میکاولی کی تلاش میں

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

05 مئی 2019

Meeka Wali ki talash main

وہی وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے دفتر کا ایک بڑا ہال اور دو درجن تابڑ توڑ سوالات کرتے صحافی۔

عمران خان Imran Khan زرداری اور شریف خاندان پر برس رہے تھے۔ میں نے غور سے دیکھا تو وزیر اعظم Prime Minister کے ارد گرد اوریجنل پی ٹی آئی PTI کا ایک بھی وزیر نظر نہ آیا۔ یہ سب نئی پی ٹی آئی PTI تھی جو خان کے ارد گرد بیٹھی تھی۔

اچھی بات یہ ہے کہ ہر صحافی کو عمران خان Imran Khan سے مرضی کا سوال کرنے کی اجازت ہے۔ کوئی کچھ بھی پوچھ سکتا ہے اور عمران خان Imran Khan اسے جواب دیتے ہیں۔ نواز شریف Nawaz Sharif جب تک وزیر اعظم Prime Minister رہے وہ کبھی صحافیوں سے نہ ملے اور اگر ملے بھی تو اپنی پسند کے چند گنے چنے صحافیوں سے۔ وہ ملاقاتیں سوال و جواب یا حکومت کی کارکردگی سے زیادہ ''مشورے‘‘ لینے کے لیے کی جاتی تھیں۔ حکمران صحافی سے جب کوئی مشورہ مانگ رہے ہوتے ہیں تو وہ اپنے سے زیادہ سیانا یا قابل نہیں سمجھتے بلکہ ہم جیسے لوئر مڈل یا مڈل کلاس سے آنے والے صحافیوں کے سامنے انہیں اہمیت دینے کی اداکاری کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم پھول کر کپا ہو جاتے ہیں کہ دیکھیں ملک کا وزیر اعظم Prime Minister یا اپوزیشن لیڈر مشورے مانگ رہا ہے۔ اور ہم پوری سنجیدگی سے وزیراعظم یا سیاستدانوں کو مشورے دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ اندر ہی اندر قہقہے لگاتے ہوں گے۔

نواز شریف Nawaz Sharif اور شہباز شریف Shehbaz Sharif کی ایک بات کی داد دیتا ہوں کہ دونوں بھائی اس وقت صحافیوں سے گھل مل جائیں گے‘ ان سے مذاق کریں گے، جگتیں ماریں گے اور قہقہے بھی لگیں گے، حال احوال پوچھا جائے گا اور صحافیوں کی صحت کی بڑی فکر مندی دکھائی جائے گی جب وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ آپ کو چٹکلے بھی سنائیں گے۔ لندن میں وہ صحافیوں کی پلیٹوں میں کھانا بھی ڈالتے تھے۔ ضیاء الدین صاحب، ارشد شریف اس کے گواہ ہیں۔ میں شرط لگا سکتا ہوں کہ وزیر اعظم Prime Minister بننے کے بعد ایک دفعہ بھی انہوں نے ضیاء الدین یا ارشد شریف کو نہیں بلایا ہو گا کیونکہ یہ سب کچھ انہوں نے اپوزیشن کے دنوں کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے۔

عمران خان Imran Khan صاحب وزیر اعظم Prime Minister بننے کے بعد شروع ہی سے اسی لائن پر چل رہے ہیں۔ ان کے گرد ان کی جو پہلی میڈیا ٹیم تھی اس نے بڑی حد تک انہیں میڈیا سے دور کیا۔ وہ ٹیم یہ ایجنڈا لے کر سامنے آئی کہ باقی معاملات بعد میں دیکھیں گے‘ پہلے ذرا میڈیا کو سیدھا کر لیں۔ عمران خان Imran Khan نے بیس بائیس سال تک جو میڈیا ٹرائل فیس کیا‘ اس کے اثرات شاید وزیر اعظم Prime Minister بننے کے بعد مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ انہیں لگتا ہے‘ سارے میڈیا کو شریف خاندان نے خرید رکھا تھا‘ میڈیا نے ان کی ذات پر حملے کیے‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میڈیا بکا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تین مئی کو‘ جب دنیا بھر میں ورلڈ پریس فریڈم ڈے تھا‘ عمران خان Imran Khan نے میڈیا کے خلاف ٹویٹ کیا‘ جو ان کے خیال میں دراصل فیک نیوز کے خلاف تھا۔ حالانکہ یہی وہ میڈیا تھا جس کی مدد سے وہ وزیر اعظم Prime Minister بنے تھے کیونکہ میڈیا نے ہی شریف خاندان اور زرداری کی حکومتوں کو ایکسپوز کیا‘ جس کی وجہ سے ان کو اپنی جگہ بنانے میں آسانی ہوئی تھی۔ لیکن عمران خان Imran Khan ان برسوں میں جس میڈیا ٹرائل کا سامنا کرتے آئے ہیں‘ اس کے اثرات وقت گزرنے کے ساتھ گہرے ہوئے ہیں‘ کم نہیں ہوئے۔ ان کا ماننا ہے کہ شریف خاندان‘ جو برسوں سے پاکستان Pakistan پر حکمرانی کرتا آیا ہے‘ اب تک ہر محکمے میں اتنا اثر و رسوخ بنا چکا ہے کہ اس کے وفادار ہر جگہ موجود ہیں۔

عمران خان Imran Khan صاحب کی کتاب پڑھیں تو بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے اور نواز شریف Nawaz Sharif کے درمیان یہ سب سیاسی نہیں بلکہ ذاتی لڑائی ہے‘ اور عمران خان Imran Khan اس ذاتی لڑائی کا ذمہ دار شریف خاندان کو سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں جمائمہ خان سے شادی کی ناکامی کا ذمہ دار اپنی سیاسی اور اقتدار کی خواہشات کو نہیں ٹھہراتے بلکہ وہ اس کا پورا پورا الزام شریف خاندان کو دیتے ہیں‘جبکہ شریف خاندان سے پوچھیں تو وہ عمران خان Imran Khan کو سیاسی حملوں کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ مطلب وہی کہ پہلے انڈہ یا مرغی۔ پہلے عمران خان Imran Khan نے شریف خاندان پر سیاسی حملے شروع کیے یا پھر شریفوں نے ان کی ذات کو ٹارگٹ بنایا۔

عمران خان Imran Khan صاحب کو وزیر اعظم Prime Minister سیکرٹریٹ میں سنتے ہوئے احساس ہو رہا تھا کہ بہرحال جس نے بھی پہل کی‘ شریفوں اور عمران خان Imran Khan کے درمیان یہ جنگ اب ہرگز سیاسی نہیں رہی۔ یہ اب ذاتی لڑائی سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر دشمنی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عمران خان Imran Khan انہیں اپنا دشمن اس لیے سمجھتے ہیں کہ ان کے خیال میں شریفوں نے ملک لوٹا‘ اس لیے وہ ان کے ساتھ نہ این آر او کریں گے‘ نہ ہی جھکیں گے۔

اسی لیے جب بھی عمران خان Imran Khan کے سامنے شریفوں کا ذکر یا سوال کیا جاتا ہے تو ان کے چہرے پر پھیلتے ہوئے غصے کو دیکھ کر مجھے حیرت نہیں ہوتی۔ یہ بالکل وہی صورتحال ہے جب کبھی نواز شریف Nawaz Sharif کہتے تھے کہ پیپلز پارٹی کا نام سن کر ان کا لہو کھولنے لگتا ہے۔ اب یہی کچھ مجھے تب محسوس ہوتا ہے جب کوئی صحافی عمران خان Imran Khan سے شریف خاندان کے بارے میں سوال پوچھتا ہے۔

عمران خان Imran Khan صاحب کو احساس ہے کہ وہ جتنا آگے چلے گئے ہیں‘ وہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ اگرچہ کہا جاتا ہے سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی‘ کیونکہ یہی عمران خان Imran Khan لندن میں نواز شریف Nawaz Sharif سے جا کر ملتے بھی تھے اور جنرل مشرف کے خلاف مشترکہ الائنس کی باتیں بھی ہوتی تھیں‘ حالانکہ اس وقت تک طلاق ہو چکی تھی اور وہ اس کا سارا ملبہ شریف خاندان پر ڈالتے تھے۔ اس کے باوجود وہ شریفوں سے ملاقاتیں کر رہے تھے اور وہ سیاست کو اپنے ذاتی اختلافات اور غصہ پر ترجیح دے رہے تھے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ اگر وہ ذاتیات میں پھنس گئے تو سیاست سے آئوٹ ہو جائیں گے لہٰذا وہ اقتدار تک پہنچنے کے لیے اپنے بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی بیٹھنے کو تیار تھے۔ اگرچہ یہ اور کہانی ہے کہ انہی نواز شریف Nawaz Sharif نے پہلے عمران خان Imran Khan اور چند قوم پرستوں کو ساتھ ملا کر کہا تھا کہ وہ دو ہزار آٹھ کے الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے۔ عمران خان Imran Khan اس کھیل میں نئے تھے لہٰذا اس چکر میں آ گئے جبکہ شریفوں نے جا کر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا کے پنجاب میں اپنی حکومت بنا لی۔

اس دن عمران خان Imran Khan کو پھر احساس ہوا کہ سیاست تو بے رحم ہوتی ہے‘ یہاں وہی سکندر ٹھہرتا ہے جو عوام سے لے کر اپنے ساتھیوں اور سیاسی مخالفوں تک کو بھی بری طرح استعمال کر کے اقتدار میں پہنچ جائے۔ پھر عمران خان Imran Khan نے وہی کھیل کھیلنا شروع کیا جو شریف اور زرداری کھیلتے آئے تھے کہ سیاست میں کسی اصول، وعدے اور اخلاقیات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

لوگ آج تک ویسے ہی بے چارے میکاولی کو بدنام کیے ہوئے ہیں کہ وہ شہزادے کو گر سکھا رہا تھا کہ تم نے کیسے بے رحم حکمران بننا ہے۔ میکاولی تو شہزادے کو وہی کچھ سکھا رہا تھا جو وہ سیکھنا چاہ رہا تھا یا جو جذبات اور خیالات انسان کے اندر موجود تھے۔ اب بتائیں نواز شریف Nawaz Sharif کو میکاولی روزانہ حکومت کے اسرار و رموز سکھاتا تھا یا زرداری کا استاد میکاولی تھا؟ محض اس کی کتاب پرنس پڑھ لینے سے ہی کوئی حکمران نہیں بن جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو چھ سو سال پرانی کتاب دی پرنس پڑھ کر لاکھوں لوگ حکمران بن چکے ہوتے۔ کیا زرداری اور شریفوں کی کلاس میکاولی لیتا رہا ہے کہ کیسے اپنے مخالفوں کو استعمال کرنا ہے اور ان کی سیاسی لاشوں پر سے گزرتے اقتدار تک پہنچنا ہے؟ یا پھر عمران خان Imran Khan کو میکاولی بتاتا رہا ہے کیسے اپوزیشن کے دنوں میں کیے گئے تمام وعدوں اور دعووں سے مکر جانا اور وہ سب کام کرنے ہیں جن پر وہ اپوزیشن کے دنوں میں تنقید کرتے تھے۔ جن سیاستدانوں کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہنا ہے انہی کا اقتدار کیلئے دفاع بھی کرنا ہے۔

ہر بندے کے اندر ایک عدد چھوٹا بڑا میکاولی چھپا ہوتا ہے۔ میکاولی کہیں اور نہ تلاش کریں اپنے اندر تلاش کریں۔ جو بھی اقتدار کے بے رحم کھیل کا حصہ بنے گا یاد رکھیں اس کے اندر میکاولی کی روح پیدا ہو جائے گی۔ میکاولی ایک کیفیت کا نام ہے۔ انسان کا نہیں۔ میکاولی کو تو مرے صدیاں گزر گئیں‘ لیکن اس کی روح آج بھی ہر اس انسان میں موجود ہے جو اپنے جیسے دوسروں انسانوں پر حکومت کرنے کا خواہاں ہے‘ چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے!

 1181