وادی کاغان کی سیر

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

06 مئی 2019

Naran Kaghan trip

ناران چھوڑنے سے قبل ہمیں اپنا ایڈوینچر ہر صورت پورا کرنا تھا ۔۔لہذا اگلے دن صبح آٹھ نو بجے کے قریب ہم ہوٹل سے کچھ فاصلے پر بہتے چشمے پر موجود تھے۔ابو لوگ سے اجازت لی کہ دریا پر جانا ہے ۔۔ایڈوینچر والے حصے کو ہذف کرلیا۔۔

۔پہلے پہل ہم نے اپنی اپنی جوتیاں اتاریں۔۔کیونکہ چشمے کے پتھروں پر سلپ ہونے اور جوتیاں ٹوٹنے کا خطرہ بھی اپنی جگہ تھا۔ چشمہ کافی تیز بہہ رہا تھا لیکن ہمیں امید تھی کہ ہم یہ چشمہ کراس کر ہی لیں گے۔۔اور بڑی بھیانک امید تھی۔۔ پہلے بھائی نے تین سے چار چھلانگوں میں چشمہ کراس کیا ۔۔پانی بے حد ٹھنڈا تھا اور کمالِ بے غیرتی سے اس نے یہ بات ہم سے چھپا لی اور ہمیں گرین سگنل دے دیا ۔

۔اب طے یہ ہوا کہ دوسرا بھائی ہم سے آگے آگے جاے گا اور ہم اس کا ہاتھ پکڑ کر چشمہ پار کریں گے۔۔میرے ہاتھ میں ایک تھیلا بھی تھا جس میں چاے کا تھرماس ،کپ اورایک چمچ تھے۔ہم نے دریاے کنہار پر جا کے چاے بھی پینی تھی نا۔!. بھائی نے پہلے چشمے میں قدم جماے اور ہماری طرف ہاتھ بڑھایا۔۔چشمہ کراس کرنے کی جلدی میں ادھر بھابھی نے بھی چشمے میں قدم رکھ دیے اور میں نے بھی بھائی کا ہاتھ تھام لیا پانی بہت ٹھنڈا تھا پاوں سن ہونے لگے ۔۔

۔بھابھی مجھ سے آگے تھیں لہذا بھائی نے میرا ہاتھ کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیا ۔۔اس بات پر زن مریدی کا طعنہ اس کو میں نے واپسی پر سارا راستہ دیا تھا ۔اس نے بھابھی کو چشمہ پار کرایا اور میری طرف متوجہ ہوا میں خود سے چلنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔کیونکہ پاوں بار بار سلپ ہورہے اور یوں محسوس ہورہا تھا کہ میرے پاوں نہیں رہے۔ بہاو کافی تیز تھا یہ احساس چشمے میں اترنے کے بعد شدت سے ہوا تھا ۔

اب بھائی نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے گھسیٹا۔۔اور بمشکل چشمے سے نکالا۔۔گرتے پڑتے خشکی پر پہنچ آئے ۔ایک پتھر پر ہانپتی کانپتی بیٹھ کر سانس بحال کرنے لگی ٹھنڈ سے جمے پیروں کو بار بار جھٹک رہی تھی کہ کسی طرح ان میں جان محسوس ہو۔۔بھائی نے کہا ا"ٹھو اور چلو خود ہی پاوں گرم ہوجائیں گے۔" میں نے پہلے تو اسکو سخت سنانا چاہی کہ "بیوی کو تو بچا لیا جاو اس کے ساتھ اٹھکیلیاں کرو ۔۔بہن چاہے فروسٹ بائٹ کا شکار ہوکر پاوں کٹوا بیٹھے تمہاری بلا سے"

پھر دماغ نے سرزنش کی " روایتی نندوں والی بے غیرتی نا دکھاو اور اٹھو ان کے ساتھ انجواے منٹ میں شامل ہوجاو۔"

۔بس یہ آئینہ دیکھنے کے بعد اٹھ کھڑی ہوئی۔۔بھائی میرے لیے بہت پریشان ہو رہا تھا ۔۔جب میں نے چلنا شروع کیا تب جا کے اس کے چہرے پر اطمینان اترا۔۔"او شٹ" چھوٹے بھائی کی پریشان سی سرگوشی ابھری ۔۔یہ اوپر اس طرف دیکھ رہا تھا جہاں سے ہم آے تھے۔۔۔ جونہی ہم نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا چھکے ہمارے بھی چھوٹ گئے۔

۔امی ابو باہر ٹیرس پر کھڑے ہمارا یہ تماشہ ملاحظہ کر رہے تھے ۔۔اور چاہے ہم سے بہت دور کھڑے تھے لیکن ان کے چہروں سے جھلکتی تشویش ہمیں محسوس ہورہی تھی۔۔قوی امید تھی ہمارا ایڈوینچر کا نوٹس لیا جا چکا ہے۔۔ہم ان کو دیکھ چکے ہیں یہ دیکھنے کے بعد یہ دونوں واپس اندر چلے گئے۔۔ غالباً مقصد یہ تھا کہ ایڈوینچر پورا کرلو واپس جا کر طبیعت تو بنوانی ہی بنوانی تھی۔۔

لہذا ہم نے بھی بہتر یہی سمجھا کہ ڈانٹ تو اب ویسے بھی پڑنی ہے تو کیوں نا ایڈوینچر مکمل کیا جاے ۔۔پانچ دس منٹ چھوٹے بڑے پتھروں پر سے گزرتے ہوے ہم کنہار کے کنارے پہنچ گئے۔۔بھائی لوگ کچھ آگے ہوگئے لیکن میری ہمت نا پڑ رہی تھی۔۔کیونکہ پانی میں طغیانی اور شور اتنا زیادہ تھا کہ دل کو دہلا رہا تھا۔ یہ لوگ سیلفیاں بنانے لگے۔میں نے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر برتن نکالے اور کپوں میں چاے ڈالنے لگی۔بھائی بھابھی لوگ کو چاے دے کر میں چھوٹے بھائی کے ساتھ دوسری طرف آگئی ۔۔ہم ایک چوڑے سے پتھر پر بیٹھ گئے ۔۔چاے کی چسکیوں کے ساتھ مسحورکن موسم سے لطف اندوز ہونے لگے۔۔منظر کو آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہے تھے۔۔کیونکہ پھر سال انتظار کے بعد آنا تھا ۔

۔میرے کپ کی چمچ بے دھیانی میں کپ سے نکل کر پانی میں گر گئی ۔۔میں بے ساختہ جھکی کہ اس کو اٹھایا جا سکے۔۔لیکن چمچ میرے ہاتھ کی پہنچ سے دور دریا کی سمت جانے لگی۔۔میں۔بوکھلا کر پتھر سے اتری ۔۔اور چمچ کے پیچھے لپکی اور بھائی بوکھلا کر میری طرف بڑھا ۔۔ مجھے اپنے کپ کی میچنگ چمچ بہت عزیز تھی۔۔کیونکہ شاپ کیپر سے لڑ لڑ کر میں نے یہ مگ کافی مہنگا لیا تھا ۔۔وجہ یہی میچنگ چمچ تھی۔۔اس سے قبل کہ میں بے وقوفی میں گہرے پانی میں اتر جاتی۔بھائی نے مجھے بازو سے پکڑا ۔

۔میں چلائی کہ میری چمچ کو پکڑو۔۔یہ جب تک متوجہ ہوا چمچ میری آنکھوں کے سامنے ہی گہرے پانی کی نظر ہوگئی۔۔سخت صدمہ ہوا ۔۔اور افسوس سے بھائی کو دیکھا۔۔۔"ابو ٹھیک تم کو الو کا پٹھا کہتا ہے ایک چمچ نہیں پکڑ سکے نا اہل انسان"

اس نے ایسی نظروں سے مجھے دیکھا جیسے میں حواسوں میں نہیں۔۔" ایک چمچ کے لیے اتنا واویلا آپی۔۔۔آریو ان یور سینسز ؟؟"

میں نے تلملا کر اس کو دیکھا "واٹ ۔۔ایک چمچ ؟؟ یہ صرف ایک چمچ ہوگی تمہارے نزدیک ڈفر"

یہ اب قہقہہ لگا کر ہنس پڑا " مجھے تو یہ ایک چمچ ہی لگی محترمہ اب آپ کے نزدیک یہ کیا توپ ہے میں سمجھنے سے قاصر ہوں"

میں اپنے کپ کو اب اداسی سے دیکھ رہی تھی ۔۔جس کے ساتھی کا یہ انجام بنا تھا۔۔ایڈوینچر مکمل ہوچکا تھا ۔ہم واپس پلٹے ۔۔اب ایڈوینچر کی ہمت نا تھی لہذا شرافت سے چشمے کو لکڑی سے بنے پل پر سے کراس کیا اور ہوٹل میں آگئے۔۔جہاں امی پتھریلے تاثرات سے ہمیں دیکھ رہی تھیں۔

۔ابو کا بی ہیو البتہ اتنا سخت نا لگ رہا تھا ۔۔امی نے پہلے پہل تو خوب ڈانٹا کہ شرم نا آئی چوٹ لگ سکتی تھی۔۔تمہارا باپ سخت غصہ ہے میں نے بڑی مشکلوں سے سنبھالا ہے۔۔بات کرتے کرتے امی نے گھور کر ابو کے کندھے کو ٹہوکا دیا ۔تاکہ وہ شدید غصے والا ری ایکشن دیں۔۔ابو نے ہڑبڑا کر مصنوعی غصے سے ہمیں دیکھا اوریہ دیکھتے ہی ہماری ہنسی چھوٹ گئی ۔

۔امی اب خفگی سے ابو کو دیکھنے لگیں۔ابو نے ہماری اور اپنی وضاحت ایک ساتھ دی " اب کیا فایدہ ڈانٹنے کا ۔۔یہ تو ایڈوینچر کر آئے۔۔اور اللہ کے فضل سے ٹھیک ٹھاک واپس بھی آگئے۔۔" امی نے بیزاری سے پیکنگ شروع کردی۔۔اور اس کے بعد ظاہر ہے ہمارا واپسی کا سفر شروع ہوگیا۔۔بے شک راستہ واپسی پر بھی اتنا ہی حسین تھا اور ہم نے اتنا ہی سراہا جتنا اس کا حق بنتا تھا ۔۔۔یہ تھا ایک یادگار سفر ۔۔جس نے ہمیں دلکش سفر تو دیا ہی ۔۔لازوال یادوں کا تحفہ بھی ساتھ میں دیا۔

۔اور ہاں یاد آیا ۔۔واپسی میں ایک جگہ شوگران کی طرف جاتا راستہ دیکھا۔۔منہ میں پانی بھر آیا۔۔ابو سے ریکویسٹ کی کہ ہم نے شوگران جانا ہے ۔۔سڑک دیکھی، کھڑی چڑھائی اور پتلی سی تنگ سڑک ۔۔ڈرا ضرور رہی تھی ۔لیکن ہمت نا ہاری تھی۔۔ابھی جانے کو پر تول ہی رہے تھے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک گاڑی کی بریکوں نے جواب دے دیا اور وہ لڑھکتی ہوئی ایک درخت سے جا ٹکرائی۔۔سواریاں تو بچ گئی ۔۔لیکن ہمارے والدین کی روح اس منظر کو دیکھ کر ٹھیک ٹھاک فنا ہوگئی ۔۔اور انہوں نے شوگران جانے سے صاف جواب دے دیا۔ اور ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ اب کسی صورت نا جائینگیں لہذا ۔۔ہم دل مسوس کر مری روانہ ہوگئے۔۔۔خیر۔۔ ۔اگلی بار سہی۔۔۔۔

 225