ری سائیکلنگ

ماجرا - بلال الرشید

26 اپریل 2019

ree sayiklng

دنیا میں اس وقت global warming اور انسان کے ہاتھوں پیدا کردہ آلودگی کا مسئلہ شدید ہوتا چلا جا رہا ہے ۔انٹارکٹکا میں برف کے پہاڑ پگھلتے جا رہے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ اب ان کا انہدام اظہر من الشمس ہے ۔ سمندروں کا پانی بہرحال بلند ہو جانا ہے ۔ کتنا اور کب ‘ حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ یہ مسئلہ اتنا شدید ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں امریکہ United States اور چین China کاربن کے اخراج میں کمی سے متعلق معاہدے کرتے نظر آرہے ہیں‘ بلکہ وہ بھارت India سمیت آلودگی پیدا کرنے اور زیادہ آبادی والے دوسرے ممالک کو بھی اس طرف لانا چاہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا اب اس طرف جا رہی ہے ‘ جہاں کوئلے سے بجلی ختم کر دی جائے گی۔ گاڑیوں میں فاسلز فیول (تیل اور گیس ) نہیں جلائی جائے گی‘ بلکہ یہ گاڑیاں بجلی سے چلا کریں گی ‘ اسی طرح دنیا شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی طرف تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے ۔ ایسے سولر پینل بنائے جا رہے ہیں ‘ جو روشنی کو زیادہ سے زیادہ توانائی میں تبدیل کر سکیں ‘ ضیاع کم سے کم ہو ۔

ایک بڑا ذہن جب کوئی بھی چیز تخلیق کرتاہے ‘تو ہمیشہ وہ پہلے wasteکی منصوبہ بندی کرتاہے ۔ آپ بغیر نقشے کے بنی ہوئی ایک آبادی دیکھیں اور نقشے کے مطابق تعمیر ہونے والی ہائوسنگ سوسائٹی دیکھیں ۔بغیر نقشے والی آبادی میں گلیاں تنگ اور ٹیڑھی میڑھی ہوں گی۔ لوگوں نے سڑک کا زیادہ تر حصہ اپنے گھروں میں سمیٹ لیا ہوگا۔ بجلی کا سارا نظام غیر قانونی ہوگا ۔ بجلی چوری ہونے کے علاوہ اکثر اوقات بریک ڈائون سے واسطہ پڑتا ہے۔ سیوریج کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے نالیوں سے گندا پانی لوگوں کے کپڑے خراب کرتا ہے ۔ اکثر یہ نالیاں بند ہو جاتی ہیں اوریہ پانی سڑکوں پہ آجاتا ہے ‘ اسی طرح بارش ہونے کی صورت میں گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے ۔ نکاسی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بالٹیاں بھر بھر کے اپنے صحن خالی کرتے ہیں ۔

لیکن جو سوسائٹی پلاننگ کے تحت بنتی ہے ‘ اس میںیہ مسائل نہیں ہوتے ۔ اب تو بڑی سوسائٹیز نے بڑے بڑے جنریٹرز کی صورت میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا بھی حل نکال لیا ہے ۔ اسی طرح کوئی بھی ہنگامی صورتِ حال ‘ آگ لگ جانے ‘ پانی ختم ہوجانے سمیت سب چیزوں کا حل نکالا جاتا ہے ۔

اب‘ اگر آپ خدا کو دیکھیں کہ جب وہ یہ دنیا تخلیق کر رہا تھا تو اس نے wasteکو ری سائیکل کرنے کی کیسی پلاننگ کی تھی ۔ ایک لمحے کے لیے فرض کریں کہ جو جاندار مر جاتے ہیں ‘ ان کے جسم ختم کرنے کے لیے De compositionکا عمل قدرتی طور پر وقوع پذیر ہونا رک جاتا ہے ۔اگر ایسا ہوتا تو اس وقت کرّہ ٔ ارض لاشوں سے اٹا ہوتا ‘ لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ جیسے ہی کوئی جاندار مرتا ہے ‘ اس کے جسم کے اندر سے کچھ عوامل کی وجہ سے ٹشوز ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں‘ جبکہ جسم کے باہر سے بھی بیکٹیریا حملہ کرتے ہیں ۔ وہاں تعفن پھیل جاتاہے ۔ اس تعفن کی وجہ سے ماں اپنے مردہ بچّے کوجدا کرنے پر مجبور ہو تی ہے ؛ اگر ایسا نہ ہوتا تو بلی اور بندریا تو کبھی اپنے مردہ بچّے کو نہ پھینکتی اور ہمیشہ اسے اٹھائے پھرتی؛ اگر اس ڈی کمپوزیشن کیلئے جانداروں کے اپنے جسموں کے اندر اور جسموں سے باہر خصوصی سسٹم نہ بنائے جاتے تو کرّہ ٔ ارض کے سمندر اور خشکی اس وقت مردہ جانداروں سے اٹے ہوتے ۔ اسی طرح جب آپ نیوٹرینٹ سائیکل کو پڑھتے ہیں ‘تو پھر معلوم ہوتاہے کہ کاربن سائیکل‘ سلفر سائیکل‘ نائٹروجن سائیکل‘ واٹر سائیکل ‘ فاسفورس سائیکل‘ آکسیجن سائیکل کی شکل میں ایسے بہت سارے سسٹم کام کر رہے ہیں ‘ جن سے زمین پر موجود جانداروں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ ان سائیکلز کے نتیجے میں ہر چیز کی صفائی ہوتی رہتی ہے ۔

آپ زمین کو دیکھیں اور اس کے اندر موجود پانی کو دیکھیں ۔ مٹی میں جراثیم ہوتے ہیں‘ لیکن اسی مٹی سے خدا پانی کو صاف کرتا ہے ۔ زمین کے نیچے تقریباً ہر جگہ خالص اور صاف پانی موجود ہوتاہے ۔صرف کھدائی کرنے اور چرخہ /موٹر لگانے کی ضرورت ہوتی ہے ‘ پھر جب یہ دنیا بنائی تو اسے چلانے کے لیے خوردبینی جاندار بنانا ضروری تھے‘ ور نہ مردوں کے جسم کون کھاتا ۔ دوسری طرف یہ خوردبینی جاندار بہت سی بیماریوں کا باعث تھے ۔ اس وجہ سے سب جانداروں کے جسم میں ایک بہت زبردست امیون سسٹم رکھا ۔ جس جس طرح کی ری سائیکلنگ کے جتنے سسٹم اللہ نے زمین پر بنائے ‘ وہ انسان کی سوچ سے بھی باہر ہیں ۔

آپ یہ دیکھیں کہ گائے کا فضلہ زمین پہ گرتاہے ‘ زمین کی زرخیزی میں اضافے کا باعث بنتاہے ۔ اس سے زیادہ کیا ری سائیکلنگ ہوگی کہ جانوروں کے فضلے کو بھی انسان ‘ زمین اور پودوں کے لیے فائدے بند بنا دیا ؛ حتیٰ کہ نوبت یہاں تک آئی کہ یہ فضلہ بکنے لگا ۔ دوسری طرف آپ یہ دیکھیں کہ انسان نے اپنے فائدے کے لیے جو بھی چیز بنائی‘ اس میں وقتی فائدے کا خیال رکھا۔ سودا سلف گھر میں رکھ کر پلاسٹک کوڑے کی ٹوکری میں اور اس پلاسٹک کو ری سائیکل ہونے کے لیے سینکڑوں سال درکار ہیں ۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ برفانی چوٹیوں سے لے کر سمندری گہرائیوں تک ‘ کرّۂ ارض پلاسٹک سے بھر چکا ہے ۔ سمندر میں تیرتی ہوئی بڑی بڑی مردہ مچھلیوں کا پوسٹ مارٹم کیا جائے ‘تو ان کے نظامِ انہضام پلاسٹک کی تھیلیوں سے بھرے ہوتے ہیں ۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ پھر خدا نے فاسل فیولز پیدا ہی کیوں کیے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لوہا اور تیل تو صرف انسان کے لیے بنائے گئے۔خدا کو معلوم تھا کہ انسان انجن میں تیل جلائے گا اور لوہے کے راکٹ میں مائع آکسیجن جلے گی۔ انسانوں میں چاند تک پہلے پہنچ جانے کا مقابلہ ہوگا ‘ پھر لوہے کے انہی راکٹوںمیں بارود بھر کر انسان ایک دوسرے پر دے ماریں گے ۔ یہی نہیں ‘ انسان ایٹم توڑ کر بھی ایسے ہتھیار بنا لے گا‘ جن کا ایک وار ایک پورے شہر کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہوگا ۔آج سب بڑی قومیں اپنی اپنی بغل میں ایٹم بم دابے ‘ باقی سب کوایٹمی ہتھیاروں سے دُور رہنے کا درس دے رہی ہیں ۔

خدا کو اچھی طرح سے معلوم تھا کہ انسان درخت کاٹے گا ۔ سیلاب آئیں گے ‘ برف پگھلے گی ‘ پانی شہروں پہ چڑھ جائے گا ۔ہر طرف پلاسٹک ہی پلاسٹک پھیلتا چلا جائے گا۔ جانداروں کی نسل کشی ہوگی ۔ بہت سے ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیں گے ۔

لیکن کیا یہ پہلی دفعہ ہو رہا تھا ؟ ماہرین کو پورے یقین سے معلوم ہے کہ پہلے بھی پانچ ایسے ہلاکت خیز ادوار زمین کی تاریخ میں گزر چکے ہیں ‘ جب ہر دفعہ زمین پر پائے جانے والے 100میں سے 70 80جاندار ہمیشہ کیلئے ختم (Extinct)ہو گئے۔ کبھی تو کوئی دمدار ستارہ اس پہ آگرا ‘کبھی عالمگیر سطح پر اس قدر آتش فشانی ہوئی کہ زمین کی فضاایک طویل عرصے کیلئے راکھ سے بھر گئی ۔ کبھی اتنی برف باری ہوئی کہ زمین برف کا ایک گولا بن کے رہ گئی ۔ یہی وہ ادوار تھے‘ جن میں جاندار زمین کے نیچے دب گئے اور ان سے کوئلے ‘ تیل اور گیس کے ذخائر پیدا ہوئے ۔

سو ‘خدا کو تو پتا تھا کہ انسان زمین میں اپنے لیے اور دوسرے جانوروں کے لیے کتنے مسائل پیدا کرے گا‘ لیکن سب کچھ ایک منصوبے کے مطابق ہو رہا ہے اور لگتا ایسا ہے کہ اختتام قریب ہے ...!

 453