سرائیکی شاعری

کٹہرا - خالد مسعود خان

30 مئی 2019

Saraiki Poetry

نامور اور اس ناموری سے بڑھ کر نہایت ہی شاندار سرائیکی شاعر عزیز شاہد کی کلیات ''درشن‘‘ میرے ہاتھ میں ہے۔ اس کتاب میں ان کی شہرۂ آفاق اور شاعری کے ماتھے کا جھومر نظم ''اساں تاں چاندنی وانگوں وچھے پئے ہیں‘‘ بھی شامل ہے‘ جو انہوں نے بکمال مہربانی میرے نام کی ہوئی ہے۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اتنی بڑی نظم انہوں نے میرے نام کی ہے۔ یہ سرائیکی کی ہی نہیں‘ بلکہ ہمارے ادب کی بہت ہی شاندار نظم ہے۔ محبت کی یہ نظم اگر ترجمہ ہو کر دیگر لوگوں تک پہنچ پاتی‘ تو مجھے یقین ہے کہ داغستان کے مشہور شاعر رسول حمزہ توف کی اس نظم سے کسی طور کم نہ ٹھہرتی‘ جس میں رسول حمزہ توف اپنے محبوب کو یقین دلاتا ہے کہ اگر دنیا میں اس کے سینکڑوں چاہنے والے ہیں‘ تو رسول حمزہ توف ان میں ایک ہے‘ پھر وہ اس تعداد کو بتدریج کم کرتے کرتے ایک پر لے آتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر اس دنیا میں اسے صرف ایک چاہتا ہے‘ تو وہ صرف اور صرف رسول حمزہ توف ہے اور اگر اسے دنیا میں ایک شخص بھی محبت نہیں کرتا تو وہ یقین کر لے کہ رسول حمزہ توف اب اس دنیا میں نہیں ہے۔

یہ بد قسمتی کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ہماری علاقائی زبانوں کو باوجود نہایت ہی اعلیٰ درجے کے ادب کے‘ وہ پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی‘ جو ان کا حق تھا۔ سندھی‘ بلوچی‘ پشتو‘ پنجابی اور سرائیکی شاعری ملکی سطح پر جس طرح نظر انداز ہوئی ہے‘ اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح نظر انداز ہونے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی شاعری شاید سرائیکی شاعری ہے۔ ملکی سطح پر رحمان بابا‘ خوشحال خان خٹک‘ مست توکلی‘ عبداللطیف بھٹائی‘ سچل سرمست‘ وارث شاہ‘ شاہ حسین‘ بلھے شاہ‘ سلطان باہو‘ بابا فرید شکر گنج اور خواجہ غلام فرید کے علاوہ ترجمہ شدہ ادب دوسری زبانوں کے قارئین تک پہنچ ہی نہیں سکا۔ خاص طور پر موجودہ دور کے شعراء کا۔ سندھی میں صرف شیخ ایاز وہ خوش قسمت شاعر تھے‘ جن کا کلام کسی نہ کسی صورت دیگر لسانی حلقوں تک پہنچ پایا۔ دیگر زبانوں کے بہت بڑے بڑے شاعر اور ان کا نہایت ہی عمدہ کلام اس سہولت سے بہرہ مند نہ ہو سکا۔

سرائیکی شاعری کی بات کریں تو سرائیکی وسیب سے ہٹ کر لوگوں کو موجودہ دور میں صرف شاکر شجاعبادی کا نام آتا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ دور کے کسی سرائیکی شاعر کے نام سے بھی شاید دیگر زبانوں کے سامعین اور قارئین زیادہ واقف نہیں ہیں۔ بلا شک و شبہ‘ شاکر شجاعبادی بہت اچھا شاعر ہے اور خاص طور پر اس نے اپنی جسمانی معذوری کو جس طرح اپنی شاعری کی راہ کی رکاوٹ نہیں بننے دیا اور جس حالت میں لوگ مایوس ہو کر حوصلہ ہار دیتے ہیں‘ شاکر نے اپنی اس معذوری کے آگے ہتھیار نہیں پھینکے اور اس عالم میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ماند نہیں پڑنے دیا۔ جہاں عام آدمی اپنا حوصلہ چھوڑ دیتا ہے‘ شاکر شجاعبادی نے اپنی معذوری کو معذوری بنانے کی بجائے ہتھیار بنایا اور اسی معذوری کی کوکھ سے اس کی مزاحمتی شاعری نے جنم لیا۔ اس جسمانی معذوری نے اسے شاعری کا وہ راستہ دکھایا‘ جو مخلوقِ خدا سے جڑا ہوا تھا اور یہ شاعری موضوعات کے ان نئے دریچوں کی طرف لے گئی‘ جو کئی لحاظ سے اچھوتے تھے۔ ایسا صرف وہی کر سکتا ہے ‘جو اس مرحلے سے گزرا ہو‘ جہاں سے عام آدمی کا گزر نہیں ہوتا۔ بصارت سے محروم ہمارے ایک بہت پیارے دوست اور شاعر تیمور حسن کا ایک شعر دیکھیں کہ اس میں اس محرومی کو کس گداز سے پیش کیا ہے: ؎

تجھ کو دیکھا نہیں‘ محسوس کیا ہے میں نے

تیری اندازے سے تصویر بنا سکتا ہوں

تیمور حسن کا ہی ایک اور شعر ہے:؎

اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے؟

ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو میں بھی ہوں

اب بھلا ایسے شعر کوئی عام شاعر کیسے کہہ سکتا ہے؟

لیکن ایک بات‘ جو میں کہنا چاہتا ہوں‘ وہ یہ ہے کہ سرائیکی میں شاکر شجاعبادی کے علاوہ اور بہت سے شاعر بھی عصر حاضر میں ایسی شاعری کر رہے ہیں‘ جو غزل‘ نظم اور دوہڑے میں بہت سے مقامات پر شاکر سے آگے نکل جاتی ہے‘ مگر قدرت کا نظام اپنے ڈھب پر چلتا ہے۔ بقول رانا محبوب اختر ''شاکر شجاعبادی سرائیکی شاعری کا عطا اللہ عیسیٰ خیلوی ہے‘‘۔

جب میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا‘ تب سٹوڈنٹس یونین کے زیرِ اہتمام ایک سالانہ مشاعرہ ہوتا تھا۔ اس میں پاکستان Pakistan کے تمام بڑے بڑے شعراء شرکت کرتے تھے۔ تب جانباز جتوئی حیات تھے اور اس سالانہ مشاعرے کا لازمی حصہ ہوتے تھے۔ گھنی ڈاڑھی اور جٹادھاری بال۔ جوگیوں جیسا حلیہ اور پاٹ دار آواز۔ مشاعرے کے دوران ایک بار ایسا ہوا کہ بجلی چلی گئی۔ تب لوڈ شیڈنگ کا تو کسی نے نام بھی نہیں سنا تھا‘ مگر ترسیلی نظام ایسا ہی تھا جیسا اب ہے‘ بے اعتبار سا۔ مشاعرے کے عین درمیان بجلی چلی گئی۔ جنریٹر وغیرہ کا انتظام نہ تھا اور نہ ہی موبائل فون ہوتے تھے کہ سارے سامعین اپنے موبائل فون کی لائٹ جلا لیتے اور گزارا چل جاتا۔ اوپر سے طرفہ تماشا کہ لاؤڈ سپیکر کا نظام بھی بجلی کے ساتھ ہی جواب دے گیا۔ ایسے میں جانباز جتوئی مدد کے لیے آئے اور لاؤڈ سپیکر کے بغیر شعر سنانے لگ گئے۔ سارے مجمعے کو ان کی آواز بخوبی سنائی دے رہی تھی۔ جانباز جتوئی نے ایسا سماں باندھا کہ دل کہتا تھا کہ بجلی اسی طرح بند رہے اور جانباز جتوئی کی آواز اپنا سحر پھیلاتی رہے۔ جانباز ایک مصرعہ پڑھ کر دوسرا مصرعہ پڑھنے کے لیے رکتے تو ایک دو سیکنڈ کے وقفے میں ایسی خاموشی اور سناٹا ہوتا کہ اگر سوئی بھی گرتی تو آواز آتی۔

جانباز جتوئی مرحوم کے دو عدد دوہڑے جو سرا سر یادداشت کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں:

میکوں مونجھاں ڈے‘ میکوں شاد نہ کر

میڈی اجڑی جھوک آباد نہ کر

بھل زلف سیاہ دے نال سجن

میکوں بدھی رکھ‘ آزاد نہ کر

(ترجمہ: مجھے اداسیاں بخش‘ مجھے شاد نہ کر۔ میری اجڑی ہوئی جھوک (بستی) آباد نہ کر۔ اے دوست! مجھے اپنی سیاہ زلف سے باندھے رکھ اور مجھے آزاد نہ کرے)

نقاب رخ توں الٹ سٹیندو

تے نال زلفاں دے گٹ سٹیندو

اساں ہیں در تے وفا دے بوٹے

نہ پانی ڈیندو‘ نہ پٹ سٹیندو

(ترجمہ: نقاب رخ سے الٹ دیتے ہو اور اپنی الجھی ہوئی زلفوں کے ساتھ اسیر کر لیتے ہو۔ ہم تمہاری چوکھٹ پر لگے ہوئے وفا کے وہ پودے ہیں‘ جنہیں نہ تم پانی ہی دیتے ہو اور نہ ہی اکھاڑ پھینکتے ہو۔)

سرائیکی شاعری سر تا سر اداسی‘ مزاحمت اور بے بسی والے غصے سے بھری ہوئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ وسیب کا صدیوں سے جاری استحصال اور محرومیاں ہیں۔ سرائیکی شاعری کا لطف لینا ہو تو بندہ عزیز شاہد‘ اقبال سوکڑی‘ اشولال فقیر‘ جہانگیر مخلص‘ اصغر گورمانی‘ عاشق بزدار اور احمد خان طارق کو پڑھے۔ موضوعات کے ایسے در وَا ہوتے ہیں کہ بندہ دنگ رہ جائے‘ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم نے قومی سطح پر علاقائی زبانوں کی ترویج اور دوسری زبانوں میں ان کے تراجم کا کبھی اہتمام نہیںکیا۔

ادب ویسے بھی ہماری ترجیحات میں بہت ہی پیچھے کی چیز ہے۔ ہماری ترجیحات میں تو ابھی صحت‘ تعلیم اور انصاف اپنے جائز مقام اور حق کے لئے تنگ و پریشان پھرتے نظر آ رہے ہیں۔ ادب کس باغ کی مولی ہے؟

 223