چئیرمین نیب بمقابلہ مفتی طارق مسعود

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

08 جون 2019

Chairman NAB VS Mufti Tariq

پچھلے دنوں چئیرمین نیب کے حوالے سے کافی خبریں سرگرم رہیں۔۔کچھ ویڈیوز اور آڈیوز کے بھی چرچے رہے۔۔ چونکہ منفی خبریں مثبت کی نسبت تیزی سے پھیلتی ہیں لہذا یہ خبر بھی مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ بکی۔۔میں نے پہلے تو توجہ کے لائق نا سمجھا۔۔لیکن جب سوشل میڈیا پر بار بار چئیرمین نیب کی تکرار دیکھی تو میں وہ ویڈیو دیکھنے کے لیے متجسس ہوئی۔۔افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے آڈیو بھی سنی۔۔۔

واضح اندازہ ہوگیا کہ ایک بار پھر کسی مرد کے خلاف عورت کارڈ کھیلا گیا جو کے بدقسمتی سے کامیاب بھی رہا۔۔۔میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتی کہ چئیرمین صاحب نے ٹھیک کیا یا غلط کیونکہ یہ ان کا نجی معاملہ تھا ۔میں کسی مرد کو نا تو فرشتہ سمجھتی ہوں نا ان سے فرشتوں والی توقعات رکھتی ہوں۔۔میرے مطابق چئیرمین کی جگہ کوئی بھی ہوتا اس ٹریپ سے کسی صورت نا بچتا۔ جن فرشتوں کو ایسی آزمایش میں ڈالا گیا تھا جب وہ نا بچ سکے یہ تو پھرانسان تھے۔

۔یہ فتنہ ہی اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ بمشکل ہی اس سے کوئی مرد بچ پاتا ہو۔۔مجھے یاد ہے اس ٹریپ سے ہمارے وزیر اعظم Prime Minister بھی نا بچ پاے تھے۔مفتی قوی والا واقعہ بھی کوئی بہت پرانا نہیں کہ بھلا دیا جاے۔کافی سارے سیاستدان بھی ایک سے زاید عورتوں میں انٹرسٹڈ رہے۔۔۔سابق وزیر اعظم Prime Minister نواز شریف Nawaz Sharif کا ایک امریکن صحافی پر لٹو ہونے کا واقعہ بھی ہم نے سن رکھا ہے ۔۔سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ بڑی نامی گرامی ماڈلز کا نام جوڑا گیا۔۔

وہ حمزہ شہباز جو زور و شور سے آج تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کو پہلے اپنی سابقہ بیوی یا گرل فرینڈ عایشہ کے تحفظات دور کرنے چاہیے تھے جو کچھ عرصہ پہلے ہی اپنے حقوق مانگنے کے لیے میڈیا پر پہنچ آئی تھی۔ عوام تو تقریبا سیاستدانوں کے بارے میں سنتی رہتی ہے ہمارے لیے یہ نئی بات کہاں رہ گئی ہے عوام۔کو اندھا اور بے وقوف سمجھنا بند کردیں اگر دوسرے کا نامہ اعمال دیکھ رہے ہیں تو آپ کا بھی نہیں بھولے۔۔

خود عوام بھی ایسے حالات کا اکثر شکار رہتی ہے ۔۔ہم کیسے نا سمجھیں آپ کی مجبوری کو ۔۔کیونکہ بقول کسی مزاحیہ شاعر

۔۔تم ہوے کہ ہم ہوے کہ میر ہوے۔۔۔

اِن کی زلفوں کے سب اسیر ہوے۔۔۔

اب اگر طیبہ نامی عورت درست ہے اور اس کے الزامات درست ہیں تو باقی ساری عورتیں بھی اپنے موقف میں درست ہونگی ۔سب کو انصاف دلایا جاے پھر تو اب کیا سچ کیا جھوٹ واللہ اعلم ۔۔۔لیکن مسئلہ یہ ہے ان عورتوں کا مقصد انصاف حاصل کرنا ہوتا کب ہے؟۔ان کو جس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یہ اسی کام کو سر انجام دیتی ہیں اور بس ۔۔انصاف مانگتی کون ہے؟؟۔لہذا ان کو زبردستی تو انصاف دلانے سے رہے۔۔

چئیر مین نیب کی ویڈیو یا آڈیو میں اگر اس عورت سے کوئی ملکی راز ڈسکس کر رہے ہوتے یا اس عورت کے ساتھ کسی سیاسی بندے کی رہائی کی بات کر رہے ہوتے تب تو میرے لیے پریشانی کی بات ہوتی۔۔یہ اس عورت سے وہی باتیں کر رہے تھے جیسی دو" لو برڈذ" یا ہر وہ مرد و عورت کرتے ہیں جو ایک دوسرے میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہیں۔

۔ ان ثبوتوں کو سچا یا جھوٹا ثابت کرنا بھی میرا مقصد نہیں۔۔کیونکہ ٹارگٹ کرنے والوں نے جتنا نقصان پہنچانا تھا اتنا پہنچا دیا۔۔اب چاہے یہ جھوٹ بھی نکل آے کس نے ماننا ہے۔ایشو اور ہے جس پر بات کرنی ہے ۔۔

سب سے پہلی بات تو یہ کہ جو حرکت چئیرمین صاحن سے سرزد ہوِی یہ ایک اخلاقی برائی ہے۔۔اور سوشیالوجی کے مطابق اخلاقی برائی پر نا تو حکومت باز پرس کر سکتی ہے نا عوام۔۔ہاں البتہ دو بندے اعتراض کرسکتے ہیں ۔ان میں ایک ہے طیبہ کا شوہر اور دوسری ہیں چئیرمین صاحب کی بیوی۔۔اور سنا ہے اس عورت کا شوہر اس بلیک میلنگ میں شامل ہےیعنی اسکو بیوی کی اس حرکت پر اعتراض نا تھا تو پھر اپوزیشن کیوں وہ کردار ادا کرنے کو مرے جا رہی ہے ؟جو اس کے شوہر کا بنتا تھا۔

یہاں ہمارے بہت سے نام نہاد صحافیوں کو بھی بڑی بے عزتی اور شرم محسوس ہونے لگی۔۔ایک صحافی کے مطابق تو چئیرمین صاحب استعفی دے دیں۔۔اچھا جی واہ ۔۔استعفی کس خوشی میں دیں اس معاشقے سے انکی جاب کا کیا تعلق۔۔جاب تو وہ زمے داری سے کر رہے تب کس خوشی میں استعفی دیں؟؟

اگر اسکی جگہ آپ ہوتے کیا خیال ہے ثابت قدم رہتے؟؟

ہرگز نہیں ۔۔یہ ماننے والی بات ہے ہی نہیں۔

۔ٹھیک ہے ان کی آزمایش ہوتی ہے اور یہ ناکام ٹھہرتے ہیں اس سے زیادہ تو یہ کیس ہی نہیں ۔۔

ضیاالحق کے دور میں فوجیوں کو ٹریننگ کے بہانے امریکہ United States بلایا جاتا۔۔وہاں بھی اہم عہدوں پر فائض فوجیوں کو ایسی ہی آزمایش میں ڈال کر ان کا ریکارڈ بنا لیا جاتا ۔۔اور بعد میں ان کو استعمال کیا جاتا۔۔اور اس سے پہلے بھی تاریخ میں ایسے کئی واقعات ملیں گے۔۔ نا صرف مسلمان مرد بلکہ ہر مذہب کے مردوں کی اس طرح کی وابستگیاں ہسٹری میں بھی بارہا پڑھنے کو ملیں۔۔یعنی یہ فتنہ ہر دور میں مرد کی کمزوری رہا۔

۔۔اب آتے ہیں عنوان کا دوسرا حصہ میں مفتی طارق مسعود کا حوالہ کیوں دیا۔۔تو میرے لیے اس بات کو طارق مسعود صاحب کے بیانات سے سمجھنا زیادہ آسان ہوا ہے۔۔۔ان کے چند بیانات سنے جن کا خلاصہ بیان کرنا چاہوں گی۔۔

۔ یہ خود بھی تین شادیاں کرچکےہیں اور کھرے انداز سے کہتے ہیں چوتھی بھی جب کرنی ہوگی کر لوں گا کسی سے اجازت تھوڑی لینی۔۔یہ دوسری تیسری اور چوتھی شادی پر بے تکی لاجکس نہیں دیتے کہ نہیں بھئی ہم نہیں کرتے یا مجبوری میں کرسکتے ہیں۔یہ مرد کی جبلت کو برملا تسلیم کرتےہیں کوئی ٹوپی ڈرامہ کوئی وضاحت نہیں دیتے ۔۔یہ بڑے بہترین انداز میں تسلیم کرتے ہیں کہ ہاں بھئی ہمارے اندر عورتوں کی اٹریکشن رکھی گئی ہے۔۔اللہ نے رکھی ہے اور ساتھ ہی ہمیں اجازت بھی دے دی ہے دو دو تین چار شادیوں کی۔۔تو ہم کس خوشی میں اس نعمت کا انکار کریں؟؟

ہمیں اس سلسلے میں ہدایت دی گئی تو صرف ایک کہ بیویوں میں اعتدال رکھنا ۔۔برابری کے حقوق جب ہم دے سکتے ہیں تو کیوں نا کریں شادی۔۔۔ادھر ہمارے ہاں زیادہ تر مرد خفیہ تعلق تو رکھ لیتے لیکن حلال طریقہ نا یہ خود اپناتے ہیں نا ان کو ان کی فیملی اور معاشرہ آسانی سے دوسری شادی کرنے دیتا ہے۔یہاں بیویاں حرام تعلق برداشت کرلیتی ہیں دوسری شادی برداشت نہیں کرتیں۔۔

سب سے بڑا ڈر ان کو جو ہوتا ہے وہ یہ کہ ان کے شوہر برابری نہیں رکھ پاتے۔۔پہلی کے حقوق کا استحصال ہوتا ہے۔لیکن جو مرد ناجایز تعلق رکھ رہا ہوتا ہے کیا وہاں انکا استحصال نہی ہوتا؟ ۔

بالفرض کچھ مرد دوسری شادی کر بھی لیں تب بھی یوں criticized کیا جاتا ہے گویا کوئی انتہائی معیوب کام کیا ہو۔ مثال کے طور پر عامر لیاقت کے ایک جائز عمل کو سوشل میڈیا پر ہر وقت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔کچھ اہم پیجز پر تو ان کی بیویوں کا تقابل کیا جاتا ہے باقاعدہ اس بندے کو گالیاں پڑتی ہیں کہ اس نے دوسری شادی کی تو کی کیوں۔۔

۔بھئی جس چیز کی اللہ نے اجازت دی ہے آپ اور ہم کون ہوتے ہیں اس حق پر انگلی اٹھانے والے؟؟ ہاں اگر مالی حالات دوسری شادی کی اجازت نہیں دیتے یا ایک ہی بیوی پر قناعت کرنے والے مرد ہیں تب بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔۔

۔لہذا چئیرمین نیب ٹائپ لوگوں سے گزارش ہے کہ اگر خوبصورت عورتیں اٹریکٹ کرتی ہیں تو بھئی دوسری شادی کرلو ۔۔پھر بھی پسند تو تیسری کرلو چوتھی بھی کرلو ۔۔آپ کے لیے چار کو افورڈ کرنا مسئلہ نہیں۔۔تاکہ آپ کو دام میں پھسانا آسان نا ہو۔۔ان کی بائیو گرافی میں دیکھا انکی عمر بہتر 72سال ہے اور ایک شادی میری معلومات میں آئی۔۔۔آپ اس عمر میں انوالو ہوے تو ظاہری بات ہے یہ حسن آپ کو بھی اٹریکٹ کرتا رہا ہوگا شروع سے۔۔آپ کو غالباً اپنا امیج دوسری یا تیسری شادی سے خراب ہونے کا ڈر تھا ۔۔لہذا آپ نے تقریباً پاکستانیوں کی طرح اس خفیہ تعلق کو استوار کرنے میں عافیت جانی۔۔ خیر امید ہے اس واقعے سےمزید ارباب اختیار کچھ عقل سے کام لیں گے اور کوشش کریں۔گے ایسی صورت حال سے بچنے کی۔۔جو لگتی اوکھی ہے۔۔۔کیوں کہ یہ حربہ ہر بار کامیاب گزرتا ہے۔۔۔

 91