احتساب کیوں ضروری!!

Hamza Meer

06 جون 2019



احتساب کیوں ضروری!!

کالم نگار:حمزہ میر!!

دنیا کا کوئی ملک اس وقت تک نہیں ترقی کر سکتا دنیا جب تک اس ملک کے لوگ خوشحال زندگی نا گزارتے ہوں لوگوں کو تین وقت کی روٹی میسر ہو، اپنا جسم ڈھاپنے کے لیے کپڑے لوگوں کے پاس ہوں لوگوں کو سستا اور فری انصاف ملے ہر ایک حقدار کو اس کا حق ملے غریب کے دکھ کو برابر سمجھا جائے ترکی کے صدر طیب اردگان کی مثال ہمارے سامنے ہے انہوں نے کیسے اپنے ملک کو دنیا کے بہترین اور ترقی پذیر ممالک میں سے ایک بنایا ہے اور اس کے تمام کام زبان زدے عام ہیں لوگوں کو سستا انصاف مہیا کیا اس کے لیے نچلے درجے پر عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے اور اتنا بااختیار بنایا کہ ان کے فیصلوں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا بہت مشکل ہوتا تھا کرپشن کے خلاف ادارہ بنایا اور اس ادارے کے ذریعے ملک سے کرپشن کا پتا گول کیا جوں ہی کرپشن کی سطح کم ہوئی اور لوگوں کو انصاف ملنا آسان ہوا تو بتروزگاری کم ہو گئی کیونکہ کرپشن کی وجہ سے حقدار کو نوکری نہیں ملتی تھی لوگوں کے ٹیکس کی مد میں دیے گئے پیسوں کو محفوظ بنایا جس کی وجہ سے بیرونی قرضہ بھی ختم ہو گیا ترکی کا تین بڑھے کام کیے رجب طیب اردگان نے ایک ٹیکس کے پیسے کا استعمال صیحح کیا،کرپشن کے خاتمے کے لیے جرات مند اقدام کیے اور اپنے لوگوں کو بھی نہیں بخشا،میرٹ کو یقینی بنایا،نچلی سطح پر عدالتوں کا قیام کیا جس سے لوگوں کو انصاف کی فراہمی یقینی ہوئی ان تین چیزوں کی مدد سے ترکی دنیا کی ایک اہم اور امیر ریاستوں میں سے ایک ہے-پاکستان Pakistan میں بھی یہ تین کام کرنے چاہیے لوگوں کے ٹیکس کے پیسے کو محفوظ بنایا جائے لوگوں کے ٹیکس کا پیسا محفوظ ہو اور لوگوں کے ٹیکس کے پیسے کو ایسے طریقے سے محفوظ بنایا جائے کہ پیسا صیحح طریقے سے استعمال ہو اس سلسلے کے لیے ایسا ادارہ بنایا جانا چاہیے جو کسی بھی حکومتی عہدہ رکھنے والے شخص کسی بھی سیاستدان، سرکاری افسران، عدلیہ رئیس لوگوں کا احتساب کر سکے تا کہ کوئی بھی ٹیکس کے پیسے کو ہاتھ نا لگا سکے اور اس کی جرات نا ہو کہ قوم کے پیسوں کے ساتھ گڑ بڑ کر سکے کیونکہ اگر کرپٹ اور ملکی پیسا لوٹنے والے لوگوں کا احتساب ہو گا اور ملکی پیسا محفوظ ہوگا تو حکومت کے پاس پیسا ہو گا جس سے وہ لوگوں کے لیے مختلف قسم کی پالیسیز بنائے گیں تا کہ لوگوں کو کھانے کے لیے روٹی ملے گی نوجوانوں کو روزگار ملے، لوگوں کا ریاستی قوانین پر یقین ہو گا ملک ترقی کرے گا-

اگر پاکستان Pakistan نے بھی ترقی کرنی ہے تو ملکی خزانہ لوٹنے والے کرپٹ اور چوروں کو پکڑا جائے ان کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے ساوتھ کوریا کی طرح کرپشن کرنے والے کو سرعام پھانسی دی جائے جن سے لوگوں کے دل میں ڈر پیدا ہو گا کہ اگر ملک کے پیسے کے ساتھ کھلیں گے تو سخت سزا ملے گی ایسا سخت قانون بنایا جائے جس میں مختلف قسم کی سزائیں بنائی جائیں جو شخص جتنی کرپشن کرے اس کو اس کرپشن کے مطابق سزا دی جائے اگر کوئی شخص وزیر ہوتے ہوئے کرپشن کرے تو اس کو پوری عمر کے لیے نااہل کر دیا جائے اور اگر جتنے پیسے کی کرپشن کی ہو اس سے دو گنا اس سے وصول کیے جائیں اور ساتھ ہی 5 سال کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے- اگر کوئی سرکاری افسر کرپشن کرتا ہوا پایا جائے تو اس کو کرپشن کی نوعیت کے لحاظ سے سزا دی جائے اگر کرپشن کے پیسوں کی تعداد لاکھوں میں ہے تو پانچ سال سزا اگر کروڑوں میں تو دس سال سزا اور پیسے دو گناہ وصول کیے جائیں اگر کوئی سرکاری افسر رشوت لیتا ہوا پکڑا جائے تو سرعام اس افسر کا منہ کالا کیا جائے اور پیسے دینے والے شخص کو پانچ مہینے قید اور پیسے لینے والے افسر کو دس سال قید کی سزا ہونی چاہیے اگر ایسی سزائیں بنائی جائیں اور ان پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے تو پاکستان Pakistan سے کرپشن کا نام ایسے ختم ہو گا جیسے کبھی اس پاک دھرتی ماں کے پیسے کو کسی ناسور اور درندے نے لوٹا ہی نہیں تھا لیکن اس تمام تر کام میں ایک بات ذہن نشین کرنی پڑھے گی ان تجویز کردہ سزاوں کو خالص طور پر ملکی پیسا لوٹنے والوں کے خلاف استعمال کیا جائے نا کہ سیاسی مخالفوں کے خلاف کیسز بنانے کے لیے- اب زرا بات پاکستان Pakistan کے موجودہ فرسودہ اور نام نہاد احتسابی نظام پر

پاکستان Pakistan کا موجودہ احتسابی نظام صرف نام کا ہی احتسابی نظام ہے تحقیقات دیکھ کر لگتا ہے جس بندے کے خلاف نیب نے کیس بنایا ہے اس نے ملک کو لوٹا ہے لیکن جب عدالت میں کیس جاتا ہے تو کیس کا ڈھرم تختہ ہو جاتا ہے نیب کے پراسیکوٹرز الزامات ثابت نہیں کر پاتے اور عدالت ان کو بری کر دیتی ہے جیسے نواز شریف Nawaz Sharif کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ کیس میں عدم ثبوتوں کی بنیاد پر تین دفعہ کے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بری کر دیا گیا نیب کے ادارے کو مضبوط بنانا پڑے گا تا کہ احتساب ممکن ہو سکے کیونکہ ملکی معشیت بھی احتساب کے ساتھ مشروت ہوتی ہے کیونکہ اگر کرپشن نہیں ہو گی تو حکومت کے پاس پیسے ہوں گے وہ لوگوں کے لیے معاشی پیکیج بنائے گی جس سے لوگوں کو فائدہ ہو گا-

 21