دربار تے ہتھ رکھ مکر گئے ساڈے یار

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

30 مئی 2019

Darbar ty hath rakh mukar gaye

بات کرکے مکر جانا وطن عزیز میں من پسند مشغلہ ہے۔اپنی کی ہوئی بات سے کبھی ہم خوف سے مکر جاتے ہیں کبھی مجبوری سے تو کبھی شوقیہ..کیا وجہ ہم بات کرکے کیوں مکرتے ہیں وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

۔۔اپنے کہے سے مکر جانے میں سب سے زیادہ فیکٹر خوف کا ہوتا ہے ۔

۔ اگلا طاقت+ بدمعاشی پر اتر کر آستینیں چڑھا کر ہم سے پوچھے کہ ہاں جی ۔۔۔! میرے بارے میں فلاں بات کی تم نے ؟؟؟ تو اب اس کے سامنے اقرار کرنا دل گردے کا کام ہوگا ۔۔لہذا ہم یہ کہہ کر جان بچا لیتے ہیں کہ ہم جانتے ہی نہیں کس نے کہا کیوں کہا۔

۔۔کچھ لوگ اپنے خلاف کچھ بھی سن لیں ایسے ہائپر ہوجاتے ہیں کہ اگلا حق پر ہونے کے باوجود مشکل میں پڑ جاتا ہے۔۔جیسا کہ ہمارے ایک عزیز کی بیوی سے ان کے رشتے دار ہمساے نے شکایت لگائی کے آپ کے شوہر نے فلاں جگہ لڑائی کی اور میں نے خود دیکھی اس کا ہی قصور تھا ۔۔اب بیوی نے شوہر سے جواب طلب کیا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔شوہر حضرت کو اتنا شدید غصہ آیا کہ بیوی کو لے کر ہمساے کے گھر پہنچ گئے ۔۔

جوتا اتار کر ہاتھ میں پکڑا اور بولے " ہاں ہنڑ ڈس تو کی ویکھیا سی؟؟؟( ہاں اب بتاو تم نے کیا دیکھا تھا )

بندہ بوکھلا کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا جوتے کو دیکھ کر ڈرتے ڈرتے بولا "آئیں بھائی بیٹھیں تو سہی ۔۔بات آرام سے کر لیتے۔۔"

لیکن ان کا بدستور پارہ آسمان کو چھو رہا تھا جوتے کو مظبوطی سے پکڑ کر بولے " نا تو میرا قصور بتا باقی چھوڑ "

اب صاف ظاہر تھا بندہ قصور بتاتا تو مار بھی کھاتا لہذا اس نے مکرنے میں ہی عافیت جانی ۔۔یہ عزیز اپنی طرف سے بیوی کے آگے سرخرو ہو کر واپس آگئے ۔۔اور ان کا یہ ٹریک ریکارڈ رہا ۔۔ان کے آگے کوئی گواہی دینے کا سوچ بھی نا سکتا تھا کیونکہ یہ جوتا یا ڈنڈا ہاتھ میں لے کر پوچھتے تھے کہ "ہاں اب بتاو میرا قصور "

کچھ لڑاکا عورتیں بھی ایسے ہی کرتی ہیں۔۔ان کو کچھ سمجھانے کے لیے لپیٹ کر کہا جاے تو یہ وہ صلواتیں سنانا شروع کر دیں گی کی اللہ کی امان۔۔کہیں گی یہ جرات ہوئی تو کس کی ؟۔۔ہمیں بندہ دو آخر ہمارے بارے میں کہا تو کہا کیوں۔؟۔اب بتانے والے کے پاس بندہ ہو تو دے ۔۔وہ تو اس نے خود سے گھڑا ہوتا ہے سمجھانے کے لیے۔۔لہذا وہ خود ہی معذرت کرکے جان چھڑا لیتا ہے ۔۔یہ آنٹیاں البتہ ایک لمبا عرصہ زلیل کیے رکھتی ہیں ۔۔جب ملیں گی کہیں گی مجھے بندہ دو میرے بارے میں فلاں بات کس نے کی تھی۔

۔اب ایسے بے باک بندے بہت کم رہ گئے ہیں جو منہ پھاڑ کر کہتے " میں نے کی تھی الو کہ پٹھی جو کرنا کرلے"

گوکہ اب مکرنا آسان کام نہیں رہا ۔۔ٹیکنالوجی جان کو آجاتی ہے بندے کو مکرنے نہیں دیتی ۔۔کالز میسجز ۔۔اور سکرین شاٹ تو ایسا پکا ثبوت ہوتا کہ بندہ بھلے اپنا منہ نوچ لے یا دوسرے کا اس سکرین شاٹ کو نہیں نوچ سکتا نا بدل سکتا ہے۔۔

لہذا کرنا یوں چاہیے جس بندے کو بات بے بات مکر جانے کی عادت ہو اس کو ثبوتوں کے ساتھ شرمندہ کریں۔۔شاید اس کہ عادت ختم ہو جاے۔۔ چھوٹی موٹی بات سے مکر جانا تو ایسا کوئی بڑا مسئلہ نہیں مسئلہ تب ہوتا جب فساد ڈلوا کر اگلے مکر جاتے ہیں۔۔یہ لوگ بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔۔کہیں پر بھی آرام سے پھڈا پڑوا کر پیچھے ہوجاتے اور بعد میں صاف مکر جاتے۔۔اخلاقیات کی ویسے بھی قوم میں شدید کمی پائی جاتی ہے اوپر سے نت نئی بری عادتیں بھی خوشی سے اپنائی ہوئی ہیں۔۔ہمیں حق بات منہ پر کہنے میں عار نہی ہونی چاہیے۔۔ہماری اسی بزدلی اور کمزوری کہ وجہ سے ظالم کو مزید ایڈوانٹیج مل جاتا ہے۔ہم میں ۔برائی کے خلاف بات کرنے کا حوصلہ نہیں رہا مخالفت کے باوجود منہ پر مخالفت کی جرات نہیں رکھتے۔کہیں محبت میں چپ رہتے تو کہیں مجبوری میں۔۔ہمیں ضرورت ہے شایستگی سے اپنےموقف پر قایم رہنے کی۔۔چاہے مخاطب کو اچھا لگے یا برا۔۔اس کے خوف سے موقف نہیں بدلنا یہ طے کرلیں۔۔

 107