دیمک

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

11 جون 2019

دیمک

1974ء کی عید الاضحی کا دن تھا۔ لوگ ابھی عید کی نماز پڑھنے کے بعد فریضہ قربانی کی جانب متوجہ ہوئے ہی تھے کہ اچانک سکھر اور لاڑکانہ میں سکیورٹی اداروں کے اہلکار ادھر ادھر بھاگتے دیکھے جانے لگے۔ پولیس کی اضافی نفری لاڑکانہ کی سڑکوں اور اس کے ا رد گرد گشت کرنے لگی۔ یہ تو سبھی کو معلوم تھا کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو‘ عید الاضحی منانے کیلئے لاڑکانہ آئے ہوئے ہیں ‘لیکن اس سے پہلے تو کبھی بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ مزید یہ کہ لاڑکانہ اور سکھر ائیر پورٹ پر کرفیو جیساماحول بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ آج اس واقعہ کو 45 برس گزر چکے ‘ جب شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے بغیر کسی پروگرام یا پیشگی اعلان کے اچانک لاڑکانہ پہنچ کر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ان کی رہائش گاہ پر طویل ملاقات کی ۔ یہ ملاقات کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ ایسا کیا ہوگیا ہے کہ عین عید ِقرباں کے دن شہنشاہ ایران‘ لاڑکانہ پہنچ گئے ہیں۔آج بہت سے لوگ یقینا جاننا چاہیں گے کہ آخر کیا وجہ تھی کہ شہنشاہ ایران جو ناک پر مکھی بھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے‘ انہیں بھاگم بھاگ لاڑکانہ آنا پڑ ا؟

میں آج بھی 5 اپریل کو کیکڑا ون پر روزنامہ دنیا میں '' پٹرولیم ذخائر کی دریافت کے بعد‘‘ کے نام سے لکھے اپنے کالم پر قائم ہوں کہ قدرت نے سمندر کی گہرائیوں میں آئل اور گیس کی تلاش میں پاکستان کو بھر پور کامیابی عطا کر دی تھی اور اس خوش خبری کا باقاعدہ اعلان کسی بھی وقت متوقع تھا اور وزیر اعظم عمران خان ایسے ہی قوم سے نوافل ادا کرنے کی اپیلیں نہیں کر رہے تھے۔ خوشی سب کے چہروں پر دیکھی جا رہی تھی‘ لیکن اچانک نہ جانے کیا ہوا کہ امریکہ اور اٹلی کی ENIاور EXXON جیسی تیل کی تلاش کیلئے مشہور زمانہ کمپنیاں اپنا بوریا بستر گول کر کے چلتی بنیں اور پاکستان کا آئل اور گیس کا بیش بہا خزانہ ایک بار پھر وہیں کا وہیں رہ گیا۔ 45 برس اور اب میں ایک فرق دیکھنے میں آیا کہ اس وقت گوادر میں اس سائٹ کو مکملSEAL کر دیا گیا‘ جبکہ آج ہماری ملکی سکیورٹی ایجنسیاں اور نیوی وہاں موجود ہے۔ تیل اور گیس کی تلاش کیلئے ایکسن کمپنی 30 نومبر 1999ء میں قائم ہوئی ‘جس کا ہیڈ کوارٹر ارونگ ٹیکساس میں واقع ہے ‘جو ایکسن اور موبل کا ادغام ہے۔ ایکسن آئل اینڈ گیس کے ماہرین اور انجینئرز کو کیا ہوا کہ وہ سب کچھ روک کر چلتے بنے اور یہ کیوں ہوا؟ اس کے پیچھے کار فرما بہت سی کہانیاں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں‘ لیکن اس پر کچھ کہنے سے پہلے آپ کو 45 برس پیچھے کی جانب لئے چلتا ہوں۔ آپ سے گزارش ہے کہ ایک دفعہ اس کہانی کو غور سے پڑھیے گا‘ تاکہ معلوم ہو سکے کہ جب آج کی طرح قوم کو گوادر کے قریب سمندر میں تیل نکلنے کی بہت بڑی خوش خبری سنائی جانے والی تھی کہ صرف ایک دن پہلے اس ملک اور قوم کے ساتھ وہ کچھ ہو گیا‘ جو آج ہوا ہے۔

جیسے ہی گوادر سے کچھ فاصلے پر سمندر میں تیل کی تلاش کا کام شروع ہوا‘ بلوچستان میں ہمیشہ کسی ایسے ہی موقع پر بلوچ سرداروں کی جانب سے بغاوت شروع کرا دی گئی‘ جس میں آج کی دنیائے صحافت‘ کی بہت سے پرندے بھی روس اور بھارت کی شہ پر لندن کی یونیورسٹیوں سے واپس آ کر بلوچ سرداروں اور افغان فورسز کی سکیورٹی فورسز میں شامل ہو کر پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ میں شامل ہو گئے۔ یہ بتانا اس لئے ضروری ہے کہ آج کی نئی نسل تک وہ سچ پہنچادیا جائے ‘تاکہ ٹی وی پروگراموں میں ہر وقت مسنگ پرسنز کے واویلے کی اصل حقیقت تک پہنچا جا سکے اور نئی نسل کو یقین ہو جائے کہ یہ لوگ آج سے نہیں ‘بلکہ مدتوں سے جس وطن کا کھا پی رہے ہیں‘ جہاں بیٹھ کر موج میلے کر رہے ہیں‘ اسی سے نمک حرامی میں سب سے آگے کیوں ہیں؟ یہ 1973-74ء کی بات ہے‘ جب پاکستان میں پی پی پی کے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی اور امریکہ کی میراتھن آئل کارپوریشن ‘جس کا ہیڈ کوارٹر ہیوسٹن میں ہے‘ گوادر کے قریبی سمندر میں تیل کی تلاش میں پوری لگن سے مصروف تھی‘ اس آئل کمپنی میں ایک امریکن جو کافی عرصہ کراچی میں رہنے کی وجہ سے اردو زبان سے اچھی طرح واقف ہو چکا تھا ‘بحیثیت ِڈپٹی چیف جیالوجسٹ کام کر رہا تھا ‘جبکہ اس کمپنی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ایک پاکستانی ڈاکٹر مکی وردگ تھے‘ جو فصیح وردگ کے بھائی تھے۔

1974ء میں اس کمپنی کو پہلی کامیابی ملی ‘جب 42 میٹر کی گہرائی سے حاصل مواد نے ان کے اندازوں کو درست ثابت کر دیا۔ اس شام میراتھن کمپنی نے پاکستانی انجینئرز کے ساتھ مل کر خوب جشن منایا اور ساتھ ہی وزیرا عظم بھٹو کو گوادر آنے کی درخواست کر دی‘ تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے قدرت کی پاکستان کیلئے اس نعمت کو دیکھ سکیںاور اس کیلئے عید قرباں کے تیسرے روز کیلئے پروگرام ترتیب دے دیا گیا‘ لیکن عید قرباں کے دن شاہ ایران بغیر کسی پروگرام یا سرکاری اطلاع کے اچانک لاڑکانہ ذوالفقار بھٹو کی رہائش گاہ آ پہنچے اور پھر وہاں نہ جانے کیا ہو ا۔ اس روز ہونے والی شاہ ایران سے گفتگو کا ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کسی بھی کتاب میں ذکر نہیں کیاہے‘ نہ جانے کیوں۔ جب وہ اور بہت بڑی بڑی باتوں کے حوالے اپنی کتابوں میں دے چکے ‘تو اس ملاقات کا حال احوال بیان کرنے میں کیا ممانعت تھی؟''ا گر مجھے قتل کیا گیا‘‘ کے کسی ایک پیرا گراف میں وہ بتا دیتے کہ پروگرام کے مطا بق؛ وہ عید قرباں کے تیسرے روز گوادر پہنچے‘ لیکن میراتھن آئل کمپنی کے چیف سے انہوں نے نہ جانے کیا کہہ دہا کہ اگلے ہی دن‘ جس میراتھن آئل کمپنی نے 42 میٹر کی کھدائی کے بعد تیل کے آثار دریافت کر لئے تھے‘ اس سائٹ کوSEAL کرنا شروع کر دیا اور چند دنوں بعد وہ گوادر اور کراچی سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر عملے سمیت واپس امریکہ پہنچ گئے۔

پاکستانی جو اس امریکی کمپنی کے ساتھ کسی بھی حیثیت میں کام کر رہے تھے‘ یوں اپنا گھر لٹتے دیکھ کر سر پکڑ کر رہ گئے اور بہت سے تو اس بری طرح روئے‘ جیسے ان کا بہت ہی قریبی فوت ہو گیا ہو۔میں اس کمپنی کے ساتھ نہایت ہی اہم فرائض انجام دینے والے ایک صاحب کو جانتا ہوں ‘جنہوں نے جنون کی حد تک ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے دن رات ایک کر دیا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے جب تلاش کئے گئے تیل کی سائٹ بند کی جا رہی تھی‘ تو ان کا کہنا ہے کہ میرا دل چاہا کہ یہ سب کچھ دیکھنے کی بجائے سمندر میں چھلانگ لگا دوں ‘لیکن ان کا ایمان آڑے آ گیا اور وہ اس قدر بد دل ہوئے کہ بوجھل قدموں اور روتی ہوئی آنکھوں سے کینیڈا چلے گئے۔ ان سے اگر کبھی وطن واپس آ کر پھر سے اپنا تجربہ قوم کے نوجوانوں کے سپرد کرنے کی بات کی جائے‘ تو وہ کہتے ہیں کہ میرا تجربہ پاکستان کے آقا کبھی بھی کام نہیں آنے دیں گے۔

1973-74ء میں میراتھن آئل کمپنی نے بے تحاشا سرمایہ خرچ کرتے ہوئے گوادر کے قریبی سمندر میں تیل کی تلاش کیلئے کام شروع کیا تھا اور ا س کمپنی کو اس کے طلب کئے جانے والے ہرجانے سمیت نہ جانے کتنے کروڑ ڈالر حکومت پاکستان نے کسی سے لیکریا کہاں سے ادا کئے‘ یہ کوئی راز نہیں۔ میراتھن کے 45 برس بعد جب کیکڑا ون سےEXXONاورENI کمپنیاں اپنا کام بند کرکے واپس روانہ ہونے لگیں‘ تو اس بوڑھے پاکستانی کی مجھے ایک بار پھرفون پر ہچکیوں میں بندھی ہوئی آواز سنائی دی'' میں نے تمہارے کالم لکھنے کے بعد کہا تھا ناں کہ کچھ نہیں ہو گا‘ وہ سب کچھ برباد کر کے رکھ دیں گے‘‘ دیار ِغیر میں بیٹھے ہوئے اس بوڑھے پاکستانی کے ساتھ میری آنکھوں سے بے ساختہ بہنے والے آنسو سوال کرنے لگے کہ نہ جانے ہم اس دیمک کی تباہ کاریوں سے کب آزاد ہوں گے؟

 461