیں، 80 فیصد علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ختم ہو گئی ہے۔

قبائلی علاقوں کیلئے 152 ارب روپے

حماد اظہر کا کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ہونے والے ضم علاقوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 152 ارب روپے فراہم کیے جائینگے۔ ان پیسوں میں 10 سالہ پروگرام ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے۔ پاک چین China اقتصادی راہداری کے لیے زراعت، خصوصی اکنامک زونز، صنعتی ترقی کا حصول، ریلوے کے لیے ایم ایل ون کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔

اینٹی منی لانڈرنگ Money laundering کا نیا نظام

منی لانڈرنگ Money laundering کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ لعنت ہے، اس سے ملک کی بدنامی ہوتا ہے، معاشی نقصان بھی ہوتا ہے، اس کو ختم کرنے کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ Money laundering کا نیا نظام لا رہے ہیں، سٹیٹ بینک افراط زر بنانے کے لیے وسیع پالیسی بنائے گا۔ موبائل فون کے لائسنس سے ایک ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔

اپوزیشن کے حکومت مخالف نعرے

اس دوران وفاقی بجٹ کے دوران اپوزیشن کے رہنمائوں نے ایوان میں حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ وزیراعظم کے خلاف نعرے لگائے جس میں کہا گیا کہ ’’مک گیا تو شو نیازی، گو نیازی گو‘‘ کے بھی نعرے لگائے۔ اپوزیشن نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر لکھا تھا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔ انہوں نے بلند شگاف نعرے لگائے کہ ہم یہ بجٹ مسترد کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی PTI ، مسلم لیگ ن میں لڑائی

بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے رہے۔ اس دوران حکومت اور اپوزینش کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ مسلم لیگ ن کے مرتضیٰ عباسی اور تحریک انصاف کے شاہد خٹک میں لڑائی ہوئی۔ احتجاج کے دوران حکومتی ارکان بھی اپوزیشن کے سامنے آ گئے اور ہاتھوں کی زنجیر بنا لی۔

وزیراعظم کی شاباش

بجٹ کے آخر میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے وزیر مملکت حماد اظہر کو مبارکباد پیش کی ۔ جس کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر نے اجلاس کو جمعہ کے روز تک ملتوی کر دیا۔

سعودی عرب Saudi Arabia ، چین China کے شکر گزار ہیں: حماد اظہر

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ملکی قرضہ 31 ہزار ارب روپے ہے، 97 ارب ڈالر billion dollor بیرونی قرضوں کا سامنا ہے، دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر billion dollor سے گرتے 10 ارب ڈالر billion dollor رہ گئے۔ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ گردشی قرضہ 38 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھ رہا ہے جسے 26 ارب تک لے آئے ہیں۔آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر billion dollor کا معاہدہ کیا گیا، چین، سعودی عرب Saudi Arabia ، یو اے ای سمیت دیگر دوستوں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ملکی مشکل صورتحال میں ہماری مدد کی۔

سٹیٹ بینک کی خود مختاری

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک کو خود مختاری دی گئی ہے۔ ٹیکس پالیسیوں کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا ہے، حکومت کی رقم کمرشل بینکوں میں رکھنا منع ہے، ایف بی آر نے سرمائے کی کمی کو دور کرنے کے لیے 147 ارب روپے کے ریفنڈ جاری کیے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ بینکوں میں 5 کروڑ اکاؤنٹس ہیں، صرف 10 فصد ٹیکس دیتے ہیں، بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ جب تک ٹیکس کے نظام کو صحیح نہیں کرینگے پاکستان Pakistan ترقی نہیں کر سکتا۔ اب اس حالات پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں تنخواہوں کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ احتساب کا نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، برآمدات میں اضافے کے لیے ڈیوٹی سٹرکچر پر کام کریں گے۔

 96