مودی کی کامیابی۔ خدا کرے وہ کچھ نہ ہو

برملا - نصرت جاوید

24 مئی 2019

Modi ki kamyabi

میرا یہ کالم چھپنے تک بھارتی Indian انتخابات کے حتمی نتائج آچکے ہوں گے۔ ان کے باقاعدہ اعلان سے قبل ’’تجزیاتی کالم‘‘ لکھنا حماقت ہو گی۔ ذہنی طور پر اگرچہ میں مودی کا وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر لوٹنا کئی ہفتوں سے یقینی سمجھ رہا ہوں۔ اب سوال فقط یہ ہے کہ وہ کس نوعیت کی اکثریت حاصل کرے گا۔ اگر یہ اکثریت 2014کے مقابلے میں خاطر خواہ انداز میں بڑھی تو مودی کا رویہ مزید انتہاپسندانہ ہوجائے گا۔

ممکنہ انتہاء پسندی کا فوری اظہار ہمیں پاک-بھارت India تعلقات کے حوالے سے شاید نظر نہ آئے۔ بھارتی Indian مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لئے مگر یہ ناقابل برداشت ہونا شروع ہوجائے گا۔ ایسا ہوا تو کئی علاقوں میں ہندومسلم فسادات پھوٹ سکتے ہیں۔یوپی کی نیچی ذاتوں کی نمائندہ جماعتیں بھی شاید اسے ہضم نہ کر پائیں گی۔ان کی جانب سے مزاحمتی تحریک مودی سرکار کے دوسرے دور کے آغاز ہی میں شروع ہوسکتی ہے۔

بنگال کی ممتابنیر جی بھی مزید طاقت ور ہوئے مودی کو برداشت نہیں کر پائے گی۔ بھارتی Indian انتخابات کے آخری مراحل میں اس کے صوبے میں BJPاور ممتا کی بنائی کانگریس کے درمیان جھگڑے ہوئے۔اپنے کارکنوں کی حمایت میں ممتا سرکاری تام جھام کے بغیر سڑکوں اور محلوں میں پیدل چلتی نظر آئی۔ مزید فسادات کے خوف سے بھارتی Indian الیکشن کمیشن نے آخری دو دنوں میں جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کردی۔ اگرچہ اس سے ایک روز قبل ہی بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister وہاں ہوئے جلسوں میں آتش بیانی میں مصروف رہا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے لگائی پابندی کی جارحانہ مذمت کے بعد ممتا بنیرجی نے ممکنہ دھاندلی کی فضا بنانا شروع کردی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ووٹ ڈالنے کے لئے مہیا ہوئی مشینیں EVMمستند نہیں ہیں۔ ان سے ’’چھیڑچھاڑ‘‘ ہوئی ہے۔ راہول گاندھی کی جماعت بھی یہ الزام لگانا شروع ہوگئی ہے۔

مجھے خدشہ ہے کہ مکمل انتخابی نتائج کا اعلان ہونے کے بعد اگر مودی کی جماعت 2014کے انتخابات سے کہیں بڑھ کر کامیابی حاصل کرتی نظر آئی تو مودی مخالف جماعتیں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے احتجاجی تحریک کی جانب مائل ہوسکتی ہے۔ ایسا ہوا تو جیت کے زعم سے سرشارBJPکے کارکن گلی محلوں میں اپنے مخالفین کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوشش کریں گے۔ آبادی کے اعتبار سے ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کے انتخابی نظام کی ساکھ اس صورت برقرار نہ رہ پائے گی۔بھارت India کے مختلف صوبوں میں سیاسی عدم استحکام نمایاں ہونا شروع ہوجائے گا۔

ایک عام پاکستانی ہوتے ہوئے میں پورے خلوص سے اس خواہش کا اظہار کررہا ہوں کہ وہ نہ ہو جس کا مجھے خدشہ ہے۔بھارتی Indian انتخابات کی ساکھ پر سنگین سوالات اُٹھ کھڑے ہوئے اور ان کی وجہ سے احتجاجی تحریکوں کی لہربھڑک اُٹھی تو مودی ’’قومی یکجہتی‘‘ کا تقاضہ کرنے کے لئے پاکستان Pakistan کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کو مجبور ہوگا۔ یہ کشیدگی پلوامہ Pulwama واقعہ کے بعد ہوئی کشیدگی سے بھی سنگین ترہوسکتی ہے۔

مجھے ہرگز خبر نہیں کہ بھارتی Indian امور پر نگاہ رکھنے والے پاکستانی ادارے انتخابی نتائج آجانے کے بعد کس منظر کی توقع کررہے ہیں۔چند متحرک رپورٹروں سے گفتگو کے بعد اگرچہ یہ سوچنے کو مائل ہوا کہ ہمارے ریاستی ادارے اور وزیر اعظم Prime Minister باہم مل کر یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ واضح اکثریت سے بھارتی Indian وزیراعظم کے دفتر لوٹ آنے کے بعد نریندرمودی پاکستان Pakistan کے ساتھ اپنے رویے میں کچھ نرمی لائے گا۔

چند بھارتی Indian صحافیوں سے Whatsappکی بدولت معلوم ہوا ہے کہ نریندر مودی narendra modi کو اپنی فتح کا اتنا یقین ہے کہ نجومیوں سے رجوع کرنے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ 26مئی 2019کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھالے۔ اس روز اگرچہ اتوار کی چٹھی ہو گی۔ نجومیوں نے مگر بتایا ہے کہ 8کا عدد مودی کے لئے بہت ’’شبھ‘‘ ہوتا ہے اور 26مئی غالباََ 8بناتا ہے۔

علم الاعداد کی مجھے ککھ خبر نہیں۔ بھارت India سے 26مئی کی اطلاع سن کر فقط مسکرا دیا۔ ویسے بھی اہم بات یہ نہیں کہ وہ کس روز اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گا۔اہم ترین وہ تقریر ہوگی جو عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد وہ کر سکتا ہے۔ 26مئی کی تاریخ پر غور کرنے کو مگر اس لئے مجبور ہوا کیونکہ گزشتہ انتخاب جیتنے کے بعد مودی نے سارک کانفرنس کے سربراہان کو اپنی حلف برادری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف Nawaz Sharif تمام تر مخالفت کے باوجود اس تقریب میں شریک ہوئے۔ ان کے بھارت India میں مختصر قیام کے دوران کچھ ایسی کہانیاں بھی پھیلیں جنہوں نے تاثر دیا کہ بجائے ’’سرکاری امور‘‘ پر توجہ دینے کے وہ شریف خاندان کے ممکنہ ’’کاروباری شراکت داروں‘‘ سے ملاقاتیں کرتے رہے۔

ایک ریٹائرڈ رپورٹر کے طورپر میں یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ نریندرمودی اس بار بھی سارک ممالک کے سربراہان کو اپنی تقریبِ حلف برادری میں شرکت کی دعوت دے گا یا نہیں۔ بھارت India سے ’’ہاں‘‘ کے اشارے نہیں ملے۔ سفارت کاری میں لیکن بہت کچھ خاموشی سے بھی ہوتا ہے۔ مودی کو اگر اپنی جیت کا یقین ہے اور اس نے حلف برادری کی تقریب 26مئی کے لئے طے کردی ہے تو کسی نہ کسی بیک ڈور چینل سے پاکستان Pakistan سے اب تک یہ ضرور معلوم کرلیا جاتا کہ ہمارے وزیراعظم مودی کی تقریبِ حلف برادری میں شرکت کے لئے آمادہ ہیں یا نہیں۔جو رپورٹر دوست پاکستانی وزیراعظم کے دفتر سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی وجہ سے رابطے میں رہتے ہیں وہ جمعرات کی صبح تک ایسے کسی رابطے کے بارے میں آگاہ نہیں تھے۔میرے اصرار پر ایک نوجوان رپورٹر نے وزارتِ خارجہ میں موجود اپنے ’’ذرائع‘‘ سے رابطے کے بعد بھی اس ضمن میں ’’ہاں‘‘کی رپورٹ نہیں دی۔

وزیراعظم کے منصب پر لوٹنے کے بعد اگر مودی نے پاکستان Pakistan کے ساتھ کچھ نرم روی اپنانی ہے تو آئندہ مہینے کی تیرہ اور چودہ تاریخ کو کرغزستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن(SCO)کی Summit بہت اہم ہوجائے گی۔پاکستان Pakistan اور بھارت India اس تنظیم کے باقاعدہ رکن ہیں۔ان دو ممالک کے وزرائے اعظم کی موجودگی اس Summitمیں یقینی ہے۔ پاکستان Pakistan اور بھارت India کے مابین معاملات کو بہتر بنانے کیلئے بشکیک میں مودی-عمران ملاقات ضروری تصور ہوگی۔

 74