پیسہ نہ پلے، ہار گھناں کہ چھلے!

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

28 اپریل 2019

Pesy na paly haar ghinna kay chally

پھر وہی ہم دوستوں کی رات گئے محفل اور ملکی حالات کا رونا۔

ہم بیٹھتے تو گپ شپ کیلئے ہیں لیکن بات پھر ملکی حالات پر پہنچ جاتی ہے۔ ارشد شریف، راجہ عدیل، خاور گھمن، علی، ضمیر حیدر مستقل‘ تو باقی یار دوست آتے جاتے رہتے ہیں۔ بات پھر وہیں سے چھڑ گئی ملک کا قرضہ بڑھ گیا ہے‘ کیا ہو گا۔ ڈالر آسمان کو چھو رہا ہے۔ حکومتوں کے پاس ایک ہی حل ہے۔ غیر ملکی قرضہ لے لو، مقامی بینکوں سے کمرشل قرضہ لے لو۔ پٹرول، بجلی، گیس کی قیمتیں بڑھا دو۔ نئے ٹیکس لگا دو۔ اگلے سال چوبیس ارب ڈالر billion dollor ز کے قرضے ہم نے واپس کرنے ہیں۔ یہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔ کوئی پتہ نہیں۔

ڈالرز کمانے کے چار طریقے ہیں۔ بیرون ملک سے پاکستانی گھر پیسے بھیجتے ہیں۔ ایکسپورٹس، ٹورازم اور آخری‘ راہداری فراہم کرکے کرایہ ڈالروں میں وصول کرتے ہیں۔ بھٹو صاحب آخری لیڈر تھے جنہوں نے کوششیں کیں جن کی وجہ سے آج بھی ڈالر پاکستان Pakistan آتے ہیں۔ بعد میں حکمرانوں نے عربوں سے ذاتی تعلقات بنائے لیکن مجال ہے مین پاور پر زور دیا ہو تاکہ ڈالر آتے اور اکانومی مضبوط پائوں پر کھڑی ہوتی۔ ہر حکمران ہمیں ایک ہی کہانی سناتا ہے‘ فلاں عرب ملک نے ایک لاکھ نوکریاں دینے کا کہا۔ یہ ایک لاکھ نوکریاں ابھی تک پاکستان Pakistan نہیں پہنچیں۔ پھر ہنر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی صرف تعمیراتی سیکٹر میں ہی کام کر سکتے ہیں۔ عربوں سے حکمرانوں کی دوستیاں مثالی ہیں۔ سب نے اپنی ذات کیلئے استعمال کیں ملک کیلئے نہیں۔

پیپلز پارٹی نے دو ہزار تیرہ میں حکومت چھوڑی تو ایکسپورٹس چوبیس ارب ڈالر billion dollor ز کی تھیں۔ ہمیں یہ منجن بیچا جاتا رہا کہ اگر تاجروں اور بزنس مینوں کی حکومت ہو تو ملک بہت ترقی کرتے ہیں‘ یہ زمینداروں اور جاگیرداروں جیسے فرسودہ لوگ بھلا کیا جانیں جدید دور میں حکومتیں کیسے چلاتے ہیں۔ ان تاجروں نے جب پانچ برس بعد حکومت چھوڑی تو ایکسپورٹس اٹھارہ سے بیس ارب ڈالر billion dollor ز تک گر چکی تھیں۔ یہ تھے تجربہ کار حکمران۔ خرم دستگیر صاحب آج کل ہر ٹی وی چینل پر مخالفین کے منہ بند کر رہے ہوتے ہیں لیکن انہی کے دور میں ایکسپورٹس چار ارب ڈالر billion dollor ز گریں جبکہ نواز شریف Nawaz Sharif نے انہی برسوں میں ایک سو سے زائد ممالک کے دوروں کے مزے لیے۔ جب بھی نئی حکومت آتی ہے تو تاجر اور بزنس مین وفد بنا کر وزیر اعظم Prime Minister ، وزیر خزانہ اور وزیر تجارت کو ملنے پہنچ جاتے ہیں۔ وہی پرانا راگ الاپا جاتا ہے کہ جناب پچھلی حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ۔ مارے گئے، لٹ گئے، برباد ہو گئے۔ ہمیں اگر نیا ریلیف پیکیج دیں تو ملکی خزانہ بھر دیں گے۔ پھر یہ سب مل کر اپنے لیے اربوں روپوں کا پیکیج لیتے ہیں جو عوام کی جیب سے ہی ان کی جیبوں میں جاتا ہے۔ پانچ سال بعد وہ پھر نئے وزیر اعظم Prime Minister کے سامنے بیٹھے وہی رام لیلا پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ فیورز لینے کے بعد بھی ایکسپورٹس کیوں نہ بڑھ سکیں؟ آج بھی اربوں ڈالرز کے لیپ ٹاپ اور فون امپورٹ ہو رہے ہیں۔ کسی نے کوشش نہ کی کہ یہی کارخانے پاکستان Pakistan میں لگائے جاتے جیسے بھارت India اور چین China کر رہے ہیں۔ جتنی رعایتیں پاکستانی تاجروں نے لی ہیں‘ شاید ہی کسی نے لی ہوں لیکن اربوں کے قرضے معاف، اوور اور انڈر انوائسنگ کے نام پر مال بنانے اور ڈیوٹی میں رعایتیں لینے کے بعد بھی یہ لوگ خوش نہیں ہیں۔ رہی سہی کسر اب سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں پوری کر دی گئی ہے کہ اکثر ایکسپورٹر ڈالرز کا ریٹ اوپر لے جا کر ایکسپورٹ بڑھاتے بھی ہیں تو فائدہ وہ خود اٹھاتے ہیں نہ کہ ملکی معیشت۔ وہ انہی ڈالروں کو واپس لانے کی بجائے ان سے بیرون ملک جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اور کرو ڈالر مہنگا!

اب رہ جاتا ہے ٹورازم۔ اس ملک میں کوئی کیسے آئے گا جہاں ایک سڑک بھی سلامت نہیں۔ روزانہ حادثوں میں لوگ مرتے ہیں اور حکمرانوں سے کہیں تو وہ کہتے ہیں: یہ ہمارا کام نہیں۔ ہر طرف گندگی ملتی ہے۔ شہروں کے شہر گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ تاریخی مقامات‘ جہاں ٹورسٹ کو دلچسپی ہو سکتی تھی وہ تباہ ہو چکے ہیں۔ سکھ خوش قسمت نکلے کہ وہ پنجاب سے تھے لہٰذا ان کے مقامات کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔ ہندوئوں کے مقدس مقامات کا برا حال ہے۔ ہر جگہ قبضے کر لیے گئے یا مندروں کو گرا دیا گیا۔ بھارتی Indian ہندو بڑی تعداد میں ہڑپہ، ٹیکسلا اور موہنجوداڑو آسکتے تھے لیکن یہ باتیں ہماری ترجیح نہ تھیں۔ ہمارے پاس نہ سڑکیں، نہ ہوٹل اور نہ ہی ہم نے بھارت India کی طرح تاریخی مقامات کو محفوظ رکھا ہے‘ جس سے ہم بھی اربوں ڈالرز کما سکتے تھے۔ ہر دفعہ شمالی علاقوں کے ٹورازم کی کہانی بیچی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس کوئی پلان نہیں ہے۔ آپ لاکھ آن لائن ویزہ کر دیں‘ جب تک آپ شہر صاف، سڑکیں ٹھیک، تاریخی مقامات کی حفاظت اور مرمت اور اپنے لوگوں کی تربیت نہیں کریں گے، کوئی نہیں آئے گا۔

اب آجائیں راہداری کے ایشو پر۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم کون لوگ ہیں۔ دنیا بھر سے بھیک مانگیں گے لیکن جو اپنا حق ہے وہ نہیں لیں گے کیونکہ ہمارا دل بہت بڑا ہے۔ امریکیوں کو گیارہ ستمبر کے بعد افغانستان Afghanistan میں اپنی فوجوں کیلئے پاکستان Pakistan سے راستہ چاہیے تھا۔ جنرل مشرف نے وہ راستہ دیا۔ دو ہزار تیرہ میں یہ راز کھلا جب فارن افیئرز کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر صغریٰ امام نے سرتاج عزیز اور جلیل عباس جیلانی سے پوچھا: پاکستان Pakistan نے امریکیوں سے فی کنٹینر کیا ڈیل کی تھی؟ جواب ملا: سب کچھ فری جا رہا ہے۔ صغریٰ نے پوچھا: جب سلالہ حملے کے بعد یہ کنٹینر بند ہوئے تھے تو پھر امریکہ United States نے کیسے سامان افغانستان Afghanistan پہنچایا؟ جواب ملا: ایک سینٹرل ایشیائی ملک سے۔ صغریٰ نے پوچھا: پھر اس ملک نے فی کنٹینر چارج کیا یا فری؟ جواب ملا: سترہ سو ڈالرز فی کنٹینر۔ صغریٰ نے پوچھا: آپ کیوں برسوں سے امریکہ United States کو فری راہداری دیے بیٹھے ہیں؟ جواب ملا: Goodwill کی خاطر۔ اندازہ کریں ہم اربوں ڈالرز کے مقروض ہیں اور ان کنٹینروں کے گزرنے سے ہر سال اربوں ڈالرز کما سکتے تھے لیکن ہم گڈول کے نام پر یہ سہولت مفت دیے ہوئے ہیں۔

کچھ پتہ نہیں کہ چین China کو ہم نے جو راہداری دی ہے کہ وہ گوادر Gawadar کے ذریعے دنیا تک پہنچے اور اپنا کاروبار بڑھائے تو اس کے بدلے ہمیں فی کنٹینر کیا ملے گا؟ چلیں چین China والے دوست ہیں۔ ہزار ڈالر فی کنٹینر نہ سہی پانچ سو ڈالر ہی دے دے۔ چین China خود راہداری سے ڈالرز کمائے گا تو ہمیں کیوں شیئر نہیں دے گا‘ جو ہمارا حق بنتا ہے؟ لیکن لگتا ہے وہ بھی گڈول کے نام پر مفت راہداری لے گا۔

ہم نے بھارتی Indian سکھوں کو کرتارپور تک مفت راہداری دے دی ہے۔ بڑا اچھا کیا۔ میں ٹی وی شوز میں چلاتا رہ گیا کہ خدا کیلئے کچھ فیس ڈالروں میں رکھ لو۔ آپ ہر سکھ کو انٹری فیس کے نام پر سو ڈالرز ہی لگا دیں‘ وہ خوش ہو کر دے گا۔ آپ ڈیلی، ویکلی، پندرہ روزہ، ماہوار یا سہ ماہی انٹری کارڈز جاری کریں اور ہر ایک کارڈ کا ڈالروں میں ریٹ مختلف ہو۔ بارڈر پر سٹیٹ بینک کی مشین رکھ دیں، جو سکھ آئے اسے انٹری کارڈ دیں اور کریڈٹ کارڈ سے ڈالرز میں فیس کاٹ لیں۔ ہر سال کروڑوں ڈالرز کما سکتے ہیں۔ لیکن پھر ہماری گڈول کا کیا بنے گا؟ سکھ کیا سوچتے کہ پاکستانی اتنے کنجوس ہیں‘ ڈالرز مانگتے ہیں۔ امریکیوں کو گڈول، چینیوں کو گڈول اور اب سکھوں کو بھی گڈول کے نام پر سب کچھ فری۔ ہم دنیا بھر سے بھیک مانگ کر یہ گڈول کب تک کرتے رہیں گے‘ جب پاکستان Pakistan ایک ایک ڈالر کیلئے ہاتھ پائوں ماررہا ہے؟

اے بے رحم حکمرانو! کچھ رحم کرو۔ پہلے خود کو سنبھال لیں پھر یہ گڈول اور حاتم طائی بننے کے ڈرامے کر لیجیے گا۔ اب ڈالرز آسمان سے ٹپکنے سے تو رہے۔ اپنی حالت تو وہی ہوچکی جو قیصرہ شفقت صاحبہ نے سرائیکی کہاوت میں لکھ بھیجی ہے۔

پیسہ نہ پلے، ہار گھناں کہ چھلے۔

( جیب میں ایک روپیہ نہیں، سوچتی ہوں ہار خریدوں یا انگوٹھی) ۔

جیب میں ایک ڈالر نہیں‘ ہم چلے ہیں امریکیوں، چینیوں‘ سکھوں کی گڈول لینے۔

خدا نے پاکستان Pakistan کو جغرافیائی طور پر بہترین موقع دیا تھا۔ ہم امریکیوں، چینیوں اور سکھوں سے اربوں ڈالرز کماتے لیکن ہم نے ڈالروں کی بجائے دنیا بھر سے بھیک، قرضے اور امریکیوں، چینیوں اور سکھوں کی Goodwill خریدنے کو ترجیح دی۔ ہمارے جیسے ''سیانے‘‘ بھلا دنیا میں کہاں پائے جاتے ہوں گے۔

 333