مارکیز کا ناول اور بلھے شاہ کا ’’شک شبہے دا ویلا‘‘

برملا - نصرت جاوید

28 مئی 2019

Markens In Evil Hour

بڑے ادب کی اصل شناخت یہ ہے کہ آپ اسے ایک بار پڑھ لیں تو تاحیات بہت سے واقعات کی وجہ سے یاد آتا رہتا ہے۔ میرے ساتھ گزشتہ کئی دنوں سے ایسا ہی ایک واقعہ ہورہا ہے۔لاطینی امریکہ United States کے شہرہ آفاق لکھاری گبرائیل گارسیامارکیز کا ایک ناول ہے۔انگریزی ترجمے میں اسے "In Evil Hour"کا نام دیا گیا۔ اس کالم میں شاید ایک دو بار کسی حوالے سے اس ناول کا ذکر ہوچکا ہے۔غالباََ اس وقت میں نے اسے ’’بدی کا وقت‘‘ کہا۔ یہ عنوان مجھے اکثر بلھے شاہ کی استعمال کردہ ترکیب ’’شک شبے داویلا‘‘ کی یاد بھی دلاتا ہے جب بقول اس بے پناہ حساس صوفی شاعر کے پنجاب کا نادر شاہ کے ہندوستان پر مسلسل حملوں کی وجہ سے ’’براحال‘‘ ہورہا تھا۔ چارسو آپادھاپی اور انتشار کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔مارکیز کے ناول کی طرف لوٹتے ہیں۔ تخلیق کار نے لاطینی امریکہ United States کے ایک قصبے کو ’’ایجاد‘‘ کیا کیونکہ اس نام کا قصبہ نقشے پر موجود نہیں۔اس قصبے میں کامل سکون تھا۔ لوگ خوش حال تھے۔ ایک دوسرے کا بے پناہ احترام کرتے۔ باقاعدگی سے چرچ جاتے اور قصبے کے پادری سے نیکی کی راہ پر ڈٹے رہنے کے لئے رہ نمائی حاصل کرتے۔’’اچانک‘‘ مگر اس قصبے میں شہر کے چوکوں پر راتوں رات کوئی گمنام شخص ایک پوسٹر چسپاں کردیتا۔ اس پوسٹر میں مذکورہ قصبے کے ’’باعزت‘‘ اور ’’محترم‘‘ افراد کے نام لے کر ان کی زندگی سے جڑے ’’گھنائونے‘‘ حقائق بیان کردئیے جاتے۔ابتداََ شہر کے لوگ کسی ’’معزز‘‘ شخص کی پگڑی اچھالتے ’’حقائق‘‘ سے ’’آگاہ‘‘ ہوجانے کی وجہ سے لطف اٹھاتے۔ شہر کے کافی ہائوسز میں مزے لے لے کر ان سے جڑی داستانیں بیان ہوتیں۔وہ شخص جس کی پگڑی اچھلی ہوتی اپنے گھر تک محدود ہوجاتا۔ اس کے دوست،احباب اور قریبی عزیز چند دنوں میں اسے قائل کردیتے کہ اس کے بارے میں جو سکینڈل پھیلایا گیا ہے انہیں اس پر اعتبار نہیں۔ وہ ان کی نظر میں اب بھی ’’معزز‘‘ ہے۔ وہ اس کی ایمان داری اور پاسدارئی پر اعتبار کرتے ہیں۔اس سے پیار کرتے ہیں۔عزیزوں اور احباب سے ملی شفقت اور محبت کے باوجود پوسٹرکی زد میں آیا شخص مگر نفسیاتی طورپر بحال نہ ہوپاتا۔ اس کا دل بجھ جاتا۔ زندگی کی رونقوں سے کنارہ کش ہوا مسلسل تنہائی میں مبتلا ہوجاتا۔پوسٹروں کا سلسلہ مگر جاری رہا۔ ان میں عیاں ہوئے حقائق نے بتدریج لوگوں کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کردیا کہ ’’شہر جاناں میں اب باصفا کون ہے؟‘‘ ۔اس سوال میں مزید شدت اس وقت نمودار ہوئی جب ناول کا موضوع بنے قصبے کا ایک انتہائی معتبر شخص بھی جسے کئی حوالوں سے ’’ہیرو‘‘ تصور کیا جاتا تھا، بدنام کرتے ان پوسٹروں کی زد میں آگیا۔اس کی بیوی کی ’’وفاداری‘‘ مشکوک ٹھہرائی گئی۔ دعویٰ ہوا کہ فلاں شخص سے اس کے ناجائز تعلقات ہیں۔بیوی پر لگی تہمت نے ’’ہیرو‘‘ کو چراغ پا کردیا۔’’غیرت‘‘ کے ہاتھوں اسے قتل کرکے وہ گرفتار ہوگیا۔اس قتل نے شہر میں سراسیمگی پھیلادی۔ قصبے کے کئی معتبر مکین سنجیدگی سے کسی دوسرے شہر یا قصبے کو ہجرت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا شروع ہوگئے۔ ہر ’’باعزت‘‘ مکین کے دل میں یہ خوف جاگزیں ہوگیا کہ کسی بھی روز اس کی زندگی سے جڑے ’’گھنائونے‘‘ حقائق’’نامعلوم‘‘ افراد کی جانب سے لکھے پوسٹرز کی بدولت طشت ازبام ہوسکتے ہیں۔اپنے قصبے کے مکینوں کے دلوں میں وبا کی صورت پھیلتے خوف سے گھبراکر وہاں کے میئر نے مرکزی حکومت کو اپنے ہاں موجود "Unrest"پر قابو پانے کے لئے مارشل لاء لگانے کی درخواست کردی۔ اس کی استدعا فوری طورپر منظور ہوئی ۔’’امن وامان‘‘ بحال کرنے والوں نے مگر خوف کی ایک نئی فضا پیدا کردی۔ پوسٹروں کی اشاعت رُک گئی۔ یہ مگر کبھی طے نہ ہوپایا کہ انہیں لکھنے اور لگانے والا کوئی ایک شخص تھا یا کوئی منظم گروہ۔ ’’نامعلوم‘‘ کام پتہ نہ چل سکا اور ناول کا موضوع بناقصبہ اپنے سکون،رواداری اور مکینوں کے مابین باہمی محبت

واحترام کی روایات سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگیا۔مارکیز نے یہ ناول 1962میں لکھا تھا۔ وہ بنیادی طورپر ایک صحافی تھا۔رپورٹنگ اس کا اصل میدان تھا۔ کولمبیا میں ان دنوں مگر صحافت بہت روایتی تھی۔ مارکیز کی تنخواہ بہت معمولی تھی اور وقت پر بھی نہیں ملاکرتی تھی۔ جی کڑاکرکے اس نے فیصلہ کیا کہ ناول نگاری کے ذریعے رزق کمانے کی جدوجہد کرنا چاہیے۔ دفتری کام سے فراغت کے بعد وہ اپنے ویران دفتر میں اکیلا بیٹھا گھنٹوں اپنے ذہن میں آئے ناول لکھتا رہتا۔ اس کے لکھے مسودے اشاعت نگاروں کو پسند نہ آئے۔ مسلسل انکار کے باوجود مگر وہ لکھتا چلا گیا اور بالآخر ’’سوبرس کی تنہائی‘‘ جیسا ناول مکمل کیا جو آج بھی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا دنیا بھر کے کتب فروشوں کے ہاں مل جاتا ہے۔ اپنی تخلیقات کی وجہ سے مارکیز کو نوبل انعام بھی ملا۔ اپنی زندگی کے آخری ایام اس نے Celebrityکی طرح گزارے۔ لاطینی امریکہ United States کے کاستروسمیت کئی صدور اس سے دوستی اور آشنائی پر فخر محسوس کرتے رہے۔خدارا مجھے یہ لکھنے پر مجبور نہ کیجئے کہ میں In Evil Hourاور مارکیز کا آج کے کالم میں تذکرہ کرنے پر کیوں مجبور ہوا۔ مجھے کامل یقین ہے کہ آپ مجھ سے کہیں زیادہ سمجھدار ہیں۔جان چکے ہوں گے کہ مجھے بدنام کرتے پوسٹروں کے ذکر پر مشتمل ایک ناول کی یاد کیوں آئی۔ذاتی طورپر میں مارکیز کی تخلیقی Rangeکوسراہنے پر اس لئے مجبور ہوا ہوں کہ 1962میں سوشل میڈیا نام کی شے ایجاد نہ ہوئی تھی۔ جانے کیوں مجھے شبہ ہے کہ مارکیز کے ذہن میں یہ سوچ موجود تھی کہ شاید ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اس کے ایجاد گردہ قصبے ہی میں نامعلوم افراد کی جانب سے لکھے اور لگائے پوسٹرز افراتفری نہیں پھیلائیں گے۔ تشہیر کے ایسے نئے ذرائع ایجاد ہوجائیں گے جس کے ذریعے دنیا بھر کے لوگ ان ذرائع کو خیر پھیلانے کے بجائے غیبت اور تہمت بھری کہانیوں کے فروغ سے افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کرنا شروع ہوجائیں گے۔آج کے سمارٹ فونز۔ ان کے ذریعے بنائی وڈیوزاور ان کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونا دورِ حاضر کی سب سے بڑی اور شاید اذیت دہ حقیقت ہے۔مارکیز کا تخلیقی کمال یہ ہے کہ اس نے 1962ہی میں اس قیامت کا نقشہ بنادیا جو آج دنیا بھر میں سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے برپا کررکھی ہے۔پاکستان Pakistan بھی یقینا اس سے محفوظ نہیں ہے۔

 151