خدا اور محبت

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

13 مئی 2019

Khuda Or Mohabat

انسان نے شعور کی سطح پر پہنچنے کے بعد کسی نا کسی شکل میں خدا سے تعلق ضرور بنایا ہے اور یہ انسان کی ضرورت ہے۔۔ایک مشہور ماہر نفسیات کے مطابق ہر انسان کا جس طرح کا رویہ اپنے باپ کے ساتھ ہوتا ہے۔۔لاشعوری طور پر ویسا ہی تعلق اس کا خدا کے ساتھ ہوتا ہے۔ ۔جو باپ کے قریب ہوگا خدا سے بھی قریب ہوگا ۔۔جس کو باپ سے شکایات ہونگیں اس کو خدا سے بھی ہونگیں۔

خدا سے کچھ لوگوں کا تعلق بہت مظبوط اور مثالی ثابت ہوتا ہے۔۔کچھ کا کم مظبوط ۔۔یعنی کبھی کبھی راہ سے بھٹک جانا اور ٹریک پر آنے کے بعد رو دھو کے معافیاں مانگنا۔ اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ان دونوں کٹیگریز کے لوگ اللہ تعالے کے پسندیدہ لوگوں میں ہیں یقینا۔۔۔کیونکہ اس کو توبہ کرنے والے لوگ بھی پسند ہیں ۔۔اور گناہوں سے بچنے والے بھی بہت عزیز ہیں۔۔

یہاں تک تو بات ٹھیک ہے ۔۔اب آجاتے ہیں ایک تیسری قسم پر ۔۔اس ٹائپ کے لوگ غالباً کڑی ریاضت کے بعد اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ تواتر سے لوگوں میں جنت اور دوزخ کے فتوے بانٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ کوئی مخصوص طبقہ نہیں۔۔ان میں شدت پسند مولوی بھی شامل ہوسکتے ہیں۔۔آپ کے رشتے دار ٹیچر دوست احباب اور بعض اوقات ماں باپ کا بھی اس طبقے سے تعلق ہوسکتا ہے۔۔

یہ لوگ خدا کا ایک نہایت خوفناک قسم کا امیج بچپن سے ہی ہمارے زہنوں میں بٹھانے کا عزم لیے ہوتے ہیں۔۔ ان کا ہر بیان شیخ رشید کی طرح جلاو گھیراو تباہی فساد دوزخ ہی پر مبنی ہوگا ۔۔اپنی زات کے علاوہ مر کر بھی کسی کو ایڈوانٹیج نا دیں گے اس حد تک ڈرا اور دہلا دیں گے کہ بندہ اس خوف سے بھی خدا سے دور ہوتا چلا جاتا ہے کہ میں تو بڑا گناہ۔گار ہوں دوزخ تو پکی اب کس منہ سے جاوں اس کے پاس معافی مانگنے ۔

فلاں کیسے بخشا جاے گا؟؟" " خدا اس کو کیسے معاف کرے گا؟؟" ۔۔ہر دوسرے بندے کے بارے میں کھلم کھلا یہ رائے دینے سے باز نا آئیں گے۔اوبھئی وہ خدا ہے تم بشر ۔۔خدا کو اپنے پیمانوں پر مت اتارو تو بہتر ہے کئی بار ایسے لوگ زبردستی کے خدائی فوجدار بن کر اللہ کو بھی سجیشن دینے سے بعض نہیں آتے۔۔"یا اللہ یوں نا کرتے یوں کرتے " یعنی اسی خدا کہ دی ہوئی عقل سے اسی کو مشورے ۔۔ ۔

۔اپنے اردگرد موجود ہر بندے کا جینا حرام کیے رکھیں گے ۔۔ہر بات پر اعتراض ۔۔اور لہجہ ایسا لٹھ مار اور غرور سے لبریز گویا انہوں نے جنت میں قسطوں پر پلاٹ لیا تھا ۔اور کچھ ہی قسطوں کی ادائیگی کے بعد رجسٹری بھی حاصل کرلی۔۔۔ان کا بیان سننے بیٹھو کبھی۔۔جہاں اپنا زکر ساتھ مقصود ہو ۔وہاں اللہ رحیم، حلیم ، کریم' غفور وغیرہ وغیرہ ۔۔جہاں دوسروں کو سمجھانا یا دراصل ڈرانا ہے وہاں جبار ،قہار کے علاوہ کوئی مثال دینے پر راضی نا ہونگیں۔۔

چند ایک علماء کو چھوڑ کر کبھی کسی نے گناہ گاروں کو یا پشیمان شرمندہ لوگوں کو تسلی نا دی۔۔الٹا ناگواری اور نفرت کا نشانہ بنا ڈالا ۔ ایک۔لطیفہ پڑھا کہ نشئی کو مسجد میں وضو کرتے دیکھ کر مولوی صاحب چیخے اوے نشئی تو اس مسجد میں کیا کر رہا ہے؟؟ نشئی نے مسکراتے ہوے بولا ۔۔اصل مرچیں تو تمہیں تب لگیں گی جب مجھے جنت میں دیکھو گے۔۔۔

ایسے لوگوں سے گزارش ہے خدارا اپنا دماغ خدا پر فٹ نا کرلیا کرو۔عیسایوں نے بھی یہی کام کیے تھے۔۔جب انسانی پیمانوں پر خدا کو پرکھنا شروع کیا تو سوچ بیٹھے ہم تو بور ہوتے ہیں۔۔خدا بھی بور ہوتا ہوگا اس کے بعد ان کی کتابیں پڑھی جائیں تو کہیں معاذاللہ خدا کو پارک کی سیر کروا رہے ہوتے ہیں تو کہیں پر انسانی روپ دلوا کر لوگوں سے کشتیاں کروائیں۔۔معاذ اللہ ۔۔۔

اب جانے انجانے بہت سے مسلمانوں نے اسی طرح کا ایٹی ٹیوڈ بنایا ہوا ہے۔۔خدا کے بارے میں مکمل وثوق سے جزا و سزا کو لے کر ایسی ایسی پیشن گوئیاں کی ہوتی ہیں گویا معاذاللہ خدا ان کو اپنے فیصلوں سے آگاہ کرچکا ہے ۔۔۔تو ایسے لوگوں سے گزارش ہے جتنا خدا آپ کا ہے۔۔اتنا گناہ گاروں کا بھی ہے ۔ مایوسی اور نا امیدی مت پھیلائیں۔۔دنیا پہلے ہی آزمایش کی جگہ ہے۔۔محبتیں پھیلائیں۔۔اور امن کا درس دیں۔۔۔جنت آپ لوگوں کی سوچ سے بھی زیادہ وسیع ہے۔۔اس میں ایسے بہت سے گناہ گار بھی جائینگیں جن کو آپ نےدوزخ کا فتوی تھمایا ہوا ہے۔۔۔کسی کو بخشنا نا بخشنا اس کا کام ہے آپ تردد میں مت پڑیں ۔۔ان کو چاہیے کہ۔۔اپنے اعمال کی فکر کریں یہ نا ہو روز قیامت انہی گناہ گاروں کو دینے پڑیں جو اپنی شرمندگی اور ندامت سے بخشے جا چکے ہونگیں۔۔۔ انسانوں کی دل آزاری بہت بڑا گناہ ہے۔۔اس سے بچیے۔۔۔

 100