نریندر مودی narendra modi کی کامیابی میں ہمارا حصہ بھی ہے

نقطہ نظر - ایاز امیر

25 مئی 2019

Narender Modi ki kamyabi

نریندر مودی narendra modi اور اُن کی جماعت بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انتخابات تو ویسے بھی جیت جاتی لیکن کسی کو شک نہیں رہنا چاہیے کہ اُن کی کامیابی میں غیبی قوتوں کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے۔ میں کہنے لگا تھا کہ ہمارا ہاتھ لیکن زبان رُک گئی اور غیبی قوتوں کا سہارا لے لیا۔ حالات پہ نظریں رکھنے والوں کو یاد ہو گا کہ جب ہندوستان میں انتخابی مہم شروع ہوئی تو بی جے پی BJP کی پوزیشن اتنی اچھی نہ تھی۔ وسیع طبقات پارٹی کی کارکردگی سے نالاں تھے۔ لبرل عناصر کو تو ایک طرف رکھیے، ہندوستان کی دیہی آبادی تک کو بی جے پی BJP کی پالیسیوں سے گہری شکایات تھیں۔

نریندر مودی narendra modi اپنے آپ کو ایک مضبوط قوم پرست کے روپ میں پیش کر رہے تھے۔ اُن کی الیکشن مہم کا بنیادی نکتہ ہندو قوم پرستی کے گرد گھوم رہا تھا: کہ ہندوستان ایک ہندو ملک ہے اور اس کی قومیت کی بنیاد ہندو مذہب اور اس سے جڑا ہوا ہندو فلسفہ ہے۔ لیکن شروع شروع میں بات کچھ بن نہیں رہی تھی اور قوم پرستی کا نعرہ کھوکھلا لگ رہا تھا۔ پھر ایک معجزہ رونما ہوا جو نریندر مودی narendra modi کے ہاتھ لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے اُن کی نسبتاً بے جان مہم زور پکڑ گئی۔ وہ معجزہ تھا پلوامہ Pulwama کا واقعہ جس میں ایک کشمیری خود کش بمبار نے ایک فوجیوں کی کانوائے کے قریب آ کر دھماکہ کر دیا۔ اس دھماکے میں چالیس سے زائد فوجی مارے گئے۔ یہ واقعہ ہونا تھا اور نریندر مودی narendra modi اور اُن کی جماعت نے اسے ایسا پکڑا کہ ساری مہم یہ واقعہ پہ چھا گیا۔ فوراً یہ الزام پاکستان Pakistan پہ لگایا گیا اور گو اس میں کوئی انوکھی بات نہیں تھی کیونکہ ہندوستان میں پٹاخہ بھی چلے تو الزام پاکستان Pakistan پہ لگتا ہے‘ لیکن اس واقعے کے بعد جس امر نے بی جے پی BJP کے دعووں کو تقویت بخشی وہ ایک تنظیم کی طرف سے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنا تھا۔ ہمارے ناکردہ گناہوں کی شامت کہ مذکورہ تنظیم کا تعلق، صحیح یا غلط، دشمنانِ پاکستان Pakistan ہم سے جوڑتے رہتے ہیں۔ اس اقرار کا آنا تھا کہ ہندوستانی پروپیگنڈے کی توپیں پاکستان Pakistan کی طرف گرجنے لگیں۔

لیکن بات پروپیگنڈے تک نہ رہی۔ موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہندوستان نے پاکستان Pakistan کے بالا کوٹ کے علاقے پہ رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا۔ حملہ کیا تھا ، چند بم یا میزائل ایک پہاڑی پہ گرائے گئے۔ نقصان کچھ درختوں کو پہنچا۔ نہ کوئی عمارت حملے کی زد میں آئی نہ کوئی جانی نقصان ہوا۔ لیکن ہندوستان میں ڈھول پیٹنا شروع ہو گئے کہ نریندر مودی narendra modi نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے پلوامہ Pulwama حملے کا فوراً جواب دیا ہے۔

پروپیگنڈے کی یلغار تب بھی نہ تھمی جب دوسرے ہی دن پاکستانی ائیر فورس نے جوابی حملہ کیا اور ایک آدھ ٹھکانے کی بجائے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہاں سے بھی احتیاط ہوئی کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو؛ البتہ جب پاکستانی حملہ ہوا تو ہندوستان کے جہازوں نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی اور اُس فضائی لڑائی میں ہندوستان کا ایک مگ 21 طیارہ ہٹ ہوا اور لائن آف کنٹرول کے اِس پار آن گرا۔ اُس کا پائلٹ پکڑا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہندوستان ان واقعات کے بعد سُبکی اُٹھاتا۔ لیکن اندرونِ ہندوستان بی جے پی BJP کی پروپیگنڈا مشین ایسا ماحول بنانے میں کامیاب ہوئی جس میں سُبکی کی بجائے ہندوستانی حملے کو طاقت کے مظاہرے کے طور پہ پیش کیا گیا۔

جذبۂ خیر سگالی کے تحت پاکستان Pakistan نے فوراً ہی ہندوستانی پائلٹ کو واپس کرنے کا عندیہ دیا‘ اور ایک دو روز بعد براستہ واہگہ بارڈر پائلٹ کو ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا۔ بی جے پی BJP کی پروپیگنڈا مشین نے اس واقعے کو بھی ہندوستانی کامیابی قرار دیا۔ یہ تاثر دیا گیا کہ ہندوستان کے مضبوط رویے کی وجہ سے پاکستان Pakistan کو ہندوستانی پائلٹ رہا کرنا پڑا۔ لہٰذا ہمارا جذبۂ خیر سگالی بھی کسی کام نہ آیا اور بی جے پی BJP نے اُسے بھی پروپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا۔

کانگرس پارٹی نے معاشی مسائل کو انتخابی مہم میں اُجاگر کرنے کی کوشش کی‘ لیکن اس میں وہ کامیاب نہ رہی۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ نریندر مودی narendra modi بہت پُر اثر مقرر ہیں اور انتخابی مہم بھی انتھک محنت سے چلاتے ہیں۔ لیکن جس ایشو کو الیکشن کا مرکزی نکتہ بنانے میں وہ کامیاب ہوئے وہ اپنی مضبوط لیڈر شپ کا تھا۔ یہ کہانی بیچی گئی کہ ہندوستان خطرات سے گھرا ہوا ہے۔ زیادہ خطرہ اُسے پاکستان Pakistan سے ہے اور پاکستان Pakistan کا مقابلہ سب سے بہتر انداز میں نریندر مودی narendra modi ہی کر سکتے ہیں۔ پلوامہ Pulwama واقعہ نہ ہوتا تو یہ سب ہوائی یا کتابی باتیں ہوتیں لیکن پلوامہ Pulwama واقعے کا ہونا تھا اور اُس سے ہندوستان پاکستان Pakistan کشیدگی پیدا ہونی تھی جس کا نریندر مودی narendra modi اور اُن کی جماعت نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

اب پوچھنے کی بات یہ ہے کہ جو تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں کچھ کرنے کے لئے تیار رہتی ہیں‘ اُنہیں سمجھانے والا کوئی نہیں؟ یا وہ خود عقل سے عاری ہیں؟ عین جب ہندوستانی الیکشن مہم شروع ہو رہی تھی‘ پلوامہ Pulwama جیسا واقعہ بیوقوفی کی انتہا کے علاوہ کچھ نہیں ثابت ہو سکتا تھا۔ بنیادی عقل سے عاری شخص بھی اندازہ لگا سکتا تھا کہ جب نریندر مودی narendra modi اپنے بازوؤں کے ڈولے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی واقعہ بی جے پی BJP کے حق میں ہی جائے گا۔ لیکن پھر بھی نہ صرف پلوامہ Pulwama میں خود کش حملہ ہوا بلکہ جو کسر رہ گئی تھی وہ ذمہ داری قبول کرنے سے پوری ہو گئی۔ اگرچہ بعد ازاں تنظیم نے پلوامہ Pulwama حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی خبر کی تردید کی تھی۔ بہرحال جو بھی ہوا دورانِ جشن بی جے پی BJP والوں کو پلوامہ Pulwama حملہ کرنے والوں کو سلام پیش کرنا چاہیے کیونکہ آڑے وقت میں وہ بی جے پی BJP کے کام آئی۔

روحانیت نے البتہ پاکستان Pakistan کو کچھ فائدہ پہنچایا ہے۔ الیکشن مہم کے عین درمیان جب وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan عمران خان Imran Khan نے یہ کہا کہ اگر نریندر مودی narendra modi دوبارہ کامیاب ہوئے تو اُس سے کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے سازگار ماحول پیدا ہو گا، ہندوستان میں کانگرس اور اُن کے حامیوں نے اس بیان کو بہت لتاڑا۔ پاکستان Pakistan میں بھی چند آوازیں اُٹھیں کہ عمران خان Imran Khan کو ایسا بے تُکا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔ لیکن بی جے پی BJP کی شاندار کامیابی کے بعد اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ روحانیت عمران خان Imran Khan کے کام آئی اور اُنہوں نے درست خیال کیا کہ بی جے پی BJP ہی ہندوستانی الیکشن میں کامیا ب ہو گی۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتاہے‘ لیکن کسی بھی جانب سے پاکستان Pakistan میں یہ بھول نہیں ہونی چاہیے کہ کشمیر کے کسی بھی تصفیے کے لئے بی جے پی BJP والے کبھی تیار ہوں گے۔ نریندر مودی narendra modi طاقت پہ یقین رکھتے ہیں اور اُن کی زیر قیادت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ کشمیر مسئلے پہ کسی قسم کا تصفیہ یا مذاکرات نہ صرف بی جے پی BJP کا ایجنڈا نہیں ہے بلکہ ایسی سوچ بھی بی جے پی BJP کے بنیادی فلسفے کی نفی ہے۔ اس بنا پہ پاکستان Pakistan کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔

ایک بات البتہ صاف عیاں ہے۔ بھارت India میں ایک مضبوط قیادت پھر سے برسر اقتدار آئی ہے۔ مسائل کے باوجود ہندوستان ترقی کی راہ پہ گامزن ہے۔ اُس کی معاشی کارکردگی بہتوں سے بہتر ہے۔ یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔ دفاعی اعتبار سے ہم ٹھیک ٹھاک ہیں اور ہمیں کسی دفاعی دوڑ میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ سیاسی اور معاشی کمزوریاں ہیں اور اُن کو ٹھیک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارا دشمن ہندوستان ہے۔ یہ سوچ غلط ہے۔ ہمارا سب سے بڑا دشمن ہماری معاشی اور دیگر کمزوریاں ہیں۔ تنگ نظری پہ ہم ہندوستان کی نئی حکومت کو طعنہ نہیں دے سکتے۔ ہماری اپنی تنگ نظری غیروں کی تنگ نظری سے کہیں زیادہ ہے۔

 146