سپریم جوڈیشل کونسل اور ملکی سیاست

ریڈ زون سے - کنور دلشاد

11 جون 2019

Supreme Judicial council or mulki siyast

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور ان کی ٹیم نے نئے بجٹ میں عداد و شمار کوخوش نما بنا کر پیش کیا ہے‘ تاہم عام آدمی کو کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں ملنے والا ۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام میں بے چینی میں اضافے کا عمل رک نہیں سکے گا۔ ان حالات میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کا حکومت سے ٹکراؤ بھی واضح نظر آتا ہے۔جہاں تک احتساب کے عمل کا سوال ہے تو یہ عمل تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے شروع ہوچکا تھا اور ویسے بھی یہ کام حکومت کا نہیں اداروں کا ہے ‘مگراس کے باوجود عمران خان Imran Khan احتساب کو اپنا سیاسی بیانیہ بنائے ہوئے ہیں ‘تاہم مشکل سیاسی اور معاشی فیصلے اس حکومت کے اپنے نہیں ‘کیونکہ بجٹ سے پہلے وہ اپنی معاشی ٹیم برطرف کر چکے تھے ۔اس میں کیا شک ہے کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی ٹیم کا تیار کردہ ہے‘ بہرکیف حکومت ایک طرف اہم معاشی فیصلے لے رہی ہے اور ساتھ ہی اپوزیشن سے تصادم کی صورت بھی پیدا کر رکھی ہے۔

افواج پاکستان Pakistan نے رضاکارانہ طور پر اپنے بجٹ میں کمی کا اعلان کر کے قابل تحسین مثال قائم کی ہے ۔اب اصولی طور پر سب سے پہلے پارلیمنٹ کے ارکان کو اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اسی جذبے کے تحت رضاکارانہ کمی کرنی چاہیے ‘ اس کے بعد ریاستی اداروں کے سربراہان کو‘ اس کے بعد صنعت‘ تجارت اور زراعت دوست پالیسیوں کے ذریعے قومی اخراجات پورے کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔ جن صنعت کاروں‘سرمایہ کاروں ‘ سیاستدانوں اور پارلیمنٹیرینز نے اربوں روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں‘ وہ رضاکارانہ طور پر واپس کر دیں ‘ اس میں رعایت یہ رکھی جا سکتی ہے کہ اصل زر میں واپس کر دیں اور منی لانڈرنگ Money laundering کے ذریعے اربوں روپے کی جورقم باہر بھجوا دی گئی‘ واپس پاکستان Pakistan کے بینکوں میں جمع کرادیں۔ پاکستان Pakistan کے حکمران سیاستدان قوم کو بتائیں کہ بیش قیمت قدرتی وسائل اور بہترین افرادی قوت کے باوجود پاکستان Pakistan آخر کب تک غیر ملکی قرضوں اور امداد پر انحصار کرتا رہے گا؟پاکستان Pakistan کو معاشی استحکام دینے کیلئے جس بصیرت اور معاشی مہارت کی ضرورت ہے‘ گزشتہ چالیس سال میں ہم وہ فراہم نہیں کر سکے؛ حالانکہ ہماری قوم میں ذہانت اور مہارت کی کوئی کمی نہیں۔

قومیں ہمیشہ اجتماعی کاوشوں سے ہی بحرانوں سے نبرد آزما ہو کر سرخرو ہوا کرتی ہیں۔اس کے لئے نیک نیتی‘ باہمی اعتماد اور جذبۂ حب الوطنی کی ضرورت ہوتی ہے۔سردست حالات یہ ہیں کہ دوست ممالک کی اعانت اور آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کے باوجود ہمیں اپنی معیشت کو صحیح راستے پر لانے کے لئے مزید کئی اقدامات کرنا ہوں گے۔ جہاں تک اپوزیشن کی بات ہے ‘ان کے خدشات دور کیے جانے چاہئیں کہ یہ بھی ملک و قوم کے حوالے سے ہی ہے‘ کسی کا ذاتی مسئلہ تو نہیں ہے۔ اسے خوش قسمتی پر ہی محمول کیا جائے گا کہ ریاست کے تمام ادارے متحد ہیں اور ان کے پیش نظر ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان Pakistan کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے۔

14 جون سے سپریم جوڈیشل کونسل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی Dr. Arif Alvi کی طرف سے سپریم کورٹ کے جسٹس جناب قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف انکم ٹیکس کے قوانین کو نظر انداز کرنے کے ریفرنس کی ابتدائی سماعت کرے گا۔اسی دوران سپریم جوڈیشل کونسل سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف بھی ایک ریفرنس کی سماعت کرے گی۔دوسری جانب ملک کے وکلا کا ان ریفرنسز کے حوالے سے مضبوط موقف ہے‘ بالخصوص سپریم کورٹ آف پاکستان Pakistan بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی پیش پیش ہیں جو کہ ایک جرأت مندو کیل ہیں اور ماضی میں نواب اکبر بگٹی کے بہت قریبی ساتھی رہے ہیں۔نواب اکبر بگٹی انہی کے ذریعے بلوچستان Balochistan اور ملک کے دیگر حصوں کی ممتاز شخصیتوں سے رابطے میں رہتے تھے‘ لہٰذا ماضی کے حوالے سے دیکھا جائے تو امان اللہ کنرانی کی آواز کو غیر معمولی ہی سمجھا جائے گا۔ ملک کے وکلا رہنماؤں کی جانب سے وہی انداز اختیار کرنے کا کہا گیا ہے ‘جو انہوں نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرفی کے دنوں میں اختیار کیا تھا۔ایڈووکیٹ امان اللہ کنرانی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے اشارتاً ان وکلا رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا‘ جو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد وکلا تحریک سے لاتعلق ہو گئے‘ ان کا اشارہ غالباً اعتزاز احسن کی طرف تھا کہ انہوں نے جون 2009ء میں ایوان ِصدر کے سامنے وکلا کے عظیم اجتماع کو نظر انداز کرکے احتجاج کی کال واپس لے لی تھی۔ بہرحال جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے پر تحمل کے ساتھ‘ بغیر کوئی جارحانہ انداز اختیار کیے‘ تحریک چلتی رہے گی اور سپریم جوڈیشل کونسل بھی اپنا آئینی طریقہ اختیار کرے گی۔ اسی دوران قوی امکان ہے کہ وکلاکی نمائندہ جماعت کی طرف سے ایک ایسا ریفرنس عمران خان Imran Khan کے خلاف پیش کیا جائے گا‘ جس سے الیکشن کمیشن آف پاکستان Pakistan کے غیر جانبدارانہ طرز عمل پر بھی حرف آئے گا اور تحریک انصاف بند گلی میں کھڑی ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسا سکہ بند کیس ہے ‘جس سے عمران خان Imran Khan صاحب کے وکلا ان کو اندھیرے میں رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے جہانگیر ترین کی وساطت سے عمران خان Imran Khan صاحب کو پیغام پہنچانے کی کوشش کی تھی کہ مگر یوں لگتا ہے کہ شاید ان تک پیغام نہیں پہنچایا گیا۔ میں نے ان کالموں کے ذریعے بھی خدشات ظاہر کئے کہ ممکن ہے ان تک آواز پہنچ جائے‘ مگر لگتا ہے ایسا نہیں ہو سکا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سوشل میڈیا پرمضحکہ خیز اور گمراہ کن مہم چلائی جارہی ہے ۔اس گمراہ کن مہم میں کوئی صداقت کا عنصر نہیں ‘نہ ہی اس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے۔میری مرحوم قاضی عیسیٰ سے ملاقات مئی 1970ء میں مغربی پاکستان Pakistan کے گورنرجنرل عتیق الرحمن کے دفتر میں گورنر ہاؤس لاہور میں ہوئی تھی ۔ ہم نے ون یونٹ کو برقرار رکھنے کی مہم شروع کر رکھی تھی‘ اسی حوالے سے گورنر عتیق الرحمن سے ملاقات ہوئی تھی اور قاضی عیسیٰ ان کے ہاں مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قاضی خاندان سچے اور مخلص پاکستانی ہیں‘ جنہوں نے اس ملک کی بہتری کے لیے ہر موقع پر اپنی خدمات پیش کیں۔

بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری نے پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت خاص منصوبہ بندی کے تحت کی ہے اور ببانگ د ہل محسن داوڑ اور علی وزیر کی حمایت میں قدم اٹھایا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ سابق فاٹا کے صوبائی حلقوں میں ہونے والے انتخابات میں پشتون تحفظ تحریک کے ساتھ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ ن اورعوامی نیشنل پارٹی اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانے کی کوشش کرے گی اور تحریک انصاف کے امیدواروں کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس کے ساتھ ساتھ اگلے سال ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ کراچی میں اس وقت تقریباً 50 لاکھ پختون آباد ہیں اور غالب امکان ہے کہ اگلے بلدیاتی انتخابات میں جیت پیپلز پارٹی کی ہی ہوگی‘ جس کے ساتھ پشتو نوں کی اکثریت ہوگی‘ کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ کے ووٹ تحریک انصاف میں تقسیم ہو جائیں گے۔ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری کے آس پاس موجود سنیئر رہنما بلاول کو پشتون تحریک کی حمایت پر قائل کرتے رہتے ہیں‘ جن میں فرحت اللہ بابر اور رضا ربانی پیش پیش ہیں ۔اسی پس منظر میں بلاول نے وفاقی وزیر مملکت علی محمدخان کی تقریر کے دوران گرم جوشی سے پشتون تحریک کے لیڈروں کی حمایت کی تھی جو اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ ہے اور یہ سوچ ہی ان کے طرزِ عمل کو انتہائی جارحانہ بنا رہی ہے ۔بلاول کو معلوم ہے کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو سزا ہو سکتی ہے اور وہ اسی بات کو ذہن میں رکھ کر ہی اپنی ہر حکمت عملی تیار کر رہے ہیں اور ان کو امید ہے کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے ان کو کراچی کے 50 لاکھ پشتون مدد دیں گے‘ جبکہ فاٹا بیلٹ میں بھی ان کی حمایت صاف نظر آرہی ہے۔ اسی لیے بلاول کو کوئی خوف نہیں کہ اگر سندھ میں گورنر راج لگتا ہے‘ کیونکہ ایک تو انہیں یقین ہے کہ اس کی قانونی حیثیت بہت کمزور ہوگی اور دوسرا انہیں معلوم ہے کہ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کا اتحاد انتہائی غیر فطری ہے۔

 78