یوٹرن اور پاکستان کی تاریخ--------------------------

یوٹرن اور پاکستان کی تاریخ--------------------------

یوٹرن اور پاکستان کی تاریخ-----------------------------------

تحریر حمزہ میر-----------------------------------------------

----پاکستان کی سیاسی اورملکی تاریخ یوٹرن سے بھرپور ہے سب سے پہلا یوٹرن سرسید احمد خان نے لیا وہ دو قومی نظریے کے مخالف تھے اور ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اور ہندو ایک قوم ہیں لیکن مفکر پاکستان علامہ اقبال کی پرجوش شاعری، حالات کے تناظر اور نوابزادہ برادران نے ان کا موقف تبدیل کر دیا البتہ کچھ دیر تک علامہ اقبال بھی دو قومی نظریہ کے مخالف تھے لیکن حالات نے خود ہی ان کو الگ ریاست کے لیے قائل کر لیا۔ دوسرا تاریخی یوٹرن پاکستان کی بنیاد رکھنے والے اور بانی پاکستان محمد علی جناح نے لیا، محترم جناح صاحب پہلے کانگرس کے لیدڑ تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ کانگرس تو صرف ہندوں کو سامنے لا رہی ہے جو مطالبات کیے جاتے ہیں ان میں بھی ہندوں کو سامنے رکھا جاتا ہے مسلمانوں کو پوچھا بھی نہیں جاتا اور کانگرس درحقیقت برطانوی حکومت کی ہی ترجمان جماعت ہے اور وہ مایوس ہو کر برطانیہ چلے گئے لیکن ایک شخص تھا جس نے منایا ان کو اور کہا کہ مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کی شدید ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں متحد ہونا پڑھے گا اور وہ کوئی اور نہیں مفکر پاکستان اور پاکستان کا خواب دیکھنے والے حضرت علامہ اقبال تھے اور ان کا ساتھ دیا سردار عبدالرب نشتر نے اور اس طرح قائداعظم نے بھی یوٹرن لیا برظانیہ سے واپس آئے اور الگ ریاست کے لیے جدوجہد شروع کی اور یوں پاکستان بننے کا آغاز ہوا، پاکستان بنتے ہوئے بھی بہت سے لوگ پاکستان کے مخالف تھے لیکن جب پاکستان بنا تو اقتدار اور زمینوں کی خاطر انہوں نے پاکستان کو قبول کیا-

بحثیت قوم ایک تاریخی یوٹرن ہم نے بھی لیا 1965 کے واحد صدارتی انتخاب میں جب پورے ملک سے58 ہزار کونسلر منتخب ہوئے اور انہوں نے ملک کا سربراہ چنا اور ہم لوگوں نے ایوب خان کے زیادہ تر لوگوں کو ووٹ دیا اور اس طرح ایوب خان کو منتخب کیا یہ وہ ہی واقع ہے جب ہم نے قوم کے قائد محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کی بجائے ہم لوگوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کو صدر بنایا کیا یہ قوم کا یوٹرن نہیں؟ 3 مارچ کو ڈھاکہ سے واپسی پر سابق صدر اور آرمی چیف یحیئ خان نے علان کیا کہ وزیراعظم پاکستان شیخ مجیب ہوں گے لیکن جب وہ ذولفقار علی بھٹو سے ملاقات کر کے واپس لاہور آئے تو انہوں نے ایسا یوٹرن لیا جس نے اس ملک کو دو ٹکرے کرنے میں چوٹی کا کردار ادا کیا یحیئ خان نے یوٹرن لیا اور اپنے اقتدار کو بڑھانے کے لیے ایسا کیا اور بھٹو کو وزیراعظم بنانے کا علان کیا یہ ایسا ہیبت ناک اور ظالم یوٹرن تھا کہ ممللکت خداد پاکستان دو لخت ہو گیا جنرل یحیئ کہ اس یوٹرن سے قائداعظم اور مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال کی اور جن لوگوں نے الگ ملک کے لیے قربانی دی تھی روح افسردہ اور دل خون کے آنسوں روتا ہو گا- بھٹو صاحب نے بھی یوٹرن لیا بھٹو صاحب جنرل ایوب کی کچن کیبنٹ کے ممبر تھے پہلے وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنے پھر وزیر خارجہ بنے لیکن اقتدار کی حوس نے ان کو بھی ان کا مخالف بنایا لیکن پھر ایسا یوٹرن لیا اور ایوب خان کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا مسٹر بھٹو کو ایوب خان اپنا بیٹا کہتے تھے لیکن اقتدار کا نشہ بڑا ظالم ہوتا ہے بھٹو نے یوٹرن لیا اور ایسا نعرہ لگایا جو لوگوں کے دل میں گھر کر گیا "روٹی، کپڑا اور مکان"اور اسی نعرے کی بدولت وہ اقتدار میں آ گے پیپلزپارٹی جو عمران خان پر یوٹرن کا الزام لگاتی ہے اگر ان سے پوچھا جائے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ بھٹو صاحب کے لیے حالات اور تھےتو پھر کہوں گا "خان کا یوٹرن تو یوٹرن لیکن بھٹو کا یوٹرن مصلحت"- یوٹرن کی ماں تو وہ معاہدہ ہے جو پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نے کیا "میثاق جمہوریت" اصل میں یوٹرن تو یہ تھا اور اس یوٹرن کو "" کہا جائے تو غلط نہیں- ماضی میں دونوں جماعتوں ایک دوسرے پر ایسے غلیظ الزام لگائے اور جہازوں کے زریعے ایک دوسرے کی تضحیک کرتے تھے جو الفاظ شیخ رشید بےنظیر کے لیے استعمال کرتے تھے وہ بتائے بھی نہیں جا سکتے اور جو الفاظ رانا ثنا نے مریم نواز کے خلاف کہے جب وہ پیپلزپارٹی میں تھے معافی ایسے الفاظ سوچے بھی نہیں کا سکتے لیکن پھر ایسے کایا پلٹی اور دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آ گیں اور دونوں جماعتوں کے بقول حالات کا تقاضہ تھا اب جب یہ خان صاحب کہ بیان پر تنقید کرتے ہیں کیا ان کو خوف خدا نہیں پیپلزپارٹی نے بھی یوٹرن لیا قاف لیف کق قاتل لیگ کہتے تھے لیکن اسی قاتل لیگ کے پرویزالہی کو ڈپیٹی وزیراعظم بھی بنایا یعنی اتنا بڑا یوٹرن کہ جس شخص پر بےنظیر کے قاتل کا الزام لگایا جاتا تھا اس کو ڈپٹی وزیراعظم بنایا اور مشرف کو ملک سے باہر جانے دیا پھر زرداری صاحب نے نوازشریف کو دھرتی کا ناسور کہا مودی کا یار کہا لیکن پھر اسی مودی کے یار کے ساتھ اپنے اربوں پیسے بچانے کے لیے اتحاد کر لیا دوسری طرف مسلم لیگ نواز کے لوگ بھی کہتے تھے زرداری کا پیٹ پھاڑ کر پیسے نکالیں گے، زرداری کرپشن کا بادشاہ ہے لیکن پھر یوں ہوا "ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے زرداری و نواز نا کوئی دھرتی کا ناسور رہا نا کسی کا پیٹ پٹھا پیسے نکالنے کے لیے"-

اصل میں یہ بات تب زبان زدے عام ہوئی جب 16 نومبر کو وزیراعظم عمران خان نے کچھ صحافیوں کے ساتھ گفتگو کی اور گفتگو کے درمیان ایک صحافی نے سوال کیا یوٹرن کے بارے میں اور ایسا لگا جیسے وزیراعظم اسی تاک میں تھے کہ یوٹرن کے بارے میں بات کی جائے کان میں پڑھی تو عمران خان نے نپولین اور ہٹلر کی مثال دی کہ اگر وہ یوٹرن لے لیتے تو شاید وہ بچ جاتے خان صاحب کی یہ منتق ناقابل فہم ہے ملک کو مدینہ کی ریاست بنانا ہے لیکن مثال نپولین کی خان صاحب نے کہا تو ٹھیک ہےکیونکہ حکومت میں آنے سے پہلے پالیسی سیاستدان کچھ اور سوچتے ہیں لیکن جب حکومت میں آتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ حالات تو ان کی پالیسی کے برعکس ہیں تو ظاہر ہے پھر یوٹرن لینا پڑتا ہے کیونکہ ان کو اقتدار میں آ کر پتا لگتا حالات کیسے ہیں لیکن خان صاحب اب تو شاید آپ نے احتساب پر بھی یوٹرن لیا ہے احتساب کے سسٹم کی سپیڈ کم ہو گئی ہے اور جن کو آپ نے جیلوں میں ڈالنا تھا ان کو سکون سے منسٹر کالونی میں رکھا ہوا ہے - آب نیت ٹھیک والا چورن نہیں سیل ہو گا کیونکہ آب آپ کو آئے 6 مہینے ہو گئے ہیں ہاں البتہ صحت کارڈ بہت احسن اقدام ہے لیکن ان جیسے بےشمار کام ابھی کرنے ہیں اور کہاں ہے آپ کی معاشی پالیسی جلدی کریں عوام صبر نہیں کر رہی حالانکہ 70 سال سے صبر کر رہی ہے عوام لیکن اب صبر نہیں ہوتا ان سے ۔

 297