کیا واقعی بہت مہنگائی ہے؟؟

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

10 جون 2019

Kiya Waqi mehngai boht ziyada hai

کل شام نیوز چینل پر چلتی ایک خبر نے توجہ اپنی طرف مبذول کرائی جو کچھ یوں تھی کہ مری میں عید کے دوسرے دن تک 70ہزار گاڑیاں داخل ہوچکی ہیں۔۔کچھ ایسا ہی حال ناران کاغان کا بھی ہوا پڑا ہے جہاں انتظامیہ نے جواب دے دیا ہے کہ مزید لوگوں کی گنجائش نہیں ۔۔ شمالی علاقہ جات میں یہ کوئی اس سال انوکھا رش نہیں ہے ۔ہر سال عید پر اور عید گزرنے کے دس پندرہ دن بعد بھی ریکارڈ توڑ رش رہتا ہے۔۔یہ لوگ پاکستان Pakistan سے باہر کے نہیں ہوتے۔۔اپنے ہی ملک کے مختلف حصوں سے آے ہوتے ہیں۔

مری میں اس پورے ہفتے تل دھرنے کو جگہ نا ہوگی۔

۔پورا رمضان بازاریں کچھاکھچ بھری رہیں۔۔جی بھر کر شاپنگ بھی کی گئی۔۔ہر طبقے کے لوگ بازاروں میں خریدوفروخت کرتے پاے گئے۔۔اور ایک اچھی بات یہ بھی ہے ہر بندے کی استطاعت کے مطابق بازار میں مناسب ورائٹی موجود رہی۔۔۔

ایک طرف برانڈڈ کپڑے جوتوں کی کے بڑھتے آوٹ لیٹس جہاں مہنگے داموں خریداریاں جم کر کی گئیں۔۔تو دوسری طرف مختلف مارکیٹس میں بھی رش غیر معمولی رہا۔۔پرانے دور میں ایک آدھ سوٹ بنتا تھا۔یا زیادہ سے زیادہ دو ہوگئے۔۔اور اب تین چار سوٹوں سے کم پر گزارہ ہی نہیں ہوتا۔

میں نے کوئی جگہ ایسی نا دیکھی جہاں مہنگائی کی وجہ سے کچھ نا خریدا جا رہا ہو۔۔چاند رات کو تو یوں محسوس ہوا سارا شہر شاپنگ کے لیے الٹا پڑا ہے۔۔سارا رمضان جدید ریسترانز بھی بھرے رہے جہاں سحری اور افطار پیکیجز ہزار روپے پر ہیڈ سے شروع ہوتے ہیں۔۔

کھانے پینے کے معاملے میں بھی عوام نے کوئی کثر نا چھوڑی۔افطار پارٹیاں بھی زور و شور سے جاری رہیں ۔۔اور تقریبا گھروں میں بھی دسترخوان پر مکمل اہتمام کا سماں رہا۔۔یہ مڈل کلاس کا احوال بتا رہی ہوں۔۔ہائی یا ایلیٹ کلاس میرا موضوع ہی نہیں۔۔نا ان کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے۔۔مسئلہ ہم مڈل کلاس لوگ کرتے ہیں ۔

۔اس میں اپر اور لوئر مڈل کلاس دونوں طبقات شامل ہیں۔۔یہ جو اوپر روٹین بتائی ہے یہ ہم مڈل کلاس ہی ہیں جو شاپنگ بھی جی بھر کر کرتے ہیں اور مہنگائی کا رونا بھی روتے رہتے ہیں۔۔کھانے پینے میں کنٹرول نہیں کریں گے۔۔سارا رمضان چٹ پٹے کھانوں کے بغیر ہمارا روزہ افطار نہیں ہوتا تھا ۔۔لیکن مہنگائی مہنگائی کا احتجاج بھی جاری رکھیں گے۔۔

گھومنا پھرنا افورڈ کرلیں گے لیکن وہاں کوِئی کیمرہ لے کر آجاے اور پوچھے ملکی معشیت پر بات کریں تو ہم فٹ سے واویلا شروع کر دیں گے کہ ملک تباہ ہو رہا ہے ہم مہنگائی کے ہاتھوں پس رہے ہیں۔ہمارے لڑکے اربن سول اور بورجان کے علاوہ کوئی جوتی ہی پسند نہیں کرتے۔۔جہاں نارمل سی جوتی بھی دو سے چار ہزار کی ہوتی ہے۔۔لیڈیز شاپنگ میں مختلف برانڈز شامل ہوگئی ہیں تو مردانہ شاپنگ بھی جے ڈاٹ ،آوٹ فٹرز اور leisure club کی ڈریسنگ پر مشتمل ہوتی ہے۔۔

آسایشات کے عادی ہوتے جا رہے ہیں ۔غیر ضروری عیاشیاں ہمارے لیے اب ناگزیر ہوچکی ہیں ۔تو رونا کس بات کا ہے ؟؟ اسٹینڈرڈ بنانے کے چکروں میں خود ہی اپنی زندگیاں مشکل بنا رہے ہیں۔ہم پرفیکشنسٹ ہوتے جا رہے ہیں۔۔ہر چیز ہمیں بہترین چاہیے۔ پھر رونا کس بات کا ؟؟

غریبوں کی غربت کے ایشو کو خومخواہ ہائی لایٹ کرتے ہیں اتنا رولا خود غریب بھی نہیں ڈالتے۔غریبوں کی اول تو ضروریات بے تحاشہ نہیں ہوتیں ان کا طرز زندگی بہت سادہ ہوتا ہے۔۔دوسری بات قناعت پسند اور کفایت شعار لوگ بھی یوں روتے پیٹتے نظر نا آئیں گے۔۔شور مچاتے ہوے نظر آئیں گے تو وہ جو اپنی زندگیوں میں مشکلات کا سبب خود ہوتے ہیں۔۔تو غور کریں۔۔کیا واقعی مہنگائی بہت زیادہ ہے یا ہماری ڈیمانڈز؟؟

 142