چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی تقرری، تنخواہ نہیں لیں گے

09 مئی 2019

Shabar Zaidi Salary nahin len gay

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی تقرری اعزازی ہو گی، وہ تنخواہ نہیں لیں گے، نوٹیفکیشن آج یا کل جاری کر دیا جائے گا، میزبان ’’دنیا کامران خان کے ساتھ‘‘ پروگرام کے مطابق عمران خان Imran Khan حکومت کے معیشت اور کاروبار کی بحالی کے حوالے سے شاید کم ہی ایسے فیصلے ہوں گے جن کو کاروباری و تجارتی حلقوں اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے اس انداز میں پذیرائی ملی، جتنی شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر بنانے کے فیصلے کو حاصل ہوئی، ان تمام حلقوں نے اس فیصلے کو بھرپور سراہا، دانشور حلقوں، معاشی ماہرین اور میڈیا میں اس کی بڑی پذیرائی ہوئی لیکن جیسے ہی یہ فیصلہ سامنے آیا، بیوروکریسی اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی نظر آئی، کم از کم بیوروکریسی کا ایک شعبہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہی سیکشن ہے جو پاکستان Pakistan کی کاروباری برادری کو درپیش مسائل کا باعث ہے، جس کی وجہ سے ایف بی آر کرپٹ ترین ادارہ سمجھا جاتا ہے، لگتا ہے ایف بی آر کے اس چھوٹے حلقے نے اس فیصلے کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا لیکن ان کی کوشش ناکام ہو گئی۔

وزیر اعظم Prime Minister اور ان کی کابینہ پوری طرح تیار ہے، وہ کرپٹ بیورو کریسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی، وہ شبر زیدی کی تقرری کا دفاع کر رہے ہیں، وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کا اصرار رہا ہے کہ وہ ایف بی آر کی اصلاح کریں گے اور اسے بزنس فرینڈلی بنائیں گے، اگر ایف بی آر بقول ان کے بزنس مین اور ٹیکس دہندگان کی توقعات پر پورا نہیں اترا تو وہ ایک نئے ایف بی آر کو جنم دیں گے، اس بات کا عہد وہ اقتدار میں آنے سے پہلے اور اس کے بعد بھی کرتے رہے ہیں، واضح طور پر لگتا ہے کہ وزیر اعظم Prime Minister ایف بی آر کو ایک نیا جنم دے رہے ہیں، اسی لئے انہوں نے شبر زیدی کا انتخاب کیا، وزیر اعظم Prime Minister اور ان کی حکومت ایف بی آر کے سلسلے میں اپنا صبر کھو رہی تھی اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں اس کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ ہمیں ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کے خلاف انٹیلی جنس ایجنسیوں کو استعمال کرنا چاہیے، جب تک کریک ڈاؤن کر کے ان کو سزا نہیں دیں گے، یہ نظام ٹھیک نہیں ہوگا۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا شبر زیدی کی تقرری پر وفاقی حکومت میں کوئی اختلاف نہیں، انہیں وزیراعظم اور کابینہ کی سلیکشن کمیٹی نے نامزد کیا، شبر زیدی راضی نہیں تھے، ہم نے انہیں منایا، وہ اپنی فرم سے الگ ہو کر اپنا نقصان اور ملک کا فائدہ کریں گے، ان کی تقرری کے مخالفین میرٹ کے خلاف ہیں، شبر زیدی کی تقرری کے پیچھے حکومت ہی نہیں، پورا پاکستان Pakistan کھڑا ہے، کوئی ذی ہوش پاکستانی اس کی مخالفت نہیں کرے گا، ان کی تقرری کئی ناموں پر غور کے بعد کی گئی، ان کا حکومت اور ہم پر احسان ہے کہ وہ ہر چیز چھوڑ کر آ رہے ہیں، شبر زیدی کی تقرری میں قواعد و ضوابط کا پورا خیال رکھا گیا، علی ارشد حکیم کا معاملہ شبر زیدی سے مختلف تھا، مخصوص حالات میں قواعد معطل کر کے تقرری کا قانون موجود ہے۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا علی ارشد حکیم کی تقرری اعزازی بنیادوں پر نہیں تھی، حکومت کسی بھی موزوں شخص کو چیئرمین بنا سکتی ہے، شبر زیدی ایف بی آر کو جانتے ہیں اور ٹیکس نیٹ بڑھانا جانتے ہیں، میرے خیال میں شبر زیدی کی تقرری میں قانونی رکاوٹ نہیں،عدالتی فیصلوں کا جائزہ لیا ہے، یہ کیس ہر میرٹ پر پورا اترتا ہے، دیانتدار اور بہترین فرد کو ایف بی آر کا چیئرمین بنایا جا رہا ہے، وزیر اعظم Prime Minister کو جب بتایا گیا کہ اس حوالے سے بیوروکریسی میں کچھ مخالفت نظر آئی ہے تو عمران خان Imran Khan نے کہا اس کا مطلب ہے کہ شبر زیدی بالکل صحیح آدمی ہیں، پاکستان Pakistan میں میرٹ ہوگا تو ملک ترقی کرے گا، اگر میرٹ نہیں ہوگا تو پھر پاکستان Pakistan ویسے ہی ہوگا جیسے پہلے تھا، اس میں مفادات کے ٹکراؤ والی کوئی بات نہیں، عدلیہ کے چار فیصلے موجود ہیں کہ مفادات کا ٹکراؤ تب ہوتا ہے جب کسی کا کوئی مفاد ہوگا، شبر زیدی تو اپنا نقصان کر کے آ رہے ہیں، حکومت پر عزم ہے کہ شبر زیدی ضرور آئیں گے۔

دوسری جانب ایف بی آر کے سینئر افسر وزیر اعظم Prime Minister کے مشیر ارباب شہزاد سے ملے اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جبکہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan سے نامزد چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ملاقات کی جس میں ایف بی آر کے امور پر گفتگو کی گئی، وزیر اعظم Prime Minister نے شبر زیدی کو نئی ذمہ داری، ایف بی آر میں اصلاحات سے متعلق اپنے وژن اور حکومتی پالیسی سے آگاہ کیا، ملاقات میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بھی موجود تھے۔

 115