ججوں کا ضابطۂ اخلاق

حرف راز - اوریا مقبول جان

11 جون 2019

Judges rules

دنیا بھر کی عدالتوں میں روزانہ کروڑوں گواہ اس مالک کائنات کو حاضر و ناظر جان کر اپنی اپنی مذہبی کتابوں پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھاتے ہیں۔ پاکستان Pakistan میں بھی اسی طرح کے حلف کی روایت انگریز کے زمانے سے چلی آ رہی تھی جس میں ضیاء الحق Zia ul Haq نے ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ "اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار"۔ شروع شروع میں پولیس کے روایتی گواہ جو مثلِ مقدمہ دیکھ کر سچ جھوٹ ملا کر بیان دیا کرتے تھے وہ بہت ہچکچائے، لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ اسکے عادی ہو گئے اور فر فر بلا خوف یہ قسم اٹھانے لگے۔ یہ "عادی ہونا" دراصل ہمارا ایک معاشرتی رو یہ ہے۔ ہم میں سے ہر پاکستانی زندگی میں بار بار قسم اٹھاتا ہے، عہد کرتا ہے یا حلف نامے پر دستخط کرتا ہے خواہ وہ حلف نامہ شناختی کارڈ بناتے وقت اس بات کا اعلان ہی کیوں نہ ہوں کے وہ رسول اکرم ﷺ کو خاتم النبیین مانتا ہے اور اسکا کسی قادیانی اور لاہوری گرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم روزمرہ میں کھائی گئی قسموں، کئے گئے عہد و پیمان اور اٹھائے گئے حلف ناموں کو ایک عبارت یا گفتگو سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ وہ عدالتیں جہاں ان قسموں، عہد ناموں اور حلف کی پاسداری کی بنیاد پر فیصلے ہوتے ہیں، جہاں روز اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ کون سا حکمران، سیاسی رہنما، جرنیل یا بیوروکریٹ ایسا ہے جو اپنے حلف کی پاسداری نہیں کرتا ہے، پاکستان Pakistan کی ان عدالتوں میں بیٹھنے والے اعلیٰ مقام ججوں کا بھی ایک حلف نامہ اور ان کیلئے ضابطہ اخلاق موجود ہے۔ یوں تو انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے افراد کے لیے دنیا کے ہر مذہب نے اعلیٰ ترین انسانی اقدار کی شرائط عائد کر رکھی ہیں اور ہر تہذیب و معاشرت نے ان کیلئے ضابطہ اخلاق طے کیے ہیں، لیکن خالصتاً پاکستانی آئینی تقاضوں کے مطابق ججوں کا ضابطہء اخلاق طے کرنے کیلئے ایک ادارہ موجود ہے۔ آئین پاکستان Pakistan کے آرٹیکل 209 کے تحت ایک سپریم جوڈیشل کونسل ہے جو عدلیہ کی نگرانی کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ اسکی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان Pakistan کرتے ہیں اور اسکے ممبران میں سپریم کورٹ کے دو سینئر جج اور ہائی کورٹ کے دو سینیئر چیف جسٹس شامل ہوتے ہیں۔ اس سپریم جوڈیشل کونسل کی جہاں اور بہت سی ذمہ داریاں ہیں (جو آج کل بہت زیادہ زیر بحث ہیں)، وہیں آئین کے آرٹیکل 209کے سیکشن 8 کے تحت اس کونسل کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ ججوں کے لیے ضابطہ اخلاق بنائے۔ پہلا ضابطہء 1962 کے آئین کے آرٹیکل 128(4) کے تحت بنایا گیا تھا جسکو بہت سی تبدیلیوں کے بعد 8 اگست 2009 کو سپریم جوڈیشل کونسل نے ازسرنو منظور کیا، اسے سرکاری گزٹ میں شائع کرنے کی منظوری دی گئی اور یہ آج بھی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس ضابطہ اخلاق کے گیارہ آرٹیکل ہیں۔ اس حلف نامے کا اردو ترجمہ کرکے اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ بائیس کروڑ عوام میڈیا بازی اور اطلاعات کے اس ہجوم اور نعرہ بازی کی اس سیاست میں خود تجزیہ کرسکیں کہ آئین پاکستان Pakistan کے نزدیک ایک جج کو اخلاقی معاشرتی اور عدالتی سطح پر کیسا ہونا چاہیے۔ آرٹیکل 1:ہم قدری (Equiponderance) سے مراد زمین و آسمان ہیں۔ ہم قدری دراصل ظلم، بے انصافی اور غیر مساوی بوجھ کے خاتمے کا نام ہے اور ایک جج کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر معاملے میں مساوات کے اصول کو قائم رکھے۔آرٹیکل2: ایک جج کو اللہ سے ڈرنے والا، قانون کا پابند، متقی (abstemious)، زبان کا پکا، رائے میں عقلمند، محتاط، تحمل مزاج، الزام سے پاک ہونا چاہیے اور اسے لالچ چھو کر بھی نہ گزرا ہو۔انصاف کرتے ہوئے اسے مضبوط ہونا چاہئے لیکن کھردرا مزاج نہیں، نرم خو ہونا چاہیے لیکن کمزور نہیں، اسکے انتباہ میں رعب ہو، وہ اپنے الفاظ کا پابند ہو، ہر وقت پر سکون رہے، اور ہر معاملہ جو اسکے سامنے آئے اسکے بارے میں درست نتیجے پر پہنچنے کے لیے متوازن سوچ رکھے جو ذاتی رائے سے پاک ہو۔ بحیثیت جج جب وہ عدالت میں بیٹھا ہو تو وہ مروجہ آداب و رسوم کا خیال رکھے، خوش خلقی اور خوش اخلاقی پر عمل کرے، عدالت کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھے اور ان تمام باتوں کے معاملے میں وہ وکلا اور سائلین کے درمیان کوئی امتیاز نہ برتے۔آرٹیکل 3: ہر قسم کے طعنے اور الزام سے بچنے کے لیے جج کو اپنی سرکاری اور ذاتی زندگی کو غیر مناسب اور نا درست معاملات سے پاک رکھنا چاہیے۔آرٹیکل 4: ایک جج کو فورا اس کیس سے دست بردار ہو جانا چاہئے جس میں اسکا ذاتی مفاد موجود ہو یا ان لوگوں کا جو اسکے رشتے دار یا نزدیکی دوست ہیں۔ ایک جج کو ہر اس شخص کے ساتھ معمولی سے معمولی کاروباری معاہدے سے بھی دور رہنا چاہیے جسکا کیس اسکی عدالت میں زیر سماعت ہو، اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھروہ کیس سے الگ ہو جائے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ انصاف ہو رہا ہے اور انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئیے، جج کو ہر اس رائے یا عمل سے بھی دور رہنا چاہیے جس سے براہ راست یا بلواسطہ طور پر اسکا ذاتی مفاد یا نفع مضبوط ہوتا ہوآرٹیکل 5: جج کا عمل عوام کے سامنے ہوتا ہے، اس لیے اسے وہ تمام شہرت مل جاتی ہے جو اس کے لئے ضروری ہے۔ اسے مزید شہرت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے۔ اسے عوامی بحث میں حصہ نہیں لینا چاہیے خصوصاً کسی سیاسی معاملے میں، سوائے ان معاملات کے جن میں قانون کا سوال موجود ہو۔آرٹیکل 6: ایک جج کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ خود یا کسی دوسرے کے ذریعے بھی ایسے کاروباری معاملات سے دور رہے جو کل کو اسے کسی مقدمہ بازی میں الجھا دیں۔ جج کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ اپنی حیثیت کا استعمال ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے کرے، خواہ فائدہ آج ملے یا مستقبل میں اسکی امید ہو۔ ایسے پرائیویٹ اداروں کی مالی اور دیگر ذمہ داریوں سے بھی اسے دور رہنا چاہیے تاکہ اس کی وجہ سے اسکی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ آرٹیکل7: عدالتی ذمہ داریوں کے علاوہ تمام سرکاری اور پرائیویٹ ذمہ داریوں سے جج کو دور رہنا چاہیے۔ اسی طرح اسے کسی ادارے کے عہدے کا الیکشن لڑنے سے بھی دور رہنا چاہیے۔آرٹیکل 8: تحائف صرف رشتہ داروں یا قریبی دوستوں سے وصول کئے جائیں اور وہ بھی رسم و رواج کے مطابق۔ ہر وہ نوازش جو انصاف کے راستے میں رکاوٹ بنے اس سے اجتناب کیا جائے۔آرٹیکل 9:جج کو عدالتی ذمہ داریوں کے دوران اپنی عدالت اور دیگر عدالتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہیے اور ادارے کی دیانت کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔آرٹیکل 10: ججوں کو مختصر ترین وقت میں فیصلے کرنا چاہیئں تاکہ سائلین کی مشکلات میں کمی آئے۔آرٹیکل 11: اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو کسی ایسے کام کی مدد، یا کوئی ایسا حلف نہیں اٹھانا چاہیے جو اس کے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتا ہو، یا جو آئین کے تیسرے شیڈول کے جرائم میں آتا ہو۔وہ کسی ایسی طاقت یاقوت کی مدد بھی نہ کرے جو آئین پاکستان Pakistan میں بتائے گئے طریقے کے علاوہ کسی اور طرح سے قوت حاصل کرے۔ اس ضابطہ اخلاق کا ترجمہ کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ اس میں کوئی لفظ یا فقرہ بھی ایسا نہ ہو جو اسکی روح کو متاثر کرے۔ اس ضابطہ اخلاق کو پڑھنے کے بعد یقینا 22 کروڑ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھیں گے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے ارباب اختیار اور ارباب عدل نے کیا کبھی اس ضابطہ اخلاق کو سامنے رکھ کر ججوں کا انتخاب کیا تھا۔کیا وہ اپنے ذاتی تعصب ، سیاسی وابستگی اور پسند و ناپسند سے بالاتر ہوکر ججوں کا انتخاب کرتے رہے ہیں ۔اگر ایسا نہیں تو پھر ان محترم ججوں سے کیا گلہ۔عدالتوں کے جج آج آئینے کی طرح عوام کے سامنے ہیں اور ضابطہ اخلاق کا پیمانہ بھی عوام کے ہاتھ میں ہے، اب جسکو چاہیں وہ عزت و تکریم سے نواز دیں۔دلوں میں بسنا کوئی آسان نہیں ہوتا۔

 183