مزید حماقتیں اورنوشتہ دیوار

زیر بحث - عارف نظامی

11 مئی 2019

Mazeed Hamaqten or nosha dewar

اردو کے مشہو ر مزاح نگارشفیق الرحمن نے افسانوں پر مبنی مجموعہ ’حماقتیں ‘تحریر کیا، اس کے تھوڑے عرصے بعد ’مزید حماقتیں ‘ بھی رقم کر دیا،اسی طرح موجودہ حکومت بھی حماقتیں اور مزید حماقتیں کئے جا رہی ہے۔وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کا تازہ واکھیان ہے کہ اپوزیشن کی نسبت حکومت کرنا بہت آسان ہے لیکن اس وقت تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔نو ماہ گزرنے کے باوجود خان صاحب سے موثر حکومت ہو نہیں پا رہی ۔ زبان پھسل جانا تو کسی حد تک قابل معافی ہے لیکن حکومتی فیصلے پھسلنے کی بہت کم گنجائش ہوتی ہے۔اکانومی کو ہی دیکھیں ،رواں مالی سال میں ریونیو اکٹھے کرنے کی مد میں چار سو ارب روپے کی تاریخی کمی کا سامنا ہے ۔شاید اسی بنا پر وزیراعظم نے ایک پریس کانفرنس میں چیئرمین ایف بی آر کے طور پر معروف چارٹرڈ اکا ؤنٹنٹ شبر زیدی کی تقرری کا اچانک اعلان کر دیا۔ خان صاحب کے اس فیصلے پر ہر طرف سے واہ واہ کے ڈونگرے برسائے گئے حالانکہ ان کے پیشرو جہانزیب خان بھی اسی حکومت کے مقرر کردہ تھے ۔ زیدی صاحب کی تقرری کے جوش میں بعض بنیادی معاملات کو نظرانداز کر دیا گیا۔ سب سے پہلے تو عدالت نے نجی شعبے سے کسی شخصیت کو اعلیٰ عہدے پر فائز کرنے کا معیار مقرر کر رکھا ہے ۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں علی ارشد حکیم کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کرنے کے حوالے سے اسلام آباد Islamabad ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے جس میں عدالت عالیہ نے علی ارشد حکیم کی براہ راست تقرری کو روکنے اور کمپی ٹیشن پراسس سے بھرتی کرنے کا حکم دیا تھا۔اس لحاظ سے تکنیکی طور پر شبر زیدی کی براہ راست تقرری نہیں ہو سکتی۔اس بارے میں دوسرا اعتراض لگایا گیا چونکہ شبر زیدی نجی شعبے کی ایک بڑی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم میں پارٹنر ہیں اور اپنے منصب کے مطابق بڑی بڑی شخصیات اور ٹیکس ادا کرنے والوںکو ماہرانہ مشورے دیتے رہے ہیں اس لحاظ سے ان کی تقرری مفادات کے ٹکراؤ کے زمرے میں آتی ہے۔ اس بارے میں ایک سمری وفاقی کابینہ میں پیش کی گئی، جس میں تجویز کیا گیا ہے شبر زیدی کا تقرر اعزازی بنیاد پر کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ مقدمہ بازی سے بچا جا سکے۔اس طرح شبر زیدی کا معاملہ درمیان میں لٹکا گیا۔ نجی شعبے سے کسی شخص کی تقرری مناسب طریقہ کار پر عمل کئے بغیر ممکن نہیں ہے جس کے لئے خالی اسامی کا اشتہار دینا ہوتا ہے اور بہتر سے بہترین کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ایف بی آرکی ان لینڈ ریونیو سروس Russia کے افسروں کی ایسوسی ایشن نے شبر زیدی کی تقرری کو عدالت میں چیلنج کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ ایسوسی ایشن میں چودہ افسروں کا تعلق گریڈ 22 جبکہ باقی کاگریڈ 21 سے ہے ۔ یقینا اس مسئلے کا عبوری طور پرحل نکال لیا گیا ہے لیکن چند روز ایف بی آر جو محصولا ت اکٹھے کرنے کا کلیدی ادارہ ہے کسی سربراہ کے بغیر ہی چلتا رہا ۔تاہم کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ شبر زیدی کی تقرری سے ٹیکس نظام کی خامیاں ختم ہونگی‘ٹیکس نیٹ اور ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوگا۔ٹیکس نیٹ اور ٹیکس کلیکشن بڑھانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ دوسری طرف یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ جو پہلے 22 مئی کو پیش ہونا تھا اب وسط جون تک موخر کر دیا گیا ہے ۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوش عاشق اعوان میڈیا کو درس دے رہی ہیں کہ میڈیا کو اپنا کردار بہتر، ذمہ دارانہ اور عالمی معیار کے مطابق جدید بنانے کی ضرورت ہے ۔گویا کہ ساری کنفیوژن میڈیا پیدا کرتا ہے ،حکومت نہیں ۔وہ کون سے جدید تقاضے ہیں جنہیں میڈیا پورا نہیں کر رہا ۔ سب سے بڑا تقاضا تو یہ ہے کہ میڈیا کوبلا کم وکاست سچ بات کرنے کی آزادی حا صل ہو لیکن حکومت نے میڈیا کے اس بنیادی حق کو تحفظ نہیں دیا ۔اپوزیشن نے ہاہا کار مچا رکھی ہے کہ ورلڈ بینک کے اعلیٰ عہدیدار اور پیپلزپارٹی کے دور کے وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور آئی ایم ایف کے اعلیٰ عہدیدار رضا باقر کی تقرری کر کے ملک کو بین الاقوامی اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے حالانکہ یہ اعتراض اس لحاظ سے درست نہیں ہے کہ اس سے پہلے بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اہلکار ان عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں،کم از کم دو وزرائے اعظم شوکت عزیز اور معین قریشی بھی امپورٹڈ تھے۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے معاون برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین1999 ء میں ورلڈ بینک کو خیرباد کہہ کر واشنگٹن سے سیدھا اسلام آباد Islamabad پہنچے اور اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت عزیز سے ملاقات کر کے سٹیٹ بینک کے گورنر بن گئے تھے ۔اس سے پہلے ڈاکٹر محمد یعقوب میاں نوازشریف کے دوسرے دور وزارت عظمیٰ میں گورنر سٹیٹ بینک رہے ۔سابق گورنر سٹیٹ بینک اور نگران حکومت میں وزیرخزانہ شمشاد اخترکا تعلق بھی ایشیائی ترقیاتی بینک سے تھا۔ لہٰذا خان صاحب کا وزیر خزانہ سمیت کلید ی عہدوں کے لیے پاکستانی ٹیکنو کریٹس کو ترجیح دینا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔پیپلزپارٹی کا اعتراض تو بے وزن ہے کیونکہ ڈاکٹر حفیظ شیخ پیپلزپارٹی کی آخری حکومت میں قریبا ً تین برس تک وزیر خزانہ ہے ۔ سابق چیئر مین سینیٹ رضا ربانی جو یک دم بڑے ہارڈ لائنر جیالے بنتے جا رہے ہیں کے مطابق ان تقرریوں سے پاکستان Pakistan کا ایٹمی پروگرام اور سی پیک CPEC خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ غالباً رضا ربانی کو یہ بات یاد نہیں رہی کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو ،ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے یہاں لائے تھے ۔ان کی اہلیہ بھی ڈچ خاتون ہیں لہٰذا وہ پاکستانی جو کسی بھی وجہ سے وطن عزیز سے باہر اعلیٰ عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں ان کی حب الو طنی کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے۔ اگر بجلی اور گیس مہنگی کرنے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزیدکم کرنے کی آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو تسلیم کیا جاتا ہے تو آئی ایم ایف کے آگے لیٹ جانے کی سراسر ذمہ داری خان صاحب پر عائد ہوتی ہے اور اس کے محرکات سے بھی انھیں ہی نبٹنا پڑے گا ۔ اکنامک ٹیم کا جس انداز سے یکدم دھڑن تختہ کر کے نئے لوگ لائے گئے ہیں۔ اس کے طریقہ کار اور ٹائمنگ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔خان صاحب کو یہ فیصلے بہت پہلے کرنے چاہئیں تھے ۔ ابھی تک موجودہ حکومت کے فیصلے کرنے اور بروقت فیصلے کرنے کے میکنزم واضح نہیں ہو سکے ۔ یہ فیصلے نتائج کی پروا کیے بغیر عجلت میں کیے جا رہے ہیں ۔ایسا نظر آ رہا ہے کہ اپوزیشن اپنے خلاف کرپشن کے کیسز جنہیں وہ انتقامی کارروائیاں قرار دیتی ہے سے اکتا کر خود کو دیوار سے لگایا ہوا محسوس کرتی ہے ۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی جیل واپسی ریلی اور بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کی شعلہ نوائی اس بات کا اشارہ کرتی ہے کہ رمضان المبارک کے بعد اپوزیشن حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر مزید ٹف ٹائم دے گی اور اگر مہنگائی اور کساد بازاری سے تنگ آئے ہوئے عوام سڑکوں پر نکل آئے تو اپوزیشن بھی پیچھے نہیں رہے گی ۔وزیراعظم کو نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے اپنے طرز حکمرانی میں مثبت تبدیلیاں لانا ہونگی ۔ آئی ایم ایف کے تقریباً 6.5 بلین ڈالر billion dollor کے بیل آؤٹ پیکیج پر سمجھوتہ ہو گیا ہے۔لگتا ہے کہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی تمام کڑی شرائط مان لی ہیں۔مثلاً روپے کی ڈالر کے مقابلے میں فری فلوٹ کے نتیجے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت گرنے سے مہنگائی اور بے روزگاری سے پسے ہوئے عوام کی بقول سابق وزیر خزانہ اسد عمر واقعی چیخیں نکل جائیں گی۔سونے پہ سہاگہ تیل،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو گا۔

 297