وزیراعظم کا ماتم

قلم کمان - حامد میر

29 اپریل 2019

Wazir-e-Azam ka maatam

وہ درد بھرے لہجے میں خدا کے واسطے دے رہا تھا اور پاکستان Pakistan کی حکمران اشرافیہ کے سامنے فریادیں کر رہا تھا۔ یہ فریادی خود ایک وزیراعظم تھا۔ اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اراکین پارلیمنٹ، وزراء، بیوروکریٹس، اہم کاروباری شخصیات اور صحافیوں سے کہہ رہا تھا کہ خدا کے واسطے اِس پاکستان Pakistan کی قدر کرو، یہاں اِستحکام پیدا کرو، آپس میں اختلاف ضرور کرو لیکن اپنے لہجوں میں نرمی پیدا کرو۔ اہلِ پاکستان Pakistan کو ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اختیار کرنے کا واسطہ دینے والا یہ شخص پاکستان Pakistan کا وزیراعظم تو ہو نہیں سکتا کیونکہ پاکستان Pakistan کے اکثر وزرائے اعظم اقتدار میں آکر بہت سخت لہجے میں بات کرتے ہیں۔ اُس وزیراعظم کا نام راجہ فاروق حیدر خان تھا، جو آج کل آزاد جموں و کشمیر Kashmir کے وزیراعظم ہیں اور 27اپریل کی شب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں اولڈ راوینز یونین کے سالانہ عشایئے میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔ وہ اپنی مادرِ علمی میں 45سال کے بعد واپس آئے تھے۔ اسٹیج پر اُن کے ساتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسن امیر شاہ کے علاوہ تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر شہریار آفریدی بھی موجود تھے۔ راجہ فاروق حیدر خان کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے۔ اُنہوں نے پاکستان Pakistan کی سیاست پر کوئی بات نہیں کی لیکن دو تین مرتبہ شہریار آفریدی کو مخاطب کر کے کہا کہ ہمیں اپنے لہجے نرم کرنا ہوں گے۔ لہجے نرم کرنے کا مطلب قطعاً یہ نہیں تھا کہ وہ کسی سے کوئی رعایت مانگ رہے تھے، اُس کا مطلب صرف اِتنا تھا کہ اپنے رویوں میں برداشت پیدا کی جائے۔ اولڈ راوینز یونین نے انتہائی کشیدہ سیاسی ماحول میں ایک دوسرے کے مخالف سیاستدانوں کو اپنے سالانہ عشایئے میں ایک اسٹیج پر جس مقصد کے تحت بٹھایا تھا، راجہ فاروق حیدر خان اپنی منت سماجت کے ذریعہ اُس مقصد کو آگے بڑھا رہے تھے۔ اُن کی منت سماجت اپنی ذات کے لئے نہ تھی۔ یہ منت سماجت پاکستان Pakistan اور جموں و کشمیر Kashmir کے لئے تھی۔ اپنے زمانہ طالب علمی کی یادوں کو تازہ کرنے کے بعد راجہ صاحب ہمیں خدا کے واسطے دینے لگے۔ ایک شعلہ بیان سیاستدان اپنی آنکھوں کے آنسو روکتے ہوئے لاہور والوں کو بتانے لگا کہ آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب علاقوں میں کیا ہوتا رہا ہے اور آج کیا ہو رہا ہے؟ ایل او سی کے پار پچھلے ستر سال سے کیا ہو رہا ہے؟ اپنے وقت کے بہت بڑے ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کو اُس کے منہ پر ’کاغذی فیلڈ مارشل‘ قرار دینے والے راجہ حیدر خان کا برخوردار راجہ فاروق حیدر خان بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنے دل کے زخم ہتھیلی پر رکھے اپنوں سے انصاف طلب کر رہا تھا۔ اُنہوں نے کشمیر کے ایک گائوں کا ذکر کیا، جہاں چالیس عورتوں کی عصمت دری ہوئی۔ پھر یاد دلایا کہ 13جولائی 1931کو سری نگر میں بیس مسلمانوں کو شہید کیا گیا تو 14؍اگست 1931کو لاہور میں علامہ اقبال نے باغ بیرون موچی دروازہ میں ایک جلسہ کیا اور کشمیریوں کے حق میں تحریک کا آغاز کیا۔ راجہ فاروق حیدر نے ایک دفعہ پھر اپنے آنسو روکے اور شکایت بھرے لہجے میں کہا کہ آج کشمیر میں روزانہ گولی چلتی ہے، روزانہ لاشیں گرتی ہیں، روزانہ عصمتیں لٹتی ہیں لیکن علامہ اقبال کے پاکستان Pakistan میں دفترِ خارجہ کا ترجمان ایک مذمتی بیان جاری کر کے خاموش ہو جاتا ہے۔ راجہ فاروق حیدر نے قدرے تلخ لہجے میں کہا کہ ہمیں صرف دفترِ خارجہ کے ترجمان کی مذمت نہیں چاہئے بلکہ اپنے لئے وہ اپنائیت چاہئے جس کا مظاہرہ علامہ اقبال اور قائداعظم نے کیا تھا کیونکہ پاکستان Pakistan ہماری منزل ہے، ہم تو مرنے کے بعد بھی پاکستان Pakistan کے پرچم کو اپنا کفن بناتے ہیں لیکن ہمارے ساتھ ہونے والے ظلم کو آپ لوگ نظر انداز کر رہے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ اگلے جہان میں آپ کی پکڑ ہو۔ راجہ فاروق حیدر خان کی تقریر اب ماتم بن چکی تھی۔ آہ و بکا اور ’سیاپا‘ بن گئی تھی۔ میرے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک رکن صوبائی اسمبلی نے مجھے بتایا کہ ہم نے تو بھارت India کے خلاف قرارداد پاس کی تھی۔ میں نے کہا جب ایل او سی پر بھارتی Indian گولہ باری سے عورتیں، بچے اور بوڑھے مارے گئے تو کیا پاکستان Pakistan کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی نے اظہارِ یکجہتی کے لئے ایک وفد مظفرآباد بھیجنا گوارا کیا؟ ایم پی اے صاحب نے زور زور سے سر ہلا کر کہا: بالکل درست کہا آپ نے، بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ راجہ فاروق حیدر کا ماتم جاری تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ سری نگر کے مزارِ شہداء میں مقبول بٹ اور افضل گرو کی قبریں خالی ہیں۔ دونوں کو پھانسی دینے کے بعد دہلی کی تہاڑ جیل میں دفن کر دیا گیا، اب یاسین ملک کو بھی تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے لیکن آپ کو ہماری زیادہ فکر نہیں ہے، آپ تو آپس میں لڑے جا رہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ کاش راجہ فاروق حیدر خان کا یہ ماتم اُن اہلِ اختیار تک بھی پہنچ جائے جو یہ طے کر کے بیٹھے ہیں کہ بھارت India کے حالیہ انتخابات میں بی جے پی BJP کو بہت بڑی اکثریت ملنے والی ہے اور اُس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مہربانی سے نریندر مودی narendra modi مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر پاکستان Pakistan کے ساتھ مذاکرات شروع کر دے گا۔ حالات وواقعات بتا رہے ہیں کہ مودی کو لینڈ سلائیڈ وکٹری نہیں ملے گی۔ کانگریس اور اُس کے اتحادی توقعات سے زیادہ نشستیں حاصل کر سکتے ہیں لیکن بھارت India میں جو بھی اقتدار میں آئے گا وہ کشمیر کو آزادی نہیں دے گا۔

راجہ فاروق حیدر نے اپنی لمبی تقریر میں کہیں پر یہ نہیں کہا کہ پاکستان Pakistan کی طرف سے بھارت India پر حملہ کر دیا جائے۔ وہ تو صرف یہ فریاد کر رہے تھے کہ خدا کے واسطے آپس میں اتحاد پیدا کرو کیونکہ کشمیریوں کی آخری منزل اور آخری امید پاکستان Pakistan ہے۔ اولڈ راوینز یونین کی اِس تقریب میں یونیورسٹی کے ڈین، فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر خالد منظور بٹ نے یہ افسوسناک خبر بھی سنائی کہ یونیورسٹی کے ایک سینئر استاد پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی وفات پا گئے ہیں۔ یہ وہ عظیم شخصیت تھی جس نے اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی یونیورسٹی کے اینڈوومنٹ فنڈ میں جمع کرا دی تاکہ غریب بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے ہو سکیں۔ ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی کی وفات کی خبر اور راجہ فاروق حیدر خان کے ماتم نے طبیعت کو بہت بوجھل کر دیا اور میں کھانا کھائے بغیر ہی وہاں سے اٹھ گیا۔ واپسی پر میں دل ہی دل میں راجہ فاروق حیدر خان کا شکریہ ادا کر رہا تھا کہ آج اُنہوں نے پاکستان Pakistan کے دل لاہور میں اُس ماتم کی آواز پہنچائی، جو روزانہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی کسی نہ کسی گلی اور کوچے میں گونجتی ہے۔

 190