ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے!

جر گہ - سلیم صافی

15 مئی 2019

Abhi to party shoro howi hai

پارٹی ختم نہیں بلکہ ابھی شروع ہوئی ہے۔ ایک پنڈورا باکس ابھی سینیٹ میں کھلے گا اور دوسرا پھر قبائلی اضلاع کے اندر۔ چھبیسویں آئینی ترمیم نے ابھی سینیٹ سے منظور ہونا ہے جہاں پہلے سے بلوچستان Balochistan کے سینیٹرز نے بل جمع کیا ہے، جس میں اُنہوں نے بلوچستان Balochistan کی اسمبلی کے حلقوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ مطالبہ اُن کا جائز بھی ہے کیونکہ بلوچستان Balochistan کے قومی اسمبلی کے ایک حلقے کا رقبہ پورے پختونخوا کے رقبے سے زیادہ ہے۔ دوسرا پنڈورا باکس یہ کھلے گا کہ بل میں یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ چار حلقوں کا اضافہ قبائلی علاقوں کے کس ضلع میں کس بنیاد پر ہوگا۔ چنانچہ اب کرم ایجنسی والے کہیں گے کہ ہمارے بڑھا دو، اورکزئی والے کہیں گے ہمارے بڑھا دو اور وزیرستان والے کہیں گے ہمارے بڑھادو۔ علیٰ ہذا القیاس۔

سوال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں نشستیں بڑھانے کا معاملہ پی ٹی آئی PTI کو گزشتہ نو ماہ میں کیوں یاد نہ آیا اور اب وہاں پر صوبائی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوتے ہی وہ یہ کام ہنگامی بنیادوں پر کیوں کرنے لگی جس کے لئے اسد قیصر Asad Qaiser اور نورالحق قادری مل کر خواجہ آصف اور راجہ پرویز اشرف کےقدموں میں بھی بیٹھ گئے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ وہ پی ٹی ایم جس کے بارے میں چند روز قبل عمران خان Imran Khan صاحب اعلان کرتے پھر رہے تھے کہ وہ غیر ملکی طاقتوں کی آلہ کار ہے، کیسے یکدم پی ٹی آئی PTI کی چہیتی بن گئی اور کیوں کر محسن داوڑ کے سر پر پہلی آئینی ترمیم کے کریڈٹ کا تاج سجا دیا گیا؟۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف چور چور اور سلیکٹڈ سلیکٹڈ کے نعرے لگانے والی تمام جماعتیں کیسے محسن داوڑ کے بل پر ایک صف میں ایسے کھڑی ہوگئیں کہ نہ کوئی غدار رہا اور نہ کوئی وفادار، نہ کوئی چور رہا اور نہ کوئی فرشتہ؟

ان سوالوں کے کا جواب یہ ہے کہ اِس معاملے کے اصل سرغنہ پیرزادہ نورالحق قادری ہیں۔ دیگر ایم این ایز اور سینیٹرز کی طرح وہ بھی نہیں چاہتے کہ قبائلی اضلاع میں اُن جیسے اجارہ داروں کے ساتھ ساتھ ایم پی ایز کی صورت میں نئی قیادت سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی PTI میں ہو کر بھی قادری صاحب نے فاٹا کے انضمام کی بھرپور مزاحمت کی تھی اور انتخابی مہم کے دوران بھی ملکانان سے وعدے کرتے رہے کہ وہ ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ وہ پی ٹی آئی PTI کے قبائلی علاقوں کے چیپٹر کے صدر ہیں اور مکمل انضمام کے بعد اُن کا یہ عہدہ بھی ختم ہو جائے گا جبکہ پورے صوبے کے صدر وہ بن نہیں سکتے۔ اُنہوں نے اپنے لئے تو عمران خان Imran Khan سے مذہبی امور کی ”برکتوں“ سے مالامال وزارت ہتھیالی لیکن تمام سیاسی قیادت کے وعدے کے مطابق قبائلی اضلاع کے لئے سو ارب روپے تو کیا، بیس ارب روپے بھی نہیں دلوا سکے۔ چنانچہ اب اگر 2جولائی کو وہاں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوں تو پی ٹی آئی PTI کا برا حشر ہوسکتا ہے۔ چنانچہ گورنر اور وزیراعلیٰ کو ساتھ ملا کر اُنہوں نے عمران خان Imran Khan کو مشورہ دیا کہ وہ صوبائی انتخابات کم از کم چھ ماہ کے لئے ملتوی کرا دیں۔ قادری صاحب نے اُن کو بتایا کہ اِس دوران ہم صحت کارڈ تقسیم کر لیں گے۔ مجوزہ جرگوں میں پی ٹی آئی PTI کے عہدیداروں کو اندر کرا لیں گے۔ اِسی طرح صوبائی سے پہلے بلدیاتی انتخابات کروا کر اپنے لوگ وہاں بٹھا دیں گے اور اِس کام کے لئے کم ازکم چھ ماہ کی مہلت چاہئے۔ عمران خان Imran Khan کے آن بورڈ ہونے کے بعد قادری صاحب نے اسپیکر اسد قیصر Asad Qaiser کو ساتھ لے کر الیکشن کمیشن کے ذریعے انتخابات ملتوی کرانے کی بہت کوشش کی لیکن جب وہاں سے یہ بتایا گیا کہ ازروئے آئین وہ جولائی سے آگے نہیں جا سکتے تو آئینی ترمیم کی کوششیں شروع کردی گئیں۔

نورالحق قادری صاحب انتہائی میٹھی زبان بولتے ہیں اور شہد کا لیبل لگاکر زہر فروخت کرنے کے ماہر ہیں اس لئے جے یو آئی، پیپلز پارٹی اور اپنی پارٹی کے قبائلی علاقہ جات کے ایم این ایز کو ساتھ لیا۔ قیادت محسن داوڑ کو دے دی اور اُن سب کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں کے پاس بطور جرگہ لے گئے۔ خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق اور بلاول بھٹو Bilawal Bhutto جیسے لوگوں کو قبائلی اضلاع کے معاملات کا علم ہے اور نہ اُن کو اِس سے کوئی خاص دلچسپی رہتی ہے۔ سب جماعتوں کے ایم این ایز کو دیکھ کر وہ یہ سمجھے کہ شاید یہ تمام قبائلی عوام کی خواہش ہے کہ بے شک انتخاب ملتوی ہو جائے لیکن حلقوں میں اضافہ ہو۔ چنانچہ پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) سمیت جے یو آئی، جماعت اسلامی اور اے این پی نے بھی حمایت کا وعدہ کردیا۔ معاملہ اگر صرف قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کا ہوتا تو مجھ سے زیادہ کوئی خوش نہ ہوتا اور منظوری سے قبل میں نے اسد قیصر Asad Qaiser اور محسن داوڑ سمیت کئی ذمہ داران کی منت کی کہ وہ بل میں یہ شق رکھ دیں کہ اِس وقت جن صوبائی انتخابات کے لئے مہم جاری ہے، وہ ملتوی نہیں کئے جائیں گے لیکن ہماری درخواست ماننے کے بجائے پی ٹی ایم نے بل میں الٹا یہ شرط رکھ دی کہ وہاں صوبائی اسمبلی کے انتخابات چھ ماہ سے پہلے نہیں ہوسکیں گے اور یہ مزید ڈیڑھ سال تک ملتوی کئے جاسکیں گے۔ اب ایک طرف قبائلی عوام پر احسان کیا جارہا ہے کہ اُن کی سیٹیں بڑھادی گئیں لیکن دوسری طرف یہ ظلم کیا جارہا ہے کہ پختونخوا اسمبلی کو قبائلیوں کی نمائندگی سے ایک سال تک محروم رکھنے کے بعد مزید ڈیڑھ سال کے لئے محروم رکھا جارہا ہے حالانکہ انضمام کے لئے سب سے زیادہ ضرورت پختونخوا اسمبلی میں قبائلی منتخب نوجوانوں کی نمائندگی ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ سازش کامیاب ہوئی اور سینیٹ سے بھی یہ بل اسی طرح پاس ہوا تو وہ 435امیدوار جنہوں نے 2جولائی کو ہونے والے انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کئے ہیں، کافی اخراجات اور تیاریوں کے بعد کس کیفیت سے دوچار ہوں گے، شاید اس کا ادراک کسی نے نہیں کیا۔ جس روز قومی اسمبلی سے یہ بل پاس ہوا اُس روز اسد قیصر Asad Qaiser اور قادری صاحب چیئرمین سینیٹ کے منت ترلے کررہے تھے کہ وہ سینیٹ کے اجلاس کو جاری رکھیں لیکن اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اس روز ازروئے قانون اجلاس ملتوی ہوا اور اب چیئرمین سینیٹ کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ جلدی اجلاس بلائیں۔ اگر سینیٹ سے یہ اسی شکل میں منظور ہوا تو پھر صدر کے دستخط کے ساتھ الیکشن کمیشن صوبائی اسمبلی کے انتخابات کو غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردے گا اور اگر 2جولائی تک یہ بل اِسی شکل میں سینیٹ سے پاس نہ ہوا تو پھر صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوجائیں گے لیکن آخری وقت تک امیدوار اور ووٹرز گومگو کا شکار رہیں گے۔

 156