بیتے ہوئے دن کچھ ایسے ہیں

نا تمام - ہارون الرشید

28 اپریل 2019

بیتے ہوئے دن کچھ ایسے ہیں

آرزو ہے کہ ڈیوڈ یہاں آئے، گھومے پھرے اور دیکھے کہ پاکستانی مسلمان کیسی محبت سری لنکا والوں سے کرتے ہیں۔

گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار

لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

سری لنکا میں بیتے دل آویز دن یاد آتے ہیں تو ان دو آدمیوں کے چہرے حافظے کی لوح پہ جگمگا اٹھتے ہیں۔ پاکستانی سفارت خانے کا عیسائی ڈرائیور اور اس کی ہمیشہ باقی رہنے والی بشاشت۔ بھول رہا ہوں، فرض کیجیے، اس کا نام ڈیوڈ تھا۔ پاکستانیوں اور مسلمانوں کے ساتھ اس کی بے پناہ اور بے ساختہ الفت۔ اور ایک بڑی دکان کا وہ دلچسپ منیجر۔ کبھی اخبار نویس تھا لیکن پھر شاید اسے دست کاریوں سے شغف ہوا۔ اب اس میں وہ بہت منہمک تھا۔ بارش برستی رہتی ، بادل چھائے رہتے ، چاروں اور سبزہ ہی سبزہ۔ سارا ملک جیسے ایک باغ ہے ، سب لوگ جیسے میزبان۔

ملٹری اتاشی کرنل راجل کے ساتھ دکان میں داخل ہوئے اور احتیاط کے ساتھ اشیا کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ ان سے کہا کہ نوادرات لبھاتی بہت ہیں مگر بوجھ اٹھانے سے جان جاتی ہے۔ با ذوق آدمی نے مدد کرنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی بوٹا سے قد کے منیجر کی نظر پڑی، بھاگتا ہوا آیا۔ ''کیا آپ پاکستانی ہیں؟‘‘ راجل نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے کہا ''تو آپ پاکستان کے سفیر ہیں‘‘ شائستگی اور دھیمے پن کے ساتھ راجل بولے: جی نہیں، محض ایک سفارت کار۔ تیز رفتاری سے وہ دام وصول کرنے والی خاتون کی طرف لپکا اور کہا '' پانچ فیصد کم ‘‘ پھر وہ ہماری طرف بڑھا مگر اسی رفتار سے لوٹ گیا ''دس فیصد‘‘ اس نے کہا۔ ایک بے چینی اس کے رگ و پے میں تھی۔ آخر کو اس نے کہا ''پندرہ فیصد‘‘ شاید یہ منیجر کے اختیار کی آخری حد تھی۔

راجل نے میرا تعارف کرایا تو اس کی باچھیں کھل اٹھیں ''میں بھی صحافی تھا‘‘ اس نے کہا ''اور دفاعی معاملات پر لکھا کرتا۔ پاکستان نے ہماری بہت مدد کی‘‘۔ وہ اپنے کام کی طرف لپکتا لیکن پھر لوٹ جاتا۔ بار بار سوال کرتا کہ ہمارے لیے وہ کیا کر سکتا ہے۔

سامان سمیٹ لیا گیا، ادائیگی کر دی گئی مگر اس کی بے قراری قائم رہی ۔ پارکنگ تک الوداع کہنے آیا اور فرمائش جاری رکھی۔ جذباتی طور پر راجل ایک استوار آدمی ہیں۔ جلد خوش ، ناراض یا پُر جوش ہونے والے نہیں۔ پاک افغان سرحد پر ایک خوفناک حملے کے ہنگام وہ ایسے ہی پُر سکون رہے تھے ، گویا فرض کی ادائیگی کے سوا یہ کچھ بھی نہ ہو مگر اس واقعے کا کبھی ذکر نہ کرتے، حوالہ تک نہ دیتے۔ پاک فوج نے ایسے بہت سے سپوت جنے ہیں۔ ان کی تربیت کی، سنبھالا اور سنوارا۔ وہ اس سرزمین کا نمک ہیں۔ ہر حال میں فوج کو سیاست سے الگ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر افسوس‘ مگر ہم سب پہ افسوس۔

صبر و قرار کی تاب منیجر صاحب میں نہیں تھی ۔ آخر کو کرنل نے اس کی مان ہی لی۔ کہا کہ لکڑی کے ایک ٹکڑے پر وہ پاکستان کا سبز و سفید پرچم کھدوا دے۔

قدم قدم پہ پاکستانیوں کی پذیرائی کے منظر دیکھے۔ سیاحوں کے ہجوم میں مقامی لوگوں کی نگاہ محض تاجر کی ہو جاتی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ بحیثیتِ مجموعی حجاز مقدس بھی کوئی استثنیٰ نہیں۔ دراں حالیکہ سرکارؐ نے اس دیار کے مکینوں کو متنبہ کیا تھا۔ مفہوم یہ ہے: میرے مہمانوں کو دکان دار کی نظر سے نہ دیکھنا۔ سری لنکا میں کچھ لوگ سوا بھی تھے، مختلف بھی۔ پگھل جاتے ، آنکھیں چمک اٹھتیں۔

عینی شاہدوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل کولمبو کے سب سے بڑے ہال میں پاکستانی مصنوعات کی نمائش سجی تو میلے کا سا منظر ہو گیا۔ اس کے باوجود کہ بھارتی رسوخ اور کارندوں کے طفیل نمائشی بینر اتار ڈالے گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب اشیا فروخت ہو گئیں ۔چارپائی پہ پاکستانی تاجر بیٹھا تھا۔ ایک خریدار اس کے دام ادا کرنے پہ تلا رہا۔ تب ٹلا، جب وعدہ لے لیا کہ جاتے ہوئے اسے دے جائے گا۔ محبت لوگ پاکستان سے کرتے ہیں ، واسطہ چین سے رکھنا چاہتے ہیں مگر پروپیگنڈا بھی سب سے زیادہ چین کے خلاف تھا۔ یہ کہ اس نے ایک بندرگاہ ہتھیار لی۔ ہتھیا نہیں لی، یہ انہیں پیش کی گئی تھی۔ ایک زمانے سے خسارے میں تھی۔ کولمبو والوں کا خیال تھا کہ اسے وہ منفعت بخش بنا دیں گے۔ کچھ یافت انہیں بھی ہو گی۔ بہر حال یہ الگ کہانی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کی طرح سری لنکا بھی عالمی طاقتوں کی آویزش کا مرکز ہے۔ امن قائم کرنے میں پاکستان نے سر توڑ مدد کی؛ حتیٰ کہ خانہ جنگی کی چنگاریاں تک بجھا دی گئیں۔ پھر عوامی جمہوریہ چین اعانت کے لیے آگے بڑھا۔ بھارت کو یہ گوارا نہ تھا۔ اب انکل سام کو بھی نہیں کہ دونوں تزویراتی حلیف ہو چکے۔ بر صغیر کی طرح سری لنکا بھی مغربی استعمار کے زیرِ نگوں رہا۔ آزادی 1948ء میں ملی مگر اثرات باقی رہے ۔ پاکستان ہی کی طرح اس کے بالا تر طبقات بھی مغرب کی طرف دیکھتے ہیں۔ دبائو اتنا شدید ہے کہ گاہے کولمبو والے رازداری سے اسلام آباد کے ساتھ بات کرتے ہیں۔

شرح خواندگی سو فیصد ہے، اعلیٰ تعلیم کا حال مگر پتلا ہے ۔ پڑھے لکھے لوگوں میں یہ خواہش صاف نظر آئی کہ اس میدان میں پاکستان ان کا ہاتھ بٹائے۔

مقامی مسیحی آبادی اور مسلمانوں میں قطعاً کوئی کشیدگی نہیں پائی جاتی۔ یہ خواب کسی خبیث ذہن نے دیکھا ہے۔ سبھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ کون کون ملوث ہو سکتے ہیں۔

اب یہ کوئی راز نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے داعش کی بنیاد اگر نہیں رکھی تو اس کی حوصلہ افزائی بہرحال کی ۔ بعض کے خیال میں تو مکمل طور پر اسے اپنا لیا۔ شام میں روس، امریکہ اور دوسرے ممالک میں سمجھوتہ ہو گیا‘ تو لاد لاد کر تخریب کار افغانستان پہنچائے گئے۔ واقعات ہیں کہ اسرائیل میں داعش کے زخمیوں کا علاج ہوتا رہا۔ عالمِ اسلام میں استحکام اور چین کا فروغ واشنگٹن کو گوارہ نہیں۔ بھارت اور اسرائیل اس کے حلیف ہیں اور بہت سے دوسرے ممالک بھی۔ پاکستان اسی لیے عتاب میں ہے۔ لیبیا، شام اور عراق میں اسی لیے کشتوں کے پشتے لگا دیے گئے۔ خود ہم نے ان کے لیے راہ ہموار کی

فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملّت کے گناہوں کو معاف

پاکستانی سفارت خانے میں سرگرم مسیحی ڈرائیور کے لیے دل دکھتا ہے۔ کس الفت کے ساتھ اس نے کہا تھا : جب ایک بحری جہاز میں نوکری کیا کرتا تو کراچی شہر دیکھا تھا۔ کیسی بچّوں کی سی مسرت سے اس نے بتایا کہ شاہد آفریدی اور دوسرے پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ اس نے تصاویر بنوائیں۔ ان کی خاطر مدارت سے شاد ہوا۔

'' ڈیوڈ، تمہارے اجداد نے عیسائیت کیسے قبول کی‘‘ بولا ''دور کسی دیس سے عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے آئے ہوں گے۔ شاید پاکستان ہی سے ۔ زیادہ تر اچھے لوگ وہیں سے آیا کرتے ہیں‘‘۔

اس کے محلے کا نام پوچھا اور سوال کیا کہ کیا وہاں اذان کی آواز سنائی دیتی ہے ؟ اس تصور سے کہ کچھ نہ کچھ لوگوں کو ضرور اس پہ اجنبیت کا احساس ہوتا ہو گا ۔ شاید کوفت بھی۔ ''جی ہاں ، میں فجر کی اذان سنتا ہوں، کیسی اچھی لگتی ہے‘‘۔ ڈیوڈ ان لوگوں میں سے ایک تھا، اپنے احساسات جو کبھی نہیں چھپاتے ۔ ملاوٹ نہیں کرتے۔

ارادہ کیا تھا کہ اسے پاکستان آنے کی دعوت دوں ۔ کولمبو کے پاکستانی سفارت خانے میں اگر کوئی یہ تحریر پڑھے تو از راہِ کرم اس ناچیز کی دعوت اسے پہنچا دے۔

آرزو ہے کہ ڈیوڈ یہاں آئے، گھومے پھرے اور دیکھے کہ پاکستانی مسلمان کیسی محبت سری لنکا والوں سے کرتے ہیں۔

گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار

لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

 1343