حسن پرست

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

14 مئی 2019

Husan Parast

بنیادی طور پر تقریباً انسان حسن پرست ہوتے ہیں۔۔ حسن چاہے کسی بھی شکل میں ہو، اس کی اپنی زبان ہوتی ہے اور انسان کو اپنی طرف کھینچتا ہے مقناطیس کی طرح۔۔دو طرح کے حسن ہر دور میں نہایت پاور فل رہے ہیں۔۔ایک قدرتی نظاروں کا حسن ۔۔اور دوسرا انسانوں کا حسن۔۔

۔اس میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں ۔خوبصورتی چاہے مرد میں ہو یا عورت میں بے تحاشہ اثر رکھتی ہے۔۔۔کچھ لوگ کہتے ہیں "حسن دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے۔"۔اس جملے کا اگلا حصہ بھی ہونا چاہیے کہ بے شک دیکھنے والوں کی نظر میں ہوتا ہے لیکن 80% دیکھنے والے حسن پرست ہی ہوتے ہیں۔۔لہذا حسن ہوگا تب ہی تو دیکھنے والے کو بھی نظر آرہا ہوگا۔۔باقی بیس فی صد کو نارمل نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ایک نارمل انسان کو خوبصورتی ہر صورت اٹریکٹ کرتی ہے ۔

ایسے لوگ جس جگہ بھی پاے جائیں ماحول کو گل گلزار بنا دیتے ہیں۔۔۔یہ جو پہن لیں ان پر جچتا ہے۔۔ان کی ہر حرکت ادا بن جاتی ہے۔۔انکو سات خون معاف کرنے کو اچھے اچھے تیار رہتے ہیں۔۔یہ مارکیٹ میں ہوں تو انکا کام جلدی ہوجاتا ہے۔۔یہ کالج ہونیورسٹی میں ہوں تو ٹیچرز اور آدھی کلاس ان پر مہربان رہتی ہے۔۔ ان کے کام نہیں پھنستے۔۔خصوصاً عورت اگر خوبصورت ہو تو دس مدد گار ہر موقع پر دستیاب ہوتے ہیں۔۔اس بات کے قطع نظر کے کس کریکٹر کے ہیں ۔پہلا تاثر ان کی شکل اور اداوں کا پڑتا ہے جو ہمیشہ کاری وار ثابت ہوتا ہے۔۔

کیا وجہ کہ بندہ چاہے لبرل ہو یا مذہبی بیوی کے نام پر ڈیمانڈ میں ہمیشہ خوبصورتی پہلی شرط ہوگی۔۔کچھ منہ سے نا بھی کہیں دل میں جو خاکہ بنا لیں گے وہ خاکہ بھی سکین کرواو تو ظاہر ہے خوب صورت ہی ہوگا۔۔

چند سال پہلے کی بات ہے ہم بہن بھائیوں کے سکول کے سلسلے میں ابو مطمئن نا ہو پا رہے تھے۔۔ایک سکول کی تعریف سنی کہ فیس بھی مناسب لیتے ہیں پڑھائی بھی اچھی ہے۔۔ہم بہن بھائیوں کو لے کر چل پڑے۔۔پرنسپل صاحب نے بڑی کوشش کی ابو کو قائل کرنے کی۔۔ابو نے تھوڑا بہت مطمئن ہوکر ہمارا داخلہ کروا دیا۔

۔ہمارے پرنسپل کی بیٹی جو کہ ہمیں میتھس پڑھاتی تھیں غضب کی خوبصورت تھیں۔۔(اب بھی یقیناً ہونگی) اور اس پر مزید غضب یہ کہ ان کو اچھی طرح پتہ تھا کہ یہ بہت پیاری ہیں۔۔میں اکثر ان کی تعریف کرتی تھی اور ایسے یونیک انداز میں کرتی کہ یہ خوشی سے پھولے نا سماتیں۔مثال کے طور پر میں بیٹھے بیٹھے ٹیچر کو اچانک مخاطب کر کے خبر سناتی " ٹیچر جی سنا ہے چاند کی روشنی ماند پڑ رہی ہے "

۔۔ٹیچر کا جواب۔۔ "تو؟؟ "

میری وضاحت؛ تو یہ کہ سائنسدانوں کے مطابق یہ خوبصورت لڑکیوں کا دیوانہ ہے۔۔۔

اب ٹیچر ہمہ تن گوش ۔۔

میں بولنا جاری رکھوں گی ، "اس لیے دنیا بھر سے خوبصورت لڑکیاں جمع کرکے چاند پر چھوڑنے کا پلان بنایا جا رہا ہے ۔۔اب میں سوچ رہی ہوں آپ کو تو پکا یہ لوگ لے جائیں گے ہمیں میتھ کون پڑھاے گا۔؟ "

ٹیچر اس انوکھے خراج تحسین پر خوش کیسے نا ہوتیں۔اب آپ لوگوں سے کیا چھپانا اس تعریف کے پیچھے میرا ایک مقصد یہ بھی ہوتا تھا کہ میرے چھوٹے بھائی پر رعایت کی جاے جو رج کے شرارتی تھا اور پڑھنے سے اسکی جان جاتی تھی۔ ابو کو بھائی کی پڑھائی مطمئن نا کر رہی تھی انہوں نے سکول چھڑوانے کا فیصلہ کیا۔۔اگلے دن ابو جب ہمیں سکول سے لینے آے پرنسپل سے بات کرنے آفس میں جا پہنچے۔

شومئی قسمت پرنسپل تو موجود نا تھے اب ان کی حسین و جمیل بیٹی اندر داخل ہوئیں۔۔ابو نے ان کو دیکھا اور باپ ہونے کے ناطے نا بھی بتاتے تب بھی مجھے پتہ تھا کہ انکےچراغوں میں روشنی نا رہی تھی۔مخصوص ادا سے اٹھلاتے ہوے آکر ابو کے سامنے نفاست سے بیٹھ گئیں اور میں نہایت دلچسپی سے ابو کے تاثرات نوٹ کرنے لگی۔۔ٹیچر کا بولنے کا انداز قدرتی طور پر بہت سوفٹ تھا۔۔کچھ مزید لجاجت ڈال کر ہلکی سی مسکراہٹ سے ابو کو دیکھا ۔۔" آپ کیوں نکالنا چاہتے ہیں بچوں کو؟؟"

حسن اور وہ بھی لجاجت بھرا اگلے کو بولنے لائق کہاں چھوڑتا ہے۔۔ابو کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا تھا۔ان کے ساتھ اگر ہم نا ہوتے تو شاید اپنی بات سے مکر بھی جاتے ہچکچاتے ہوے بولے "بیٹے کی پڑھائی سے مطمئن نہیں میں"

ٹیچر نےتڑپ کر نے ابو کی بات کاٹی " کیوں نہیں مطمئن ۔۔ہمیں موقع تو دیں ایک بار ۔۔آپ کی ہر شکایت دور کردیں گے"

اب اس یونیورسل ٹرتھ (حسن ) سے انکار کرنے کو جرات چاہیے تھی ۔۔کون کافر اب سکول سے بچے نکلواتا ۔۔اتنا پیارا ٹیچر ہو تو بچوں کے باپ بھی آرام سے داخلہ لے سکتے ہیں۔۔ ابو کے لہجے میں جان نہیں رہی تھی۔ رہتی بھی کیسے؟؟ لہذا پھیکی سی مسکراہٹ سے سکول چھڑوانے کا ارادہ موخر کیا۔۔ٹیچر نے اپنے قدرتی دلنشیں انداز سے مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔۔اور ابو جی ہمیں لے کر گھر آگئے۔امی نے پوچھا" اب کونسا سکول دیکھ آئے ہیں" ؟؟ میں نے مسکرا کر جواب دیا " اب سکول نہیں بدلنا بے فکر رہو امی جی"

بہرحال خوبصورت لوگ دنیا کی دلنشیں حقیقت ہیں ۔موسٹلی نخریلے بھی ہوتے ہیں ۔۔ان کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہاں انکو جچتے ہیں نخرے۔۔حسن پر تو کافی کچھ لکھ دیا اب آتے ہیں کم صورتی پر۔۔ویسے تو تمام انسانوں کو خوبصورت تخلیق کہا جاسکتا ہے۔۔کیونکہ سب کو خدا نے بنایا ہے۔۔ہم انسانوں نے پیمانے بناے۔۔غلط کیا۔

۔ٹھیک ہے شکل و صورت پر ہمارا اختیار نہیں اللہ کی دین ہے ۔۔لیکن خود کو سنوارنے اور بہتر بنانے سے تو اللہ نے منع نہیں کیا نا؟؟ کئی لوگ آپ نے دیکھے ہونگے جو کافی عرصہ ہمیں کم شکل، سر جھاڑ منہ پہاڑ لگتے ہیں۔۔لیکن جیسے ہی خود پر توجہ دیں گرومنگ کریں ۔اچھی خاصی شکلیں نکل آتی ہیں۔۔اداکاروں کی پرانی تصویریں دیکھ لیں

 160