عمران خان Imran Khan دھوکا کھا جائیں گے؟

مکتب - حبیب اکرم

15 مئی 2019

Imran Khan dhoka kha jayen gay

''نئے بلدیاتی نظام میں ہر شہر کے میئر اور ہر تحصیل کے سربراہ کا انتخاب براہ راست ہو گا اور یوں جو بالواسطہ الیکشن میں کونسلر اور یونین کونسل کے چیئرمینوں کی خریداری ہوتی ہے، وہ مکمل طور پر رک جائے گی۔ ہم میئر اور ناظم کو اتنا طاقتور بنا دیں گے کہ وہ اپنے شہر یا اپنی تحصیل کو سنوار سکے اور پھر لوگ اس کا احتساب بھی کر سکیں‘‘ وزیر اعظم Prime Minister کے دفتر کی چھٹی منزل پر دیگر صحافیوں کے ساتھ بیٹھ کر میں وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی گفتگو سن رہا تھا جو وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے کر رہے تھے۔ ان کی گفتگو کا ایک خاص انداز ہے۔ وہ عام سی بات میں بھی ایک جذبہ لے آتے ہیں یا یوں کہیے کہ جذبے کے تابع گفتگو کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس کوئی ایسا نکتہ ہو جس پر وہ خود مکمل طور پر یکسو ہوں اور مخاطب کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں تو ان کی گفتگو کا انداز بہت ہی دلچسپ ہو جاتا ہے۔ وہ بات کرنے کے ساتھ ہاتھ کے اشارے، جسم کی حرکت اور آواز کے اتار چڑھاؤ سے بھی دلیل کا کام لیتے ہیں۔ لہٰذا وہ قائل کر لینے کے مکمل ہتھیاروں سے لیس ہو کر صحافیوں سے مل رہے تھے۔ ان کا جوش و خروش دیکھ کر مجھے جنرل پرویز مشرف یاد آئے۔ جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو کچھ ہی عرصے بعد ایک ایسا بلدیاتی نظام متعارف کرایا جس میں میئر یا ضلع ناظم کا الیکشن براہ است ہونا تھا۔ براہ راست الیکشن کے بارے میں وہ بھی اتنے ہی پرجوش تھے جتنے عمران خان۔ افسوس! جب وہ نظام نافذ ہوا تو اس میں سے براہ راست الیکشن کی بجائے بالواسطہ انتخاب کا ڈھکوسلا شامل کر دیا گیا تھا اور جہاں تک مجھے علم ہے اس وقت براہ راست الیکشن کی اس جمہوری شق کو جن لوگوں نے تبدیل کرایا تھا‘ ان میں سے ایک اس وقت خود عمران خان Imran Khan کی کابینہ میں بیٹھا ہے‘ اور دوسرا لاہور میں بیٹھ کر ہر وقت سازشیں کرتا رہتا ہے۔

ان سازشوں اور سازشیوں سے بچ کر عمران خان Imran Khan کی حکومت اگر یہ نظام آئندہ ایک سال کے اندر اندر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو کم از کم ان دو صوبوں میں گورننس کا انقلاب آ جائے گا۔ عام آدمی کی شمولیت اور عام آدمی کے ذریعے چلنے والے یہ ادارے صحیح معنوں میں پاکستان Pakistan میں تبدیلی لے آئیں گے۔ مجھے عمران خان Imran Khan کی اس بات سے بھی سو فیصد اتفاق ہے کہ یہ نظام ہی پاکستان Pakistan میں گورننس کی کمزوریوں کو دور کر سکتا ہے۔ لیکن جب میں دیکھتا ہوں کہ اپنے والد کی تھپکی کے بعد ان کے فرزند مونس الٰہی‘ اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ اس نظام کے خلاف متحرک ہو گئے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ عمران خان Imran Khan یہ نہیں کر پائیں گے۔ تحریک انصاف کا تجویز کردہ بلدیاتی نظام پاکستان Pakistan بھر کی سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کے تبدیل کر کے رکھ دے گا۔ یہ بات نہ چودھری گوارا کر سکتے ہیں، نہ ہی کوئی اور سیاسی خاندان۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد ان کے علاقوں کی سیاست ان کے ہاتھوں سے نکل کر عام آدمی کے ہاتھوں میں جانے کا امکان پیدا ہو جائے گا اور عام لوگ اٹھ کر محلہ کونسلوں اور پنچایتوں کے سربراہ بن جائیں گے، کیونکہ ان سیاسی خاندانوں کے پاس اتنے بھانجے، بھتیجے یا بھانجیاں اور بھتیجیاں ہیں ہی نہیں کہ ہر گاؤں، ہر محلے میں عوام کی قیادت کے لیے دستیاب ہوں۔ اس نظام کے تحت قیادت عام آدمی کے پاس جائے گی اور انہی میں سے کل کوئی امکانی طور پر لیڈر بھی بن جائے گا۔ اس لیے پہلا خطرہ تو یہ ہے کہ چودھری بیوروکریسی میں اپنی روایتی رشتہ داریوں کے ذریعے کوئی ایسی پخ لگائیں گے کہ میئر کے براہ راست الیکشن کا سلسلہ ہی ختم ہو جائے۔ اس طرح کی ایک پخ الیکشن کمیشن آف پاکستان Pakistan کی طرف سے لگائی بھی جا رہی ہے کہ نئے بلدیاتی قانون کی نا معلوم شق سے الیکشن کے قانون کی نا معلوم شق پر زد پڑ رہی ہے‘ لہٰذا عمران خان Imran Khan کو اس قانون کے نفاذ تک اس کی چوکیداری کرنا پڑے گی کیونکہ انہیں شاید اندازہ نہیں کہ اس قانون سے کتنے مافیاز ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

ان مافیاز کو وہی نظام پسند ہے جس میں وہ پیسے کے ذریعے ووٹوں کی خرید و فروخت کے بعد اپنے مرضی کا میئر لگا سکیں۔ بلدیاتی اداروں میں بالواسطہ الیکشن یعنی کونسلروں یا یونین کونسل کے چیئرمینوں کے ذریعے سربراہ کا انتخاب دراصل غلاظت کا کاروبار ہے۔ عمران خان Imran Khan کو خود علم ہے کہ کس طرح خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے کونسلروں نے اپنے ہی امیدوار سے پیسے لے کر ووٹ دیے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کے لیے پنجاب میں ان کے ساتھ ملنے والوں نے اپنی سابقہ جماعتوں کے اندر رہتے ہوئے کروڑوں بلکہ اربوں روپے کی ہارس ٹریڈنگ کر کے اپنے اپنے ضلعے کو اصل جمہوریت سے بچایا۔ چونکہ بلدیاتی اداروں کے براہ راست انتخابات کی صورت میں ہارس ٹریڈنگ ہونا ممکن نہیں رہتا اس لیے سب سے زیادہ اعتراض اسی شق پر کیا جائے گا۔ جب عمران خان Imran Khan یہ اعتراض قبول نہیں کریں گے تو جنرل پرویز مشرف کی طرح انہیں ڈرایا جائے گا کہ اگر مخالف سیاسی جماعتوں نے یہ ادارے جیت لیے تو طوفان آ جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔ اب یہ فیصلہ عمران خان Imran Khan صاحب نے کرنا ہے کہ انہیں پاکستان Pakistan میں حقیقی تبدیلی لے کر آنی ہے یا محض ڈر ڈر کر حکومت کرنی ہے۔

کسی بھی بلدیاتی نظام کو دو پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے، ایک اس کا طریقۂ انتخاب اور دوسرے اس کو ملنے والے پیسوں کا طریق کار۔ بلدیاتی ادارے کے سربراہ کا براہ راست الیکشن اور صوبے سے براہ راست گاؤں کی پنچایت تک فنڈز کی منتقلی کی وجہ سے نیا بلدیاتی نظام سابقہ نظاموں سے بہت بہتر ہے۔ اس کے علاوہ از خود مقامی ٹیکس لگانے اور اکٹھے کرنے کے جو اختیارات نئے قانون میں بلدیاتی اداروں کو دیے گئے ہیں‘ اگر انہیں اچھے طریقے سے استعمال کر لیا جائے تو دو چار سال میں پاکستان Pakistan میں قریے قریے کی حالت بدلی جا سکتی ہے۔ لیکن ان سے بھی زیادہ ضروری یہ یقین دہانی ہے کہ کیا ملک میں بلدیاتی نظام کو چلانے کے لیے صاف نیتی بھی ہے؟ عمران خان Imran Khan کی حد تک یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک تگڑے بلدیاتی نظام کو ملکی مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان Pakistan بھر کے سیاستدانوں میں نواز شریف Nawaz Sharif کے علاوہ کوئی تیسرا نام نہیں جو بلدیاتی نظام پر یقین رکھتا ہو۔ پاکستان Pakistan کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں میں سے صرف یہی دو حضرات ہیں جنہوں نے بلدیاتی نظام کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ نواز شریف Nawaz Sharif کی کوشش کو شہباز شریف Shehbaz Sharif نے تباہ کر ڈالا کہ دو ہزار پندرہ میں بلدیاتی الیکشن کرا کر اپنی ہی جماعت کے نمائندوں کو ایک سال تک حلف نہیں لینے دیا اور عمران خان Imran Khan صاحب کی کوشش کو تباہ کرنے والے بھی ان کے ارد گرد ہی موجود ہیں۔ یہ تمام لوگ وہی ہیں جنہوں نے مشرف کے بنائے ہوئے بہترین بلدیاتی نظام کو برباد کر دیا۔ اب یہی لوگ دوبارہ عمران خان Imran Khan کے ساتھ مل کر یہ کہیں کہ بلدیاتی نظام لایا جائے گا تو ان کی بات پر کون یقین کرے گا۔ ہمیں تو یہی ڈر رہے گا کہ آج نہیں تو کل یہ سب مل کر عوام کا یہ حق بھی چھیں لیں گے، جیسے یہ ہمیشہ سے چھینتے رہے ہیں۔ بس اس دفعہ نام عمران خان Imran Khan کا استعمال ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان Imran Khan اس اصل تبدیلی اور اصل جمہوریت کو عوام تک پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

نواز شریف Nawaz Sharif کی کوشش کو شہباز شریف Shehbaz Sharif نے تباہ کر ڈالا کہ دو ہزار پندرہ میں بلدیاتی الیکشن کرا کر اپنی ہی جماعت کے نمائندوں کو ایک سال تک حلف نہیں لینے دیا اور عمران خان Imran Khan صاحب کی کوشش کو تباہ کرنے والے بھی ان کے ارد گرد ہی موجود ہیں۔ یہ تمام لوگ وہی ہیں جنہوں نے مشرف کے بنائے ہوئے بہترین بلدیاتی نظام کو برباد کر دیا۔

اب یہی لوگ دوبارہ عمران خان Imran Khan کے ساتھ مل کر یہ کہیں کہ بلدیاتی نظام لایا جائے گا تو ان کی بات پر کون یقین کرے گا۔

 218