مودی ہار گیا‘قائداعظم جیت گئے

زیرو پوایٔنٹ - جاوید چوھدری

30 مئی 2019

Modi Haar gaya Quid Azam Jeet gaya

پاکستان Pakistan کی تحریک جاری تھی‘ قائداعظم محمد علی جناح ووٹ مانگ رہے تھے‘ یہ کراچی تشریف لائے‘عوام سے پاکستان Pakistan کی حمایت کی درخواست کی‘ شرکاءمیں موجود کسی شخص نے کہا ”ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے“ قائداعظم نے مسکرا کر پوچھا ”کیوں؟“ وہ شخص بولا” ہم سنی العقیدہ ہیں اور آپ اہل تشیع ہیں‘ ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے“ قائداعظم مسکرائے اور بولے ”ہندوستان میں مسلمان محمد علی جناح اور کٹڑ ہندو موہن داس کرم چند گاندھی کے درمیان مقابلہ ہے‘ آپ اگر مجھے شیعہ سمجھ کر ووٹ نہیں دیں گے تو پھر آپ کا ووٹ گاندھی کے پاس چلا جائے گا“ وہ رکے اور پھر فرمایا ”آپ مجھے ووٹ نہیں دیں گے تو کیا آپ گاندھی کو دیں گے اور کیا گاندھی سنی ہے“

وہ شخص خاموش ہو گیا۔

قائداعظم محمد علی جناح شروع میں ”ہندو مسلم بھائی بھائی“ کے قائل تھے‘ یہ 1906ءسے 1913ءتک آل انڈیا کانگریس میں بھی شامل رہے‘ قائد اعظم مہاتما گاندھی کی طرح ”ایک ہندوستان“ کےلئے لڑتے رہے‘ یہ بھی سمجھتے تھے خون عقیدے سے گاڑھا ہوتا ہے اور ہندوستان کے تمام لوگوں کو مذہب سے بالاتر ہو کر آزادی کےلئے لڑنا چاہیے‘یہ گاندھی کے سیکولرازم کے حامی بھی تھے لیکن پھر اچانک حقیقت قائداعظم کے سامنے آ گئی‘ یہ جان گئے ہندو اور مسلمان الگ الگ قومیں ہیں‘ دونوں کے درمیان صرف عقائد نہیں بلکہ تہذیب‘ فکر‘ رسم‘رواج‘ خوراک‘ لباس اور زبان کی دیواریں بھی حائل ہیں‘ مسلمان اور ہندو تیرہ سو سال اکٹھے رہے‘ یہ ان تیرہ سو برسوں میں ایک نہیں ہو سکے‘ یہ مزید ہزار سال بھی یک جان نہیں ہو سکیں گے اور یہ جان گئے ہندوستان کے ہندو آزادی کے بعد مسلمانوں پر دائرہ حیات تنگ کر دیں گے‘ مسلمانوں کا کلچر‘ زبان‘ لباس‘ عقائد حتیٰ کہ عبادت گاہیں تک ہندوﺅں کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہیں گی‘ قائداعظم نے یہ جاننے کے بعد دو قومی نظریئے کو حقیقت مان لیا اور یہ 1913ءمیں کانگریس کو خیرباد کہہ کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے‘ یہ وقت گزرنے کے ساتھ دو قومی نظریئے کے سب سے بڑے داعی بن گئے‘ یہ کانگریس میں مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مسلمان لیڈروں کو بھی سمجھایا کرتے تھے آپ یاد رکھیں آپ اور آپ کی نسلوں کو اس حماقت کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا لیکن وہ نہیں مانتے تھے بہرحال قصہ مختصر 14 اگست 1947ءکو ہندوستان دو قومی نظریہ پر تقسیم ہو گیا۔

مسلمان پاکستان Pakistan میں اکٹھے ہو گئے اور ہندوﺅں نے بھارت India کو اپنا ملک بنا لیا‘ تقسیم کے وقت انڈیا میں 68 لاکھ سکھ اور83 لاکھ عیسائی بھی تھے‘آزادی کے بعد آل انڈیا کانگریس ”سیکولر انڈیا“ کے منشور کے ساتھ اقتدار میں آ گئی مگر یہ سیکولرازم زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا‘بھارت India نے مسلم ریاست جموں اینڈ کشمیر پر بھی قبضہ کر لیااور حیدرآباد دکن کو بھی زبردستی بھارت India کا حصہ بنا لیا اور پنجاب کے سکھوں کو بھی ذلت اور خواری کے علاوہ کچھ نہ مل سکا تاہم ہمیں یہ ماننا ہوگا کانگریس بی جے پی BJP سے نسبتاً بہتر تھی۔

اس نے 1967ءمیں مسلمان ڈاکٹرذاکرحسین کو صدر بنا دیا‘ ڈاکٹر عبدالکلام بھی 2002ءمیں صدر بنے اور کانگریس نے من موہن سنگھ کو بھی دو بار وزیراعظم بنا کر سکھوں کے دل بھی جیت لئے‘کانگریس نے اے کے انتونی ‘آسکر فرنینڈس اور اگاتھا سنگما جیسے عیسائیوں کو بھی وزیر بنایا اور اس کی کابینہ میں پارسی اور بودھ بھی شامل رہے‘ یہ لوگ خواتین کو بھی نمائندگی دیتے رہے لیکن پھر کانگریس بھارت India کی سیاست سے نکل گئی اور شدت پسند جماعت بی جے پی BJP سامنے آتی چلی گئی۔

نریندر مودی narendra modi کا تعلق ہندوانتہا پسندجماعت آر ایس ایس سے تھا‘ یہ انتہائی شدت پسند تھے‘ ہندوستان کو صرف اور صرف ہندوﺅں کی سرزمین سمجھتے تھے اور دھرتی ماتا سے عیسائیوں‘ مسلمانوں اور سکھوں کو صاف کرنا چاہتے تھے‘ یہ 1971ءمیں مکتی باہنی کے ساتھ مل کر پاکستان Pakistan کے خلاف لڑتے بھی رہے‘مودی نے7جون 2015ءکو ڈھاکہ یونیورسٹی میںتقریر کرتے ہوئے کہا تھا ”مکتی باہنی کی حمایت میں‘میں نے بھی بطور رضاکار شرکت کی “یہ7 اکتوبر 2001ءکو گجرات کے چیف منسٹر بن گئے۔

فروری 2002ءمیں گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے اور ڈیڑھ ہزارمسلمان شہید ہو گئے‘ مسلمانوں کی جائیدادیں‘ دکانیں‘ دفاتر اور گاڑیاں تک جلا دی گئیں‘ سینکڑوںعورتوں کی آبرو ریزی ہوئی‘درجنوںبچے سڑکوں پر کچل دیئے گئے اور ہزاروںمسلمان نقل مکانی پر مجبور کر دیئے گئے‘ بھارت India کے اپنے اداروں اور میڈیا نے نریندر مودی narendra modi کو ان فسادات کا ذمہ دار قرار دیا لیکن اس ظلم اور فلاسفی کے باوجود نریندر مودی narendra modi 26مئی 2014ءکو وزیراعظم بن گئے۔

مودی سرکار نے اپنے دور حکومت میں بابری مسجد کو مندر بنانے کا کام بھی شروع کر دیا‘ پنجاب میں بھی گڑ بڑ کا آغاز ہو گیا‘ سکھوں کو بھی بلاوجہ تنگ کرنا شروع کر دیاگیا‘ عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا‘ بھارت India عیسائیوں کے خلاف پر تشدد کاروائیوں میں10 بدترین ممالک میں بھی شامل ہوگیا‘ 2018 میں مسیحی برادری کے خلاف تشدد آمیز کاروائیوں کے 12000 واقعات رونما ہوئے‘درجنوں چرچ بھی جلادیئے گئے اورسینکڑوںعیسائی قتل بھی کر دیئے گئے۔

گائے کا گوشت فروخت کرنے کے ”جرم“ میں گزشتہ پانچ سالوں میں104 مسلمان مار دیئے گئے‘مسلمانوں کے قتل کی ویڈیوز بھی جان بوجھ کر وائرل کی گئیں‘ پاکستان Pakistan پر بھی الزامات کی بوچھاڑ ہو گئی‘ پٹھان کوٹ کا واقعہ ہو یا پھر پلواما Pulwama کا ایشو ہو‘ نریندر مودی narendra modi نے آنکھیں بند کر کے پاکستان Pakistan پر الزام لگا دیئے ‘ مقبوضہ کشمیر میں بھی خوفناک کارروائیاں شروع ہو گئیں‘ مودی نے کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کرنے کےلئے آئین کے آرٹیکل 370میں تبدیلی کا اعلان بھی کر دیا۔

کشمیر میں کریک ڈاﺅنز کا سلسلہ بھی بڑھا دیا گیااور پانچ برسوں میںاڑھائی ہزار کشمیری شہری شہید‘25 ہزارزخمی اور 15 ہزار جیلوں میں پھینک دیئے گئے ‘ چھ ہزار بچے پیلٹ گنز کی وجہ سے بینائی بھی کھو بیٹھے یوں آپ اگر نریندر مودی narendra modi کے پانچ سال کا جائزہ لیں تو آپ کو یہ پانچ برس بھارت India کی اقلیتوں کےلئے سیاہ رات محسوس ہوں گے‘ بھارت India 72 برسوں میں پہلی مرتبہ کٹڑ ہندو ریاست بن کر سامنے آگیا‘ اپریل 2019ءمیں نریندر مودی narendra modi کی مدت ختم ہو گئی اور نئے الیکشن شروع ہو گئے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال تھا نریندر مودی narendra modi اپنے شدت پسند خیالات کی وجہ سے دوسری مرتبہ نہیں جیت سکیں گے‘ بھارت India کا سیکولر مائینڈ ان کو ووٹ نہیں دے گا لیکن جب الیکشن کے نتائج نکلے تو مودی نے 2014ءکے مقابلے میں 21نشستیں زیادہ حاصل کر لیں‘ دنیا یہ دیکھ کر بھی حیران رہ گئی عوام ہر الیکشن میں بی جے پی BJP کو پہلے سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں دے رہے ہیں‘بی جے پی BJP نے2009ءمیں116سیٹیں لیں‘ یہ سیٹیں 2014ءمیں بڑھ کر282 اور 2019ءمیں 303ہو گئیں۔

بھارت India کی12ریاستوں میں اس وقت بھی بی جے پی BJP کی حکومتیں ہیں‘ یہ ٹرینڈ کیا ثابت کرتا ہے‘ یہ ثابت کرتا ہے بھارت India میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ازم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘ بھارتی Indian عوام سیکولر ازم سے دور ہو کر کٹڑ اور شدت پسند ہندو بنتے جا رہے ہیں ‘ یہ اب ”دھرتی ماتا“ پر کسی غیر مذہب کو قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں اور یہ ٹرینڈ انتہائی خطرناک ہے‘ بھارت India میں اس وقت بھی 20کروڑ مسلمان‘اڑھائی کروڑ سکھ‘ تین کروڑ عیسائی اور 93 لاکھ بودھ ہیں۔بھارت India اگر صرف اور صرف ہندوﺅں کا ملک ہے تو پھر یہ 26کروڑ لوگ کہاں جائیں گے۔

کیا یہ قتل ہوتے اور مرتے چلے جائیں گے‘ کیا ان کے گلوں میں مسلسل جلتے ہوئے ٹائر ڈالے جائیں گے یا پھر انہیں مستقل دہشت گرد ڈکلیئر کر دیا جائے گا؟ بھارت India کے عوام نے 2019ءمیں نریندر مودی narendra modi کو دوسری بار وزیراعظم منتخب کر کے ثابت کر دیا بھارت India سیکولر تھا اور نہ ہو گا‘ یہ کٹڑ ہندوﺅں کا ملک ہے‘ ایسے کٹڑ ہندوﺅں کا ملک جو اپنے علاوہ ہر شخص کو ملیچھ اور دھرتی کا بوجھ سمجھتے ہیں اور جن کا خیال ہے ہندوستان میں ہو تو ہندو بن کر رہو یا پھر ہندوستان چھوڑ دو۔

میرے سمیت ملک کے زیادہ تر نیم خواندہ لوگ یہ سمجھتے تھے ہم نے شاید 1947ءمیں بھارت India سے الگ ہو کر غلطی کی ‘ ہم بھارت India کی ترقی سے بھی جیلس ہوتے تھے اور ہم کبھی کبھی قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کو بھی شک کی نظروں سے دیکھنے لگتے تھے لیکن آج 2019ءمیں قائداعظم کا وژن سچ ثابت ہو گیا‘ آج قائداعظم کا دو قومی نظریہ جیت گیا اور موہن داس کرم چند گاندھی اور جواہر لال نہرو کا سیکولر ازم ہار گیا‘ آج ثابت ہو گیا قائداعظم سچے تھے۔

وہ کہا کرتے تھے ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں‘ یہ مزید ہزار سال اکٹھے رہ کر بھی اکٹھے نہیں ہوں گے‘ گائے کو ماں کہنے اور گائے کا گوشت کھانے والے کبھی ایک میز پر نہیں بیٹھ سکیں گے‘ نریندر مودی narendra modi کی جیت نے ثابت کر دیا قائداعظم نے پاکستان Pakistan ٹھیک بنایا تھااور ہم آج اگر بھارت India کے شہری ہوتے تو ہم بھی کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی گزار رہے ہوتے اور ہمیں بھی گائے کا پیشاب پینے اور سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جاتا رہتا۔

ہمیں ہماری مسجدوں میں گھس کر قتل بھی کیا جاتا اور ہم سسک سسک کر بھی مر رہے ہوتے‘ میں آج دل سے سمجھتا ہوں 2019ءمیں نریندر مودی narendra modi نہیں جیتے قائداعظم جیتے ہیں‘ آج دو قومی نظریئے کی فتح ہوئی ہے چنانچہ میرا بھارت India کی اقلیتوں کو مشورہ ہے آپ آج سے اپنے اپنے گھروں میں قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر لگا لیں‘ آپ آج سے دو قومی نظریئے کی تسبیح شروع کر دیں‘ کیوں؟ کیونکہ بھارت India کے لوگوں نے ثابت کر دیا ہندوستان صرف اور صرف ہندوﺅں کا ملک ہے‘ اس میں کسی دوسرے کی کوئی گنجائش نہیں۔

 449