پاکستان Pakistan پر عالمی دباؤ ختم ہوگیا ؟

03 مئی 2019

Pakistan par Aalmi dabao khatam ho gaya

پاکستان Pakistan پر عالمی دباؤ کا ایک حصہ ختم ہو گیا ہے جس میں کہا جاتا تھا کہ کالعدم جیش محمد تنظیم کے مبینہ سربراہ مسعود اظہر پاکستان Pakistan میں چھپے ہوئے ہیں، امریکہ United States ان کو عالمی دہشت گرد قرار دینا چاہتا تھا۔ یہ مرحلہ عبور ہو گیا ہے۔ چین China نے اس حوالے سے اپنے اعتراضات دور کر دئیے ہیں اس طرح سے بھارت India کی یہ دیرینہ خواہش اور حسرت بھی پوری ہوگئی کہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دلوا دیا جائے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان Pakistan کی بھی جان چھوٹ گئی ہے۔ پاکستان Pakistan کو ہر کچھ عرصے کے بعد اس کا جواب دینا پڑتا تھا تاہم اس سے جڑی بڑی دلچسپ بات ہے کہ بھارتی Indian ایما پر امریکہ United States ، برطانیہ، فرانس نے مسعود اظہر کے خلاف جب قرارداد پیش کی تھی تو ان کو پلوامہ Pulwama حملے میں ملوث قرار دیا گیا تھا لیکن پاکستان Pakistan کی سفارتی کوششوں اور چین China کے ایک مضبوط اعتراض کی وجہ سے مسعود اظہر کو ان دونوں معاملات سے علیحدہ کر دیا گیا ہے جس کو بھارت India کی شکست فاش سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور خود بھارت India میں اس حوالے سے مودی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے۔

نریندر مودی narendra modi اس وقت الیکشن میں ہیں اور اقوام متحدہ کے اس فیصلے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ کہا جا رہا ہے مودی کو الیکشن کے آخری مرحلے میں اس کا بہت فائدہ ہوگا یہ بھی بڑی اہم بات ہے کہ اقوام متحدہ نے مسعود اظہر کو نہ کشمیر کی آزادی کی تحریک سے جوڑا نہ ہی پلوامہ Pulwama حملے سے جوڑا ہے۔ جیسے ہی یہ فیصلہ ہوا پاکستان Pakistan نے اعلان کیا کہ وہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کی حمایت جاری رکھے گا۔

ادھر بھارتی Indian کانگریس کے ترجمان نے ٹویٹ کی ہے کہ ہمیں مایوسی ہوئی ہے کہ اس فیصلے میں پلوامہ Pulwama حملے اور جموں و کشمیر Kashmir کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس حوالے سے سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پوری دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان Pakistan ذمہ دار ملک ہے۔ دیکھنا ہوگا پاکستان Pakistan پر اس فیصلے کے کیا اثرات پڑیں گے انھوں نے کہا کہ کسی بھی کالعدم تنظیم کو سپورٹ نہیں ملنی چاہئے، پاکستان Pakistan کے پاس موقع ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کرے پاکستان Pakistan وہ تمام اقدامات کرے جو اس پر لازم ہو جاتے ہیں۔ ہمیں کسی فرد کے ساتھ کسی قسم کا لگاؤ یا محبت نہیں ہونی چاہئے بلکہ یہ لگاؤ اور محبت پاکستان Pakistan کے ساتھ ہونی چاہئے ہمیں اس فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا چاہئے، ہمیں اس موقع سے ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

 38