تصویر کا دوسرا رخ

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

31 مئی 2019

Tasveer ka dosra rukh

کچھ عرصے سے تواتر کے ساتھ ایسی خبریں دیکھنے میں آرہی ہیں کہ کلیجہ کانپ کر رہ جاتا ہے۔۔غم و غصہ اور اشتعال کی کیفیت کے ساتھ کڑھنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔۔اس ٹاپک پر لکھنے سے کترا رہی تھی۔۔بے شک بہت حساس موضوع ہے ۔۔لیکن کب تک لکھنے سے احتراز کرتی۔۔؟ پے در پے ہونے والے واقعات نے قلم اٹھانے پر مجبور کر ہی دیا۔۔تو آج کا ٹاپک ہے۔۔چائلڈ ابیوز۔۔۔تو گزارش ہے تھوڑا سخت دلی سے کام لیں اور نیوٹرل ہوکر یہ تحریر پڑھ لیں ۔۔میری جتنی بھی ریسرچ ہے اس حوالے سے حاضر ہے۔۔

کافی ہوش ربا حقائق تھے۔۔جن سے چشم پوشی ممکن نہیں ۔۔سب سے پہلی بات جو ریسرچ میں سامنے آئی وہ یہ کہ ہمارے ملک میں یہ کوئی انوکھا اور نیا کام نہیں ہو رہا بلکہ یہ لعنت کافی ممالک میں عام ہے . ذرا اعدادو شمار سے جایزہ لیں

۔۔۔1 ۔۔ یورپیئن کنٹریز میں ورلڈ ہیلتھ آرگنایزیشن نے جو سروے کرایا محتاط اندازے کے مطابق سن 2017 میں تقریبا 44 ملین بچے فزیکل ایبیوز کا شکار ہوے جن کی عمریں پندرہ سال سے کم تھیں۔۔

2 ۔۔۔انڈیا میں ایک سروے کے مطابق سن 2001 سے 2011 تک چائلڈ ریپ کے 48838 کیس درج ہوے ۔۔اور ان کیسز کی ریشو % 350 کے حساب سے بڑھی۔۔یعنی 2001 میں دو ہزار ایک سو بارہ کیس جبکہ دوہزار گیارہ میں سات ہزار نوسو پینتس کیس درج ہوے۔

۔3۔۔امریکہ United States میں گورنمنٹ کے آفیشل ریکارڈ کے مطابق ہر سال سات سو ملین بچے چایلڈ ابیوز یا وائلنس کا شکار ہوتے ہیں۔۔عام فہم انداز میں کہا جاے تو ہر دس میں سے ایک۔بچہ ایفیکٹڈ ہوگا۔۔

۔4۔۔آسٹریلیا میں بھی بچوں کی کافی ہیوی تعداد رپورٹ ہوئی جبکہ سروے کے دوران یہ معلوم ہوا کہ کہ ہر چھ میں سے ایک بچہ چایلڈ ابیوز کا شکار رہ چکے ۔

5 ۔۔ساوتھ افریقہ Africa ۔۔یہاں اس معاملے میں ریسرچ کی گئی تو پتہ چلا ہر تین میں سے ایک افریقی لڑکا ہے یا لڑکی چایلڈ ابیوز کا لازما نشانہ بن چکا ہوگا ۔۔جبکہ 2015۔16 کے دور میں 786.985 کیسز رپورٹ ہوے۔۔ان متاثرین کی عمریں سترہ سال سے کم تھیں۔۔

یہ تھیں چند مثالیں۔۔جن سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ نیٹ ورک کافی پرانا ہے۔۔اگر ہمارے ملک میں اس کی جڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں تو یقیناً لمحہ فکریہ ہے ۔۔بچوں کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔۔اس کے پیچھے کوئی ایک وجہ نہیں کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ۔۔جن میں بے راہ روی، معاشرے میں پھیلتا انتشار، مجرم کی شخصیت میں نفسیاتی کمی یا کوئی نفسیاتی بیماری ، بہرحال یہ نفسیات سمجھنا کافی مشکل بھی ہے کہ جو لوگ بچوں کے ساتھ ایسا ناروا سلوک رکھتے ہیں اس کےپیچھے بنیادی طور پر کیا عوامل تھے۔۔

۔ایسے درندے ہمارے درمیان ہی موجود ہوتے ہیں ان کو کوئی سپیشلی سر سینگ نہیں لگے ہوتے کہ ان کو پہچان لیا جاے۔۔یہ کرتوت بہت وقتوں سے ہوتا آرہا ہے اس میں کوئی شک وشبے کی گنجایش نہیں۔۔اور ہم چاہے جتنی کوشش کرلیں شیطان صفت لوگوں یا درندوں سے یہ دنیا خالی نہیں کرسکتے ۔۔بس ان کی شناخت کرنی ہے۔۔تاکہ ان کے شر سے بچا جا سکے۔۔۔۔

me too کے ہیش ٹیگ میں کافی لوگوں نے اداکاروں کے ساتھ ساتھ حصہ لیا تھا تب پتہ چلا کہ جسمانی طور پر ہراساں کیا جانا عالمی المیہ ہے نا کہ قومی۔۔ ۔۔اب قاتلوں کے ساتھ بھی مسئلہ ہوگیا۔۔۔تب اور اب میں فرق اتنا تھا کہ پہلے بچوں میں اوئرنس نہیں ہوتی تھی یا ڈر کر چپ ہوجاتے تھے۔۔اب کے بچوں کو جنسی تعلیم سکھا کر ان کو گویا موت کا پروانہ تھما دیا ہے ۔۔اب قاتل کو ابیوذ کرنے کے بعد پکڑے جانے کے خوف سے ان کو جان سے مارنا پڑتا ہے۔۔

۔۔ہم۔برے لوگوں کی نشاندہی نہی کرسکتے جب تک وہ برائی کر نا گزریں۔۔تو سیدھی سی بات ہے ایک آدھ کو سولی پر لٹکا لینے سے یہ سلسلہ رکنے کا نہیں۔۔۔یا تو حکومت مکمل خلوص اور لگن سے اس معاملے میں سریس ہو ۔۔ہر ایسے قاتل کو پکڑ کر چوک میں سنگسار کیا جاے یا آگ لگا دی جاے تاکہ عبرت پھیلے ۔اسی وقت موقع پر سزا مل جاے۔۔۔ایک دو مہینہ لگاتار ایسی عبرت ناک سزائیں دیں ۔۔پھر دیکھیں جرم کم ہوتا ہے کہ نہیں۔

۔اسلامی سزاوں کو اسلام سے خایف لوگ سنگدل یا بے رحم سزا ئیں کہتے ہیں۔۔ان کو احساس نہیں ہوتا کہ بعض جرموں کی سزا دردناک موت ہے کیونکہ مقصد خوف وہراس پھیلانا اور عبرت دینا زیادہ ہے تاکہ کل کو کوئی ایسی کرتے ہوے ڈرے ۔۔یا تو مکمل اسلامی نظام نافذ کریں۔۔یا چپ چاپ لبرل اور روشن خیال ملک ہونے کا یہ سائیڈ ایفیکٹ برداشت کریں۔۔۔

اور والدین سے بھی گزارش ہے کہ بچوں کو جنسی تعلیم دے کر قبل از وقت پریشان کرنے سے بہتر ہے ان کی حفاظت خود کریں۔ نا اپنے بچے کسی رشتے دار کے پاس چھوڑ کر عمرے کرنے جائیں۔۔۔نا شاپنگ کرنے کے لیے ان کو رشتے داروں کے گھر چھوڑ دیں۔۔۔آنکھیں کھلی رکھیں اندھا اعتماد کسی پر بھی نا دکھائیں۔۔ باقی اللہ ہمارا مدد گار ہو ۔۔ اور ہمیں ایسے دکھ سے بچاے۔۔۔

 129