تساں سعودیہ اساں پاکستان Pakistan ہوونڑا گزارا نِت اشاریاں تے

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

11 مئی 2019

Tusan Saudia asan Pakistan

مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے حج و عمرہ کی۔۔اچھی بات ہے ہونی بھی چاہیے۔۔ہمیں نہیں ہوگی تو کسے ہوگی؟؟ ہر سال لاکھوں پاکستانی اس سعادت سے فیض یاب بھی ہوتے ہیں۔۔یہ بھی بہت اچھی بات ہے۔۔آج حج وعمرہ کے ثواب گنوانے نہیں آئی ہوں۔۔یہ پورا حساب کتاب ہم لوگ آل ریڈی لگا کے رکھتے ہیں کہ اتنے عمرے کیے اتنی نمازیں اتنے طواف۔۔میں ایک اور اہم ترین ایشو پر بات کرنا چاہتی ہوں اور وہ ہے ہمارا عربی زبان سے نا بلد ہونا۔۔۔ ویسے تو ہم زہین ترین قوم ہیں ، ہمیں اپنی مادری زبان کے علاوہ دو چار مزید زبانوں پر بھی انتہائی مہارت سے عبور حاصل ہوتا ہے۔۔انگلش تو اتنی اعلی بولتے ہیں کہ انگریز بھی دانتوں میں انگلیاں داب لیں۔۔تو کیا وجہ کہ جو زبان سب سے زیادہ ضروری تھی وہ رٹے سے آگے نا سیکھ پاے۔۔بحیثیت مسلمان ہمیں پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک اہم واسطہ اس زبان سے رہتا ہے ۔۔لیکن ہماری نا اہلی دیکھیں ہم تمام عمر قرآن تو پڑھتے رہتے ہیں جمعے کے خطبے بھی شوق سے سنتے ہیں لیکن پتہ ککھ نہیں چلتا کہ کیا پڑھا ۔۔لے دے کر ایک ہی وجہ افسوس کے ساتھ سمجھ آتی ہے کہ ہمیں عربی زبان سے وہ شغف ہی نہیں ۔۔انس ہی نہیں کہ سیکھا جاے۔۔ہمارا تو اللہ مالک ہے ہمارے کافی علماء کرام کا بھی یہی حال ہے۔۔ایک پاکستانی مولانا کا واقعہ سنا کہ انہوں نے سعودی عرب Saudi Arabia میں کسی مسجد امامت کرائی ۔۔سورہ یوسف کی چند آیات تلاوت کیں حضرت یوسف کو کنوئیں میں ڈلوا کر سجدے میں چلے گئے اور اگلی رکعت میں کوئی اور سورت شروع کردی۔۔جب نماز ہوچکی تو سعودی امام نے دبے چھپے لفظوں میں شکوہ کیا۔۔" محترم کیا ہی بہتر تھا کہ حضرت یوسف کو کنوئیں سے نکال کر رکعت ختم کرتے " ہمارے مولانا صاحب نے بے بسی سے انہیں دیکھا اور دل میں سوچا ہوگا "ضرور نکالتا اگر مجھے پتہ ہوتا کہ کنوئیں میں ڈالا کس آیت میں ؟؟" عمرہ اور حج کے دوران جو بدنظمی اور پریشانی ہمیں دیکھنی پڑتی ہے ان میں آدھی سے زیادہ کا تعلق عربی زبان کی لاعلمی سے ہوتا ہے۔۔گونگوں کی طرح بے تکے اشارے کر کر کے بڑا اوکھا اپنی بات سمجھا پاتے ہیں۔۔ کئی بار اگلے سر پیٹ لیتے ہیں ہاتھ جوڑ کے کہتے ہیں " یا حاجی معافی " کسی ٹیکسی والے کو راستہ تک نہیں سمجھا سکتے کہ جانا کہاں ہے۔۔جن کو رو پیٹ کر تھوڑی بہت عربی آ بھی جاے ان کی عربی بھی سننے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ عربی تو بول لیں گے لیکن زمانے کی شناخت کے بغیر ، ۔کسی عربی سے مدد مانگ رہے ہوں تو اگلوں کو ککھ پتہ نا چلے گا کہ کوئی مر رہا ہے مر رہا تھا یا مر چکا ۔۔یہ تو شکر ہے وہاں پاکستانی بھی وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں اور پریشانی کی صورت حال میں خود ہی جگاڑ لگا کر کسی نا کسی طرح مسائل حل کر ہی لیتے ہیں۔۔ورنہ ہم لوگ تو عربی زبان میں ایک جملہ تک نہیں بول سکتے یہ ہے ہماری اہلیت۔ یقین نہیں آتا ؟؟۔وہاں کے ہسپتال چلے جائیں۔اور پاکستان Pakistan سے گئے عمرہ زایرین کے تماشے دیکھیں۔ یوں لگے گا گونگوں کی دنیا میں آگئے ہیں ۔یہ اپنی طبیعت تک نہیں بیان کرسکتے۔۔اوپر سے سعودی ڈاکٹرز کی انگلش بھی عربی لہجے میں ہوگی لاکھ سمجھانا چاہیں گے لیکن ہم بقول مرزا غالب" الہی وہ نا سمجھے ہیں نا سمجھے گے میری بات " کے مصداق مجبوراً اشاروں کنایوں میں بات کریں گے ۔جوڑوں کے درد والا اپنے جوڑ دبا کر دکھاے گا کہ سمجھ جاو مجھے درد ہے۔۔کھانسی والا کھانس کر دکھاے گا ۔بخار والا ماتھے پر ہاتھ رکھ کر روہانسی شکل بنا کر دکھاے گا۔۔پیٹ میں میں درد والا پیٹ میں ہاتھ ڈال کر دہرا ہو کر دکھاے گا ۔۔اس کے علاوہ چارہ جو کوئی نہیں۔۔عربی دعائیں بس ہمیں یاد ہونگی فر فر ۔۔اور رٹ رٹ کے جیسے جائیں گے ویسے ہی آجائیں گے ۔۔دیکھا جاے تو عربی زبان سیکھنا انگلش سے زیادہ ضروری ہے۔۔ہمارے نصابوں میں ایم اے لیول تک عربی کو لازمی سبجیکٹ کے طور پر ہونا چاہیے۔ جب۔ہم تمام سبجیکٹ انگلش میں پڑھ سکتے ہیں اور کوئی موت لاحق نہیں ہوتی تو عربی بھی سیکھ جائیں گے۔۔اور جب عربی کو سمجھ کر پڑھیں گے تو بہت سے مسائل تو خود ہی حل ہوجائیں گے۔۔اور بے شک عربی سیکھنے کی سب سے زیادہ خوشی عربوں کو ہوگی جن کا وہاں جا کر ہم دماغ چاٹ لیتے ہیں۔۔

 130