اقبال کے شاہین

Sardar Saran Khaliq

31 مئی 2019



اقبال_کا_شاہین

تحریر سردار ساران خالق

جب قوم میں وہ شاہین جو علامہ اقبال کی نظر میں ستاروں پہ کمند ڈالنے والا تھا جس کی نگاہ فلک سے اونچی ہونی چاہیے تھی جس کے معاشرتی کردار سے ظالم اپنا راستہ تبدیل کرنے پہ آجاتا جس نوجوان کے علم سے غیر بھی استفادہ حاصل کرتے لیکن قارئین میں آج اس نتیجہ پر پہنچا کہ اقبال کا وہ شاہین اپنی قیمت کبھی نوکری لگاتا ہے اور کبھی نام نہاد میرٹ چوروں کے گیٹ کھولنے پر لگاتا ہے محفل میں بیٹھ کر جب اس نوجوان کی گفتگو سنو تو ایسا محسوس ہو گا کہ یہ نوجوان کل کچھ ایسا کر گزرنے والا ہے کہ شاید صدیاں یاد رکھیں لیکن دوسرے ہی دن یہ وزیر مشیر کی ڈگی میں بیٹھ اُسکے گیٹ کیپر کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے یا چغل خوری کر رہا ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ سب سے سیانا ہے معاشرے کی نظریں اندھی ہیں جو اس کی حرکات و سکنات سے مکمل طور پر لا علم ہے ۔ایسے نوجوان سے دھرتی بھی معافی کو خواستگار رہتی ہے جو صرف زبانی باتوں کے تیر چلاتا ہے حالانکہ اندر سے یہ ایسا انقلابی ہے کہ ایسے انقلاب سے تو بہ توبہ ہر محفل میں بیٹھ کر ہر محفل کو سراہتا ہے اور اپنے آپ کو چالاک سمجھ کر یہ باور کروانے کی کوشش کرتا ہے کہ اس نے سب کو بیوقوف بنائے رکھا ہے حالانکہ پوری سوساٸٹی اس کی دوغلی حرکتوں سے واقف رہتی ہے ۔جب قارئین معاشرے میں ایسا پڑھا لکھا طبقہ ہو گا تو اگر اُسی تعلیم کے شعبہ میں آزمایا گیا تو اُس نے کیا خاک تعلیم دینی ہے وہ تو اپنے جیسے ہی نکھٹو پیدا کرےگا جس کو دیکھ کر دیگر نوجوان بھی پڑھائی سے علم سیکھنے سے توبہ ہی پڑھیں گے ۔ اقبال کے شاہین کے اس منافقت زدہ چہرے نے قوم کیا بنانی ہے جو خود تعلیم سے استفادہ حاصل نہیں کر سکا جسے خود باغیرتی اور خوداری کی زندگی کا نہیں پتہ وہ خودار نسل کیسے پیدا کرےگا ۔جو خود چڑھتے سورج کا پجاری اور اپنی چھوٹی سی نوکری کی خاطر اپنا ضمیر گروی رکھ لے اُس نے خاک نٸی نسل کو رازق کا بتانا ہے آپ چیک کر لیں اس سوسائٹی میں اقبال کے شاہین کی پرواز سے زمانہ نہیں بلکہ اس کے اپنے پر جلتے ہیں ۔ ایسی سوسائٹی سے کل کون توقع کرسکتا ہے کہ کل وہ غریب اور امیر کے فرق کو مٹا کر ایک ہی صف میں لائےگا آپ خود کسی دن ایسے پڑھے لکھے کاغذی ڈگری کے حامل لوگوں کو دیکھیں گے جنہوں نے یہ ڈگری علم پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی نوکری کی بھیک مانگنے کے لیے لی تھی جسکو یہ حاصل کرکے اپنے آپ کو زمانے کا کامیاب ترین نوجوان سمجھتا ہے ۔ منافقت کی اس ڈگری نے صرف طوطے پیدا کرنے ہیں ایسے طوطے جنکے نزدیک چرس افیون شراب بھی روزی کمانے کا ذریعہ ہوگا ۔ اور حاشیہ برداری کرکے نوکری لینا مقصد و مدعا ہو گا ۔اصل میں جو سیاست دانوں کا طبقہ ہے وہ بھی مکمل سمجھ چکا ہے کہ نوکری کا جھانسہ دیکھ کر اس ملت کے ہر نوجوان کو آرام سے ساری عمر کے لیے اپنا غلام بنایا جا سکتا ہے اور یہ نوجوان اپنی نسل کو بھی بتا کر جائےگا کہ میری نوکری فلاں صاحب کی مرعون منت تھی آپ نے اُس فلاں صاحب کی نسلوں کی بھی حاشیہ برداری کرنی ہے اسی میں کامیابی اور کامرانی ہے ۔ آج میں نے اس ٹاپک کو اس لیے سامنے رکھا کہ وہ نوجوان جو پڑھے لکھےہو کر بھی اپنی خوداری گروی نہیں رکھتے وہ اس چہرے سے واقف ہو جائیں اور اپنی نسلوں کی حفاظت کے لیے آج سے ہی صف بندی کر لیں کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت خود کرنا ہو گی ورنہ حاشیہ بردار نے اُنکے بچوں کو بھی حاشیہ برداری کا درس ہی دینا ہے ۔ بچو اس حاشیہ بردار چہرے سے اور اپنی نسلوں کو بھی بچاؤ تب ہی جا کر کوئی باغیرت نسل پیدا ہو سکتی ہے جو اپنے حقوق کےلیے انکی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کے قابل ہو سکے ورنہ یہ بظاہر پڑھا لکھا طبقہ کبھی نوکری اور کبھی دوسروں کی زمین کو اپنی زمین بنانے کے چکر میں ضمیر فروشی کرتا رہےگا اس حاشیہ بردار کو ٹوٹی پھوٹی سڑکیں خود بھی نظر نہیں آئیں گی اور نہ ہی صحت کی سہولیت کی خستہ حالی نظر آئےگی اس کو بس ہر شعبے میں اپنی ذات نظر آئےگی یہ شیطان کو بھی راضی رکھے اور نعوذ باللہ خدائے بزرگ و برتر کو بھی راضی کی کوشش کرےگا حالانکہ یہ نہ پہلے ممکن تھا اور نہ ہی اس کے بعد ہو قارئین بندہ کس کس چیز پر فوکس کرے جب اس معاشرے کے اس طبقے پر نظر پڑتی ہے اپنے آپ کو کوسنے کا دل کرتا ہے کیونکہ یہ پڑھا لکھا نوکری زدہ طبقہ صبح کسی اور کو خوش کرتا ہے دوپہر کو کسی اور کو اور شام کو کسی اور کی چوکھٹ کا راہی ہوتا ہے دن میں دس دفعہ رنگت تبدیل کرنے والے نے گرگھٹ کو بھی مات دے دی ہے ۔لوگوں کو اب گرگھٹ کی مثال چھوڑ کر اس نوجوان کی مثال دینا پڑےگی اور اس مثال کو نٸی نسل آرام سے سمجھ بھی جائےگی۔میری قوم کے کچھ غیرت مند نوجوانو رزق مالک کائنات کے ہاتھ میں ہے آپ نے کیوں اس رزق کو حکمرانوں کی چوکھٹ پر ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے میرا کام آپ کو غیرت جگانا ہے کیونکہ میں نے جو قلم کا سہارا لیا ہے میری ذمہ داری ہے کہ میں جو غلط محسوس کروں اُسے اس نیت سے قلم کی نظر کروں کہ شاید کچھ سمجھداروں کو حقیت واضح ہو جائے اور وہ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر اپنے ضمیروں کے سوداگر نہ بنیں جماعت اور نظریات چینج ہوتے رہے ہیں ہوتے رہیں گے لیکن اپنی رنگت ایک رکھو یا سیاہ نظر آو یا سفید منفاقت سے خود بھی بچو اور سیاستدانوں کو بھی بچاو کیونکہ سیاستدانوں کی اخلاقیات خراب کرنے میں اور میرٹ کی تباہی کروانے میں زیادہ کردار آپ کا ہے آپ ووٹ کسی اور کو دیتے ہو اور حق مارنے کے لیے کسی اور کے پاس چلے جاتے ہو اور دل ہی دل میں سوچتے ہو کہ تم جیسا سیانا شحص کوئی نہیں حالانکہ یہ سیانوں والی بات نہیں بلکہ اس کو میں منافقت کانام دونگا اگر کسی کے نظریات سے اختلاف ہے تو الیکشن میں اپنی وفاداری سامنے تبدیل کرو پہلے ووٹ پھر نوکری کالا نیلا پائپ اور کچی سڑک کی ڈیمانڈ کرو حالانکہ یہ سارے کام حکومتیں کے ہیں لیکن آپ کی سوچ ہی محدود اور یہاں تک ہی ہے بنیادی حقو ق دینا ریاست کی ذمہ داری تھی آپ جیسے حاشیہ برداروں نے اس کو بھی ضرورت بنا کر رکھ دیا ہے ۔قوم کے باقی آنےوالے نوجوانو کو اچھا پیغام اور اچھی سوچ دے کر جاؤ جس سے آپ کی دنیا بھی آباد رہےگی اور آخرت میں بھی مزہ آئےگا میرا یہ پیغام اُن پڑھے لکھے حاشیہ برداروں کے دلوں کو چھلنی تو ضرور کرےگا لیکن شاید اس سے کچھ سبق بھی حاصل کر لیں۔

والسلام

 17