اعتراض بھی نہیں کرسکتے!

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

31 مئی 2019

Aitraaz bhi nahin kar sakty

لگتا ہے وہی جیت رہے ہیں جنہوں نے اس ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور سب کچھ لوٹ کر باہر لے گئے ہیں ۔ وہی منیر نیازی والی بات کہ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے کہ کوئی ایک کام بھی سیدھا نہیں ہوتا ۔ زرداری صاحب نے کھل کر بات کر دی ہے کہ اس ملک میں نیب اور اکانومی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ بات تاجروں‘ چیئرمین نیب اور وزیراعظم کو بھی سمجھا دی ہے۔ مطلب ہم لوٹتے رہیں گے اور آپ لٹتے رہیں گے‘ اگر اس ملک میں سانسیں لینی ہیں ورنہ ہم آپ کا جینا حرام کردیں گے۔ یہ دبائو ایسا کام کر گیا ہے کہ نیب چیئر مین نے کچھ دن پہلے ایک طویل پریس کانفرنس میں تفصیل سے بتایا تھاکہ اب کاروباری حضرات پریشان نہ ہوں انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ وہ اربوں روپے عوام سے فون کارڈز پر ٹیکس اکٹھا کرنے کے بعد جمع نہ کرائیں تو بھی انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ ریسٹو رنٹس مالکان کھانے کے بل پر جی ایس ٹی عوام سے لے کر خود کھا جائیں ‘ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی پہلے ہی اس طرح کے اقدامات کرچکے ہیں جن کے بعد ان کا خیال ہے سب تاجر انہیں گھر بیٹھے ٹیکس دیں گے۔ یہ سب باتیں سن کر ہنسی ضرور آتی ہے۔

اسلام آباد Islamabad میں 1998ء سے صحافت کررہا ہوں اور ان اکیس برسوں میں یہی باتیں سنتا آیا ہوں ۔ جنرل مشرف نے بھی کہا تھا کہ وہ تاجروں کو سیلز ٹیکس کے دائرے میں لائیں گے اورنیب کے ذریعے سب لوگوں کو لگام دیں گے‘ مگر دو تین ماہ بعد ہی عقل ٹھکانے پر آگئی ۔ تاجروں نے ہڑتال کر دی ۔ بڑے بڑے تاجر جنرل مشرف اور شوکت عزیز سے ملے اور یہی تسلی کرائی کہ جناب آپ گھر بیٹھیں‘ ہم آپ کو ٹیکس دیں گے اور پھر نت نئے طریقے ڈھونڈ نکالے گئے ٹیکس چوری کے۔ ایف بی آر اور تاجر ساتھ مل گئے اور ٹیکس فراڈ کی نئی کہانیوں نے جنم لیا۔ جنرل مشرف کو پتہ چل گیا کہ اقتدار کی طوالت چاہتے ہیں تو کرپٹ اور کرپشن کو برداشت کرنا ہوگا ۔ انہوںنے چیئر مین نیب جنرل امجد کو پہلے کہا سیاستدانوں کو ٹائٹ کرو اور پھر انہیں ہٹا کر جنرل خالد مقبول کو لگا دیا کہ اب ذرا ہلکا کرو۔ پھر سب کو ڈیلیں ملنا شروع ہوگئیں ۔ ایک ملزم نے نیب کے دو چیئر مینوں کو اپنے کاروبار میں حصہ دار بنا لیا اور پلی بارگین لے لی۔ جو افسران پلی بارگین کے شعبے میں کام کررہے تھے انہوں نے بھی اپنا حصہ وصول کیا۔ وہ کاروباری کنگ بعد میں جنرل مشرف کا رائٹ ہینڈ بن گیا ۔ وہ جانتا تھا کہ ہر بندے کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ ایک اہم ادارے کے سابق سربراہ ایک ایسے کاروباری سیاستدان کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ملازم ہو گئے تھے جس کے خلاف نیب میں کرپشن کے مقدمات درج تھے ۔

اس ملک میں جو بھی چیئر مین نیب لگا ہے وہ انصاف کرنے کے لیے نہیں بلکہ حکمرانوں کی مدد کرنے کے لیے لگا ہے۔ کرپٹ کو اس لیے نہیں پکڑا گیا کہ اسے سزا دلوانی تھی بلکہ اس لیے پکڑا گیا کہ حکمران اس سے سیاسی فائدہ لے سکیں۔ جنرل مشرف نے درجنوں کرپٹ سیاستدانوں کو پکڑا لیکن آخر میں پنجاب انہی کے حوالے کیا جو پنجاب کے بڑے ڈاکو کہلوائے۔ بچ جانے والوںکو وفاق میں جمالی اور شوکت عزیز کے ساتھ کابینہ میں بٹھا دیا۔ اس کے بعد سیاستدانوں کی باری لگی تو انہوںنے ایسا چیئر مین بھرتی کیا جو سپریم کورٹ میں ان کے خلاف مقدمات لڑنے کی بجائے زرداری کے مقدمات کا دفاع کرتا تھا۔ نیب کا ایک پراسیکیوٹر‘ جس کا کام تھا کہ وہ مقدمے میں سزا دلواتا ‘وہ زرداری کا کھیل کھیل رہا تھا‘ اسے بعد میں سندھ میں جج لگوادیا گیا۔ نواز شریف Nawaz Sharif بدقسمت رہے کہ ان کا پانامہ سکینڈل آگیا ورنہ انہوں نے بھی ہر جگہ اپنا بندوبست پورا کررکھا تھا۔ اس دفعہ تقدیر کو خود ہی مداخلت کرنا پڑی ورنہ اس سسٹم میں نواز شریف Nawaz Sharif کو سزائیں دلوانا عام انسان کے بس کی بات نہ تھی ۔ اگر کسی نے اس ملک میں سب کو اپنی جیب میں ڈالا ہوا تھا تو وہ شریف خاندان ہے۔ ابھی بھی انہیں اپنی دولت اور ذہانت پر بھروسہ ہے کہ وہ اس مشکل سے نکل کر پھر سر پر تاج سجائیں گے۔ سرکاری ادارے لاکھ پروپیگنڈا کریں کہ آئندہ شریف خاندان اقتدار میں نہیں آسکے گا ‘ لیکن میں ماننے کو تیار نہیں ہوں ۔ وجہ یہ ہے کہ زرداری اور بینظیر بھٹو کو اگر جنرل مشرف کی طرف سے این آر او مل گیا تھا کہ جو کچھ تم نے لوٹا وہ تمہارا بس ہمارے ساتھ پاور شیئر کرو۔ کچھ لے لو اور کچھ دے دو۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif اور چوہدری نثار علی خان کی جنرل کیانی کے ساتھ کی گئی درجنوں خفیہ ملاقاتوں نے نواز شریف Nawaz Sharif کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کی تھی۔

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ عمران خان Imran Khan بھی اقتدار میں آنے کے لیے انہیں راستوں پر چلتے رہے تھے‘ جس کا اعتراف بعد میں کیا گیا ۔ سیاستدانوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ وہ بغیر مدد کے اقتدار میں نہیں آسکتے۔ کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو تعاون کے بغیر پاور میں آیا ہو‘ لہٰذا اگر کسی کے دل میں انسانوںپر حکومت کرنے کا جنون سوار ہورہا ہو تو اسے پہلے خفیہ ملاقاتیں کرنا پڑتی ہیں ۔

اب عمران خان Imran Khan کو اسی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کی کمزوری کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ سب اخلاقی جواز کھو چکے ہیں جن کو بنیاد بنا کر وہ پاپولر ہوئے تھے اور سب سمجھ بیٹھے تھے کہ عمران خان Imran Khan مختلف ہیں ۔ عمران زرداری اور شریف خاندان جیسی سیاست نہیں کرتے۔ اب پتہ چلا ہے کہ عمران خان Imran Khan کی بھی وہی حیثیت ہے جو جنرل مشرف دور میں ظفراللہ جمالی‘ شوکت عزیز یا زرداری دور میں گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی تھی یا پھر نواز شریف Nawaz Sharif دور میں شاہد خاقان عباسی کی تھی۔ عمران خان Imran Khan بھی اس طرح کے وزیراعظم کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جیسے جمالی‘ شوکت عزیز‘ گیلانی راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کو یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے سوشل میڈیا پر حامی لاکھ انہیں دنیا کا بہترین حکمران بنا کر پیش کرتے رہیں بات نہیں بنے گی ۔ چکوال کے تھانوں کا چکر لگاتے دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان Imran Khan بھی آخرکار شہباز شریف Shehbaz Sharif ماڈل پر چل نکلے ہیں اور بھلا کیسے ممکن ہے کہ انجام بھی وہی نہ ہو۔ پولیس ریفارمز عمران خان Imran Khan کا سب سے بڑا نعرہ تھا اور جب پنجاب ہی انہوں نے ان کو سونپ دیا جنہیں وہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے تو اس کے بعد ان کے حامیوں کا ان سے اصلاحات یا تبدیلیوں کی توقع رکھنا فضول ہے۔

اب یہ بھی سن لیں‘ اس ملک کے مفادات کا کیسے تحفظ کیا جاتا ہے؟ جب آئی ایم ایف کے ساتھ نئے وزیر خزانہ نے مذاکرات شروع کئے تو سیکرٹری نے ایک مرحلے پر محسوس کیا کہ نئے وزیرخزانہ ایسی شرائط بھی مان رہے تھے جن سے اسد عمر کے دورمیں آئی ایم ایف خود پیچھے ہٹ گئی تھی۔ سیکرٹری خزانہ نے مذاکرات میں اس پر اعتراض کیا اور آئی ایم ایف کو یاد کرایا گیا کہ یہ شرائط شامل نہیں تھیں ۔ وزیرخزانہ کو وہ شرائط مانتے دیکھ کر یونس ڈھاگا وزیراعظم ہاؤس گئے اور ایک طاقتور بیوروکریٹ کو بتایا گیا کہ اگر یہ شرائط مان لی گئیں تو ہمارا بہت برا حال ہوگا۔ یہ شرائط ملک اور لوگوں کے مفاد میں نہیں ہیں۔ الٹا انہی کو برطرف کرا دیا گیا۔

زرداری کی کرپشن پر اعتراض کریں تو جواب ملتا ہے: کھایا ہے تو گیارہ برس جیل بھی کاٹی ہے۔ شریف خاندان کے حامی فرماتے ہیں کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں جبکہ عمران خان Imran Khan کے حامی یہ کہہ کر منہ بند کرادیتے ہیں کہ جانے دیں جی ہمارا وزیراعظم تو ہینڈسم اور سمارٹ ہی بہت ہے!

 300