احتسابی عمل میں تیزیاں!!!

Such Do Qadam Door

04 مئی 2019

احتسابی عمل میں تیزیاں!!!

احتسابی عمل میں تیزیاں!!!

کالم نگار::حمزہ میر!!

!!احتساب کا مطلب ہر اس بندے سے حساب لینا ہے جو حکومتی عہدے پر تعینات رہا ہو اور جو عہدہ اس کو ملے کسی بھی محکمے میں وہ پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے عہدے پر کام کرے اور جو پروجیکٹ اس کے ماتحت ہوں ان میں کوئی دونمبری نا ہو اگر کوئی شخص ان چیزوں میں غفلت کرے تو اس سے تمام چیزوں کا حساب لیا جائے- اس احتسابی عمل کی کہانی مسلمانوں کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ کے دور سے شروع ہوتی ہے اور مسلمانوں کو ہی یہ اعزاز حصل ہے کہ احتساب کا آغاز ان کے رسول نے کیا-حضرت محمدﷺ جب بھی کسی شخص کو کسی جگہ پر تعینات کرتے یا کسی عہدے پر تعینات کرتے تو اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھتے اور جب لوگ اس تعینات ہونے والے شخص کے خلاف کاروائی کرنے کی درخواست کرتے تو حضرت محمدﷺ اس شخص کے خلاف تحقیقات کرتے اور اگر اس شخص پر جرم ثابت ہو جاتا تو اس کو سخت سزا دی جاتی اس لیے اس دور میں لوگ دونمبری سے پرہیز کرت اور عوام کے حقوق کے لیے کام کرت تھے-

لیکن موجودہ دور میں کرپشن کی کہانیاں زبان زدے عام ہیں اور ایسا نہیں کہ کوئی ادارہ نہیں جو کرپشن اور بدعنوانی کی تحقیقات کرے،ادارے تو بنے جیسے اینٹی کرپشن اور نیب لیکن ان دونوں اداروں کو صرف سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائی کے لیے استعمال کی جاتی تھیں لیکن اب نیب کا ادارہ بلا تفریق ہو کر احتساب کر رہا ہے اور کسی شخص کو بخش نہیں رہا جس پر بھی بدعنوانی کا داغ ہے اس کے خلاف نیب تحقیقات کر رہا ہے اور اب تو حکومتی وزرا پر بھی ہاتھ ڈالا جا رہا ہے عبدالیعم خان کی گرفتاری بھی اسی منظر کی ایک کڑی ہے- پنجاب میں شریف اینڈ کمپنی ہیں جن پر کرپشن کے بےشمار الزامات ہیں جن میں صاف پانی کے لیے بنائی گئ 56 کمپنیاں ہیں جو بنائی تو گئی لوگوں کو صاف پانی کے لیے تھیں لیکن پھر چراغ میں روشنی نا رہی لوگوں کو صاف پانی تو نا ملا لیکن افسران اور سیاستدانوں کی جیبیں کرپشن کے پیسے سے خوب گرم ہوئیں، آشیانہ ہاوسنگ سکیم بنائی گئی لیکن آشیانہ کسی کو نا ملی لیکن شہبازشریف پھر بھی خادم اعلی برقرار رہے لوگ کھلے آسمان تلے سوتے رہے لیکن ہمارے محبوب قائد کے لندن اور دوسرے ممالک میں فلیٹ ضرور بنے اور جب نیب کا ادارہ خدا خدا کر کے گہری نیند سے جاگ گیا ہے اور وہ اب اپنے بننے کے اصل مقصد کو سمجھ گیا ہے اس لیے وہ اب ہر اس شخص سے پوچھ گچھ کر رہا ہے جنہوں نے ملک کے خزانوں کے ساتھ بےدردی سے کھیلا ہے یعنی انکل نیب جاگ گئے ہیں اب کرپٹ، چوروں کا انجام جیل ہے کیونکہ اب دو نہیں ایک نیا پاکستان Pakistan بن رہا ہے پہلے تو یہ نعرہ تھا "تم ہمارا پردہ رکھو ہم تمھارا پردہ رکھیں گے" لیکن عمران خان Imran Khan وزیراعظم پاکستان Pakistan نے یہ پردہ پھاڑ کر نا صرف پھینکا ہے بلکہ عوام کے سامنے سب کچھ کھول کر رکھ دیا ہے- دوسری طرف سندھ کے خزانے کا بیڑہ غرق کر دیا گیا اور سارا پیسا آصف زرداری کے بیرونی ملک قائم پراپرٹی پارک لین کی کمپنی کو بھیجے گئے اور اس کمپنی کے اکاوئنٹ میں پیسے ٹرانسفر کیے گیے اس کے لیے 32 جعلی اکاوئنٹ بنائے گئے ار تقریبا 535.5 ملین پیسے بھیجے گئے ملک ریاض کے داماد زین ملک نے بھی 266 ملین زرداری صاحب کی کمپنی کو بھیجے اور یہ ساری چیزیں جے-ٹئی-ٹی نے دستاویز کے ساتھ ثابت کی ہیں لیکن جب بات کی جائے تو بھٹو خطرے میں آ جاتا ہے ملک خطرے میں آ جاتا ہے اگر ان کے کیسز بند ہو جائیں تو زرداری کمیشن شاپ خاموش ہو جاتا لیکن اب نیب نے 30 ریفرنس زرداری خاندان کے خلاف دائر ہونے جا رہے ہیں اس لیے تو وزیراعلی سندھ مراد شاہ صاحب کو سندھ خطرے میں نظر آ رہا ہے جب احتسابی ڈنڈا نظر آیا تو ان کی چیخیں نکلنی شروع ہو گئیں ہیں-

اب بات آگے نکل پڑھی ہے اب تو سابق وزرا پر بھی نیب ہاتھ ڈال رہا ہے شاہد خاقان عباسی کے خلاف بھی نیب میں انکوائری کھل گئی ہے اور انہوں نے وزیر پٹرولیم ہوتے ہوئے قطر کے ساتھ () معاہدہ کیا تھا اس میں بےضابطگی پائی گئیں ہیں اور ملکی خزانے کو نقصان پہنچانے کا لازام ہے دوسری طرف کل رات کو نیب نے مسلم لیگ نواز کے رہنما کامران مائیکل کو گرفتار کر لیا ہے ان پر کرپشن کا الزام تھا کیا وزیر اس کو ہی بنایا جاتا ہے جو کرپشن کر سکتا ہے؟ پیپلزپارٹی کے رہنماوں کے کیسز بھی آخری مراحل میں ہیں اور کسی بھی وقت سندھ میں گرفتاریاں عمل میں آ سکتی ہیں جن لوگوں کے خلاف انکوائری ہو رہی ہیں ان میں موجودہ سینیر وزیر ناصر حسین شاہ جن پر وزیرتعلیم ہوتے ہوئے کرپشن کا الزام ہے، جام خان شورو،آعجاز جاکھرانی کے کیس بھی آخری مراحل میں ہے، سپیکر آغا سراج درانی کے کیسز بھی کھل گئے ہیں ان پر وزیر بلدیات ہوتے ہوئے اربوں کے گھپلوں کا الزام ہے ان کے کیسز آخری مراحل میں ہیں اور گرفتاری عمل میں آ گئی ہے اور نیب کو کھلی چھٹی دی گئی ہے اور نیب اس وقت جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں مکمل طور پر کام کر رہی ہے اور کسی کو نہیں بخشا جا رہا- حکومتی شخصیات کے لوگ بھی نیب کے رڈار پر ہیں وزیر دفاع پرویزخٹک کا کیس بھی آخری مراحل میں ہے جو پشاورمیٹرو کے متعلق ہے اور موجودہ وزیراعلی پختونخوا محمود خان کو تو نیب نے 2 مرتبہ بلایا ہے اور ان پر مالم جبہ کی آراضی کا کیس ہے موجودہ وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کے خلاف بھی تحقیقات ہو رہی ہیں اب کسی کو نہیں بخشا جائے گا اب ملکی خزانوں کو نقصان پہنچانے والوں سے پیسے لیے جائیں گے کیونکہ میرے گلشن کو بردردی سے لوٹا گیا ہے ان ملکی دولت کو لوٹنے والوں کو سزا دینی چاہیے اور عبرت ناک سزا دینی چاہیے تا کہ کوئی آگے سے کرپشن کا سوچے بھی نا-

 81