کیا وقت آن پہنچا ہے

حرف راز - اوریا مقبول جان

15 مئی 2019

Kiya waqt aan poncha hai

آج سے ٹھیک سولہ ماہ قبل امریکی افواج کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے امریکی جنگی جنون کے لیے ایک نیا راستہ متعین کیا۔سترہ سال تک امریکہ United States اور یورپ کے جنگی دماغوں پر صرف اور صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ چھائی ہوئی تھی، لیکن جیمزمیٹس نے کہا کہ اب ہماری اولین ترجیح روس Russia اور چین China کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں پوری دنیا پر تنِ تنہا حکومت کرنے والا امریکہ United States اور یورپ کا اتحاد اب اپنی قوت کھو رہا ہے۔ جنوب میں بسنے والے کمزور و ناتواں ملک بھی اب آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔ کیا زمانہ تھا جب افغانستان Afghanistan سے آخری روسی سپاہی قلاب والی سرحد عبور کرکے آنجہانی سوویت یونین واپس لوٹا تھا تو دنیا میں ایک شور مچ گیا تھا کہ اب صرف اور صرف امریکہ United States کی حکمرانی ہوگی۔ صرف چند مہینوں بعد 1989 ء میں جاپانی مورخ اور دانشور فرانسس فوکویاما (Francis fukuyama)نے ایک مضمون تحریر کیا جس کا عنوان تھا End of History (تاریخ کا اختتام)۔ افغانستان Afghanistan میں سوویت یونین کی شکست نے کیمونزم کے نظریاتی قبلیروس Russia پر ایسا اثر کیا کہ 1992 ء میں اس عالمی قوت کا محل زمین بوس ہوگیا۔ ہتھوڑے اور درانتی والا سرخ پرچم اتر گیا اور لینن کا مجسمہ گرتے ہی لینن گراڈ پھر سینٹ پیٹرزبرگ کہلانے لگا۔فورابعد فوکویاما نے اپنے مضمون کو ایک ضخیم کتاب کی شکل دے دی اور یہ نتیجہ نکالا کہ دنیا میں اب نظریات کا ارتقاء ختم ہوگیا ہے۔ انسان نے تمام نظام آزما لئے ہیں اور اب صرف مغربی جمہوریت ہی دنیا بھر میں قابل قبول اور نافذ العمل طرز زندگی ہوگا۔ بادشاہت، فاشزم، مذہبی اقتدار اور کیمونزم جیسے نظریے اب تاریخ کے قبرستان کا حصہ بن چکے ہیں اور انسانی ذہنی ارتقاء مکمل ہوگیاہے۔ اس دن کے بعد سے اب تک تمام کیمونزم ، فاشزم اور مرعوب اسلام کے نظریاتی پرندوں نے امریکہ United States کے تناور درخت پر بسیرا کرلیا۔ اب ہر وہ ملک، فرد یا گروہ جو مغربی جمہوری نظام کے مخالف تھا، دہشت گرد، شدت پسند، گمراہ اور فسادی کہلایا جانے لگا۔۔ ایک ہی طرز حکومت، ایک ہی سودی عالمی مالیاتی نظام اور ایک ہی عالمی قوت۔لیکن یہ تیس سال، انسانی تاریخ کے خونی سال تھے۔ کروڑوں بے کس و لاچار انسان لقمہ اجل بنا دیے گئے اور کوئی انکے لئے آواز تک اٹھانے والا نہ تھا۔ حکومتوں پر بیٹھے ہوئے حکمران امریکہ United States اور یورپ کی آشیرباد سے جسے، جس وقت اور جہاں چاہتے کچلتے رہتے۔ بوسنیا میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا، روانڈا اور صومالیہ کے بازار کھیت اور صحرا انسانی لاشوں سے پٹ گئے، سری لنکا میں تامل صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے، عراق Iraq میں کردوں پر کیمیائی ہتھیاروں کی قیامت گزر گئی۔ عالمی قوت کے تخت پر براجمان امریکہ United States اور اسکے اتحادیوں کو پھر بھی چین China نہ آیا تو افغانستان Afghanistan میں اڑتالیس ملک کی فوجیں غنڈوں کی طرح چڑھ دوڑیں۔ عراق Iraq فتح کرلیا گیا۔ دونوں ملکوں کی سرزمین خون میں نہلا دی گئی۔ لیکن شاید اب بھی پیاس نہیں بجھی تھی۔ شام، مصر، یمن Yemen اور لیبیا میں آگ و خون کا بازار گرم کر دیا۔ صرف شام میں سات لاکھ لوگ زمین کا رزق بن گئے اور ساٹھ لاکھ بے گھر۔ برما سے آٹھ لاکھ روہنگیا مسلمان ایسے نکالے گئے کہ پوری مہذب دنیا اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے باوجود ان کا کوئی وطن نہ تھا۔ لیکن اب یہ پانسہ کیسے پلٹنے لگا۔روس Russia نے جارجیا اور کریمیا کے کچھ حصوں پر قبضہ کرکے انہیں اپنے ساتھ شامل کر لیا اور یوکرین جو سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد ایک آزاد مغربی ملک بن چکا تھا، وہاں علیحدگی پسندوں کو مسلح کر کے آگ بھڑکا دی۔ اب روس Russia ازاق (Azovc) کے سمندر پر جا بیٹھا اور برطانیہ کے بھگوڑوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی جمہوریتوں کے خلاف اس نے سائبر جنگ بھی شروع کردی۔ ادھر چین China نے اپنے جنوبی سمندر میں آزادانہ کشتی رانی روکنا شروع کردی۔ یہاں تک کہ کینیڈا کے شہریوں کو پکڑ لیا اور ان سے لمبی پوچھ گچھ کی گئی۔ لیکن ان تمام ممالک کو امریکہ United States کو آنکھیں دکھانے کی جرات اسی وقت ممکن ہوئی جب وہی افغانستان Afghanistan جو کل سوویت یونین کی طاقت کا قبرستان بنا تھا آج اس واحد عالمی طاقت امریکہ United States اور اس کے اڑتالیس طاقتور حواریوں کی ذلت و رسوائی اور جگ ہنسائی کا سامان بن گیا۔ رہی سہی عزت کو بچانے کی بھیک مانگتا ہوا امریکہ United States اسی روس Russia جس کو وہ کبھی 1992 ء میں اقتصادی امداد کے پیکج پیش کر رہا تھا، اس کے سامنے درخواست گزار تھا کہ طالبان کو اپنے ہاں بلا کر ہمیں افغانستان Afghanistan سے عزت سے نکلنے کا موقع فراہم کرے۔ پاکستان Pakistan جسے کبھی دھمکی دی جاتی تھی اسے امن کے راستے کا مسافر کہا جانے لگا۔ دہشت گردی کیخلاف چھیڑی گئی سترہ سالہ جنگ اب امریکی ترجیح نہیں ہے۔ اب صرف ایک ہی ترجیح ہے کہ کیسے دنیا پر اپنا قبضہ برقرار رکھناہے اور کس طرح چین China اور روس Russia کو واپس انکے اپنے ملکوں تک محدود کر دیناہے۔ ہر جنگ کے لئے ایک بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں بوسنیا کے شہزادے کا قتل کے بہانے سے لیکر تو دہشت گردی کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے افغانستان Afghanistan جیسے وسائل سے محروم ملک میں اسامہ بن لادن کی موجودگی ایک بہانہ تھا۔ اب کیا بہانہ بنایا جائے گا؟ سترہ سال ایران Iran نے اس دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ United States سے اپنے خفیہ معاشقے کے مزے لیے تھے، اب اسی ایران Iran کو بہانہ بنا کر ایک نیا میدان جنگ سجایا جارہا ہے۔ ایک سال قبل ایران Iran سے وہ تمام معاہدے توڑ دیے گئے جو اسے بظاہر اتحادی بناتے تھے لیکن اسے عراق Iraq اور شام میں خفیہ طور پر کھیل کھیلنے کا موقع فراہم کیا جاتا رہا۔ پاسداران اور حزب اللہ نے ان دونوں ملکوں میں امریکہ United States کے شانہ بشانہ مسلمانوں کے خون کے دریا بہائے۔نتیجہ یہ نکلا کہ اب اسرائیل کی سرحد سے لے کر آبنائے ہرمز کے ساحلی علاقوں تک ایران Iran کا کوئی مد مقابل نہ تھا۔ آبنائے ہرمز، یہاں ایران Iran کی بلا شرکت غیرے کیسے بادشاہت برداشت کی جا سکتی ہے۔یہ دنیا کی ٹیکنالوجی کی رگوں میں خون کی طرح دوڑنے والے تیل کی سب سے بڑی گزرگاہ۔ اسوقت روزانہ چار ارب ٹن خام تیل پیدا ہوکر دنیا کو سپلائی کیا جاتا ہے، جس میں سے پچاس فیصد سمندر کے راستے اور باقی پچاس فیصد پائپ لائنوں کے ذریعے۔ اس پچاس فیصد میں سے 35 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جو روزانہ سترہ ملین بیرل تیل بنتاہے۔ یہ آبنائے صرف اور صرف چالیس کلومیٹر چوڑی ہے اور یہاں اگر ایک جہاز کھڑا کردیا جائے یا کھڑے کھڑے تباہ کردیا جائے تو یہ راستہ بند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کا دوسرا راستہ ملائیشیا Malaysia اور انڈونیشیا Indonesia کے درمیان آبنائے ملاکا کا ہے جو صرف ڈیڑھ میل چوڑی ہے اور وہاں سے 15 ملین بیرل تیل روزانہ گزرتا ہے۔اب آبنائے ہرمز پر امریکی جنگی جہاز آرلنگٹن پہنچ چکا ہے جس پر میزائل شکن پیٹریاٹ بھی نصب کر دیئے گئے ہیں جبکہ دوسراامریکی جنگی جہاز، لنکن اسی جانب روانہ ہے۔ قطر کے امریکی اڈے پر بی 52 بمبار طیارے آچکے ہیں اور گذشتہ چھ دنوں سے ایران Iran کی سرزمین سے ایک بیرل تیل بھی باہر نہیں جا سکا۔ ایسے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو روس Russia سے بھاگ کر یورپی یونین کے ہیڈکوارٹر برسلز پہنچا تاکہ جنگ کو مزید ہوا دی جائے اور اگلے ہفتے جاپان میں جی ایٹ کانفرنس اس آگ میں مزید اضافہ کرسکتی ہے۔ کیا ایران Iran پر حملہ ہو گا یا پھر ایران Iran کو سعودی عرب Saudi Arabia اور گلف کی ریاستوں سے لڑایا جائے گا جسکا امکان اس لیے زیادہ ہے کہ ایران Iran پہلے ہی ان سے چھیڑ چھاڑ جاری رکھے ہوئے ہے۔ دنیا اس جنگ کو تیسری عالمی جنگ کا آغاز کہہ رہی ہے۔ وہ جو اپنے حالات حاضرہ بھی قرآن Quran و احادیث کی روشنی میں پرکھتے ہیں انہیں علم ہے میرے آقا مخبر صادق صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسی بحری ناکہ بندی کی خبر دیتے ہوئے اسے آخری بڑی جنگ کا آغاز کہا تھا۔ حضرت کعب سے روایت ہے "مشرقی سمندر دور ہوجائے گا اور اس میں کوئی کشتی نہ چل سکے گی چنانچہ ایک بستی والے دوسری بستی نہ جا پائیں گے اور یہ ملحم الکبریٰ یعنی جنگ عظیم کے وقت ہوگا۔ (سنن وردۃالفتن)۔ ابھی صرف ایران Iran کی کشتیاں رکی ہیں، جب مکمل ناکہ بندی ہوگی تو پھر کیا ہوگا۔ کیا ملحم الکبریٰ کا وقت آن پہنچا ہے۔

 92