خود سے خدا تک

ماجرا - بلال الرشید

23 اپریل 2019

khud se kkhuda tak

نفس ایک ایسی بلا ہے کہ اپنے اپنے شعبے میں بڑے نامی گرامی لوگوں کو بھی یہ کھلونے کی طرح الٹاتا پلٹا تا ہے ۔دولت ‘ شہرت اور دوسروں پہ غلبے سمیت سبھی اس کے ہتھیار ہیں ۔ اور یہ بڑے بڑے جرنیلوں ‘سیاست دانوں اور صحافیوں کو جیسے چاہے استعمال کرتاہے ۔دنیا جن لوگوں کو جھک کر سلام کرتی ہے ‘ وہ اپنے نفس کے سامنے ہر دم سربسجود ہوتے ہیں ۔شیطان خود سے انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ‘بلکہ یہ تو نفس کی خواہشات ہی کو مہمیز کرتا ہے ۔ فیس بک پر عظیم الرحمن عثمانی نامی ایک شخص نے تو یہاں تک لکھ ڈالا: نفس سے ڈرو‘ سب سے پہلے شیطان کو اسی نے گمراہ کیا تھا ۔ خدا ‘اس نفس کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیتاہے ۔شیطان نے بھی جب آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس وقت درحقیقت وہ اپنے نفس ہی کو سجدہ کر رہا تھا؛حالانکہ اسے یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ درست وہی ہے ‘ جو خدا فرما رہا ہے ۔ انتقام کی خواہش نے اسے گمراہی کے راستے پہ ڈال دیا۔ انسانوں میں بھی توایسا ہی ہے کہ انتقام لینے کے لیے ایک شخص دشمن کو قتل کر کے خود پھانسی قبول کر لیتا ہے ۔

انسان اپنی زندگی نفس کے حکم پر ختم کر دیتاہے ۔ یہ نفس انسان کو چمکتے سورج کے سامنے دن دیہاڑے ‘ جاگتے ہوئے خواب دکھاتا ہے ۔اس وقت انسان ایک ایسے معمول کی طرح ہوتاہے ‘ جسے gaming zoneمیں کھڑا کر کے اس کی آنکھوں پر ایک عینک چڑھا دی گئی ہو اور وہ ایسی چیزیں دیکھ رہا ہو ‘ جس کے بارے میں اسے خود بھی اچھی طرح معلوم ہو کہ وہ حقیقت میں موجود نہیں ہیں ۔ مرد اس طرح کی imaginationمیں یہ دیکھتے ہیں کہ وہ دشمن کو قتل کر رہے ہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔

یہ نفس بے انتہا مصروف شاہراہ پہ ایک لڑکے کو موٹر سائیکل کا اگلا پہیہ اٹھا نے پر مجبور کر دیتاہے۔یہ نفس اس قدر طاقتور ہے کہ انسان سردیوں کی صبح ‘ جب ٹھنڈے پانی سے وضو کرتاہے ‘تو اسے دوسروں کے مقابل اپنی نیکی اور پاکیزگی کا خمار جھومنے پر مجبور کر دیتاہے اور اس کی ساری نیکی ریاکاری کی نذر ہو جاتی ہے ۔

بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہر انسان یا تو خدا کے سامنے سر بسجود ہے یا پھر نفس کے سامنے ۔یہ نفس انسان کو اس قدر پاگل بناتا ہے کہ جو واعظ منبر پہ رو رہا ہوتاہے ‘ اسے خود معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خدا کی محبت میں نہیں رو رہا ‘بلکہ سامنے بیٹھے ہوئے مجمع کی نظر میں مقدس ہونے کی خاطر ‘ حبِ جاہ کی جبلت کے تحت رو رہا ہے ۔

ناصر افتخار صاحب کی کتاب ''خود سے خدا تک ‘‘ شائع ہو چکی ۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ والد محترم ہارون الرشید ہی نہیں ‘استاد ِ محترم پروفیسر احمد رفیق اختر نے بھی اس پر تبصرہ لکھا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ یہی کامیابی بہت ہے ۔اس کتاب میں سے ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے ۔ عنوان : چاہے جانے کی آرزو (The Longing to be Loved)''یہ آرزو ہے ‘ تمنا ہے ۔ یہ خواہش کی آخری حد ہے ۔ چاہے جانے کی تمنا ہے ۔ اور پھر یہ جو فقرہ ہے کہ فلاں کو اللہ کی لَو لگ گئی ہے ‘ یہ بھی وہی چاہت (Longing)ہے ۔ یہ لَو ہر نفس میں برابر بھڑک رہی ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ نفس کو علم نہیں کہ یہ لَو اپنی اصل میں ہے کیا؟ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں چاہا جائے۔کوئی ہمیں چاہے۔اسی لیے ہم کسی کو چاہتے ہیں ۔ہمیں لگتاہے کہ کوئی ہمیں چاہے گا ‘تو ہم مکمل ہو جائیں گے ...ہم خوب جانتے ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں ہیں ۔

اس لیے ہم تمنا رکھتے ہیں کہ کوئی ہم سے محبت رکھے ‘تاکہ ہم کچھ ہو جائیں ۔ غور کریں ‘ ہم سب کی یہی زندگی ہے ۔یہ خواہش کہ ہمیں دریافت کیا جائے ۔ ہماری تمنا کی جائے۔ ہمارے حصول کی تگ و دو میں کوئی ہر لحظہ سرگرداں رہے ۔ یہ خواہش ہمیں ساری زندگی انتہا درجے کی اذیت میں مبتلا کیے رکھتی ہے:

WE long to be loved and it is a constant misery.

نفس ہر حال میں کسی نہ کسی کی محبت کا مرکز و محور ہونا چاہتا ہے ‘کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شروع دن سے مایوس کن حد تک تنہائی کا شکار چلاآتا ہے۔ ہم سب یہ جانتے ہیں۔ کیا ہم سب یہ نہیں جانتے ؟ تنہائی کے ریگزار میں گزرتی زندگی ہی ہمارے نفوس میں چاہے جانے کی خواہش پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ جب تک یہ وجہ موجود ہے ‘ تب تک یہ مطالبہ بھی نفس میں قائم ہے کہ کوئی اسے چاہے ۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس وجہ کو جانتے ہیں ؟ کیا اس وجہ کے نتیجے میں اپنی زندگیوں پر چھا جانے والے اثرات سے ہم بخوبی واقف ہیں ؟ او رپھر سب سے بڑا سوال یہ کہ کیا ہم اس وجہ سے آزاد ہو سکتے ہیں ؟

میں تنہا ہوں ‘ اکیلا ہوں ‘ پریشان ہوں ۔ میں اس تنہائی ‘ اکلاپے اور پریشان زندگی سے گزرتے ہوئے ہر امید سے مایوس ہو رہا ہوں ؛اگر کوئی مجھ سے محبت کرے تو یہ سب بدل سکتاہے ۔ اس ویرانے میں پھول کھل سکتے ہیں ۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ نفس کے اس مطالبے کی وجہ تنہائی ہے ۔ نفس اکیلا ہے ‘ اس لیے کسی ساتھی کی تلاش میں ہے ۔ کوئی ایسا ‘ جس سے وہ بات کر سکے۔ کوئی ایسا ہمراز ‘ جس کے سامنے وہ اپنا آپ اندر اور باہر سے عیاں کر سکے ۔

کیا ہم اس کربناک تنہائی کو صاف صاف دیکھ سکتے ہیں ؟ نفس کی اس کربناک تنہائی کے بیکراں خلا کو کسی صورت کوئی انسان پُر نہیں کر سکتا ۔ نفس ہر طرح سے کوشش کرتا ہے ۔ ہر طرح کی محبت کو اپنی طرف مائل کرتا ہے‘ لیکن ہر محبت کچھ مدت کے بعد اسے پہلے سے بھی زیادہ تنہا اور اداس کرتی چلی جاتی ہے ۔ یہ انسانیت کا بہت بڑا دکھ ہے ۔ یہ ہر نفس کا نوحہ ہے۔

ایک پائیدار محبت کے حصول میں سرگرداں ‘ ہر لحظہ ناکام ہوتا ہوا انسان ‘ ہر آنے والے دن میں پہلے سے زیادہ پریشان ہوتا چلا جاتا ہے ۔ غور سے دیکھیں ۔ صرف اپنی ذات کی تکمیل کی طلب میں مصروف یہ نفس کس کا ہے ؟ نفسِ انسان اپنی تنہائی سے وحشت زدہ ہے ۔ اس تنہائی سے ہول کھا کر وہ کسی کی محبت میں پناہ لینے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے‘ لیکن کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ کبھی تنہائی کے اس ریگزار سے فرار حاصل نہیں کر پائے گا۔

نفس خوب جانتا ہے ‘لیکن خود سے چھپاتا ہے ۔ کامیابی سے اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے ۔ نفس جانتا ہے کہ محبت ؛اگر پائیدار ہے‘ تو صرف اللہ سے ہے‘ لیکن؛ چونکہ اللہ سے بھاگنا اس کی سرشت ہے ‘ اس لیے یہ اس پائیدار محبت کے حصول سے منہ پھیر کر دوسرے لوگوں سے امیدیں وابستہ کرتا ہے ۔

پے درپے ناکامیوں پہ غور و فکر کرنے کی بجائے نفس ان ناکامیوں کا عادی ہو کر خود ترسی کا شکار ہو جاتاہے ۔ اپنے انہی غموں سے یہ پیار کرنے لگتاہے ‘ جنہوں نے ہر آن اس کی روح کو صرف زخم اور دھوکے ہی دیے ہوتے ہیں ۔

جب کبھی انسان شدتِ محبت سے دعا کرتاہے ‘ گڑ گڑاتا ہے ‘ چیختا چلاتا اور اپنے رب کے حضور آہ و زاری کرتاہے‘ تو دعا کے دوران اسے احساس ہوتاہے کہ کوئی اس کے ساتھ ہے ۔‘‘

 399