حسن پرست(2)

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

15 مئی 2019

Husan Parasat

آپ کے اردگرد ایسی ایک چھوڑ ہزار مثالیں موجود ہونگی جس بندے یا بندی کو قبول شکل گزارے لائق سمجھا ہوتا ہے ان کی گرومنگ کے بعد جب دیکھیں آپ کے لیے پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے ۔۔تو کیوں نہیں رکھتے اپناخاطرخواہ خیال؟ ۔۔ ایک چیز دھیان میں رکھنی چاہیے وہ یہ کہ مرد ہمیشہ اس حلیے میں اچھا لگتا ہے جس میں باوقار مرد لگے ۔۔جنکو دیکھ کر پہلا خیال ڈیسنسی کا آے۔۔اور عورتیں ہمیشہ نسوانیت میں اچھی لگتی ہیں۔

۔میں نے کالج یونیورسٹیز میں کئی ایسی لڑکیاں دیکھی ہیں جن کا حلیہ اچھا خاصہ مردانہ ہوتا ہےپینٹ شرٹس پہنی ہوتیں ہیں ۔بال انتہائی حد تک چھوٹے کروا لیے۔۔بے ڈھنگے پن سے ببل چباے جاتی ہیں بس۔۔بے تکے فیشن کریں گی جن کا نا کوئی سر ہوگا نا پیر ان کو دیکھ کر ہی بےزاری ہوتی ہے ۔۔جو چیز ضروری ہے وہ ہے اپنا خیال رکھنا۔۔گرومنگ میں رہنا۔۔ضروری نہیں کہ دوسروں کے لیے تیار ہوا جاے یا بنا سنورا جاے۔۔ہمیں خود کو اتنا ضرور اہمیت دینی چاہیے کہ اپنا آپ اچھا لگے۔۔تاکہ ہم اپنے لیے بھی خود کو نک سک درست بنا کر رکھیں۔۔ہمارے ملک میں حسن بہت ہے۔۔لیکن کافی اچھے خاصی شکلیں رکھنے والے لوگ بھی اپنی گرومنگ پر توجہ نہیں دیتے۔۔یا ان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم بھی اچھی شکلیں رکھتے ہیں۔

سال دو سال پرانا قصہ ہے دوران سفر گاڑی خراب ہوگئی ابو باہر نکلے کہ چیک کیا جاے خرابی کیا ہے۔۔ویران روڈ تھی اکا دکا سواریاں ہی گزر رہی تھیں۔۔میں بھی باہر نکل آئی۔۔مجھے سامنے سے ایک بیل گاڑی نظر آِئی جو کچے راستے سے روڈ پر چڑھی تھی۔۔اس پر جانوروں کا چارہ لدا تھا اور چارے پر ایک بندہ چڑھا بیٹھا تھا جو بیل گاڑی کو چلا رہا تھا ۔۔جیسے ہی یہ سامنے نظر آے ۔۔بندے کہ شکل واضح ہوئی۔۔میں بڑبڑاِئی۔۔

" بائی دا وے ہمارا ملک خوبصورتی کے معاملے میں بھی خود کفیل ہے۔۔"

ابو مسکراتے ہوے گاڑی پر جھکے جھکے بولے

" کہاں دیکھ لی خوبصورتی ہمیں بھی دکھاو"

میں نے آنکھوں سے اشارہ کیا

" یا بابا او ویکھو بیل گاڑی نظر آرہی ہے ؟"

ابو نے سر اٹھا کر دیکھا

" ہاں۔۔لیکن یہ تو عام سی بیل گاڑی ہے اس میں خوبصورتی کہاں سے آگئی؟؟"

میں نے ٹوکا " او نہیں بابا ۔۔اس بیل گاڑی پر جو میلے کچیلے کپڑوں میں بندہ بیٹھا ہے نا ۔۔یہ فٹ بالر میسی کی کاربن کاپی ہے ۔۔کیونکہ اس کو یہ بات پتہ نہیں ہے لہذا آرام سے بیل گاڑی چلا رہا ہے "

ابو نے سر ہلایاتھوڑا مایوسی سے بولے ۔۔"اچھا اس کی بات کر رہی تھی۔ خیر اس کو پتہ ہوتا کہ میں میسی کہ شکل ہوں تب کیا یہ جج لگ جاتا؟۔"

امی نے کھڑکی سے لقمہ دیا " تمہارا باپ "خوبصورتی "سے یقیناً کوئی عورت سمجھا ہوگا ۔۔۔"

ابو جھینپے " توبہ ہے بیگم حد کرتی ہو بدگمانی کی۔۔اور تم۔۔۔! امی کو جواب دے کرمیری طرف مڑے۔۔" لغت درست کرو اپنی ۔۔مرد خوبصورت نہیں ہوتے "

میں نے سوال کیا" تو کیا ہوتے ہیں؟؟"

"وجہیہ یا خوبرو کہا جا سکتا ہے "ابو نے میری معلومات میں اضافہ کیا ادھر امی نے پھر کھڑکی سے سر نکال کر ابو کو چھیڑا

" دیکھا ۔۔۔! میں نے کہا تھا نا کہ آپ خوبصورت لفظ سے عورت سمجھے تھے"

ابو نے تلملا کر بونٹ بند کیا اور بولے " ہاں اور کچھ"؟؟؟ اس جارحانہ انداز پر امی اور میرا مشترکہ قہقہہ بلند ہوا تھا۔۔

خوبصورت بندے سے محبت کرنے میں دقت پیش نہیں آتی۔۔اللہ کی طرف سے دل میں تھوڑی ڈالی جاتی ہے اور اس تھوڑی میں مزید فنکاری دل موصوف خود جنریٹ کر لیتا ہے اور بندہ عشق میں گوڈے گٹے غرق ہوجاتا ہے۔کیا خوب کہا ہے کسی شاعر نے

"جب جب اس کو دیکھتا ہوں ہر بار محبت ہوتی ہے"

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کم شکلوں سے محبت نہیں ہوسکتی۔ایک یہی جذبہ تو ہے اگر سچا ہو تو محبوب سے خوبصورت کوئی بھی نہیں لگتا۔ہاں البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایوریج شکل لوگوں کو خوش شکلوں کی نسبت محبت جیسی خوش قسمتی ملنے میں بڑی دقت کا سامنا ہوتا ہے۔۔

بہرحال بات کو ختم کرتے ہیں اس ریکویسٹ کے ساتھ۔۔اپنا خیال رکھیں ۔۔گرومنگ ہر دور میں ضروری ہے۔بول چال ۔۔رکھ رکھاو ۔پہننا اوڑھنا باوقار اور شاندار رکھیں۔۔ان عوامل کا شاندار ایفیکٹ آپ کی شخصیت پر تو پڑتا ہی ہے۔۔دیکھنے والوں کو بھی بھلا محسوس ہوتا ہے۔

۔اور ہاں خوبصورتی کم صورتی کے پیمانوں کو چھوڑ کر آگے بڑھیں۔۔زرا نیٹ سرچنگ کریں ۔۔دنیا کے ہینڈسم مرد لکھیں ۔۔جہاں ٹام کروز ہوگا وہی پر سیاہ فام وِل سمتھ بھی جگمگا رہا ہوگا تو صاف ظاہر ہے۔۔خوبصورتی صرف شکل میں نہیں رکھی۔۔باوقار لہجہ ۔۔ڈیسنٹ حلیہ اور رکھ رکھاو خوبصورتی لے ہی آتا ہے۔۔

 147