جنہیں راستے میں خبر ہوئی

نا تمام - ہارون الرشید

06 مئی 2019

Jinhen Rasty main khabar howi

لیڈر وہ ہوتاہے جو قوم کو متحد کرے نہ کہ منقسم اور منتشر ۔عدل کرنے والا مگر صبر، معاف اور ایثار کرنے والابھی ۔ انتقام کی خوذوالفقار علی بھٹو جیسے جینئس کو لے ڈوبی تو کوئی دوسرا کیا بچے گا؟ معلوم تھا کہ راولپنڈی سے راولا کوٹ کی مسافت طویل ہے ۔ اندازہ یہ نہ تھا کہ راستے اس قدر شکستہ اور دشوار ہیں ۔ کہیں کہیں تو پہاڑوں سے گرنے والی مٹی کی بدولت بند پڑے ۔ پہاڑی سفر یوں بھی دشوار گزار ہوتاہے ۔ تنگ سڑکیں ، گہری کھائیاں اور پھسل جانے کا خوف۔ اللہ کا شکر ہے کہ مسافت تو بخیر و خوبی تمام ہوئی ۔ تاخیر بھی نہ ہوئی ، ایک ذرا سا آرام کا موقع بھی ملا مگر پھر ہماری روایتی تقریبات کی وہی درازی اور وہی تھکا دینے والی تکرار۔ یہ جماعتِ اسلامی کے فلاحی ادارے الخدمت کی ذیلی تنظیم’’ آغوش‘‘ کا اجتماع تھا ۔ اطلاع میر پور کے لیے تھی ۔ راولپنڈی سے لاہور تک پھیلی ہوئی پرشور جی ٹی روڈ پر ، جس کے لیے گھنٹہ بھر کی مزید مہلت درکار ہوتی ہے ۔ پھر معلوم نہیں کیا ہوا کہ اچانک راولا کوٹ منتقل کر دی گئی ۔ پیمان تھا ، چنانچہ پورا کرنا تھا ۔ ملک بھر میں 42لاکھ یتیم بچّے ہیں ۔ ان میں وہ بھی ہیں ، جن پہ اکتوبر2005ء کے زلزلے کی افتاد آپڑی ۔ زلزلے ہیں‘ بجلیاں ہیں، قحط ہیں، آلام ہیں کیسی کیسی دخترانِ مادرِ ایّام ہیں آغوش بارہ ہزار بچّوں کی کفالت کرتی ہے ۔ کچھ کے لیے سکول بنائے گئے ، بعض کے لیے صرف ہوسٹل ، تاہم بہترین مقامی اداروں میں ان کے لیے تدریس کا بندوبست ۔ پھر وہ ہیں ، جن کے وظائف مقرر کر دیے گئے ۔بتایا گیا کہ اس نظام کی سلیقہ مندی سے نگرانی کی جاتی ہے کہ اندوختہ موزوں ترین بچّوں تک پہنچے ، بہترین طور پہ بروئے کار آئے ۔ ساڑھے چار گھنٹے کا پہاڑی سفر اور پھر جی ٹی روڈ کی تیز دھوپ میں ساڑھے پانچ گھنٹے بتانے کے بعد اترتی شام میں لاہور پہنچا تو بدن خستہ اور دل سوالوں سے بھرا تھا ۔اہلِ خیر کے ذہن اس قدر الجھے ہوئے کیوں ہیں ؟ کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں ، دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے جس دل سوزی ، اہتمام اور ریاضت کے ساتھ راولا کوٹ میں آغوش کے منتظم بے آسرا بچوں کی کفالت اور دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ اس پہ دل شاد ہوا ۔ رشک بھی بہت آیا ۔ سالِ گزشتہ ان میں سے ایک بچّے نے استنبول کی ایک تقریب میں شرکت کی ۔ راولا کوٹ کی تقریب میں انگریزی زبان میں اس نے خطاب کیا ۔ فصاحت اور روانی کے ساتھ ۔ سبکدوش بریگیڈئیر عبد الجبار نے انکشاف کیا کہ اس تنظیم کے تحت ترکی جانے والے بچّوں کی تعداد 10عدد تھی ۔مقابلے کے بعد جن کا انتخاب کیا گیا کہ تعلیمی ریکارڈ دوسروں سے بہتر تھا۔ اظہارِ خیال پہ کچھ نہ کچھ قدرت رکھتے تھے ۔ کم از کم اتنا اعتماد کہ سمندر پار کے سفر میں خود کو سنبھالے رکھیں ۔ بریگیڈئیر عبد الجبار اس منصوبے کے ڈائریکٹر ہیں ۔ تعلیم اور خدمتِ خلق کے میدان میں جماعتِ اسلامی کے سابق او رموجودہ وابستگان کی خدمات حیران کن ہیں ۔ غزالی فائونڈیشن ، ریڈ فائونڈیشن اور تعمیرِ ملّت فائونڈیشن ۔ ایک ڈیڑھ عشرہ پہلے بالاخر یہ احساس ان میں جاگا کہ یہ صرف علم ہے جو معاشرے کو بدل سکتاہے ۔ یہ نئی نسل ہے ، جو معاشرے اور ملک کو سنوار سکتی ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کارِ خیر میں ، تمام طبقات او رمکاتبِ فکر کی مدد حاصل کرنی چاہئیے ۔ راولا کوٹ کی تقریب میں تاجروں سمیت دوسری سماجی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے ؛حتیٰ کہ بشمول پیپلزپارٹی ، دوسری سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی ۔ ممتاز مقامی معالج ، وکیل اور دوسرے ہنر مند ۔ وہ سب جنہیں درد اور احساس کی دولت نے باہم کیا اور جوڑے رکھا ۔ تین ساڑھے تین گھنٹے میں ایسے کئی لمحے آئے کہ جذبات پہ قابو پانا مشکل محسوس ہوا ۔ مسافت کی اس مشقت کا تحفہ یقین اور امید ہے۔ جس معاشرے میں ادراک اور ایثار کی دولت رکھنے والے کچھ بھی لوگ موجود ہوں، اس کی نمود کا امکان باقی رہتاہے ۔ پاکستانی معاشرے کا غالباً یہ واحد پہلو ہے ، جو امکان کی خبر دیتاہے ورنہ تو سب چراغ ماند ہیں ۔ صبح سویرے ڈاکٹر امجد ثاقب نے حافظ شیراز کی ایک غزل کی وڈیو بھیجی ۔ سوز و گداز میں رچی آواز اور غم سے بوجھل شاعری ۔ اقبالؔ نے حافظؔ کو مسترد کر دیا تھا کہ بے عملی کی وہ ترغیب دیتاہے ۔ اس پر اپنے محترم اکبر الہٰ بادی سمیت بہت سوں کی بے رحمانہ تنقید انہوں نے سنی ؛حتیٰ کہ ظالمانہ فتوے بھی ۔ کہا جاتاہے کہ شاعر پہ یہ دن بہت بھاری تھے۔ کبھی ان کی آنکھیں آنسوئوںسے بھر جاتیں ۔ کبھی زیرِ لب اپنے ہم نفسوں میں شکوہ بھی کرتے ۔ ایسی ہی ایک شب عارف سیالکوٹ کے آبائی گھر میں تھا ، مکان کی چھت پر شب خوابی کے لیے آمادہ ۔ان کے گرامی قدر والد سیڑھیاں چڑھ کر تشریف لائے اور یہ کہا کہ حافظؔ کے بارے میں فرزند کے اشعار پہ وہ آزردہ ہیں ؛چنانچہ آپ نے حذف کر دیے ۔ کچھ چیزیں اجتماعی لاشعور کا حصہ ہوتی ہیں ۔ ان میں جدید و قدیم شاعروں کی وہ بازگشت بھی ہے ، جس میں معاشرے کی ریاکاری ، دکھاوے اور منافقت پر احتجاج کی چیخ سنائی دیتی ہے ۔ بلھے شاہ کی طرح خارا شگاف نہ سہی، حافظؔ کے ہاں ، شیخ و ملّااور ان کی پیروی کرنے والے سماج کی ، سطحیت پہ الم کا احساس گہرا ہے ۔ زمین علم اور صداقت سے خالی ہو گئی ہے ۔ سچا آدمی کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا ، جسے عیسیٰ علیہ السلام نے زمین کا نمک کہا تھا ۔ جس کے وجود سے دھرتی روشن رہتی ہے ۔ حافظ ؔ کی اس غزل کے اشعار نے دیر تک کہرام بپا رکھا۔ ؎ شہر خالی ، جادہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی جام خالی، سفرہ خالی، ساغر و پیمانہ خالی کوچ کردہ دستہ دستہ آشنایاں عندلیباں با غ خالی بغچہ خالی شاخہ خالی لالہ خالی شہر خالی ہے ، راستے خالی ، گلی بھی خالی، گھر بھی خالی۔جام خالی، دسترخوان خالی، ساغر و پیمانہ خالی۔ گروہ در گروہ دوست چلے گئے ، بلبلیںچلی گئیں ۔ با غ خالی ہے ، باغیچہ خالی ہے، شاخ خالی ہے اور پھول تنہا ۔ یہی بات کبھی شہنشاہِ اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک عالی قدر فیضی ؔ نے کہی تھی ۔ ؎ وادریغا! نیست محبوبے سزاوارِ غزل وادریغا! نیست ممدوحے سزاوار مدح ہائے افسوس کوئی محبوب نہیں ، جس کے لیے شعر کہا جا سکے اور کوئی ممدوح ایسا نہیں ، جس کی مدح کی جا سکے ۔ خدمتِ خلق اور تعلیم کے میدان میں تو جماعتِ اسلامی نے جھنڈے گاڑ دیے ، علَم لہرادیے مگر سیاست میں ان کا حلیف کون ہے ؟ حضرت مولانا فضل الرحمٰن ۔ 78برس پہلے جس جامد فکر اور خبطِ عظمت کے خلاف سید ابو الاعلیٰ مودودی نے آوازہ بلند کیا تھا ، پیروکار اسی کے اسیر ہو گئے ۔ دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے / پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے ۔ پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں /پھر وہی زندگی ہماری ہے ۔ دور دور تک سیاست ایک صحرا ہے ۔ کوئی شاہراہ ، گلستان اور نہ نخلستان۔ دونوں شاہی خانوادے تو لگتاہے کہ تاریخ کا رزق ہو جائیں گے مگر کپتان کا حال بھی کیا کہیے ۔ لیڈر وہ ہوتاہے جو قوم کو متحد کرے نہ کہ منقسم اور منتشر ۔عدل کرنے والا مگر صبر، معاف اور ایثار کرنے والابھی ۔ انتقام کی خوذوالفقار علی بھٹو جیسے جینئس کو لے ڈوبی تو کوئی دوسرا کیا بچ پائے گا؟

 2136