’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘

برملا - نصرت جاوید

03 جون 2019

Zilton kay mary log

دیدۂ بینا تو نصیب والوں کو ملتا ہے۔ ہر رپورٹر کے لئے مگر ضروری ہے کہ اس کی آنکھ بتدریج جبلی طورپر روزمرہّ زندگی کے معمولات کے ہجوم میں ’’ذراہٹ‘‘ کے ہوئی باتوں کو فوراََ نوٹس میں لائے۔ عمر کا بیشتر حصہ رپورٹنگ کی نذر کیا ہے۔بہت عرصہ یہ مان رہا کہ میری آنکھ مذکورہ صلاحیت کی حامل ہے۔گزشتہ چند ماہ سے مگر ’’کس زمانے کی بات کرتے ہو۔دل جلانے کی بات کرتے ہو‘‘ والی سوچ لاحق ہونا شروع ہوگئی ہے۔

مارچ کے مہینے سے ہر ہفتے تین دن کے لئے لاہور جانا ہوتا ہے۔ سفر کی تھکاوٹ اور اسلام آباد Islamabad اپنے گھر میں رہتے ہوئے میسر ہوئی سہولتوں سے کٹا Disorientedمحسوس کرتا ہوں۔ روزمرہّ زندگی کی بھیڑ بھاڑ میں معمول سے ہٹ کر ہوئی چیزوں کی طرف نگاہ ہی نہیں اُٹھتی۔

ہفتے کی شام عجب واقعہ ہوا۔ افطار سے محض ایک گھنٹہ قبل عسکری الیون سے گورومانگٹ جانے کے لئے نکلا۔ ڈرائیور گاڑی چلارہا تھا۔ میں اپنے خیالات میں گم۔ کیولری گراونڈ کی جانب رواں سڑک کے کنارے ایک موٹرسائیکل زمین پر لیٹی ہوئی تھی۔ میں سمجھا کوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہوگا۔ ڈرائیور نے مگر آگاہ کیا کہ موٹرسائیکل کا پیٹرول ختم ہوگیا ہے۔ اس کا سوار اسے زمین پر گراکر ٹینکی کے بچے کچھے پٹرول کے قطروں کی تلاش میں ہے۔ ’’آپ کو راستے میں ایسے کئی لوگ نظر آئیں گے‘‘۔ اس کا دعویٰ تھا۔

وہ اس دعویٰ تک محدود ہی نہ رہا۔ یہ بھی اعلان کردیا کہ ’’زرداری کی حکومت میں‘‘ جب پیٹرول کی قیمتیں ان دنوں کی طرح آسمان کو چھورہی تھیں تو ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے تھے۔ میں نے اعتبار نہیں کیا۔ گرومانگٹ تک پہنچتے ہوئے مگر کم از کم زمین پر لیٹی 5موٹرسائیکلوں کو گنا۔ چار افراد کو اپنی موٹرسائیکل کو پیدل دھکیلتے ہوئے بھی شمار کیا۔

دریافت ہوگیا کہ لوگ اپنی بساط کے مطابق موٹرسائیکل میں پٹرول ڈلوا کر فرض کرلیتے ہیں کہ وہ کتنی دیر تک چل جائے گا۔ پٹرول ڈلواتے ہوئے ان کے ذہن میں خرچ کی ہوئی رقم ہوتی ہے۔اس رقم سے خریدے لیٹر ذہن میں نہیں ہوتے۔ اُن کا اندازہ نرخ بڑھ جانے کے بعد غلط ثابت ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ بجائے منزل کو پہنچنے کے وہ موٹرسائیکل کو زمین پر لٹاکر خیر کی امید باندھ لیتے ہیں۔ مایوس ہوجائیں تو موٹرسائیکل کو پیدل گھسیٹتے ہوئے قریبی پیٹرول پمپ کی طرف چلنا شروع ہوجاتے ہیں۔

ڈرائیور سے بات نہ ہوئی ہوتی تو میں ایسے واقعات کو معمول گردانتا۔ اس کی بدولت مگر دریافت ہوا کہ لاہور کی سڑکوں پر ایسے مناظر ’’معمول‘‘ نہیں تھے۔ پیٹرول کی قیمتو ں میں حالیہ اضافوں کے بعد ایسے واقعات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ’’زرداری کے زمانے‘‘ کا موجودہ دور سے تقابل کرتے ہوئے ڈرائیور نے خود کو معیشت کو سیاست سے جوڑتا Political Economistبھی ثابت کردیا۔ حالانکہ وہ چٹا اَن پڑھ ہے اور میں خود کو ’’پڑھاکو‘‘ شمار کرتا ہوں جسے اپنے مشاہدے کی صلاحیت پر بہت مان ہوا کرتا تھا۔

صبح اُٹھتے ہی پاکستان Pakistan کے تمام اُردو اور انگریزی اخبارات کا پلندہ بہت غورسے پڑھنے اور ریگولر اور سوشل میڈیا پر مسلسل نگاہ رکھنے کے باوجود میں روزمرہّ زندگی کے حقائق کے بارے میں کتنا بے خبر ہوں اس کا اندازہ ہفتے کی صبح اُٹھ کر ایک اور واقعہ سے گزرنے کے بعدبھی ہوا۔

ایک گزشتہ کالم میں ذکر کرچکا ہوں کہ لاہور میں اخبارات کے لکڑی کے تخت پر لگے ’’سٹال‘‘ ان دنوں ڈھونڈنا اذیت دہ ہوچکا ہے۔ ہفتے کی صبح ہوٹل سے باہر آیا تو یقین تھا کہ چاہے کچھ بھی ہولاہور کی لکشمی مینشن کے سامنے برسوں سے قائم رائل پارک میں اخبارات کے تھڑے ہر صورت موجود ہوں گے۔

رائل پارک میں کبھی فلم ڈسٹری بیوٹرز کے دفاتر ہوا کرتے تھے۔ یہاں کے ریستورانوں میں قیامِ پاکستان Pakistan سے قبل اور فوری بعد کے سالوں میں بے تحاشہ لوگ فلمی دُنیا میں اپنا مقام بنانے کی امید میں گھنٹوں موجود رہا کرتے تھے۔ ان میں سے کئی بعدازاں سٹار بنے۔ دھانسو ہدایت کار اور مصنف وغیرہ مشہور ہوئے۔

بہرحال میں رائل پارک پہنچا۔ اخبارات کا تھڑا اپنی جگہ موجود تھا۔’’میرا‘‘ لاہور زندہ تھا۔ اطمینان ہوا۔ اطمینان کی اس کیفیت کے ساتھ میں نے بلاضرورت اپنی چپل کو پالش کروانے کا فیصلہ کرلیا۔پالش کرنے والے کے ساتھ جوتوں کی مرمت کرنے والا ایک موچی بھی بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے گماں تھا کہ اب جوتوں کی مرمت کرنے والے موچی نہیں ہوتے۔ صرف پالش کرنے والے رہ گئے ہیں۔

موچی کے زمین پر دری اور بوری کی مدد سے بنائے ’’سٹال‘‘ کے ایک کونے میں جوتوں کا ڈھیر لگا تھا۔ میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ زیادہ تر جوتوں کے تلے گھسے ہوئے ہیں۔ ان کے ’’اپر‘‘ مگر ابھی بھی تازہ ہیں۔ موچی بھی اس وقت ایسے ہی ایک جوتے کو نیا تلا لگارہا تھا۔ میں نے لاہوری انداز میں کونے میں لگے ڈھیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے موچی کو مبارک مباد دی کہ اس کا دھندا چمک رہا ہے۔ بجائے خوش ہونے کے موچی نے آہ بھری اور بتایا کہ رائل پارک کے اِردگرد موجود ریستورانوں میں کام کرنے والے ویٹروں وغیرہ کے پاس نئے جوتے خریدنے کی سکت نہیں رہی۔ عید کے لئے اپنے گھروں کو روانہ ہونے سے قبل وہ اپنے پرانے جوتوںکو اس کی مدد سے ’’نیا‘‘ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں نے بے ساختگی سے جواب دیا کہ ایسا تو ہر عید سے قبل ہوتا ہوگا۔ اس نے لاہور کے روایتی لہجے کی شدت کے ساتھ نفی میں سرہلاتے ہوئے مجھے مطلع کیا کہ وہ جب سے رائل پارک میں بیٹھا ہے عید کے قریب آنے کے وقت اس کے پاس ’’پہلی بار‘‘ جوتوں کی اتنی بڑی تعداد مرمت کے لئے آئی ہے۔

دریں اثناء اس نے یہ بھی محسوس کرلیا کہ میں اسے باتوں میں الجھا کر اس کا وقت ضائع کررہا ہوں۔ جس جوتے کی وہ مرمت کررہا تھا اسے بہت انہماک سے ’’چیک‘‘ کرنے میں مصروف ہوگیا۔ اس کا رویہ انگریزی محاورے والی شٹ اپ کال تھی۔ مجھے پیغام مل گیا۔ میری چپل بھی چمک چکی تھی۔اسے پہن کر رائل پارک سے کوپر روڈ کے راستے مال روڈ تک پہنچ کر ڈیفنس کی جانب رواں ہوگیا۔

دومختلف مواقع پر چند لمحوں کی گفتگو کے بعد معمول سے ہٹ کر ہوئی باتیں مگر اتوار کی صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھنے تک میرے ذہن میں چپکی رہیں۔ انگریزی میں ایک ترکیب استعمال ہوتی ہے۔ اسے Little Manکہا جاتا ہے۔ اپنی زبان میں ہم اسے ’’عام آدمی‘‘ کہہ سکتے ہیں۔مجھے بارہا یہ خیال ستائے چلاجارہا ہے کہ ساری عمر صحافت کی نذر کرتے ہوئے میری تحریریں ’’عام آدمی‘‘ کے احوال بیان کرتی ہیں یا نہیں۔

دوستوفسکی جیسے شہرئہ آفاق ناول نگار نے اپنے دور کے ’’عام آدمی‘‘ پر خصوصی توجہ دی تھی۔ اس حوالے سے اس نے ایک ناول بھی لکھا۔ اُردو میں اس کے ترجمے کو ’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا۔ شوکت صدیقی بھی بنیادی طورپر صحافی تھے۔ ہم مگر انہیں ’’خدا کی بستی‘‘ والا ناول لکھنے کی وجہ سے آج بھی یاد رکھتے ہیں۔ سوال اٹھتاہے کہ کیا’’عام آدمی‘‘ کی زندگی پر فوکس کرنے کے لئے کالم نگاری کے بجائے ناول ہی لکھنا ہوں گے۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو ناول لکھنے کی صلاحت تو مجھ کو نصیب نہیں ہوئی۔ اشرافیہ کی سیاست ہی کو موضوع بنائے رکھنا ہوگا۔

 151