بھرپور سیاسی رمضان ختم!!!!

بھرپور سیاسی رمضان ختم!!!!

بھرپور سیاسی رمضان ختم!!!!

تحریر:حمزہ میر!!!!!

رب کریم کے فضل سے رمضان کا برکتوں والا مہینہ ختم ہو گیا لیکن یہ وہ واحد رمضان تھا جو بھرپور سیاسی رمضان تھا پورے رمضان سیاسی شخصیات ایک دوسرے سے ملتی رہیں اور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز نے رمضان کے بابرکت مہینے میں اپنی مستقبل کی لیڈرشپ کے متعلق صاف اعلان کر دیا پیپلزپارٹی نے پارٹی کمان بلاول اور مسلم لیگ نواز نے مریم نواز کے ہاتھ میں دے دی اور پنجاب حمزہ شہباز کے ہاتھ میں پکڑا دیا ہے یہ چیز اس وقت فائنل ہوئی جب بلاول بھٹو نے افطار ڈنر پر اپوزیشن جماعتوں کو بلایا تو مریم نواز نے مسلم لیگی وفد کی قیادت کی اور اس وفد میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز شامل تھے اصول تو یہ بنتا تھا کہ شاہد خاقان سربراہی کرتے لیکن مریم نواز کو وفد کی قیادت سونپ کر واضح اعلان کر دیا گیا کہ مریم نواز ہی مسلم لیگ نواز کی اگلی لیڈر ہیں اور مریم نواز نے بلاول بھٹو سے ملاقات بھی ایسے ہی کی جیسے دو سیاسی قائد ملاقات کرتے ہیں- بلاول بھٹو کے افطار ڈنر کا اصل مقصد تو حکومت کو ٹف ٹائم دینا ہے کیونکہ ان کو عوام کا احساس تو زرا بھی نہیں یہ صرف اپنی دولت بچانا چاہتے ہیں جو انہوں نے لوٹی ہے کیونکہ اس لوٹی ہوئی دولت کا حساب دینے کا وقت آ گیا ہے کیسز اپنے آخری مراحل میں ہیں کسی بھی وقت آصف زرداری گرفتار ہو سکتے ہیں یہ افطار ڈنر صرف حکومت پر پریشر ڈالنا کے لیے رکھا گیا تھا جس میں کسی حد تک زرداری صاحب کامیاب ہو گئے تھے کیونکہ آخری پیشی میں آصف زرداری کی گرفتاری کے روشن امکانات واضح تھے اور امید تھی شاید آصف زرداری عید کا چاند جیل کی بےنور وادیوں میں ہی دیکھیں گے لیکن پھر اس افطار ڈنر کے نتائج حاصل کر لیے زرداری صاحب نے قیوم سومرو اور اس بےنامی شخص کے ذریعہ جو نیب عدالت میں آئے جن کے بعد نیب کا ایک پیپر کہیں گم ہو گیا اور زرداری گرفتاری سے بچ گئے-دوسری طرف مسلم لیگ نواز نے بھی رمضان کو برپور سیاسی بنا کر رکھا پہلے نوازشریف کو ریلی کی صورت میں جیل چھوڑ کر آئے اور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا اس کے بعد 28 مئی کو بھرپور طریقے سے یوم تکبیر کے طور پر منایا اور پورے ملک میں جلسے کر ڈالے اور حمزہ شہباز اور وہ لوگ جو ہمیشہ سے شریف خاندان کی ڈیل کرواتے ہیں بڑھے بھائیوں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے رہے شہبازشریف لندن میں مختلف شخصیات سے ملتے رہے اور معملات حل کروانے کی کوششوں میں مصروف رہے اور اس رمضان میں ہی ڈیل فائنل ہو گئی تھی لیکن ایک چیز کی رکاوٹ آئی اور وہ تھی مریم نواز کی سیاست کیونکہ نوازشریف ہر صورت مریم نواز کو سیاست میں لانا چاہتے اور ان سے بھرپور کردار ادا کروانا چاہتے ہیں لیکن "لوگ" نہیں مان رہے حمزہ شہباز "لوگوں" کو قابل قبول ہے لیکن میاں صاحب کو قبول نہیں پاکستانی خاموشی سے روزے رکھتے رہے اور عبادات میں مصروف رہے جب کے سیاسی محاز پر دونوں اپوزیشن جماعتیں رلیف لینے کے لیے سرگرم رہیں اور کسی حد تک کامیاب بھی رہیں لیکن کپتان ایک ہی بات کہتے رہے "گھبرانا نہیں" اور "میں ان کو ڈیل نہیں دوں گا" تو خان صاحب کو بتانا تھا دونوں چھوٹی ڈیل لے چکے ہیں- حکومت نے بھی ساسی محاز کو بھرپور سجائے رکھا کبھی پریس کانفرنس کے ذریعے تو کبھی اسمبلی میں تقاریر کر کے اپوزیشن کے خوب لتے گورنر ہاوس لاہور تو جیسے پورا رمضان ہوٹل بنا رہا ہر روز لوگوں کی افطاریاں ہوتی رہیں مختلف لیگی چیرمینز کی افطار ڈنر کے ذریعے وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں--

 42