امریکہ United States نہیں عالمی برادری کی شکست

حرف راز - اوریا مقبول جان

07 مئی 2019

America nahin Aalmi baradari ki shikast

ایسے تبصرے‘ گفتگو، مضامین اور تجزیے اس وقت سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں جب جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہو اور یہ فیصلہ کرنا اب مشکل نہ ہو کہ کون جیتا اور کون ہارا ہے۔ امریکہ United States ‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس‘ آسٹریلیا یہاں تک کہ اس ’’اینٹی طالبان اتحاد‘‘ کے کسی بھی ملک کے اخبارات و رسائل اٹھا لیں آپ کو صرف ایک ہی بحث نظر آئے گی۔’’ہماری شکست کیوں ہوئی‘‘ ابھی امریکہ United States کے چودہ ہزار ریگولر فوجی اور ہزاروں کرائے کے سپاہی افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ابھی افغان کٹھ پتلی فوج کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور امریکی ایئر فورس کی مدد حاصل ہے۔ روز معرکے بھی ہو رہے ہیں لیکن تمام ’’اینٹی طالبان اتحاد‘‘ کے دانشور‘ تجزیہ نگار‘ دفاعی ماہر اور پالیسی ساز مصنف تسلیم کر چکے ہیں کہ ہم جنگ ہار چکے ہیں۔کوئی اخبار، جریدہ‘ رسالہ اپنی کسی خبر یا مضمون میں جیت کی ’’نوید مسرت‘‘ نہیں سناتا بلکہ شکست کا تجزیہ کرتا ہے۔ اکثر مضامین کی سرخی لاس اینجلس ٹائمز کی 3مئی 2019کی اشاعت کی اس سرخی کی طرح ہوتی ہے۔ Brutal truth about our failure in Afghnitan (افغانستان Afghanistan میں ہماری شکست کے تلخ حقائق)۔اس شکست کی حقیقت کا ادراک ان تمام اقوام کو بخوبی ہو چکا ہے جو آج سے اٹھارہ سال قبل طاقت کے نشے میں اس جنگ میں کودی تھیں لیکن میرے ملک کے وہ طبقے اس کڑے سچ کو تسلیم نہیں کر پا رہے ان کے صرف خواب نہیں ٹوٹے بلکہ ان کا ایمان پاش پاش ہوا ہے۔ خواب تو یہ تھا کہ امریکہ United States جب افغانستان Afghanistan میں قدم جما لے گا تو چونکہ بھارت India اس کے ساتھ مسلسل پارٹنر کی حیثیت سے وہاں براجمان ہے تو یوں پاکستان Pakistan کی حیثیت ایک ایسے کمزور اور گھرے ہوئے ملک کی ہو جائے گی جس کو جب چاہے بے بس کر دیا جائے گا امریکہ United States چونکہ طالبان اور القاعدہ کے نام پر افغانستان Afghanistan میں داخل ہوا تھا۔ اس لئے اس کی جیت پاکستان Pakistan کے ہر سیکولر اور لبرل کے حوصلے بلند کر دے گی اور دہشت گردی‘ شدت پسندی کے نام پرجس کا چاہے ناطقہ بند کیا جا سکے گا۔ خلافت اسلامی انقلاب اور ایسے دیگر نعرے شدت پسندی کی سہولت کاری کے نام پر دبادیے جائیں گے۔ بھارتی Indian تہذیب‘ کلچر ‘ فلم اور تجارت اس پورے خطے پر راج کرے گی اور ایک گنگا جمنی تہذیب میں پروہ آواز دب کر رہ جائے گی جو بہتر سال پہلے اسلام کے نام پر ایک علیحدہ ملک کی بنیاد بنی تھی۔ ایسے لاتعداد خواب تھے جو پرویز مشرف کی روشن خیال سیکولر حکومت کی چھتری تلے دیکھے گئے اور پھر امریکہ United States کی افغانستان Afghanistan میں آمد کو مسیحا تصور کیا گیا۔ ایسے تمام خواب اس ایک شکست نے چکنا چور کر دیے۔ دوسرا معاملہ خواب کا نہیں ایمان کا ہے۔ پاکستان Pakistan کا یہ طبقہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بت کو اپنا معبود حقیقی مانتا ہے۔ افغانستان Afghanistan میں پہلی مداخلت کے وقت ان کو تسلی تھی کہ دراصل دو معبودوں یعنی روسی اور امریکی ٹیکنالوجی میں لڑائی تھی اور مضبوط دیوتا جیت گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے یہ شکست کھانے والی ٹیکنالوجی کے دیوتا کا قومی ہیکل مجسمہ لینن گراڈ میں گرایا گیا۔ پاکستان Pakistan کے تمام نظریاتی کمیونسٹ این جی اوز اور انسانی حقوق کے لبادے میں اپنا ’’دین‘‘ بدل کر امریکہ United States کی ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ ان لوگوں کے لئے اب افغانستان Afghanistan میں امریکہ United States کی شکست بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک تو یہ کہ اب کوئی ٹیکنالوجی شکست سے بچی نہیں جسے سجدہ کیا جائے اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اس بت کو پاش پاش کرنے والے نہتے اور بے سروسامان لوگ تھے جن کو ٹیکنالوجی چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔اس لئے یہ اب دن رات ایک ہی خواب دیکھتے ہیں کہ کاش امریکہ United States اپنی طاقت کے زعم میں کچھ دن اور یہاں رک جائے یا کم از کم اپنے جانشین کے طور پر کٹھ پتلی افغان حکومت کو بھارت India اور دیگر خیر خواہ ممالک کے ذریعے چھوڑ جائے۔ لیکن ان کی یہ خواہش پوری ہونے کو ہے اور نہ ہی امریکہ United States کی یہ آخری خواہش کہ افغانستان Afghanistan میں امن معاہدے پر طالبان کے ساتھ دستخط امریکہ United States کے نہیں افغان حکومت کے ہوں تاکہ وہ دنیا کے سامنے ذلیل و رسوا نہ ہو کہ اتنی بڑی طاقت نے چند ہزار ’’صاحبان توکل‘‘ طالبان سے شکست کھائی ہے، لیکن ایسا ہونا اب طالبان نے ناممکن بنا دیا ہے اب یا تو امریکہ United States چپ چاپ چلا جائے گا اور افغان حکومت کو طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ جائے گا اور دوسری صورت میں اسے افغان طالبان سے معاہدہ کرنا پڑے گا۔ یہ دونوں صورتیں میرے ملک کے ان طبقات کے لئے عذاب ہیں جن کا دن امریکہ United States اور مغرب کی ٹیکنالوجی کی پرستش میں گزرتا ہے۔ لیکن اس اٹھارہ سال جنگ میں شکست کی وجوہات کو انتہائی عرق ریزی کے ساتھ امریکہ United States کے سب سے معتبر اور مسلم جرنل Foriegn policyنے اپنے مضمون What went wrong in Afghanistan(افغانستان Afghanistan میں کیا غلط ہوا) میں یکجا کیا ہے۔ اس مضمون کا آغاز افغانستان Afghanistan کے بارے میں مغرب کی کم علمی سے ہوتاہے۔ ذرا اقتباسات ملاحظہ ہوں’’مغرب وہ کچھ کرنا چاہتا تھا جس کی وہ اہلیت نہیں رکھتا تھا اور وہ کچھ کر رہا تھا جس کی افغانستان Afghanistan میں ضرورت نہیں تھی۔’’سچ یہ ہے کہ مغرب ہمیشہ سے اس علم طاقت اور جواز سے محروم رہا جو افغانستان Afghanistan کو تبدیل کر سکے۔ جبکہ اس کے پالیسی ساز خوف سے سہمے ہوئے تھے۔ فیشن ایبل تھیوریوں کے سحر میں گرفتار تھے اور افغانستان Afghanistan کی حقیقت سے بالکل آشنا نہ تھے۔ انہوں نے افغانستان Afghanistan کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا انہوں نے خود کو قائل کر لیا جب تک ایک مغرب زدہ(pro west) افغان حکومت قائم نہیں ہوتی امریکہ United States اور نیٹو کی ساکھ کو خطرہ رہے گا اور یہ خطرہ پاکستان Pakistan کی سالمیت کو خطرے میں ڈال دے گا اور اگر افغانستان Afghanistan ملائوں کے قبضے میں چلا گیا تو وہ ایک دن پاکستان Pakistan کے ایٹمی ہتھیاروں پر اپنا تسلط قائم کر لیں گے’’ان میں سے کوئی ایک بات بھی سچ نہ تھی‘‘ دوسری بات یہ کہ مغرب کے پاس افغانستان Afghanistan کے بارے میں محدود علم تھا اور وہ افغانستان Afghanistan کا موازنہ امریکہ United States کی فلپائن اور برطانیہ کی ملایا میں فوجی فتح سے کرتے رہے اور سمجھتے رہے کہ قانون کی حکمرانی اور سول سوسائٹی کے قیام سے ملک میں استحکام آ جائے گا‘ امریکہ United States کی مخصوص تین غلطیوں کے بارے میں مضمون نگار ایلیشا(Alicia) نشاندہی کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ پہلی غلطی یہ تھی کہ امریکہ United States نے اپنے آپ کو پاکستان Pakistan سے دور کر لیا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ بھارت India کو اپنا ساتھی بنالیا۔ دوسری غلطی یہ کہ جب افغانستان Afghanistan میں طالبان برسر اقتدار آئے تو امریکہ United States نے انہیں تنہا کرنے کی کوشش کی حالانکہ پاکستان Pakistan کے ذریعے وہ اس خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا تھا اور تیسری غلطی یہ تھی کہ کابل کی حکومت شمالی اتحاد کے ذریعے بنائی گئی جن میں پشتون شامل نہ تھے یوں پشتون طالبان کے فطری حلیف بن گئے۔ اس مضمون میں شکست کی درجنوں وجوہات بتائی گئی ہیں لیکن اصل مسئلہ وجوہات نہیں اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی شکست ہے جو تقریباً پوری دنیا کو ہوئی ہے۔ پچاس ہزار طالبان کو روندنے کے لئے اقوام متحدہ کے حکم نامے سے تمام دنیا اس لئے ملک پر چڑھ دوڑی تھی کوئی ایک کمزور سا ملک بھی ان کے ساتھ نہ تھا۔ آج ان کی فتح اللہ کی وہ نشانی ہے کہ پوری دنیا بھی جن کے مقابل جمع ہو جائے تو وہ چاہے تو حق کی فتح دیتا ہے۔

 282