موجودہ حکومت میں وزارتوں کی تبدیلی

04 مئی 2019



حالیہ دنوں میں اہم وزارتوں کی تبدیلی ہوئی حتیٰ کہ پی ٹی آئی کا دماغ کہلانے والے اسد عمر کو بھی وزارت خزانہ سے فارغ کر دیا گیا۔ جہاں پر پی ٹی آئی کے حامی اس تبدیلی کو ایک انقلاب کے طور پر پیش کررہے ہیں وہین پر حزب اختلاف کی جماعتیں اس ساری صورتحال پر حکومت پر شدید تنقید کرتی نظر آتی ہیں

اگر ہم ان تبدیلیوں کو دیکھیں تو وزارت کلاس میں چوہدری فواد کی جگہ فردوس عاشق اعوان نے لی وہیں پر وزارت خزانہ کا قلمدان اب عبدالحفیظ شیخ کے پاس ہے دونوں میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں ہی پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت سے ہیں اور انہیں وزارتوں کے اوپر کام کرتے تھے۔ اگر آپ تھوڑا سا غور سے دیکھا جائے تو عمران خان Imran Khan کے اردگرد موجود اہم وزارتوں پر لوگ سب کے سب ادھار لیے گئے ہیں ان میں پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن موجود نہیں ہاں البتہ عمران خان Imran Khan کے ذاتی دوست آپکو ضرور نظر آئیں گے۔

جہانگیر ترین علیم خان اور اب اسد عمر ، پی ٹی آئی کی تینوں نمایاں لیڈروں کے پاس اب کوئی پورٹفولیو نہیں۔ اگر ہم یہ ماننے کہ عمران خان Imran Khan نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کی قربانی دی ہے تو پھر یقینا آنے والے نئے چہرے ان سے بہتر ہوں گے اس کے برعکس ہم جانتے ہیں کہ فردوس عاشق اعوان کم ازکم فواد چوہدری سے بہتر نہیں اور اسی طرح عبدالحفیظ شیخ پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ تھے اور ان پر بھرپور تنقید ہوتی رہی ۔ کیا ہم بحیثیت قوم زرداری دور کی بدترین حکومت کو بھول گئے؟ کیا عمران خان Imran Khan اس قوم کو یہ پیغام دیتے نظر آتے ہیں کہ نواز شریف Nawaz Sharif کی حکومت بری تھی مگر پیپلز پارٹی کی بہتر تھی؟

کپتان بننے کے بعد عمران خان Imran Khan نے ماجد خان کو ٹیم سے اس لئے نکال دیا کہ وہ پرفارم نہ کر پا رہے تھے اسی چیز کو پارلیمنٹ کے موجودہ تبدیلی سے مشابہت دی جارہی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ تبدیلی بہتری کے لیے ہے۔ ماجد خان کو نکال کر ان سے بہتر کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا تھا جبکہ مجودہ صورتحال میں اسد عمر کو نکال کر عبدالحفیظ شیخ کو جو کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے تحفظ کا خیال رکھیں گے؛ کو موقع دیا گیا ہے. نہ صرف یہ کہ وہ اور ان کی اولاد امریکی شہری ہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ وزارت خزانہ کو عوام کے لیے نہیں بلکہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے نقطہ نظر سے چلائیں گے۔

دوسری طرف فواد چوہدری کا سارا ہنر ھی ان کے بولنے میں تھا۔ وہ صحیح بات کا دفاع کر رہے ہو یا غلط بات کا ، حزب اختلاف کو لاجواب کر دیتے تھے۔ فردوس عاشق اعوان بولنے کے ہنر میں ماہر نہیں ان کا سارا ہنر اس تابعداری میں ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی اس تبدیلی سے خوش ہیں تم ان کو بھی مبارک ہو کہ نون لیگ کے حامیوں کو اگر پٹواری کہا جاتا تھا تو ابھی اپنے لیے کوئی ایسا ہی نام منتخب کرلیں۔ عمران خان Imran Khan کا اپنے الفاظ کے چناؤ کا مسئلہ تو تھا ہی اب ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کے چنائو میں بھی ان کو مسئلہ ہے۔ خوشامدیوں اور وزارتوں کی بھوک کو لوگوں میں گھیرے عمران خان Imran Khan کیا تبدیلی لے کے آئیں گے یہ سمجھنا اب زیادہ مشکل نہیں۔

 85