بڑھتا سیاسی تناؤ اور ڈوبتی ملکی معیشت

Dr. M.M.Taqi

02 مئی 2019

بڑھتا سیاسی تناؤ اور ڈوبتی ملکی معیشت

سیاستدانوں کی آئے روز باہمی چپکلش اور لفظی جنگ کے باعث اہم قومی امور اور عوامی مسائل پس پشت چلے گئے ہیں. حکمران جماعت کو اقتدار سنبھالے جلد ایک سال ہونے کو ہے مگر رویہ بدستور پوزیشن والا ہے. حکومتی امور پر گرفت, امور مملکت کی احسن طریق سے بجاآوری اور عوامی مسائل حل کرنا تو دور کی بات ابھی تک نہ ہاتھ باگ پہ نہ پاؤں رکاب میں.

حکمران جماعت صرف لفاظی, جذباتی نعرے بازی, اپوزیشن پر ہر وقت تنقیدی بیانات اور زمینی حقائق سے کہیں دور تخیالاتی دنیا میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے کا ارادہ رکھتی ہے تبھی تو قومی اور عوامی مسائل کی نشاندہی, ترجیحات کا تعین اور ان کی بجاآوری کے لئے مستند اور موزوں ٹیم کی تشکیل حکمران جماعت کے ایجنڈے پر کہیں نظر نہیں آتی.

حکومتی اراکین اسمبلی ہمہ وقت جائز و ناجائز طریقے سے وزارت یا کوئی اہم عہدہ پانے کی جستجو میں ہیں جبکہ موجودہ وزراء اور مشیران اپنے ذاتی مفادات اور عہدے بچانے کی دوڑ دھوپ کرتے نظر آتے ہیں.

کابینہ میں حالیہ اتھل پتھل نے حکمران جماعت کی اندرونی چپکلش کو مزید تلخ کر دیا ہے. اسد عمر نے اپنی وزارت گنوانے کے بعد اپنی ناپسندیدگی کا اظہار قومی اسمبلی میں دھواں دھار تقریر کی صورت میں کیا. جہاں انہوں نے بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری کے بیان کی اوٹ میں عمران خان Imran Khan کے نئے وزیر خزانہ کی ماضی میں ناقص کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیا. ہر وقت اپوزیشن پر چڑھ دوڑنے والا سابق انفارمیشن منسٹر فواد چوہدری ایک سیاسی خانہ بدوش کے ہاتھوں چت ہونے کے بعد منظرنامہ سے غائب ہیں. وہ کسی لیبارٹری میں سائنس کے بنیادی اصول سیکھ رہے ہیں یا تنہائی میں اپنا غم غلط کر رہے ہیں اس بات کا تعین آنے والا وقت ہی کرے گا. پنجاب کے گورنر چوہدری غلام سرور آلو چھولے بیچنے نہیں بلکہ جہانگیر ترین سے سیاسی پنجہ آزمائی پر آمادہ نظر آتے ہیں. غرض حکمران جماعت میں عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان مسائل کے حل کے لئے اقدامات کے علاوہ سب کچھ چل رہا ہے.

اپوزیشن کا حال بھی حکمران جماعت کی طرح پتلا ہے. ماضی کی ناقص حکمرانی, اقربا پروری, کرپشن, قومی خزانے سے بے دریخ لوٹ مار, بھاری سود پر بے تحاشہ غیر ملکی قرضے اور اس کے غلط استعمال کے باعث ملکی معیشت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ جلد غیر ملکی قرضے ہماری مجموعی قومی پیداوار کی 82 فیصد کےبرابر ہونے والے ہیں. روپیہ بے قدر اور ڈالر مہنگا ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث کمر توڑ مہنگائی, بےروزگاری اور کساد بازاری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے. ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے جس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑے گا. آئندہ 2سے 3سال معاشی مشکلات کے باعث حکومت چاہتے ہوئے بھی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے پائے گی.

اپوزیشن کا بیشتر وقت ماضی کے حکمرانوں کی مبینہ کرپشن کی ہوشربا داستان سے عوامی توجہ ہٹانے پر صرف ہو رہا ہے. احتساب سے بچنے کے لئے شور شرابا اور غیر سنجیدہ رویہ اپنا رکھا ہے. خود وصیت کی پرچی کے توسط سے پارٹی چیئرمین بننے والے بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری عمران خان Imran Khan کو سلیکٹڈ وزیراعظم کہہ کر نہ صرف غیر پارلیمانی رویہ کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کرتے ہیں. اپوزیشن اور حکمران جماعت آپسی نورا کشتی کے باعث عوامی مسائل پس پشت چلے گئے ہیں.

حکومت کو چاہیے کہ اپنی تمام توجہ صرف احتساب پر مرکوز کرنے کے بجائے دیگر اہم قومی امور کو نمٹانے کے لیے ضروری اور بروقت اقدامات اٹھائے. کرپشن ہوئی ہے اور بے انتہا ہوئی ہے مگر یہ کرپشن صرف سیاست دانوں نے نہیں کی. سیاستدان آپس میں الجھ کر قوم کا مزید وقت اور وسائل برباد کرنے کے بجائے ماضی کی کرپشن پر ٹوتھ اینڈ ری کنسلیشن طرز کی کمیشن اور مستقبل میں کرپشن کی روک تھام کے کسی قابل عمل روڈ میپ پر اتفاق کریں جو آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے.

 39