موجودہ حکومت میں وزارتوں کی تبدیلی



حالیہ دنوں میں اہم وزارتوں کی تبدیلی ہوئی حتیٰ کہ پی ٹی آئی کا دماغ کہلانے والے اسد عمر کو بھی وزارت خزانہ سے فارغ کر دیا گیا۔ جہاں پر پی ٹی آئی کے حامی اس تبدیلی کو ایک انقلاب کے طور پر پیش کررہے ہیں وہین پر حزب اختلاف کی جماعتیں اس ساری صورتحال پر حکومت پر شدید تنقید کرتی نظر آتی ہیں

اگر ہم ان تبدیلیوں کو دیکھیں تو وزارت کلاس میں چوہدری فواد کی جگہ فردوس عاشق اعوان نے لی وہیں پر وزارت خزانہ کا قلمدان اب عبدالحفیظ شیخ کے پاس ہے دونوں میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں ہی پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت سے ہیں اور انہیں وزارتوں کے اوپر کام کرتے تھے۔ اگر آپ تھوڑا سا غور سے دیکھا جائے تو عمران خان کے اردگرد موجود اہم وزارتوں پر لوگ سب کے سب ادھار لیے گئے ہیں ان میں پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن موجود نہیں ہاں البتہ عمران خان کے ذاتی دوست آپکو ضرور نظر آئیں گے۔

جہانگیر ترین علیم خان اور اب اسد عمر ، پی ٹی آئی کی تینوں نمایاں لیڈروں کے پاس اب کوئی پورٹفولیو نہیں۔ اگر ہم یہ ماننے کہ عمران خان نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کی قربانی دی ہے تو پھر یقینا آنے والے نئے چہرے ان سے بہتر ہوں گے اس کے برعکس ہم جانتے ہیں کہ فردوس عاشق اعوان کم ازکم فواد چوہدری سے بہتر نہیں اور اسی طرح عبدالحفیظ شیخ پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ تھے اور ان پر بھرپور تنقید ہوتی رہی ۔ کیا ہم بحیثیت قوم زرداری دور کی بدترین حکومت کو بھول گئے؟ کیا عمران خان اس قوم کو یہ پیغام دیتے نظر آتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت بری تھی مگر پیپلز پارٹی کی بہتر تھی؟

کپتان بننے کے بعد عمران خان نے ماجد خان کو ٹیم سے اس لئے نکال دیا کہ وہ پرفارم نہ کر پا رہے تھے اسی چیز کو پارلیمنٹ کے موجودہ تبدیلی سے مشابہت دی جارہی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ تبدیلی بہتری کے لیے ہے۔ ماجد خان کو نکال کر ان سے بہتر کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا تھا جبکہ مجودہ صورتحال میں اسد عمر کو نکال کر عبدالحفیظ شیخ کو جو کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے تحفظ کا خیال رکھیں گے؛ کو موقع دیا گیا ہے. نہ صرف یہ کہ وہ اور ان کی اولاد امریکی شہری ہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ وزارت خزانہ کو عوام کے لیے نہیں بلکہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے نقطہ نظر سے چلائیں گے۔

دوسری طرف فواد چوہدری کا سارا ہنر ھی ان کے بولنے میں تھا۔ وہ صحیح بات کا دفاع کر رہے ہو یا غلط بات کا ، حزب اختلاف کو لاجواب کر دیتے تھے۔ فردوس عاشق اعوان بولنے کے ہنر میں ماہر نہیں ان کا سارا ہنر اس تابعداری میں ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی اس تبدیلی سے خوش ہیں تم ان کو بھی مبارک ہو کہ نون لیگ کے حامیوں کو اگر پٹواری کہا جاتا تھا تو ابھی اپنے لیے کوئی ایسا ہی نام منتخب کرلیں۔ عمران خان کا اپنے الفاظ کے چناؤ کا مسئلہ تو تھا ہی اب ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کے چنائو میں بھی ان کو مسئلہ ہے۔ خوشامدیوں اور وزارتوں کی بھوک کو لوگوں میں گھیرے عمران خان کیا تبدیلی لے کے آئیں گے یہ سمجھنا اب زیادہ مشکل نہیں۔

 344