بھرپور سیاسی رمضان ختم!!!!

Hamza Meer

08 جون 2019



بھرپور سیاسی رمضان ختم!!!!

تحریر:حمزہ میر!!!!!

رب کریم کے فضل سے رمضان کا برکتوں والا مہینہ ختم ہو گیا لیکن یہ وہ واحد رمضان تھا جو بھرپور سیاسی رمضان تھا پورے رمضان سیاسی شخصیات ایک دوسرے سے ملتی رہیں اور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز نے رمضان کے بابرکت مہینے میں اپنی مستقبل کی لیڈرشپ کے متعلق صاف اعلان کر دیا پیپلزپارٹی نے پارٹی کمان بلاول اور مسلم لیگ نواز نے مریم نواز Maryam Nawaz کے ہاتھ میں دے دی اور پنجاب حمزہ شہباز کے ہاتھ میں پکڑا دیا ہے یہ چیز اس وقت فائنل ہوئی جب بلاول بھٹو Bilawal Bhutto نے افطار ڈنر پر اپوزیشن جماعتوں کو بلایا تو مریم نواز Maryam Nawaz نے مسلم لیگی وفد کی قیادت کی اور اس وفد میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز شامل تھے اصول تو یہ بنتا تھا کہ شاہد خاقان سربراہی کرتے لیکن مریم نواز Maryam Nawaz کو وفد کی قیادت سونپ کر واضح اعلان کر دیا گیا کہ مریم نواز Maryam Nawaz ہی مسلم لیگ نواز کی اگلی لیڈر ہیں اور مریم نواز Maryam Nawaz نے بلاول بھٹو Bilawal Bhutto سے ملاقات بھی ایسے ہی کی جیسے دو سیاسی قائد ملاقات کرتے ہیں- بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کے افطار ڈنر کا اصل مقصد تو حکومت کو ٹف ٹائم دینا ہے کیونکہ ان کو عوام کا احساس تو زرا بھی نہیں یہ صرف اپنی دولت بچانا چاہتے ہیں جو انہوں نے لوٹی ہے کیونکہ اس لوٹی ہوئی دولت کا حساب دینے کا وقت آ گیا ہے کیسز اپنے آخری مراحل میں ہیں کسی بھی وقت آصف زرداری گرفتار ہو سکتے ہیں یہ افطار ڈنر صرف حکومت پر پریشر ڈالنا کے لیے رکھا گیا تھا جس میں کسی حد تک زرداری صاحب کامیاب ہو گئے تھے کیونکہ آخری پیشی میں آصف زرداری کی گرفتاری کے روشن امکانات واضح تھے اور امید تھی شاید آصف زرداری عید کا چاند جیل کی بےنور وادیوں میں ہی دیکھیں گے لیکن پھر اس افطار ڈنر کے نتائج حاصل کر لیے زرداری صاحب نے قیوم سومرو اور اس بےنامی شخص کے ذریعہ جو نیب عدالت میں آئے جن کے بعد نیب کا ایک پیپر کہیں گم ہو گیا اور زرداری گرفتاری سے بچ گئے-دوسری طرف مسلم لیگ نواز نے بھی رمضان کو برپور سیاسی بنا کر رکھا پہلے نوازشریف کو ریلی کی صورت میں جیل چھوڑ کر آئے اور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا اس کے بعد 28 مئی کو بھرپور طریقے سے یوم تکبیر کے طور پر منایا اور پورے ملک میں جلسے کر ڈالے اور حمزہ شہباز اور وہ لوگ جو ہمیشہ سے شریف خاندان کی ڈیل کرواتے ہیں بڑھے بھائیوں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے رہے شہبازشریف لندن میں مختلف شخصیات سے ملتے رہے اور معملات حل کروانے کی کوششوں میں مصروف رہے اور اس رمضان میں ہی ڈیل فائنل ہو گئی تھی لیکن ایک چیز کی رکاوٹ آئی اور وہ تھی مریم نواز Maryam Nawaz کی سیاست کیونکہ نوازشریف ہر صورت مریم نواز Maryam Nawaz کو سیاست میں لانا چاہتے اور ان سے بھرپور کردار ادا کروانا چاہتے ہیں لیکن "لوگ" نہیں مان رہے حمزہ شہباز "لوگوں" کو قابل قبول ہے لیکن میاں صاحب کو قبول نہیں پاکستانی خاموشی سے روزے رکھتے رہے اور عبادات میں مصروف رہے جب کے سیاسی محاز پر دونوں اپوزیشن جماعتیں رلیف لینے کے لیے سرگرم رہیں اور کسی حد تک کامیاب بھی رہیں لیکن کپتان ایک ہی بات کہتے رہے "گھبرانا نہیں" اور "میں ان کو ڈیل نہیں دوں گا" تو خان صاحب کو بتانا تھا دونوں چھوٹی ڈیل لے چکے ہیں- حکومت نے بھی ساسی محاز کو بھرپور سجائے رکھا کبھی پریس کانفرنس کے ذریعے تو کبھی اسمبلی میں تقاریر کر کے اپوزیشن کے خوب لتے گورنر ہاوس لاہور تو جیسے پورا رمضان ہوٹل بنا رہا ہر روز لوگوں کی افطاریاں ہوتی رہیں مختلف لیگی چیرمینز کی افطار ڈنر کے ذریعے وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں--

 23