مولانہ فضل الرحمان اپوزیشن کو متحد کر سکیں گئے؟

Hamza Meer

21 مئی 2019



مولانہ فضل الرحمان اپوزیشن کو متحد کر سکیں گئے؟-------

تحریر حمزہ میر------

--پچھلے کچھ دنوں میں اپوزیشن کے بڑھے رہنما آپس میں ملاقاتیں کر رہے ہیں اوراپوزیشن کا تمام جماعتوں پر مشتمل ایک "گرینڈ الائنس" بنانے کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے اور افطار ڈنر بھی اسی سلسلے میں تھا اس ڈنر سے پہلے پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین اورسابق صدرپاکستان Pakistan آصف علی زرداری نے مولانہ فضل الرحمان سے ملاقات کی اور یہ ملاقات رات کے اندھیرے میں کی گئی اور اپوزیشن کی جماعتوں کو متحد کرنے پر زور دیا گیا- یہ سب کچھ تو مولانہ صاحب 26 جولائی 2018 یعنئ عام انتخابات سے ایک روز بعد سے ہی کہ رہے ہیں کہ اپوزیشن متحد ہو لیکن تب زرداری صاحب ہاتھ نہیں پکڑا رہے تھے، جب شہباز شریف Shehbaz Sharif کو نیب نےآشیانہ کیس میں گرفتار کیا تو تب بھی مسلم لیگ نواز نے متحد ہونے کی بات کی لیکن پیپلزپارٹی نے بےزاری کا اظہار کیا اور قمرالزمان کائرہ،مولا بخش چانڈیو،شہلا رضا نے تو یہاں تک کہا کہ جس نے لوٹا وہ جیل جائے اس موقع پر بھی مولانہ فضل الرحمان نے اپوزیشن کے متحد ہونے کی بات کی لیکن پپلزپارٹی آرام سے سندھ میں حکومت کرتی رہی،جوں ہی جعلی اکاوئنٹ کیس پر سپریم کورٹ نے جے-آئی-ٹی بنائی اور جیسے ہی رپوٹ آئی اور رپوٹ میں بتایا گیا کہ کیسے ملک پاکستان Pakistan خاص طورپرسندھ کا پیسا کتنی بےدردی کے ساتھ لوٹا گیا اور کیسے 32 جعلی اکاوئنٹ بنا کر پیسے زرداری کی فرم پارک لین کو بھیجھے گئے اور کیسے اومنی گروپ نے مختلف بینکوں سے قرضے لیے اور تقریبا 10.90 ارب زرداری کو پیسے بھیجھے جب یہ تمام چیزیں سامنے آئیں تو زرداری صاحب کو یاد آیا کہ اپوزیشن کو متحد ہو کر چلنا ہو گا یعنی جب اپنی باری آئی تو یاد آگیا۔ لیکن اس بار مسلم لیگ نواز زرداری کی باتوں میں نہیں آ رہی زرداری صاحب اپنے اور نواز شریف Nawaz Sharif کے مشترکہ دوستوں کے ذریعے نواز شریف Nawaz Sharif کو دوستی کا پیغام بھیج رہے ہیں اور یہ دوست مشاہد حسین سید، خواجہ آصف، مخدوم احمد محمود ہیں- نواز شریف Nawaz Sharif سے جیل میں ملاقات کے لیے جمعرات کا دن رکھا گیا ہے اور گھر والے اور کارکن جمعرات والے دن میاں نواز شریف Nawaz Sharif سے جیل میں ملاقات کرتے ہیں-10 جنوری 2019 بروز جمعرات یعنی آج سے 5 مہینے پہلے جیل کے اندر میاں نواز شریف Nawaz Sharif سے مخدوم احمد محمود نے ملاقات کی اور آصف زرداری کا پیغام پہنچایا پیغام تو یہ ہی ہے"مہربانی میری دونمبری اور میرے لوٹے ہوئے پیسے بچانے میں میری مدد کرو"-

لیکن میاں صاحب خاموش ہیں کیونکہ میاں صاحب اپنے قریبی دوستوں اور کچھ اہم صحافیوں کو کہ چکے ہیں اور مجھے بھی میاں صاحب کے قریبی لوگوں میں شامل ایک شخص نے بتایا ہے کہ میاں صاحب نے کہا ہے میں اب میں زرداری کی حمایت کیوں کروں اور اس کا ساتھ کیوں دوں بقول "ان صاحب" کہ میاں صاحب نے کہا زرداری بھائی صاحب جب اپنے بیٹے بلاول کے ساتھ گرفتار ہونے والے ہیں تو ان کو ہماری یاد آ گئی ہے جب وہ(میاں صاحب اور مریم)گرفتار ہوئے تو زرداری صاحب نے ان کی مدد نہیں کی اب وہ کیوں کریں اور یہ ہی پیغام انہوں نے مولانہ فضل الرحمان کو بھیج دیا ہے،اسی وجہ سے میر حاصل بزنجو بھی زرداری صاحب سے ملے ہیں اور زرداری صاحب نے ان کو پیغام دیا ہے میاں صاحب سے کہیں کہ ماضی کی باتیں بھول جائیں اور آگے کے لیے متحد ہو کر چلیں- زرداری صاحب نے سینٹ کے چیرمین کو تبدیل کروانے کےلیے مشترکہ تحریک عدم اعتماد لانے کا بھی عندیہ دیا اور سینٹ کا چیرمین بھی مسلم لیگ نواز کا لانے کا پیغام میر حاصل بزنجو کو دیا اوران سے کہا میاں صاحب کو منائیں اور یوں مولانہ فضل الرحمان اورمیر حاصل بزنجو اب ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اب تو ڈنر کے بعد جو پریس کانفرنس کی گئی اس میں بھی ایک مشترکہ بات نہیں کی گئی ہر پارٹی کے بندے نے اپنی اپنی بات کی کیونکہ ہر پارٹی کا اپنا مفاد ہے عوام کے لیے کچھ نہیں کر رہے مہنگائی اپنے عروج پر ہے، بےروزگاری نئی تاریخ رقم کر رہی ہے لیکن ان اپوزیشن جماعتوں نے عوام کے لیے کوئی بھی اقدام نہیں کیا

 38