جے ڈیہنہ بھلڑے‘ مِتر وی بھلڑے

طلوع - ارشاد احمد عارف

09 مئی 2019

جے ڈیہنہ بھلڑے‘ مِتر وی بھلڑے

یہ ان دنوں کی بات ہے جب بھارت India قیام پاکستان Pakistan کے بعد پہلی بار اپنی فوجیں سرحدوں پر لے آیا اور دونوں ممالک میں جنگ کے خطرات منڈلانے لگے۔ اس وقت کے وزیر اعظم Prime Minister لیاقت علی خان نے بھارت India کو مکا لہرا کر باز آنے کی تلقین کی اور ملک بھر میں جوش و جذبے کی لہر دوڑ گئی، مخدوم زادہ حسن محمود ریاست بہاولپور کے وزیر اعظم Prime Minister تھے ‘انہوں نے بھی ریاست کے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا اور عوام کو بھارت India کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کی تلقین کی۔ دورے کے دوسرے دن مخدوم زادہ صاحب طبی چیک اپ کے لیے لندن چلے گئے۔ محمد علی درویش بہاولپور کے نڈر اور بے باک صحافی تھے اور مخدوم زادہ کے ناقدین میں شامل، درویش صاحب نے اپنے اخبار میں شہ سرخی لگائی، ’’عوام بھارت India کے مقابلے میں ڈٹے رہیں، میں لندن جا رہا ہوں‘‘ اس حسب حال سرخی پر مخدوم زادہ کی جو درگت بنی وہ محتاج بیان نہیں، قارئین نے داد دی اور عوام نے درویش کی اس بے باکی کو سراہا۔ یہ واقعہ مجھے گزشتہ روز میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کا ایک بیان پڑھ کر یاد آیا۔ چھوٹے میاں صاحب نے کہا کہ ’’کارکن حالات کی پروا کئے بغیر اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں شریف خاندان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہم الزامات سے ڈر کر بھاگنے والے نہیں‘‘ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی صاحبزادی اور مسلم لیگ(ن) کی نئی قائد مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif نے بھی اپنی ٹویٹس میں کارکنوں کو خوب ہلہ شیری دی‘ مگر جاتی امرا سے کوٹ لکھپت جیل تک چار گھنٹے کے سفر میں یخ بستہ گاڑی سے نکل کر اپنے کارکنوں کے نعروں کا جواب دیانہ کسی جگہ پر خطاب کیا۔ ذاتی معاملات میں اس قدر احتیاط اور غریب و سادہ لوح کارکنوں سے بے جا توقعات؟واقعی سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ پانامہ سکینڈل سے لے کر منی لانڈرنگ Money laundering کیسز تک شریف خاندان مسلسل ابتلا میں ہے، میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کی صاحبزادی مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif اس دور ابتلا میں دو کشتیوں کے سوار ہیں، میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور ان کے کئی قابل اعتماد ساتھی ہمیشہ انہیں پتلی گلی سے نکلنے اور بچی کھچی توانائی بہتر وقت کے لیے بچا کر رکھنے کا مشورہ دیتے رہے جبکہ پرویز رشید، طارق فاطمی جیسے عقابوں کی رائے ’’چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کریگا‘‘ کے حق میں ہے۔ 2017ء سے اب تک ان عقاب صفت مشیروں کے بھرے میں آ کر شریف خاندان نے صرف اقتدار ہی نہیں گنوایا ‘کرپشن کے الزامات سہے، مقدمات کا سامنا کیا اور اڈیالہ و کوٹ لکھپت جیل کی سیر کی، ضمانت ملنے کے بعد مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif کی سرگرمیاں جاتی امرا کی ملاقاتوں اور بے ضرر ٹویٹس تک محدود ہیں جبکہ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اپنے صاحبزادے سلمان شہباز شریف Shehbaz Sharif اور داماد علی عمران کے ساتھ لندن میں پائے جاتے ہیں، مسلم لیگ کی تنظیم سازی سے یہ تاثر گہرا ہو گیا ہے کہ شریف خاندان بلند بانگ دعوئوں کے باوجود میدان سیاست سے پسپا ہو رہا ہے اور بخوشی یا بادل نخواستہ وہ پارٹی کی باگ ڈور شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ اور رانا تنویر کے حوالے کر کے اسٹیبلشمنٹ سے رعایت کا خواہاں ہے۔ گزشتہ روز فلاپ شو کے موقع پر بھی کارکنوں کی یہ خواہش اور توقع دم توڑ گئی کہ مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif چار پانچ ہزار کے اس مجمع کو گرمانے اور پنجاب کے طول و عرض سے اکٹھے کیے گئے کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے دھواں دھار تقریر کریں، مستقبل کا لائحہ عمل دیں اور پاکستان Pakistan کی سیاسی تاریخ پر شریف خاندان کی دلیری، جرأت، استقامت اور دانش مندی کا نقش ثبت کریں، سادہ لوح کارکن بے چارے اپنے خواب فروش لیڈروں سے مانگتے ہی کیا ہیں؟ بلند بانگ دعوے، ناقابل ایفا وعدے اور خوش نما الفاظ ؎ دو حرف تسلی کے جس نے بھی کہے اس کو افسانہ سنا ڈالا، تصویر دکھا ڈالی خبر یہ گرم تھی کہ ریلی میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی ولی عہد Crown Prince مریم نواز Maryam Nawaz کی ری لانچنگ کا اہتمام ہے اور کارکنوں کے لیے یہ پیغام کہ اب مسلم لیگ کی قیادت شہباز شریف Shehbaz Sharif کے بجائے مریم نوز کرینگی ‘مگر؟ ریلی کے اختتام تک مریم نواز Maryam Nawaz کچھ بولیں نہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif نے لب کھولے۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کیمرہ سے آنکھ ملائے بغیر کچھ بولے بھی تو لہجہ مایوس، الفاظ بے جان اور عزم و ارادہ پست ۔کہا ’’جس والہانہ انداز سے میرا استقبال کیا گیا اس جذبے کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں، انشاء اللہ کارکنوں کا جذبہ اور دعائیں رنگ لائیں گی اور یہ سیہ رات ختم ہو کر رہے گی، اس میں کوئی شک نہیں ہے‘‘ ضمانت منسوخ ہونے کا خوف تھا یا درپردہ رابطوں کا دبائو، مریم نواز Maryam Nawaz کا اس موقع پر خاموش رہنا اور جیل کے دروازے پر پرجوش کارکنوں کے نعروں کا جواب دینے کے بجائے میاں نواز شریف، مریم نواز Maryam Nawaz اور حمزہ شہباز کا بجھے چہروں کے ساتھ باہم محو گفتگو رہنا ہر ایک کو شاق گزرا۔ لاہور اور وسطی پنجاب میں مسلم لیگ کے سیاسی اثرورسوخ اور انتخابی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں‘ احتجاجی سیاست مگر مسلم لیگ کے بس کی بات ہے نہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif نے الیکٹ ایبلز کی اس جماعت کو سنجیدگی سے کبھی نظریاتی بنانے کی سعی کی‘ حب مال‘ حب جاہ اور ذاتی و خاندانی مفاد کے مارے جاگیرداروں‘ سرمایہ داروں‘ لینڈ مافیا اور ایسے ہی دیگر طبقات کی نمائندہ اس جماعت پر نظریاتی ہونے کی تہمت صرف وہی لگا سکتے ہیں جنہیں سیاسی حرکیات کا علم اور نظریے کا ادراک نہیں۔ شخصی وخاندانی غلامی کا خوگر یہ طبقہ جوڑ توڑ‘ خریدوفروخت‘ دھونس‘ دھاندلی اور ذات برادری کے زور پر انتخابی کامیابی تو حاصل کر سکتا ہے کسی نظریے اور اصول کی بنیاد پرقربانی دیناکٹھن حالات کا مقابلہ کرنا اس کی سرشت و جبلت میں نہیں‘ ایک ایسے شخص کو رخصت کرنے کے لئے وہ اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر کیوں لائے ان پر پیسہ کیوں نچھاور کرے جو جیل جا رہاہے اور جس کے سیاسی و خاندانی وارث عمران خان Imran Khan کا سیاسی مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی جان بچا رہے ہیں یا درپردہ ڈیل کے لئے بے قرار و بے تاب۔ لاہور‘ گوجرانوالہ‘ کامونکی‘ قصور‘ شیخو پورہ‘ سیالکوٹ اور اوکاڑہ کے ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں بلدیاتی نمائندے اگر صدق دل سے چاہتے تو پندرہ بیس ہزار کارکن بآسانی جاتی امرا اور کوٹ لکھپت جیل کے باہر اپنے قائد سے اظہار یکجہتی کے لئے لا کھڑے کرتے مگر جب انہیں اور کارکنوں کو معلوم ہے کہ قائد محترم کے دونوں صاحبزادگان اور برادر خورد کو دلچسپی نہیں اور مریم نواز Maryam Nawaz بھی ضمانت کے قانونی تقاضوں یا سیاسی مصلحتوں کے تحت مہربہ لب ہیں‘ گاڑی میں کھڑے کھڑے بھی چند احتجاجی جملے دہرا نہیں سکتیں‘ کہ مباداضمانت منسوخ ہو جائے اور رعائت واپس ‘تو کسی کو بائولے کتے نے کاٹا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور مئی کی گرمی میں سڑکوں پر خوار ہوتا پھرے۔ ویسے بھی اقتدار کے دنوں میں سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین اپنے جاں نثار کارکنوں کے ساتھ جو سلوک کرتی ہیں وہ ہر غیرت مند اور حقیقی سیاسی کارکن کو یاد رہتاہے۔13جولائی کی طرح 7مئی کو بھی مسلم لیگ ن کے چوری کھانے والے مجنوں صفت لیڈروں اور’’ قدم بڑھائو نواز شریف Nawaz Sharif ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘کے نعرے لگانے والے بریانی خور کارکنوں نے شریف خاندان کو مایوس کیا۔ لیکن قصور وار کون ہے؟ کارکنوں کو سڑکوںکا راستہ دکھا کر خود لندن کے محلات اور شاپنگ مالز میں شب وروزبتانے‘ خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے اور جاتی امرا میں من و سلویٰ کے مزے اڑانے اور حیرت انگیز خاموشی سے اسٹیبلشمنٹ و حکومت کو اپنی نیک چلنی کا پیغام دینے والے یا کوئی اور؟ میاں نواز شریف Nawaz Sharif ایک قانون پسند شہری کی طرح خاموشی سے قبل از افطار کوٹ لکھپت جیل چلے جاتے تو فائدے میں رہتے۔ حکومت اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ کے علاوہ عدلیہ کو مثبت پیغام ملتا اور سیاسی طاقت و مقبولیت کا بھرم قائم رہتا۔ مگر فوج اور ریاست کے دوسرے اداروں کو تہس نہس اور اپنے روبرو سرنگوں کرنے کی خواہش غالب آئی اور انجام معلوم ۔ارادہ اور خواہش بے لگام ہوں اور زاد سفر حقیر تو انتخابی مقبولیت بھی بھرم کھو دیتی ہے۔ 13جولائی کی طرح 7مئی بھی شریف خاندان پر بھاری گزرا۔ شائد قسمت ابھی مہربان نہیں بقول خواجہ فریدؒ ؎ جے ڈینہ بھلڑے متروی بھلڑے قسمت جوڑیے جوڑ کلڑے یار شدید تے بخت عنید

 188