پاکستان Pakistan کا مستقبل؟

قلم کمان - حامد میر

16 مئی 2019

Pakistan ka mustaqbil ?

’’پاکستان Pakistan کا مستقبل بہت روشن ہے‘‘۔

یہ الفاظ میرے کانوں کو بڑے بھلے لگ رہے تھے کیونکہ آج کل بہت سے پاکستانی اپنے پیارے وطن کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار رہتے ہیں۔ کسی بھی سیاستدان نے حکومت پر تنقید کرنا ہو تو وہ سب سے پہلے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حکمرانوں نے پاکستان Pakistan کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ جب کوئی حکمران یہ تسلی دیتا ہے کہ گھبرائو نہیں ہم ایک نیا پاکستان Pakistan بنائیں گے اور مشکلات کا دور بہت جلد ختم ہو جائے گا تو حکمران کی بات پر یقین کرنا کافی مشکل ہوتا ہے کیونکہ پاکستان Pakistan کے حالات پہلے سے زیادہ برے ہو چکے ہیں۔ اِن برے حالات میں ایک شخص بار بار مجھے تسلی دے رہا تھا کہ پاکستان Pakistan کا مستقبل روشن ہے اور مجھے واقعی اُس کے الفاظ میں روشنی کی کرن نظر آرہی تھی کیونکہ وہ پاکستانی نہیں تھا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب آدھے سے زیادہ پاکستان Pakistan خوف اور مایوسی کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے تو یہ کون ہے جسے پاکستان Pakistan کے مستقبل میں روشنی نظر آرہی ہے؟

پاکستان Pakistan کے مستقبل کو روشن قرار دینے والے اِس شخص کا نام کونی نوری ماٹسوڈا ہے، جو پاکستان Pakistan میں جاپان کے نئے سفیر ہیں۔ ایک جاپانی سفارتکار کی طرف سے پاکستان Pakistan کے بارے میں یہ امید پسندی میرے لئے بہت غیر متوقع اور غیر روایتی تھی۔ یہ الفاظ چین China کا سفیر کہتا تو میں مسکرا کر اُس کا شکریہ ادا کرتا اور گفتگو کا رخ پاکستانی دلہنوں کے سوداگروں کی طرف موڑ دیتا جو پاکستان Pakistan سے دلہن خرید کر چین China میں فروخت کرتے ہیں اور آج کل چین China کی حکومت پاکستان Pakistan کے ساتھ مل کر اِن انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ چین China اور پاکستان Pakistan کی دوستی کو ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری قرار دیا جاتا ہے لہٰذا چین China کا کوئی سفارتکار پاکستان Pakistan کے بارے میں اچھی اچھی باتیں کرتا دکھائی دے تو ہم اُس دوست کا شکریہ تو ادا کر دیں گے لیکن سوچیں گے ضرور کہ چین China پاکستان Pakistan اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو کافی عرصہ ہو گیا ہے پھر بھی پاکستان Pakistan کی معیشت میں بہتری کے آثار کیوں نظر نہیں آرہے؟ پاکستان Pakistan کے بارے میں ایسی ہی اچھی اچھی باتیں ترکی یا سعودی عرب Saudi Arabia کے سفارتکار کریں تو ہم یہی سمجھیں گے کہ ہمارے دوست ہمیں تسلیاں دے رہے ہیں لیکن جاپان کے سفیر کی گفتگو میں بڑے غور سے سن رہا تھا۔ کونی نوری ماٹسوڈا پاکستان Pakistan سے قبل امریکہ United States ، روس، اسرائیل اور ہانگ کانگ میں سفارتکاری کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ اُنہیں جاپان کے شاہی خاندان کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔

کونی نوری ماٹسوڈا روسی زبان پر بہت عبور رکھتے ہیں اور پاکستان Pakistan کو صرف جاپان نہیں بلکہ روس Russia کی نظر سے بھی پرکھتے رہتے ہیں کیونکہ جب وہ ماسکو میں تعینات تھے تو اُنہیں پاکستان Pakistan کی جغرافیائی اہمیت کا احساس ہوا۔ وہ مدہم لہجے میں خوبصورت انگریزی بولتے ہوئے بتا رہے تھے کہ ہم جاپانیوں کو اسکول میں ورلڈ ہسٹری کا ایک لازمی مضمون پڑھنا پڑتا ہے۔ اُس ورلڈ ہسٹری میں ہم موہنجوڈارو، ہڑپہ اور گندھارا تہذیبوں کے متعلق پڑھتے ہیں اور ہمیں اسکول میں ہی پتہ چل جاتا ہے کہ اِن تہذیبوں کے آثار پاکستان Pakistan میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جب 1951میں سان فرانسسکو میں امن معاہدہ ہوا تو امریکہ United States نے جاپان پر اپنا قبضہ ختم کیا تھا، جن ممالک نے اِس امن معاہدے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا اور اُس پر دستخط کئے، اُن میں پاکستان Pakistan بھی شامل تھا۔ چین China کو یہاں بلایا ہی نہیں گیا تھا، بھارت India کو بلایا گیا لیکن بھارت India سان فرانسسکو نہیں آیا تھا۔ کونی نوری ماٹسوڈا کہہ رہے تھے کہ وہ اکثر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ بھارت India وہاں کیوں نہیں آیا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ دراصل بانی پاکستان Pakistan قائداعظم محمد علی جناح نے اعلیٰ تعلیم برطانیہ میں حاصل کی تھی لیکن حقیقت میں وہ ایک سامراج دشمن انسان تھے۔ گاندھی اور نہرو نے متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کو بھارت India کے گورنر جنرل کے طور پر قبول کر لیا تھا لیکن قائداعظم نے اُسے پاکستان Pakistan کا گورنر جنرل تسلیم نہیں کیا کیونکہ اُسی لارڈ مائونٹ بیٹن نے 1945میں دوسری جنگ عظیم کے دوران سنگاپور میں جاپانی فوج کو شکست دی تھی۔ سنگا پور اور برما میں آزاد ہند فوج کے ہزاروں سپاہی جاپانی فوج کے ساتھ تھے۔ یہ فوج سبھاش چندرا بوس نے جاپان کی مدد سے کھڑی کی تھی، جس کا مقصد ہندوستان کی آزادی تھا۔ سنگا پور میں اُس فوج کے کمانڈر میجر جنرل محمد زمان کیانی تھے، جن کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ وہ برطانوی فوج کے جنگی قیدی بن گئے۔ قیام پاکستان Pakistan کے بعد وہ راولپنڈی آگئے اور اُنہوں نے کشمیر کی جنگ میں حصہ لیا۔ جنرل محمد زمان کیانی سمیت آزاد ہند فوج کے سینکڑوں افسران اور جوان برطانوی فوج سے نفرت کرتے تھے۔ اُن سب کی ہمدردیاں جاپان کے ساتھ تھیں، اُنہوں نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا کہ جاپان سے اتحادی افواج کا تسلط ختم کرانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ دوسری طرف بھارتی Indian وزیراعظم نہرو ڈبل گیم کررہا تھا۔ وہ ایک طرف روس Russia کے ساتھ تھا دوسری طرف امریکہ United States اور برطانیہ کو بے وقوف بنارہا تھا۔ نہرو نے آزاد ہند فوج کے افسران اور جوانوں کو وہ عزت نہیں دی جو اُنہیں پاکستان Pakistan میں حاصل تھی۔ اِس منافقانہ پالیسی کی وجہ سے نہرو نے معاہدہ سان فرانسسکو کی حمایت نہیں کی۔ میری گزارشات سن کر کونی نوری ماٹسوڈا نے اثبات میں سرہلا اور کہا کہ آج مجھے سمجھ آگئی بھارت India معاہدہ سان فرانسسکو سے کیوں بھاگ گیا تھا۔ جاپانی سفیر کہہ رہے تھے کہ ایک زمانہ تھا کہ جاپان کے بڑے بڑے بزنس مین کراچی آیا کرتے اور میٹرو پول ہوٹل میں ٹھہرتے تھے۔ پھر زمانہ بدل گیا، پاکستان Pakistan اور جاپان کے تعلقات میں گرمجوشی نہ رہی، اب جاپان کی حکومت نے پاکستانیوں کو ورک پرمٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹویوٹا اور سوزوکی سمیت بہت سی کمپنیاں پاکستان Pakistan میں کام کررہی ہیں اور اب نسان بھی پاکستان Pakistan آرہی ہے۔ یہ میرے لئے ایک خوشخبری تھی کیونکہ نسان ایک ایسی جاپانی ملٹی نیشنل کمپنی ہے جو فرانس کی رینالٹ کی پارٹنر ہے۔ جاپانی سفیر نے کہا کہ وہ بہت جلد ایشیائی ترقیاتی بینک کے وفد کو بھی پاکستان Pakistan آنے کی تجویز دیں گے۔ اِس بینک کا سربراہ جاپانی ہوتا ہے کیونکہ اِس بینک میں جاپان سب سے بڑا حصہ دار ہے۔ ڈنر ٹیبل پر میرے سامنے’’سوشی‘‘ لائی گئی تو جاپانی سفیر نے کہا کہ یہ جاپانی فوڈ ہے لیکن اِس میں استعمال کی گئی مچھلی، سبزیاں اور چاول سب پاکستانی ہیں۔ پاکستان Pakistan میں سب کچھ موجود ہے صرف اُسے سنبھالنے اور منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ مشکل تھا لیکن اُس معاہدے کے بعد جاپانی سرمایہ کار بڑی تعداد میں پاکستان Pakistan کا رخ کریں گے کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ عالمی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی حکومتوں کے پاکستان Pakistan پر اعتماد کو مستحکم کرے گا۔

اِس طویل گفتگو کے اختتام پر کونی نوری ماٹسوڈا نے کہا کہ پاکستان Pakistan کو صرف اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہونا بلکہ خطے میں استحکام کے لئے بھی پاکستان Pakistan کا کردار بہت اہم ہے۔ افغانستان Afghanistan میں قیامِ امن کے لئے پاکستان Pakistan اچھا کردار ادا کر رہا ہے، امید ہے پاکستان Pakistan ایسا کردار سعودی عرب Saudi Arabia اور ایران Iran میں مصالحت کے لئے بھی ادا کرے گا۔ جاپانی سفیر بار بار کہہ رہے تھے جو کام پاکستان Pakistan کرسکتا ہے وہ ترکی، انڈونیشیا Indonesia یا کوئی دوسرا بڑا اسلامی ملک نہیں کرسکتا۔ میری زبان سے فوراً نکلا ’’ان شاءاللہ‘‘۔ جاپانی سفیر سے رخصت لے کر واپس آیا تو دل سے دعا نکلی کہ یا اللہ پاکستان Pakistan کے مستقبل کے بارے میں جو یقین و اعتماد جاپانی سفیر کو ہے وہ یقین و اعتماد ہمارے سیاستدانوں کو بھی عطا کردے۔

 139