نیکی گلے پڑ گئی

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

10 مئی 2019

Naiki galy parr gayi

مذکورہ بالا محاورے سے لامحالہ کئی بار قارئین کو واسطہ پڑا ہوگا۔ کسی کے ساتھ نیکی کرنا ۔۔اس سلوک کو ہمارے مذہب میں خاصی ایپریسئشن دی گئی ہے اور نیکی کرنے کی تلقین بھی بار بار کی گئی ہے ۔۔ہم بحییثت مسلمان اپنی طرف سے مقدور بھر کوشش بھی کرتے ہیں کہ چھوٹی موٹی نیکیاں کرنے کا موقع ہاتھ سے نا جانے دیا جاے۔لیکن میرے ساتھ کچھ واقعات ایسے بنے کے میں سوچنے ہر مجبور ہوگئی کیا بھلائی اور اچھائی بھی اب سوچ سمجھ کر کرنی پڑے گی ؟؟ایک یہی عمل تو خالص ہوتا ہے کہ بندہ بغیر سوچے سمجھے صرف ریلیف دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن کئی بار نیکی کرکے پچھتانا پڑتا ہے ۔۔کہ یہ تو گلے پڑ گئی۔۔کئی بار نیکی اچھی خاصی مہنگی بھی پڑ جاتی ہے۔۔اور کبھی کبھار تو شرمندہ بھی کروا دیتی ہے۔۔کیسے؟؟ چلیں پڑھ کر خود سمجھ جائیں۔۔۔

سخت گرمیوں کے دن تھے۔۔یہ وہ دن تھے جن میں جس وقت مرضی مارکیٹ جاو گرمی ہی لگتی ہے ۔۔میں امی کے ساتھ مارکیٹ میں ہی موجود تھی۔۔اور شدید حبس سے میری حالت خراب ہو رہی تھی ۔۔مارکیٹ میں لایٹ نا تھی لہذا جنریٹرز نے مل کر پولیوشن اور گرمی میں مزید اضافہ کیا ہوا تھا۔۔مجھے ایک عورت نظر آئی جو کسی کپڑوں کی سیل پر ٹوٹی ہوئی تھی۔۔اسکا آدھا دھڑ عورتوں کے لشکر میں پھسا تھا۔باقی آدھا دھڑ باہر نکلا ہوا تھا ۔۔سیلوں سے فایدہ اٹھانا ہم عورتوں کی فیورٹ ہابی۔۔اس پر حیرانی نا تھی۔۔جس بات نے حیران بلکہ پریشان بھی کیا وہ تھا اس عورت کی بغل میں کوئی ڈیڑھ دو سال کا بچہ ۔۔ایک ہاتھ سے کپڑے دیکھ رہی تھی دوسرے ہاتھ میں بچہ آڑا ٹیڑھا لٹکا ہوا تھا۔بچہ سخت پریشان تھا۔۔بری طرح رو بھی رہا تھا۔۔پسینے سے شرابور تھا۔۔لیکن اس اللہ کی بندی کو اتنا ہوش نا تھا کہ اس کو پانی ہی پلا دیتی۔۔۔خدا جانے کیا مجبوری تھی کہ ایسے ظالم دن اتنے سے بچے کو ساتھ لے آئی تھی۔۔مجھے بے چینی ہونے لگی۔میرا دل بچے کی طرف کھنچنے لگا۔دو منٹ۔۔۔ تین منٹ۔۔جب پانچ منٹ پورے ہوگئے میری برداشت جواب دے گئی ۔۔میں جھٹکے سے اٹھی دکان میں موجود کولر سے پانی کا گلاس بھرا ۔اور باہر اس عورت کی طرف بڑھی۔۔اس کے قریب پہنچ کر بچے کے منہ سے گلاس لگایا یہ غٹا غٹ پینے لگا۔۔عورت بچے کے یوں خاموش ہوجانے پر پلٹی ۔۔جب اس نے دیکھا کہ بچہ پانی پی رہا ہے تو تھوڑی سی شرمندگی اس کے چہرے پر نظر آئی۔۔میں نے ان سے بچہ مانگا اس نے ہچکچاتے ہوے مجھے دے دیا۔۔بچ جانے والے پانی سے بچے کا منہ دھلوایا ۔۔ یہ کچھ فریش ہوگیا اور خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی ۔اب میں اس عورت کی طرف متوجہ ہوئی " آپ کپڑے لے لو میں اس کو پکڑے کھڑی ہوں۔۔" عورت تذبذب سے مجھے دیکھنے لگی ۔۔میں خود کو اچھی خاصی مہذب اور معصوم عورتوں میں شمار رکھتی تھی لہذا میرے وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ یہ مجھے کڈنیپر سمجھ رہی ہے۔۔میں اس کی الجھن نا سمجھ رہی تھی لہذا پھر سے کہا ۔۔دیکھیں انسان ہی انسان کے کام آتا ہے آپ خریداری کرلیں میں تب تک آپ کا بچہ سنبھال لیتی ہوں۔۔لیکن اتنی اچھائی عورت سے ہضم کہاں ہونی تھی۔۔اس نے ناگواری سےمیرے ہاتھوں سے بچہ چھینا اور دوسری سمت چلی گئی۔۔میں کندھے اچکا کر رہ گئی۔۔بچہ اب پھر سے گھبر ا کر رونے لگا کیوں کہ اس کو پتہ لگ چکا تھا کہ ماں اب پھر اس کو الٹا لٹکاے گی۔۔میں بے بسی سے چپ چاپ جا کر دکان میں بیٹھ گئی ۔۔امی نے زیادہ نوٹس نا لیا تھا کیونکہ ایسی امداد میں اکثر بازار میں کرتی رہتی تھی۔۔امی کو میری یہ عادت کچھ خاص پسند بھی نا تھی ۔۔کیونکہ مجھے کئی بار ایسی نیکیوں میں پھستے بھی امی نے دیکھا تھا۔۔۔خیر اللہ اللہ کرکے اس عورت کو کچھ پسند آیا اس نے خریداری کی اور اب میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔۔میں کافی دیر اداس رہی۔۔کیونکہ ایسے کئی بچے مجھے بازار میں نظر آتے جو ماوں کے ساتھ ہلکان ہورہے ہوتے۔۔کبھی بے حال ہوکر ماں کے بازووں میں سوے ہوتے ۔۔تو کبھی موٹرسائیکل کی ٹنکی پر بے ہوش ہوے پڑے ہوتے ۔۔کبھی بایک پر موجود باپ چاچا ماما جو بھی ہے ان کےپیٹ پر لڑھکے ہوتے۔میں ان بچوں کو دیکھ کر کڑھتی۔۔اور دور تک ان کو دیکھتی جاتی۔ ایک بار یوں ہوا کہ ایک بچی بھوک بھوک چلاتی جا رہی تھی ۔۔ماں اسکو گھسیٹے جا رہی تھی۔۔رش تھا بہت ان کو رکنا پڑا۔۔یہ ماں بیٹی میرے آگے کھڑی تھیں۔۔بچی کا چہرہ بھوک پیاس سے کملا رہا تھا ۔۔میں نے اپنے پرس سے پانی کی بوتل نکالی جو ہمیشہ پرس میں ہوتی۔۔اس بچی کو پیار سے پانی آفر کیا ۔۔جو اس نے فورا مجھ سے لیا اور پینے لگی۔۔پھر میں نے سامان میں سے دو کیلے نکالے جو فروٹ چاٹ کے لیے خریدے تھے۔۔بچی کو کیلے دیے اس نے خوشی سے مجھ سے لے لیے۔۔اس کی ماں کی جونہی مجھ پر نظر پڑی اس نے مشکوک نظروں سے پہلے مجھے دیکھا پھر بچی کو دبوچا اور آگے کھسک گئی۔بلکہ صرف اسی پر بس نا کی مزید آگے جا کر چند مرد اور عورتوں سے پتہ نہیں کیا کہا یہ لوگ میری طرف ویسے ہی مشکوک انداز سے دیکھنے لگے ۔۔۔مجھے اسکی یہ حرکت عجیب لگی۔۔ ایسا ہمدرد دور رہ نہیں گیا لہذا بے اعتباری نیکی کو بھی مشکوک کردیتی ہے۔۔۔مجھے سخت شرمندگی ہوئی اور ساتھ میں بے تحاشہ غصہ ۔۔جس کا اظہار میں نے یوں کیا کہ جب ان کے نزدیک سے گزرنے لگی عورت کو مخاطب کیا۔۔بچے کے کھانے پینے کا خیال خود رکھ لیا کرو تو یہ کام دوسروں کو نا کرنا پڑے۔ عورت کے چہرے پر اب مجھے تھوڑا شرمندگی نظر آئی ۔۔ٹھیک ہے مجھ پر اعتبار نا کرتی۔میرا کام پھر بھی ہوچکا تھا اور وہ تھا بچی کو وقتی ریلیف دینا۔۔یہ تو دو چھوٹے سے واقعات ہیں ایسے لاتعداد مناظر میں نے کئی بار دیکھے۔جب بچے بازاروں میں زلیل ہورہے ہوتے ہیں۔۔۔اول تو بچوں کو مارکیٹ ساتھ لے کر جانا ہی نہیں چاہیے۔۔یہ معصوم بہت نازک ہوتے ہیں ان کے بس کا روگ نہیں بازاروں میں خوار ہونا۔۔اور بالفرض شدید مجبوری ہے لے کر جانا تو بچے کے کھانے پینے کو ضرور کچھ ساتھ لے جائیں۔۔اور خدارا بلاوجہ ادھر ادھر چیزیں وزٹ کرکے بچے کو نا تھکائیں ۔۔اور پھر کسی کو بچے کی حالت پر ترس آجاے اس کو بھی شک سے دیکھتے ہو ۔۔اگر یہ نہیں پسند کہ آپ کے بچے کا خیال دوسروں کو کرنا پڑے تو بچے سے بازار میں اس حد تک غافل نا ہوں۔۔۔

 192