مودی کی حلف برداری اور ’’آر ایس ایس‘‘ کا دبائو

برملا - نصرت جاوید

29 مئی 2019

Modi Ki Halaf bardari or  RSS ka dabao

اطلاع مجھے بہت ہی قابل اعتماد ذرائع سے یہ ملی تھی کہ بھاری اکثریت سے انتخاب جیتنے کے بعد نریندر مودی narendra modi پاکستان Pakistan کے وزیراعظم کو اپنی حلف برادری کی تقریب میں بلانا چاہ رہا ہے۔ اسی باعث اس کی حلف برادری کی تقریب کے بارے میںپہلی خبر یہ چلوائی گئی کہ سری لنکا کا صدر وہاں موجود ہو گا۔ اس خبر کے بارے میں ’’چلوائی‘‘ کا لفظ میں نے سوچ سمجھ کر لکھا ہے۔ مقصد اس خبر کا پاکستان Pakistan کو یہ پیغام دینا تھا کہ آج سے پانچ برس قبل ہوئی تقریب حلف برادری کی مانند بھارتی Indian وزیراعظم اس بار پھر سارک تنظیم کے ممالک کو مدعو کرنا چاہ رہا ہے۔ مجھے ہرگزخبر نہیں کہ ہمارے وزیر اعظم Prime Minister اور ان کے مشیروں نے اس پیغام کو کیسے لیا۔اگرچہ ذہن میں یہ سوال ضرور اُٹھا کہ سارک تنظیم کا ’’کریاکرم‘‘ تو بھارت India اپنے ہی ہاتھوں سرانجام دے چکا ہے۔ اس تنظیم کی آخری سربراہی کانفرنس پاکستان Pakistan میں منعقد ہونا تھی۔ بھارت India اس میں شرکت کے لئے تیار نہ ہوا۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم نے اس ضمن میں اہم ترین سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد سے یہ تنظیم بس کاغذی تنظیم ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔سارک کے نام سے رچائے ڈرامے کو بھلاکر بھارتی Indian وزیراعظم اپنے پاکستانی ہم منصب کا مبارک باد کا فون وصول کرتے ہوئے براہِ راست اپنی تقریب حلف برادری میں شرکت کی دعوت بھی دے سکتا تھا۔اس نے ایسا کرنے سے اجتناب برتا۔اشاروں کنایوں میں اگرچہ اس فون سے قبل یہ پیغام آتا رہا کہ پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister کسی بااختیار شخص کو اپنا مشیر برائے قومی سلامتی مقرر کریں۔ ممکنہ مشیر مودی کے مشیر اجیت دیول سے خفیہ ملاقاتوں کے ذریعے پاک-بھارت India تعلقات کو امن کی راہ پر چلانے کے لئے کوئی Roadmapتیار کرے۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے ابھی تک مشیر برائے قومی سلامتی نہیںلگایا۔ آج سے ایک ماہ قبل اگرچہ اسلام آباد Islamabad میں سرگوشیاں گرم تھیں کہ فلاں یا فلاں شخص کو مشیر برائے قومی سلامتی مقرر کیا جارہا ہے۔ محسوس ہورہا ہے کہ تھوڑی سوچ بچار کے بعد فیصلہ مؤخر یا بھلادیا گیا۔

سفارت کاری کے لئے اہم ترین مانے Back Channels پاکستان Pakistan اور بھارت India کے مابین گفتگو کے لئے ہمہ وقت میسر اور متحرک رہے ہیں۔ ان ہی کی بدولت فروری کے آخری ہفتے میں پاک-بھارت India جنگ ٹلی۔ ہماری قید سے بھارتی Indian پائلٹ کو خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ رہائی ملی۔پاکستان Pakistan شاید اپنے چینل کو بے چہرہ ہی رکھنا چاہتا ہے۔مزید تفصیلات میں الجھے بغیر ایک بار پھر دہرائے دیتا ہوں کہ نریندرمودی 30مئی کو ہونے والی تقریب حلف برادری میں عمران خان Imran Khan کو مدعو کرنا چاہ رہا تھا۔ اس کے انتہاپسند مشیر مگر اس پر آمادہ نہ ہوئے۔راشٹریہ سیوک سنگھ(RSS) جو بھارتی Indian ہ جتنا پارٹی کی ’’ماں‘‘ ہے،کئی تھنک ٹینک بھی چلاتی ہے۔ان میں سے چند نامی گرامی صنعت کاروں اور کاروباری افراد کے فراہم کردہ سرمایے سے چلائے جاتے ہیں۔ان کے لئے کام کرنے والے ’’دانشوروں‘‘ نے یکسوہوکر دہائی مچادی کہ پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister کو 30مئی کو منعقد ہونے والی تقریب میں بلانا ان لوگوں سے ’’زیادتی‘‘ ہوگی جنہوں نے مودی کو اپنے وطن کا ’’چوکیدار‘‘ گردانتے ہوئے اسے بھاری اکثریت سے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister کے منصب پر لوٹایا۔ ’’زیادتی‘‘ والی کہانی مگر سطحی تھی۔ بنیادی اصرار یہ تھا کہ پاک-بھارت India تنائو پاکستان Pakistan کو ہمہ وقت چوکس رہنے پر مجبور کررہا ہے۔اس چوکسی کی گرانقدرمالی قیمت ہوتی ہے۔انتہاپسند ہندو ’’دانشوروں‘‘ کا خیال ہے کہ معاشی مشکلات میں گھرے پاکستان Pakistan کو آئندہ چند ماہ تک ’’چوکس‘‘ ہی رکھا جائے۔مودی کے ایک بار پھر منتخب ہونے کے فوری بعد امن کی خواہش کا اظہار درحقیقت پاکستان Pakistan کو ’’معاشی حوالوں سے Life Lineفراہم کرنا ہو گا‘‘۔ سیاست دان اپنی رائے بنانے کے لئے ’’دانشوروں‘‘ سے شاذہی رجوع کرتے ہیں۔ہر ریاست کے دائمی ادارے ہوتے ہیں۔ ان کی ترجیحات حکومتِ وقت کے لئے اہم ترین ہوا کرتی ہیں۔ اس تناظر میں غور کریں تو بآسانی دریافت کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی Indian معیشت بھی فی الوقت جمود کا شکار ہوئی کساد بازاری کی طرف سرک رہی ہے۔ بھارت India میں بے روزگاری کا تناسب 45سال بعد خوفناک حد کو چھو رہا ہے۔ اسی باعث مودی دوبارہ منتخب ہونے کے بعد ’’وکاس (ترقی)‘‘ کا ذکر کئے چلا جا رہا ہے۔ پاکستان Pakistan سے تعلقات کو کم از کم نارمل بنائے بغیر ’’وکاس‘‘کی بات مگر خام خیالی ہے۔ مودی اور اس کے حامیوں کو یہ حقیقت بھی بہت پریشان کر رہی ہے کہ نام نہاد عالمی میڈیا نے بلااستثناء اس کی حالیہ جیت کو ہندوانتہاپسندی کی جیت دکھایا۔ مسلمانوں کی حالتِ زار کا تذکرہ ہوا۔ اقلیتوں کے لئے زندگی کے اجیرن ہوجانے کی داستانیں چھپیں۔ مودی کی شدید خواہش ہے کہ اسے اب ہندو انتہا پسندی کے بجائے ’’وکاس‘‘ کا پرچارک اور دلدادہ تصور کیا جائے۔ پاکستان Pakistan کے ساتھ تنائو کے خاتمے کی کوشش کرتے ہوئے وہ بآسانی دنیا کو یہ پیغام دے سکتا ہے۔فی الوقت اگرچہ RSSکے ’’دانشور‘‘ کامیاب رہے۔بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نے نعرہ اب بھی ’’سب سے پہلے ہمسایے‘‘ لگایا مگر اس کی آڑ میں سارک تنظیم کے بجائے Bimstecکی بات ہوئی۔بھارت India نے یہ تنظیم خود کو بحرہند کی اہم قوت ثابت کرنے کے لئے بنائی ہے۔نیپال،سری لنکا اور بنگلہ دیش کے علاوہ اس میں تھائی لینڈ جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ پاکستان Pakistan اور افغانستان Afghanistan کے ذریعے سنٹرل ایشیاء کے ممالک تک رسائی کو وقتی طورپر بھلاکر ویت نام، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا Indonesia جیسے ممالک سے قربت کی خواہش ہے تاکہ Pacificمیں چین China خود کو گھیرے میں آیا محسوس کرے۔

30مئی کے لئے سارک کے بجائے لہٰذا اس تنظیم کے رکن ممالک کو تقریبِ حلف برادری میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی مگر کرغزستان کے صدر کو ’’مہمانِ خصوصی‘‘ کی حیثیت میں مدعو کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ سنٹرل ایشیاء کے اس ملک میں 13اور 14جون کو شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن (SCO)کے رکن ممالک کی سربراہی کانفرنس ہونا ہے۔ بھارت India اور پاکستان Pakistan کے وزیراعظم وہاں موجود ہوں گے اور یہ بات طے ہے کہ اس کانفرنس کے دوران نریندر مودی narendra modi اور عمران خان Imran Khan کی ملاقات کو یقینی بنانے کے لئے چین China اور روس Russia یکجا ہو کر سفارتی کاوشوں میں مصروف ہیں۔

 70