کیا شریفوں کی سیاست ختم ہوگئی؟

جر گہ - سلیم صافی

04 مئی 2019

kya shareefon ki siyasat khatam hogayi ?

المیہ یہ ہے کہ ایک ہوکر بھی شریفین ایک نہیں ۔میاں نوازشریف سیاست تو کرسکتے ہیں لیکن حکومت نہیں چلاسکتے اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif حکومت چلاسکتے ہیں لیکن سیاست نہیں کرسکتے ۔ میاں نوازشریف کو بہترین سیاست کاری کے نتیجے میں تین مرتبہ حکومت ملی لیکن اسے ایک مرتبہ بھی کامیابی سے نہیں چلاسکے ۔ اسی طرح میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif ہر مرتبہ بہترین منتظم ثابت ہوئے لیکن جب بھی سیاست کی مہار ان کے ہاتھ میں آئی وہ ناکام سیاستدان ثابت ہوتے رہے ۔ اب کی بار تو حادثہ یہ ہوا کہ میاں نوازشریف نے اپنے بیانیے سے میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کی حکومت کا اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif نے اپنے رویے سے میاں نوازشریف کی سیاست کا راستہ بند کردیا۔میاں نواز شریف Nawaz Sharif ضد سے کام لے کر اپنے بیانیے پر اصرار نہ کرتے تو میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کی حکومت ختم نہ ہوتی بلکہ آج وہ وزیراعظم ہوتے اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif دل سے ساتھ دیتے تو میاں نوازشریف کے سیاسی بیانیے کا وہ حشر نہ ہوتا جو ہوگیا۔

کسی اور کو الزام دینا مناسب نہیں بلکہ اس گھر کو گھر کے چراغ سے ہی آگ لگی۔ میاں نوازشریف نے میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif نے میاں نوازشریف کو اس انجام سے دوچار کیا۔ نوازنے شہباز کی حکمت عملی کو کامیاب نہیں ہونے دیا تو شہباز نے نواز شریف Nawaz Sharif کے بیانیے کو ناکام بنایا ۔ وہ گڈکاپ(Good Cop) اور بیڈ کاپ(Bad Cop) کھیل کر پورے ملک سے کھیلنا چاہ رہے تھے لیکن اس کھیل کھیل میں اپنے آپ کو خراب کر بیٹھے۔ دوران حکومت تو پھر بھی گڈ کاپ اور بیڈ کاپ کسی حد تک فائدہ مند ہوسکتا تھا لیکن انہوں نے دوران الیکشن بھی اپنے بیانیے کو ایک نہیں کیا۔ آخروہ فوج کوئی جنگ کیسے جیت سکتی ہے جس کا چیف دشمن کو للکاررہا ہو لیکن اس کا چیف آف جنرل اسٹاف لڑائی کے نقصانات بیان کرکے دن رات دشمن کی قدم بوسی میں لگا ہوا ہو۔نواز شریف Nawaz Sharif اور شہباز شریف Shehbaz Sharif نے یہ غلط طریقہ اختیار کیا اور جنگ ہار گئے۔

گزشتہ پانچ سالوں کے دوران میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کی پالیسیوں کا یہ تضاد اپنی جگہ موجود تھابلکہ بچوں تک بھی منتقل ہوگیا تھا۔ دونوں کے مشیر اور خوشامدی بھی الگ الگ تھے۔ میاں نوازشریف کو خواجہ آصف ، اسحاق ڈار، احسن اقبال اورعرفان صدیقی نے گھیرے میں لے رکھا تھا جبکہ شہباز شریف Shehbaz Sharif چوہدری نثار علی خان کے یار غار بنے ہوئے تھے۔ میاں نوازشریف کو اپنے مشیروں کا گروپ باور کرارہا تھا کہ وہ پاکستان Pakistan کےطیب اردوان ہیں جنہیں سویلین بالادستی کے لئے جارحانہ رویہ اپنانا چاہئے جبکہ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور چوہدری نثار علی خان زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر مفاہمت کی تلقین کررہے تھے۔ بدقسمتی سے عرفان صدیقی صاحب جیسے لوگوں نے مریم نوازصاحبہ کو بھی اپنا ہم نوا بنالیا تھا۔ چوہدری نثار علی خان تو کھل کر سامنے آگئے اور نتائج بھی بھگت لئے لیکن شہباز شریف Shehbaz Sharif بوجوہ ایسا نہ کرسکے بلکہ انہوں نے چوہدری نثار کو بھی تنہا چھوڑ کر خود کو پارٹی میں مزید تنہا کردیا ۔ شہباز شریف Shehbaz Sharif اگر انتخابات سے قبل سختی کے ساتھ اپنے بھائی کو مذکورہ گروپ کے نرغے سے نکال کر پوری طرح اپنا ہمنوا بنالیتے تو آج وہ ملک کے وزیراعظم ہوتے لیکن انہوں نے تو بھائی کو سختی سےروکا اور نہ خود صدق دل سے ان کے ہمنوا بنے ۔ اور تواور جب ان کے بھائی اور بھتیجی انقلابی بیانیے کے ساتھ گرفتاری دینے پاکستان Pakistan آئے تو شہباز شریف Shehbaz Sharif گڈکاپ بننے کے چکر میں ان کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ تک بھی نہیں پہنچ سکے۔ دوسری طرف نوازشریف کے بیانیے کی وجہ سے وزارت عظمیٰ تو کیا شہباز شریف Shehbaz Sharif پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے بھی محروم ہوگئے۔ ادھر شہباز شریف Shehbaz Sharif کا بیانیہ نوازشریف کے کسی کام نہ آسکا ۔ نوازشریف تو کیا بلکہ مریم نواز Maryam Nawaz کو بھی جیل جانا پڑگیابلکہ انتخابات کے بعد قیدو بند کا سلسلہ خود شہباز شریف Shehbaz Sharif تک بھی دراز ہوگیا۔ چنانچہ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif نے ایک بار پھر اپنے بھائی کو بیانیہ بدلنے کے لئے آمادہ کرنا شروع کیا اور اتنی کامیابی ضرورحاصل کرلی کہ انہیں بیٹی سمیت زبان بندی پر آمادہ کرلیا۔ یہاں سے ڈیل کے سلسلے کا آغاز ہوگیا اور فریقین ایک دوسرے کو ڈھیل دینے لگے۔ اسی ڈھیل کے تحت نواز شریف Nawaz Sharif اور مریم نواز Maryam Nawaz نے چپ کا روزہ رکھ لیا اور اسی کے تحت شہباز شریف Shehbaz Sharif کے ساتھ ساتھ میاں نوازشریف کو بھی رعایتیں ملنے لگیں لیکن دوسری طرف مسئلہ یہ درپیش تھا کہ ڈھیل دینے والوں سے عمران خان Imran Khan صاحب بدظن ہونےلگے۔ اگرچہ شریفوں کو ڈھیل دینے والے عمران خان Imran Khan کی بہتری کے لئے ڈیل کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن خود ان کو یہ ڈیل اپنی سیاست کی موت نظر آرہی تھی جس کی وجہ سے انہوں نےایسے اقدامات شروع کروائے جس کی وجہ سے ڈیل ناکام ہوتی نظر آنے لگی۔ دوسری طرف شہباز شریف Shehbaz Sharif اپنے بھائی اور بھتیجی کو خاموشی پر تو آمادہ کرچکے تھے لیکن ڈیل کی مزید شرائط ان سے نہ منوا سکے ۔ چنانچہ نہ صرف ڈھیل ڈیل میں نہیںبدل سکی بلکہ ڈھیل دینے والے شہباز شریف Shehbaz Sharif سے بھی ناراض ہوگئے اور ان کے گرد بھی گھیرا تنگ ہوگیا۔ دوسری طرف پراسرار خاموشی کے نتیجے میں وہ انقلابی حلقے بھی مایوس ہوگئے جو نوازشریف کو پاکستان Pakistan کا طیب اردوان سمجھ بیٹھے تھے اور اب لگتا ہے کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کا بیانیہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہا ۔یوں بظاہر مسلم لیگ (ن)

نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے رہے

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم

والی کیفیت سے دوچار ہے۔ لیکن میرا عاجزانہ تجزیہ یہ ہے کہ ڈھیل اور ڈیل کا سلسلہ اب بھی ختم نہیں ہوگا بلکہ شاید فریقین کی طرف سے کوششیں مزید زور پکڑ جائیں۔یہ پاکستان Pakistan ہے ، جہاں سیاست کے سینے میں دل بھی نہیں اور اس کی آنکھ شرم سے بھی عاری ہے۔ یہاں سب کچھ مجبوری اور ضرورت کے تحت ہوتا ہے ۔ شریف برادران اپنی سیاست ہار چکےہیں لیکن عمران خان Imran Khan ان کو ضرورت بنا کر ہی چھوڑیں گے۔بعینہٖ اس طرح جس طرح شریفوں کے رویے نے عمران خان Imran Khan کو ضرورت بنا دیا تھا۔

 286