سی پیک CPEC منصوبے میں کیا مشکلات ہیں ؟

16 مئی 2019

Cpack mansoobay mein kya mushkilaat hain ?

چینی قیادت گوادر Gawadar کو اتنی ہی تیزی سے ترقی سے ہم کنار کرنا چاہتی ہے جتنی تیزی کی حالات اجازت دیں۔ چینی قیادت کے لئے بنیادی اور کلیدی مقصد یہ ہے کہ پاک چین China اقتصادی راہداری (سی پیک CPEC ) کے ذریعے پاکستان Pakistan سے دوستی اور پارٹنر شپ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے اور سی پیک CPEC کی سب سے توانا علامت گوادر Gawadar ہے۔ بیجنگ کا پیغام یہ ہے کہ ہم یہاں طویل المیعاد دوستی کے لئے ہیں، محض تجارتی مفادات سب کچھ نہیں۔

حکومت کو ابتدائی مرحلے میں 2 ارب ڈالر billion dollor کا نرم قرضہ اس بات کا مظہر ہے کہ چین China کے لئے پاکستان Pakistan خصوصی دوست ہے۔ مگر، اور یہ ایک بڑا مگر ہے، تذویراتی نقطۂ نظر سے تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول میں چین China کو پاکستان Pakistan سے تیز اور مکمل ہم آہنگ اقدامات کی توقع ہے۔ اگر سی پیک CPEC مخالف بیورو کریٹس اور سیاست دان سی پیک CPEC کو از کار رفتہ پلاننگ کمیشن والے نظام کے تحت برتتے رہے اور نفاذ کی راہ میں دیوار بنتے رہے تو ہم کس طور آگے جاسکتے ہیں ؟ یہ خدشہ وزیر اعظم Prime Minister کے اپریل کے ہائی پروفائل دورۂ چین China کے باوجود برقرار ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ کے لئے آنکھ اور کان کا درجہ رکھنے والے حلقوں میں بھی یہ خدشہ پایا جاتا ہے۔ ایک اور قابل غور امر گوادر Gawadar شہر اور اس کے انڈسٹریل زون کے لئے 300 میگاواٹ کا مجوزہ بجلی گھر بھی ہے۔

صوبائی حکومت یا دیگر متعلقہ قوتوں کی طرف سے دانستہ تاخیر اور اجتناب کے بعد اس پراجیکٹ سے جڑی کمپنی پاور چائنہ نے بالآخر مارکیٹ سے دگنے نرخ پر زمین لیز کرالی ہے۔ اسلام آباد Islamabad میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ پاور چائنہ کا کہنا ہے کہ کم گنجائش (300 میگا واٹ) اور مشکل آپریشنل حالات کے پیش نظر نیپرا کے طے کردہ نرخ مضحکہ خیز حد تک کم ہیں مگر نیپرا نے اب تک نرخوں پر نظر ثانی نہیں کی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس وقت نجی بجلی گھروں کے لئے نرخ 10 سینٹ فی یونٹ کے آس پاس ہیں۔ پورٹ قاسم (کراچی) میں قائم 1320 میگاواٹ کا بجلی گھر نیشنل گرڈ کو بجلی 8.5 سینٹ فی یونٹ کے نرخ سے فراہم کرتا ہے۔ نیپرا نے پاور چائنہ کے لئے نرخ 7 سینٹ فی یونٹ سے زیادہ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ چین China کے ایک بزنس ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ سی پیک CPEC سے جڑے ہوئے تمام منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرانے میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے سب سے کہہ رکھا ہے کہ نفع و نقصان کا معاملہ ایک طرف ہٹا کر سب سے زیادہ توجہ اس عظیم منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے پر مرکوز کریں۔ جن معاملات میں تیزی سے فیصلے کرنے ہوتے ہیں ان میں بیورو کریسی کی طرف سے فیصلوں میں تاخیر نجی چینی کمپنیوں کی بدحواسی میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ اس سے کسی نہ کسی مرحلے پر شی جن پنگ کا عزم بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

اس حوالے سے بیجنگ کے کاروباری اور علمی حلقوں میں غیر معمولی خدشات پائے جاتے ہیں۔ چین China کی بڑی کاروپوریشنز کے ایگزیکٹوز ایک نکتے پر تو متفق ہیں ۔۔۔ یہ کہ بجلی اور پانی کے بغیر پاکستانی حکومت گوادر Gawadar کو سی پیک CPEC کے اہم ترین لنک کے طور پر کیسے کامیابی سے ہم کنار کراسکتی ہے۔ مزید 2 سال تک گوادر Gawadar میں بجلی کی فراہمی کے آثار نہیں۔ ایسے میں ایئر پورٹ اور صنعتی ڈھانچے کا قیام بھی بہت مشکل نظر آتا ہے۔ گوادر Gawadar میں نئے ایئر پورٹ کی فل سکیل تعمیر شروع کئے جانے کا مدار بجلی کی فراہمی پر ہے۔ اگر نیپرا اور پاور چائنہ نرخ کا معاملہ طے کر بھی لیں تو بجلی گھر کی تعمیر اور کمیشننگ 2 سال سے پہلے تو ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ سپیشل اکنامک زونز بھی چینی بزنس منیجرز میں گرما گرم بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ چین China میں حکومت جب کسی علاقے کو معاشی طور پر بہتر اور مضبوط بنانا چاہتی ہے تو زمین کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پانی اور توانائی کی دستیابی بھی یقینی بناتی ہے۔ سروسز سیکٹر کے لئے ہائرنگ میں بھی حکومت کا کردار ہوتا ہے تاکہ غیر معمولی شرح سے سرمایہ کاری جاری رکھی جاسکے۔

پاکستان Pakistan میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں غیر ملکی نجی کاروباری اداروں کو متعلقہ حکام اور سیاست دانوں سے اجازت نامہ حاصل کرنے کے لئے جیب ڈھیلی کرنا پڑتی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سپیشل اکنامک زونز وفاقی اور صوبائی حکومت کے علاوہ نیپرا، اوگرا، وزارت تجارت اور وزارت خزانہ میں منقسم ہیں۔ چینی تجزیہ کاروں نے نئے ریلوے ٹریک کے حوالے سے سندھ کے وزیر اعلٰی مراد علی شاہ کے بیان کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ایک بزنس ٹائکون کا کہنا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وفاقی یا مرکزی حکومت سرمایہ کاری لائے اور ایک صوبے کا وزیر اعلٰی اسے صوبائی معاملہ بنا دے۔ اسے تو مخالفت پر کمربستہ ہونے کے بجائے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اگر نئی اتھارٹیز سے نمٹنا پڑے تو نئے کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری کرنے اور کام شروع کرنے کی ترغیب و تحریک کیونکر دی جاسکتی ہے ؟ چین China ہی نہیں، بنگلہ دیش تک میں یہ ہوتا ہے کہ آپ سرمایہ لگائیں اور ایک مرکزی اتھارٹی ون ونڈو آپریشن کے ذریعے آپ کو ضروری دستاویزی کارروائی مکمل کرا دیتی ہے۔

گوادر Gawadar کے معاملے میں ایئر پورٹ اور بجلی گھر کی تعمیر میں ہونے والی تاخیر کی قیمت کا اندازہ تو لگائیے۔ گوادر Gawadar میں بجلی گھر اور ایئر پورٹ کی تعمیر کے علاوہ پانی کی فراہمی کا موثر نظام متعارف کرائے جانے کا معاملہ اس امر کا متقاضی ہے کہ بیورو کریسی کے روایتی ہتھکنڈوں کی راہ مسدود کی جائے۔ ایسا نہ ہوا تو صنعتی اور سماجی شعبے کی بھرپور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔ سی پیک CPEC کے مخالفین اس عظیم منصوبے کی راہ میں دیواریں کھڑی کرنے کے حوالے سے جو کچھ کر رہے ہیں اسے ناکام بنانے کے لئے وزیر اعظم Prime Minister اور جی ایچ کیو دونوں کو مل کر پوری توجہ کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

 58