پانی میں مدھانی

برملا - نصرت جاوید

25 اپریل 2019

pani mein mahdani

اپنے دورئہ ایران Iran کے دوران پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister نے فرانس کو جاپان کا ’’ہمسایہ‘‘ کہا۔ حیران کن بات تھی۔ چسکہ فروشی کے لئے زبردست سودا۔ منگل کی شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک اس کا ٹی وی سکرینوں پر چرچا رہا۔سوال یہ بھی اُٹھے کہ پاکستان Pakistan کی سرزمین ایران Iran میں چند دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے استعمال ہونے کا ’’اعتراف‘‘ کیوں ہوا۔ یہ سوال بھی واجب تھا مگر پنجابی محاورے والے پانی میںمدھانی چلاتے ہوئے بالائی برآمد کرنے کی کوشش تھی۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔

سرت رہی کہ وزیر اعظم Prime Minister کے حالیہ دورئہ ایران Iran کا ’’تجزیہ‘‘ کرتے ہوئے ٹی وی سکرینوں کے ذریعے خلقِ خدا کی رہ نمائی کرنے والے اسی دورے سے جڑے کئی سنگین معاملات کا تذکرہ بھی فرمادیتے۔ کسی ایک نے یاد ہی نہ رکھا کہ وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan کی ایران Iran سے وطن روانگی کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے اعلان کردیا ہے کہ مئی 2019کے بعد بھارت India اور چین China جیسے ممالک اس ملک سے تیل خریدنا جاری رکھیں گے تو امریکہ United States ان سے تجارت جاری نہ رکھ پائے گا۔

پہلے مرحلے میں ایران Iran سے تیل درآمد کرنے والی کمپنیاں امریکہ United States سے کاروبار کرنے کے ضمن میں ’’بلیک لسٹ‘‘ ہوجائیں گی۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران Iran سے خریدے تیل کی قیمت امریکی ڈالروں میں ادا نہ ہوپائے۔ بتدریج ان ممالک سے امریکہ United States مختلف النوع اشیاء کی اپنے ملک درآمد پر کامل پابندیاں لگادے گا۔ صاف لفظوں میں کہہ دیا گیا ہے کہ اگرامریکہ United States سے چین China یا بھارت India کو اپنے تجارتی تعلقات جاری رکھنا ہیں تو ایران Iran سے تیل کا ایک قطرہ بھی نہ خریدا جائے۔ ایسے ماحول میں ایران Iran کا قریب ترین ہمسایہ ہونے کے باوجود پاکستان Pakistan اس ملک سے اپنی تجارت بڑھانے کا سوچ نہیں سکتا۔ کئی برسوں سے طے شدہ ایران-پاکستان Pakistan گیس پائپ لائن منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ نہیں پائے گا۔ ہم نے اس کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو فقط امریکہ United States ہی نہیں سعودی عرب Saudi Arabia اور متحدہ عرب امارات united arab emirates بھی ناراض ہوجائیں گے۔ ان ممالک کی خفگی ہم اس وجہ سے بھی مول لینے کو تیار نہیں ہوں گے کیونکہ عمران حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے ہمیں IMFکی کڑی شرائط سے بچنے کے لئے قابلِ قدرFinancial Cushionsفراہم کئے تھے۔

یہ مدد میسر نہ بھی ہوتی تو لاکھوں پاکستانی تارکینِ وطن ان دو ممالک میں کام کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو جو رقوم بھیجتے ہیں وہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو توانائی بخشنے میں بسااوقات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔امریکہ United States ایران Iran کے حوالے سے Either/Orپر بضد رہا تو ایران Iran سے ہمارے تعلقات گرم جوشی کی جانب گامزن نہ ہوپائیں گے۔ دونوں ممالک کے مابین سرد مہری کا تسلسل کئی قوتوں کو وہ Spaceفراہم کرے گا جو ’’دہشت گردی‘‘ کے حوالے سے ہمارے باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا کرتے ہوئے اسے بڑھاتا ہے۔

محض تجارتی تعلقات پاکستان Pakistan اور ایران Iran کے مابین معاملات میں اہمیت کے حامل نہیں۔ اس ضمن میں اصل دشواری کا سامنا ہمارے ازلی دشمن -بھارت- کو کرنا پڑے گا۔ اپنی ضرورت کا 10فی صد تیل بھارت India ایران Iran سے آج بھی خریدنے کو مجبور ہے۔ کئی برس تک 25فی صد کی سطح تک پہنچا رہا۔صدر اوبامہ کے زمانے میں ایران Iran پر دبائو بڑھانے کے لئے اس کی وزیر خارجہ بھارت India گئی۔ ہیلری کلنٹن نے بند کمرے میں نہیں بلکہ ایک پریس کانفرنس میں بھارت India کو یقین دلایا کہ اگر وہ ایران Iran کے بجائے سعودی عرب Saudi Arabia سے اپنی ضرورت کا تیل خریدنا شروع کردے تو اسے یہ تیل ایران Iran کے مقابلے میں ارزاں نرخوں پر میسر ہوگا۔ بھارت India نے اس پیش کش کا مہارت سے فائدہ اٹھانا شروع کردیا۔ سعودی عرب Saudi Arabia اور متحدہ عرب امارات united arab emirates سے اپنے تعلقات بڑھائے۔ اسرائیل کے ساتھ دفاعی سمجھوتے بھی کئے۔ ایران Iran کے ساتھ اپنا تعلق لیکن ختم نہ کیا۔ ٹرمپ کے وائٹ ہائوس آنے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔

ٹرمپ نے ایران Iran پر دبائو بڑھانے کے لئے اس کے ساتھ اوبامہ حکومت کا طے کیا ایٹمی معاہدہ منسوخ کردیا۔ اس کے بعدایران Iran سے تیل خریدنے پر پابندیاں عائد کیں۔ بھارت India کو مگر چند ماہ تک یہ خریداری جاری رکھنے کا استثناء دیا۔تین مہینوں کی جو مہلت بھارت India کو ملی اس کے دوران ایران Iran سے تیل کی درآمد کو یکایک حیران کن حد تک بڑھاتے ہوئے آنے والے وقتوں کے لئے ’’ذخیرہ‘‘ کرلیا گیا۔ بینکوں کے ذریعے کچھ ایسا بندوبست بھی ہوا ہے جس کی بدولت ایران Iran سے خریدے تیل کی قیمت امریکی ڈالر کے بجائے بھارتی Indian کرنسی میں ادا ہوتی ہے۔ ایران Iran اس رقم کو بھارتی Indian بینکوں ہی میں جمع رکھتا ہے۔ اس رقم کو بھارت India سے ہوئی برآمدات کے لئے خرچ کیا جاتا ہے۔

بھارت India کویقین ہے کہ آئندہ انتخاب جیت لینے کے بعد نریندرمودی امریکہ United States کو قائل کرے گا کہ اسے تیل کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ایران Iran کے ضمن میں مزید دنوں کے لئے استثناء درکار ہے۔ امریکہ United States پر تجارتی انحصار کے باعث وہ یہ استثناء حاصل نہ بھی کرپایا تو ٹرمپ انتظامیہ اسے چاہ بہار chabahar کی بندرگاہ پر سرمایہ کاری سے نہیں روکے گی۔

بھارت India کا اصرارہے کہ وہ چاہ بہار chabahar کے ذریعے فقط افغانستان Afghanistan سے تجارت نہیں کرنا چاہتا۔ اس کااصل ہدف سنٹرل ایشیاء کے ملکوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ پاکستان Pakistan ان ممالک تک پہنچنے کے لئے بھارت India کو سستی اور تیز ترین راہداری فراہم کرسکتا ہے۔ ہمارے ساتھ مگر وہ تعلقات بہتر بنانے کو تیار نہیں۔ امریکہ United States اس ضمن میں اس کے ذہن میں موجودہ تحفظات کو تسلیم کرتا ہے۔ انہیں دور کرنے کے بہانے پاکستان Pakistan پر بلکہ دبائو بڑھاتا ہے۔ FATFکے ذریعے ہمارے ساتھ جو ہورہا ہے وہ درحقیقت اس تناظر میں بھارت India کی دلجوئی کا شاخسانہ ہے۔

ایران Iran سے ’’ایک بوند‘‘ تیل نہ خریدنے پر تیار ہونے کے لئے مودی دوبارہ وزیر اعظم Prime Minister منتخب ہونے کے بعد امریکہ United States سے ’’معقول‘‘ Compensation طلب کرے گا۔ سعودی عرب Saudi Arabia کی جانب سے فراہم کیا تیل اس تناظر میں کافی تصور نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان Pakistan پر مزید دبائو کا تقاضہ ہوگا۔ امریکہ United States اس کے لئے تیار دکھائی دیتا ہے۔

اس کے باوجود بھارت India کی چاہ بہار chabahar پر سرمایہ کاری جاری رہے گی۔افغانستان Afghanistan کو ’’بنیادی ضروریات‘‘ کی فراہمی کو یقینی بنانا اس کا جواز ہے۔ بنیادی مقصد مگر یہ بھی ہے کہ طویل المدتی تناظر میں بھارت India ہی نہیں امریکہ United States یا اس کے اتحادی ممالک کے لئے افغانستان Afghanistan اور سنٹرل ایشیاء تک رسائی کا چاہ بہار chabahar کے ذریعے ’’متبادل‘‘ میسر ہو۔ اس خطے میں جو نئی گیم لگانے کی کوشش ہورہی ہے اس کا ہمارے میڈیا میں ذکر تک نہیں ہورہا۔ پانی میں مدھانی گھماتے ہوئے Ratings لی جاری ہیں۔

 90