احتساب کیوں ضروری!!

احتساب کیوں ضروری!!

احتساب کیوں ضروری!!

کالم نگار:حمزہ میر!!

دنیا کا کوئی ملک اس وقت تک نہیں ترقی کر سکتا دنیا جب تک اس ملک کے لوگ خوشحال زندگی نا گزارتے ہوں لوگوں کو تین وقت کی روٹی میسر ہو، اپنا جسم ڈھاپنے کے لیے کپڑے لوگوں کے پاس ہوں لوگوں کو سستا اور فری انصاف ملے ہر ایک حقدار کو اس کا حق ملے غریب کے دکھ کو برابر سمجھا جائے ترکی کے صدر طیب اردگان کی مثال ہمارے سامنے ہے انہوں نے کیسے اپنے ملک کو دنیا کے بہترین اور ترقی پذیر ممالک میں سے ایک بنایا ہے اور اس کے تمام کام زبان زدے عام ہیں لوگوں کو سستا انصاف مہیا کیا اس کے لیے نچلے درجے پر عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے اور اتنا بااختیار بنایا کہ ان کے فیصلوں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا بہت مشکل ہوتا تھا کرپشن کے خلاف ادارہ بنایا اور اس ادارے کے ذریعے ملک سے کرپشن کا پتا گول کیا جوں ہی کرپشن کی سطح کم ہوئی اور لوگوں کو انصاف ملنا آسان ہوا تو بتروزگاری کم ہو گئی کیونکہ کرپشن کی وجہ سے حقدار کو نوکری نہیں ملتی تھی لوگوں کے ٹیکس کی مد میں دیے گئے پیسوں کو محفوظ بنایا جس کی وجہ سے بیرونی قرضہ بھی ختم ہو گیا ترکی کا تین بڑھے کام کیے رجب طیب اردگان نے ایک ٹیکس کے پیسے کا استعمال صیحح کیا،کرپشن کے خاتمے کے لیے جرات مند اقدام کیے اور اپنے لوگوں کو بھی نہیں بخشا،میرٹ کو یقینی بنایا،نچلی سطح پر عدالتوں کا قیام کیا جس سے لوگوں کو انصاف کی فراہمی یقینی ہوئی ان تین چیزوں کی مدد سے ترکی دنیا کی ایک اہم اور امیر ریاستوں میں سے ایک ہے-پاکستان میں بھی یہ تین کام کرنے چاہیے لوگوں کے ٹیکس کے پیسے کو محفوظ بنایا جائے لوگوں کے ٹیکس کا پیسا محفوظ ہو اور لوگوں کے ٹیکس کے پیسے کو ایسے طریقے سے محفوظ بنایا جائے کہ پیسا صیحح طریقے سے استعمال ہو اس سلسلے کے لیے ایسا ادارہ بنایا جانا چاہیے جو کسی بھی حکومتی عہدہ رکھنے والے شخص کسی بھی سیاستدان، سرکاری افسران، عدلیہ رئیس لوگوں کا احتساب کر سکے تا کہ کوئی بھی ٹیکس کے پیسے کو ہاتھ نا لگا سکے اور اس کی جرات نا ہو کہ قوم کے پیسوں کے ساتھ گڑ بڑ کر سکے کیونکہ اگر کرپٹ اور ملکی پیسا لوٹنے والے لوگوں کا احتساب ہو گا اور ملکی پیسا محفوظ ہوگا تو حکومت کے پاس پیسا ہو گا جس سے وہ لوگوں کے لیے مختلف قسم کی پالیسیز بنائے گیں تا کہ لوگوں کو کھانے کے لیے روٹی ملے گی نوجوانوں کو روزگار ملے، لوگوں کا ریاستی قوانین پر یقین ہو گا ملک ترقی کرے گا-

اگر پاکستان نے بھی ترقی کرنی ہے تو ملکی خزانہ لوٹنے والے کرپٹ اور چوروں کو پکڑا جائے ان کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے ساوتھ کوریا کی طرح کرپشن کرنے والے کو سرعام پھانسی دی جائے جن سے لوگوں کے دل میں ڈر پیدا ہو گا کہ اگر ملک کے پیسے کے ساتھ کھلیں گے تو سخت سزا ملے گی ایسا سخت قانون بنایا جائے جس میں مختلف قسم کی سزائیں بنائی جائیں جو شخص جتنی کرپشن کرے اس کو اس کرپشن کے مطابق سزا دی جائے اگر کوئی شخص وزیر ہوتے ہوئے کرپشن کرے تو اس کو پوری عمر کے لیے نااہل کر دیا جائے اور اگر جتنے پیسے کی کرپشن کی ہو اس سے دو گنا اس سے وصول کیے جائیں اور ساتھ ہی 5 سال کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے- اگر کوئی سرکاری افسر کرپشن کرتا ہوا پایا جائے تو اس کو کرپشن کی نوعیت کے لحاظ سے سزا دی جائے اگر کرپشن کے پیسوں کی تعداد لاکھوں میں ہے تو پانچ سال سزا اگر کروڑوں میں تو دس سال سزا اور پیسے دو گناہ وصول کیے جائیں اگر کوئی سرکاری افسر رشوت لیتا ہوا پکڑا جائے تو سرعام اس افسر کا منہ کالا کیا جائے اور پیسے دینے والے شخص کو پانچ مہینے قید اور پیسے لینے والے افسر کو دس سال قید کی سزا ہونی چاہیے اگر ایسی سزائیں بنائی جائیں اور ان پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے تو پاکستان سے کرپشن کا نام ایسے ختم ہو گا جیسے کبھی اس پاک دھرتی ماں کے پیسے کو کسی ناسور اور درندے نے لوٹا ہی نہیں تھا لیکن اس تمام تر کام میں ایک بات ذہن نشین کرنی پڑھے گی ان تجویز کردہ سزاوں کو خالص طور پر ملکی پیسا لوٹنے والوں کے خلاف استعمال کیا جائے نا کہ سیاسی مخالفوں کے خلاف کیسز بنانے کے لیے- اب زرا بات پاکستان کے موجودہ فرسودہ اور نام نہاد احتسابی نظام پر

پاکستان کا موجودہ احتسابی نظام صرف نام کا ہی احتسابی نظام ہے تحقیقات دیکھ کر لگتا ہے جس بندے کے خلاف نیب نے کیس بنایا ہے اس نے ملک کو لوٹا ہے لیکن جب عدالت میں کیس جاتا ہے تو کیس کا ڈھرم تختہ ہو جاتا ہے نیب کے پراسیکوٹرز الزامات ثابت نہیں کر پاتے اور عدالت ان کو بری کر دیتی ہے جیسے نواز شریف کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ کیس میں عدم ثبوتوں کی بنیاد پر تین دفعہ کے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بری کر دیا گیا نیب کے ادارے کو مضبوط بنانا پڑے گا تا کہ احتساب ممکن ہو سکے کیونکہ ملکی معشیت بھی احتساب کے ساتھ مشروت ہوتی ہے کیونکہ اگر کرپشن نہیں ہو گی تو حکومت کے پاس پیسے ہوں گے وہ لوگوں کے لیے معاشی پیکیج بنائے گی جس سے لوگوں کو فائدہ ہو گا-

 80